نوٹس/ مشقی سوالات وجوابات : مبادیات ہوم اکنامکس جماعت نہم (9) پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور پاکستان

[bws_pdfprint display=”pdf,print”][wysija_form id=”1″]

نوٹس/ مشقی سوالات وجوابات : مبادیات ہوم اکنامکس جماعت نہم (9) پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور پاکستان
(Introduction to Home Economics) باب 1 ۔ ہوم اکنامکس کا تعارف
سوالات
سوالنمبر 1- ذیل میں دیے گئے بیانات میں ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
ہوم اکنامکس کی تعلیم گھر اور خاندانی زندگی کی کن باتوں کا احاطہ کرتی ہے؟ 1.
مقاصد (د) ذرائع و وسائل (ج) سرگرمیوں (ب) بھلائی (الف)
ہوم اکنامکس دراصل ذرائع و وسائل کا وہ انتظام ہے جس سے کون سی ضروریات پوری کی جاتی ہیں؟ 2.
صحت و صفائی (د) روحانی و جذباتی (ج) معاشی و معاشرتی (ب) انفرادی و اجتماعی (الف)
گھریلو انتظام کے مضمون کو دوسرے تمام مضامین پر کیا حاصل ہے؟ 3.
محدودیت (د) اہمیت (ج) کمتری (ب) برتری (الف)
ہوم اکنامکس دراصل ایک پیشہ وارانہ سائنس ہے جس میں گھر سے وابستہ تمام حقائق کا کیسے تجزیہ کیا جاتا ہے؟ 4.
غیرارادی (د) لاشعوری (ج) غیرجانبدارانہ (ب) جانبدارانہ (الف)
بچے کی ذہنی نشوونما کس سے متعلق ہوتی ہے؟ 5.
رحجان ورویہ (د) ذہانت و خیالات (ج) قد و حجم (ب) وزن و جسامت (الف)
خاندان معاشرے کی بنیادی کیا ہے؟ 6.
اکائی (د) ثقافت (ج) تحفظ (ب) ماحول (الف)
بیشتر بیماریاں مثلاٌ اسہال، پیچس، ٹائیفائیڈ، یرقان اور ہیضہ وغیرہ پینے کے پانی کے کیا ہونے کی وجہ سے پھیلتی ہیں؟ 7.
آلودہ (د) غیرشفاف (ج) بھاری (ب) گندہ (الف)
جوابات: (3-)(1-)(1-)(2-)(3-)(4-)(4-)
سوالنمبر2۔ مختصر جوابات تحریرکریں۔
س1۔ ہوم اکنامکس کی تعریف کریں؟
جواب: ہوم اکنامکس دو لفظوں “ہوم ” اور “اکنامکس” کا مرکب ہے۔ ہوم کے معنی گھر کے ہیں جب کہ اکنامکس یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی املاک اور انتظام کے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پرکسی گھر کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور اس کا انتظام کرنا ہو ہوم اکنامکس کہلاتا ہے۔ چوں کہ یہ ایک وسیع مضمون ہے اس لیے بہت سے لوگوں نے اپنے طور پرا س کی تعریف کی ہے۔
ہوم اکنامکس میں گھریلو امو ر سے متعلق بحث کی جاتی ہے جیسے کھانا پکانا، مختلف قسم کے پارچہ جات کی تیاری کرنا، بچوں کی نگہداشت کرنا، گھر کی صفائی کا خیال رکھنا اور گھر کے معاشی نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔
ٹیٹ مائلڈرڈ نے ہوم اکنامکس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
“ہوم اکنامکس دولفظوں “ہوم ” اور “اکنامکس” کا مجموعہ ہے۔ ہوم سے مراد ہے گھر جب کہ اکنامکس یونانی زبان کے مرکب لفظ “اکوس” اور”نوموس” سے اخذ کیا گیاہے۔ اکوس کے معنی گھریلو املاک اور نوموس کا مطلب انتظام ہے۔ “اس طرح ہوم اکنامکس کے معنی خاندان اور گھر کے افراد کی سرگرمیاں اور ان کے باہمی تعلقات کا علم اور املاک کے انتظامات ہیں۔
س2۔ ہوم اکنامکس کی تعریف کے اہم نکات کیا ہیں؟
ج: ہوم اکنامکس کی تعریف کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ خاندان اور اس کے افراد کی ضروریات کو پوراکرنا۔
2۔ اپنے وسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے گھر کا انتظام کرنا۔
3۔غذااور غذائیت ،پارچہ جات کی خریداری، کٹائی اورسکائی سے واقفیت حاصل کرنا۔
4۔ مختلف قسم کی تکنیکی اصطلاحات کو سمجھنا۔
5۔خاندان کے لوگوں کو روزگار منتخب کرنے کے سلسلے میں مشورہ دینا۔
6۔ زندگی کے مختلف حصوں میں خاندان کے افراد کی تربیت اور نشوونما کے اصولوں پر نظررکھنا۔
7۔ ناگہانی حالات میں معاشرے کے افراد کے لئے تحفظ مہیاکرنے کی تربیت دینا۔
س3۔ ہوم اکنامکس کی اہمیت بیان کریں؟
ج: ہوم اکنامکس کی اہمیت:
ہوم اکنامکس کی تعلیم بہت ضروری ہے کیونکہ گھر کو ہر حال میں عورت نے ہی سنبھالنا ہوتا ہے، اس لئے عورت کے لئے ایسی تعلیم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھریلومعاملات خوش آئین طریقے سے طے کرسکے۔
طرزِ رہائش:
اکثر یہ کہاگیا ہے کہ ہر قوم کی ترقی اس کے طرزِ رہائش پر ہوتی ہے اور یہ یقیناٌ عورتوں پر منحصر ہے کیونکہ وہ گھر کی مالکہ ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام لڑکیاں زمانے کے تقاضوں کے مطابق گھروں کا انتظام کرنے کی تربیت حاصل کریں۔
نیا اور پرانا زمانہ اورگھریلو مسائل:
ہمارے باپ داد ا کے زمانے میں زندگی بہت سادہ ہوتی تھی۔ عورتیں گھروں سے باہر نہیں نکلتی تھیں اور گھر کا تمام کام کاج خود ہی کرتی تھیں، اس لیے انہیں ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھیں لیکن آج کے دور میں لڑکیوں کے لئے تعلیم ضروری سمجھی جاتی ہےاور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی پہلے سے بہت زیادہ اچھا ہوچکا ہے،اس لیے گھریلو مسائل بھی پیچیدہ ہوگئے ہیں جیسے آج کی خاتون کے لئے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنا وقت، اپنی طاقت، روپے پیسے اور باقی تمام ذرائع کا استعمال کس طرح بہتر کرسکتی ہے اور باہر کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ گھر کی ساری ذمہ داریاں کس طریقے سے ٹھیک ٹھاک ادا کرسکتی ہے۔
بچوں کی دیکھ بھال:
بچوں کی دیکھ بھال کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی مناسب غذا،لباس اور تربیت کے اچھے طریقے کیا ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مسائل جن کا سامنا ہر عام لڑکی کو کرناپڑتا ہےجیسے اپنے خاندان کے سب لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا،گھر کے تمام کام نہایت سلیقے سے کرنا اور گھریلو ماحول خوشگوار بنانا وغیرہ یہ تمام تر عورت کی ذمہ داریاں ہیں۔ ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک لڑکی اپنے افرادِ خانہ کی آمدنی اور تمام وسائل و ذرائع کو بہتر طریقے اور خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتی ہے۔
ہوم اکنامکس، کھاناپکانا اور آرٹ:
ہوم اکنامکس کے مضمون میں روزمرہ کھاناپکانے کے طریقوں کے علاوہ مختلف قسم کے اچار ،چٹنیاں ،کیک اور بسکٹ بنانا بھی سکھایاجاتا ہے۔ اسی طرح آرٹ کی رو سے کڑھائی سلائی بچوں کے آسان اور سادہ کھلونے وغیرہ بناناسجاوٹ کی اشیاء بنانا کاغذ کے پھول بنانا شامل ہیں۔غرض یہ کہ ہوم اکنامکس بچیوں کو ایسے ہنر سے آراستہ کرتی ہے جس سے ان کا مقام گھر کے اندر اور معاشرے میں بلند ہوتا ہےاور وقت پڑنے پر وہ اپنے اس ہنر کی مدد سے خود کفیل ہو سکتی ہیں بلکہ اپنی گھریلو آمدنی میں بھی بہترین اضافہ کرسکتی ہیں۔
4۔ ہوم اکنامکس کا افراد کی جسمانی صحت اور ذہنی ترقی سے تعلق بیان کریں؟
ج: ہوم اکنامکس کا تمام مضامین سے ایک مربوط تعلق ہے۔ یہ مضامین ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ پر خاص اہمیت کا حامل ہے۔
1۔ غذا اور غذا ئیت کا تمام مضامین سے باہمی تعلق:
کھانا پیش کرنے میں آرٹ کے اُصولوں اور رنگوں کے امتزاج سے دلکشی اور رغبت پیدا کی جا سکتی ہے۔ نہایت سادہ اور معمولی کھانے کو خوش رنگ برتنوں میں رنگ برنگی سبزیوں کے سلاد کے ساتھ پیش کرنے سے کھانے کی اشتہابڑھائی جا سکتی ہے۔ خوش رنگ ٹرے کور، نیپکن اور میز پوش کا انتخاب کرکے کھانے کے میز کی سجاوٹ بڑھائی جا سکتی ہے ۔
غذائیت کے مضمون کی اولین ترجیح بچوں اور افراد ِ خانہ کی صحت اور خوشحالی ہے۔ بچوں کو انواع و اقسام کی غذاؤں سے آشنا کروانا اور کھانے کے ادب و آداب سکھانا بھی غذا اور غذائیت کے مضمون کی ذمہ داری ہے تاکہ بچوں کی بہترجسمانی و ذہنی نشوونما ہو سکے۔
2۔ پارچہ بافی اور لباس کا تمام مضامین سے باہمی تعلق:
لباس کی بہتر منصوبہ بندی کے لئے رنگ و ڈیزائن اہم ہیں۔ آرٹ سے واقفیت کی بنا پر رنگوں ، خطوط اور ٹیکسچر کا درست استعمال کرکے اپنی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔
بچے کی نشوونما میں لباس کا انتخاب بچے کی نفسیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بچوں کا لباس ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس کو پہن کر وہ اپنے ہم عمر بچوں میں احساس کمتری کا شکار ہوں۔ ان کے لیے لباس کا انتخاب کرتے وقت ان کی پسند و نا پسند، مضبوطی ، پائیداری، قیمت اور آرام دہ ہونے کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔یہ تمام عوامل بچوں کی بہتر نشوونما کا باعث بنتے ہیں۔
3۔ گھریلو انتظام کا تمام مضامین سے باہمی تعلق:
روزمرہ زندگی سے متعلق مصروفیات مثلاٌ غذا کی تیاری ،لبا س کا انتخاب و تراش خراش ،بچوں کی دیکھ بھال ، گھر کی آرائش و زیبائش، گھر اور لبا س کی صفائی و دھلائی، مہمانوں کی خاطر مدارت، بیمار کی تیمارداری اور تفریح کے انتظام وغیرہ کے لئے ایک خاص انتظام و انصرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے گھریلو انتظام کے مضمون کو دوسرے مضامین پر برتری حاصل ہے۔
انسانی خواہشات و ضروریات لامحدود ہوتی ہیں۔ قلیل اور محدود ذرائع و وسائل کے باوجود مقاصد و خواہشات کو حاصل کرنے میں انتظام کا عمل ہی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اچھا انتظام خاندان کے لئے خوشحالی و کامرانی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
4۔ ہوم اکنامکس کا افراد اور خاندان کی جسمانی صحت اور ذہنی ترقی سے باہمی تعلق:
ہوم اکنامکس کی تعلیم طلباء میں یہ شعور اُجاگر کرتی ہے کہ صحت اور صفائی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ یہ مضمون تندرستی اور عمدہ صحت کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے اور اچھی صحت برقرار رکھنے والے عوامل سے روشناس کرواتا ہے۔ مثلاٌ جسمانی صفائی ،ورزش، آرام، نیند،اُٹھنے بیٹھنے کے انداز اور متوازن غذا وغیرہ، گھراور اردگرد کی صفائی ، عام بیماریوں کی وجوہات، علامات، روک تھام اور احتیاطی تدابیر سے واقفیت ،گھر پر مریض کی دیکھ بھال اور اتفاقی حادثات کی صور ت میں ابتدائی طبی امداد کی تربیت کی آگہی فراہم کرنا کیونکہ جسمانی صحت ہی دراصل ذہنی ترقی کی بنیاد ہے۔
ہوم اکنامکس خاندا ن کی جسمانی و ذہنی صحت کی جانب بھی خصوصی توجہ دیتی ہے۔ مختلف عمر کے افرادِ خانہ کی غذائی ضروریات کے مطابق غذا کی فراہمی ، رہائش کے لئے گھر کی مناسب آرائش و ترتیب اور پیارو محبت او رتحفظ کے ماحول میں بچوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل وغیرہ تاکہ وہ جسمانی طور پر صحت مند اور ذہنی طورپر چوکس و توانا ہوں اور عملی زندگی میں مثبت سوچ سے تعمیر ی کاموں میں حصہ لے سکیں۔
5۔ ہوم اکنامکس کا معاشرے کی سماجی و معاشی ترقی سے باہمی تعلق:
ہوم اکنامکس کا نظریہ یہ ہے کہ عورت کو گھر کے محدود احاطے سے نکال کر معاشرے اور قوم کے وسیع دائرے میں لایا جائے تاکہ وہ معاشرتی مسائل حل کرنے اور معاشرے کی سماجی و معاشی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ اہم کردار اداکر سکے۔
موجودہ دور کی مہنگائی اور بدلتے ہوئے تقاضوں کی بدولت اپنے معیارِ زندگی کو بلند کرنا تو درکنار برقرار رکھنا بھی دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ہوم اکنامکس کا مضمون ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ گھر کے ذرائع و وسائل کو کس طرح منصوبہ بندی سے استعمال کریں کہ محدود آمدنی میں گھر کی تمام ضروریات و مقاصد بھی حاصل ہوں اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ اس مضمون میں مختلف مہارتوں اور ہنروں کی تربیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے تجارتی پیمانے پر آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
سماجی و معاشی ترقی کے لئے اپنی آمدنی و خرچ کا توازن درست رکھنا ضروری ہے۔ ہوم اکنامکس بجٹ بنانے کی مشق فراہم کرتا ہے۔ نیز بچت کے فوائد سے بھی آگاہ کرتا ہے جو خاندان اور معاشرے کی بہترترقی میں معاونت کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مجموعی طور پر تمام قوم کی بہبود و ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔
5۔ باخبر صارف کے کردار کی وضاحت کریں؟
ج: باخبر صارف کے کردار:
معاشرے میں موجود چیزیں خریدنے اور انہیں استعمال میں لانے والے کو صارف کہا جاتا ہے۔ ہرشخص اپنی آمدنی اور ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیزیں خریدتا ہے۔ ہوم اکنامکس ہرشخص کو اس کی ضروریات کے مطابق چیزیں خریدنے کے لئے معلومات مہیا کرتی ہے۔
ہوم اکنامکس کی تعلیم سے شعور:
ہوم اکنامکس کی تعلیم کسی خریدار کو یہ شعور بھی دیتی ہے کہ بنے بنائے کپڑوں یا ڈبے میں بند غذاؤں کو خریدتے وقت ان پر چسپاں معلوماتی لیبل اور ان کی تیار کرنے والی کمپنی کے نام کے بارے میں اچھی طرح جانچ پڑتا ل کرلیں کیوں کہ ایسی مصنوعات جن کی بنانے والی کمپنیاں گم نام ہوتی ہیں، عام طورپر غیر معیاری اور ناقص ہوتی ہیں۔ اگر خریدی گئی چیز پر مشہور کمپنی کا لیبل چسپاں ہو اور چیز خراب نکل آئے تواس کے بارے میں دکان دار سے شکایت کی جاسکتی ہے۔
خریدار کو یہ چیز نظر میں رکھنی چاہیے کہ خریدی گئی چیز پر موجود لیبل پر اگر کوئی احتیاطی تدابیر لکھی گئی ہیں تو ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اگران ہدایات کو نظرانداز کردیاجائے تو عام طور پر نتائج توقع کے مطابق نہیں ہوتے۔
خریدار کی تربیت:
اس مضمون میں خریدار کو اس بات کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی آمدنی ، گھریلو بجٹ اور دوسری ضروریات کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے لیے خریداری کرے تاکہ وہ ایک اچھا صارف کہلاسکے۔
6۔ ہوم اکنامکس اور خاندان کی فلاح و بہبود پر نوٹ لکھیں؟
ہوم اکنامکس کا خاندان کی فلاح و بہبود سے بڑا گہر اتعلق ہے۔
1۔ ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے سے گھریلو ماحول کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
2۔ ہوم اکنامکس کے طالب علموں کو ایک اچھا منتظم یا منتظمہ بنا کر ان کی خوداعتمادی کو بڑھایا جاسکتا ہے۔
3۔ اس مضمون میں طالب علموں کو صحت کے اُصولوں پر قائم رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کو بتایا جاتا ہے کہ اچھی صحت کے لئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔
4۔ گھر والوں کی اچھی صحت کے لئے گھر کی صفائی نہایت ضروری ہے۔ گھر کی صفائی میں باروچی خانے کی صفائی ، غسل خانے کی صفائی، لباس کی صفائی اور ذاتی صفائی وغیرہ شامل ہیں۔
5۔ گھر میں موجود کھانے پینے کی اشیاء کو جراثیم سے محفوظ رکھنا اور پینے کے پانی کو صاف رکھنا بھی گھریلو امور کا ایک حصہ ہے کیوں کہ اگر پانی صاف نہ ہوگا تو مختلف قسم کی مہلک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
6۔ خاندان کی فلاح و بہبود میں ابتدائی طبی امداد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ طلبہ کی ابتدائی طبی امدا د کو تربیت دی جاتی ہے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کی کٹ سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ اور اس میں موجود ادویات کے بارے میں معلومات مہیا کی جاتی ہیں جو گھر کے ماحول اور ضرورت سے مطابقت رکھتی ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتِ حال میں وہ افرادِ خانہ کی مدد کرسکیں۔
7۔ ہوم اکنامکس کا دائرہ عمل کیا ہے؟
ہوم اکنامکس کا دائرہ عمل:
آج کے ترقی یافتہ دور میں ہوم اکنامکس صرف ایک مضمون ہی نہیں رہا بلکہ اب اس کو موجودہ دور کے تقاضوں سے مربوط کے کے پیشہ ورانہ مضامین کی فہر ست میں شامل کر لیا گیا۔ جو لوگ ہوم اکنامکس میں مہارت حاصل کرتے ہیں ان کو روزگار کے نئے نئے مواقع مل رہے ہیں۔ آج کے دور میں ہوم اکنامکس کا دائرہ عمل محدود نہیں رہابلکہ اس میں تعلیم ، معاشرتی بہبود کے پروگرام، صحافت ، مواصلات اور اشتہارات کے شعبے، طبی سائنس سروسز، ٹیکسٹائل انڈسٹری ، اندرون خانہ آرائش و زیبائش وغیرہ شامل ہیں۔
8۔ ہوم اکنامکس اور طبیعی سائنس کا باہمی تعلق لکھیں؟
طبعی سائنس اور ہوم اکنامکس کا باہمی تعلق:
غذا میں موجود مختلف قسم کے غذائی اجزاء سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے طبعی سائنس کا جاننا بہت ضروری ہے۔ متوازن غذاکو ترتیب دینا اور نظامِ ہضم سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے حیاتیات کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غذا میں موجود مختلف قسم کے وٹامنز جیسے پروٹین، نشاستہ ، چکنائی، معدنی نمکیات وغیرہ کی جانچ پڑتال کے لئے علمِ کیمیاہی بنیاد فراہم کرتاہے۔ مختلف قسم کی خوراک کو محفوظ کرنے کے لئے جو کیمیائی مرکبات استعمال ہوتے ہیں، ان کا علم بھی علمِ کیمیا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
علمِ ریاضی کا جاننا:
ایک متوازن غذاترتیب دینے اور غذائی اجزاء میں موجود کیلوریز کا حساب رکھنے کے لئے علمِ ریاضی سے واقفیت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو بجٹ تیار کرنے کے لئے بھی علمِ ریاضی کا جاننا ضروری ہے۔
گھرمیں مختلف اقسام کی مشینیں ہوتی ہیں جیسے سلائی مشین، باروچی خانے میں کام آنے والی مختلف مشینیں ۔ ان مشینوں کی بہتر کارکردگی کے لئے طبیعات کے علم سے ہی مدد لی جاسکتی ہے۔
مختلف اقسام کے کپڑوں کی پہچان:
مختلف اقسام کے کپڑوں کی پہچان کےلئے جو تجزیہ کیا جاتا ہے وہ بھی علمِ کیمیا کا ہی مرہونِ منت ہے۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہوم اکنامکس کا طبعی سائنس سے بڑا گہر اتعلق ہے۔
9۔ ہوم اکنامکس اور معاشرتی سائنس کا کیا تعلق ہے؟
ہوم اکنامکس اور معاشرتی سائنس:
ایسی معلومات جو انسانی تعلقات سے وابستہ ہوں یعنی ایک انسان کیا کیا ضرورتیں رکھتا ہے اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کیا کیا طریقے اختیار کرتاہے۔ اپنی روزی کمانے کے لئے کس طریقے کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ سب چیزیں معاشرتی سائنس کے زمرے میں آتی ہیں۔اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی سائنس یعنی سوشیالوجی اور نفسیات کے ساتھ گہر ا تعلق ہے۔
مشہور مفکر پارک اوربرگس:
مشہور مفکر پارک اور برگس نے “عمرانیات کو اجتماعی رویے کے مطالعے کانام دیا ہے۔”
آگبرن اور نمکاف کے مطابق سوشیالوجی کی تعریف :
آگبرن اور نمکاف نے ان الفاظ میں سوشیالوجی کی تعریف کی ہے۔”سماجی زندگی ، گروہی کردار اور سماجی سلوک کا مطالعہ عمرانیات کہلاتا ہے۔ “ہوم اکنامکس میں خاندان کی دیکھ بھال ، انسانوں کاایک دوسرے کے ساتھ رویہ اور معاشرتی تعلقات کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہوم اکنامکس عمرانیات کاہی ایک حصہ ہے۔
ماہرِ نفسیات انکلس:
ماہرِ نفسیات انکلس نے علمِ نفسیات کو خاندان کے افراد کی ذہنی سطح سے متعلق قرار دیا ہے۔ اسی طرح ہوم اکنامکس میں بھی بچوں کی ذہنی سطح جیسے مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور اس کو سنوارنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہوم اکنامکس اور نفسیات کوایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔
10۔ قائدانہ صفات کی مشق او رہوم اکنامکس کا کردار بیان کریں؟
کسی بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے ہوم اکنامکس کے ماہر لوگ ایک اچھے قائد کے طورپر کام کرسکتے ہیں۔ جیسے
1۔ کم عمر افراد کے لئے تربیتی پروگرام بنانا۔
2۔ چھوٹے بچوں کے لئے ڈے کئیر سنٹر بنانا۔
3۔ کسی عوامی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں منتظم کے طور پر کام کرنا۔
4۔ گھریلو خواتین کی راہنمائی کرنا اور سماجی سروس کا حصہ بننا۔
5۔ کسی ہوٹل میں کمروں کی دیکھ بھال کے نگران کے طور پر کام کرنا۔
6۔ کسی ہوٹل یا ہسپتال میں غذائی ماہر کے طور پر خوراک تیار کرنے میں مشورہ دینا۔
7۔ کسی غذائی مصنوعات تیار کرنے والے ادارے کے ساتھ بطور ماہر غذائیات کام کرنا۔
8۔ فیشن ڈیزائنر کے طورپر کام کرنا۔
9۔ مصنوعات کے ماہر کی حیثیت سے ٹیکسٹائل کی صنعت میں مشورے دینا۔
10۔ گھر کی سجاوٹ اور آرائش و زیبائش کے ماہر کےطور پر کام کرنا۔
سوالنمبر 3۔ تفصیلی جوابات تحریر کریں۔
1۔ ہوم اکنامکس کی تعلیم کے مقاصد بیان کریں؟
ہوم اکنا مکس کے اغراض و مقاصد:
ہوم اکنامکس کوگھریلو سائنس کا نام دیا جاتا ہے۔ چوں کہ بچے کی ابتدائی تربیت گاہ اس کا اپنا گھر ہوتا ہے اس لئے گھر کے ماحول کو بہتر بنانے میں ہوم اکنامکس بنیاد ی کردار ادا کرتی ہے۔
ہوم اکنامکس کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں۔
1۔ گھریلوانتظام میں مہارت:
اپنے وسائل اور ذرائع کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ایسے جدید طریقے اپنانا ، جن میں کم سے کم وقت صرف ہو اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل ہو سکیں۔ان فوائد میں گھر کے افراد کی ضروریات شامل ہیں۔
2۔ افرادِ خانہ میں تشفی کرنا:
ایسے طریقے اپنانا جن کی مدد سے افرادِ خانہ اطمینان محسوس کریں اور اس میں زیادہ قوت بھی استعمال نہ ہو اور نہ ہی اس میں زیادہ وقت لگے۔
3۔ بنیادی اقدار کی شناخت:
زندگی گزارنے کے لئے ایسے طریقے سمجھنا جن کی وجہ سے گھر کے افراد معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ اور ملکی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔
4۔ آمدن اور اخراجات میں توازن قائم کرنا:
ایک محدود آمدن کا حساب رکھتے ہوئے اپنے ضروریات کو اپنی آمدن کے مطابق ڈھالنا۔ اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن قائم کرنا تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتِ حال کا سامنا کیا جا سکے۔
5۔ بچت کے رویے کو اپنانا:
محدود آمدنی کے باوجود آمدن بڑھاتے ہوئے بچت کے طریقے سکھاناتاکہ مشکل وقت کا مقابلہ کیا جا سکےاور کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔
6۔ وسائل کا بہترین استعمال کرنا:
اگر اپنے پاس موجود وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے تو ایک معیاری زندگی کا حصول آسان ہو سکتا ہے ۔ خاندان کی خوراک او رگھر کے دوسرے اخراجات کی اس طرح منصوبہ بندی کرنا کہ محدود وسائل کے باوجود اچھا معیار زندگی حاصل ہو۔
7۔ خوش گوار گھریلو ماحول مرتب کرنا:
بچے اپنے گھر سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ بچے کی اولین تربیت گاہ اس کا گھریلو ماحول ہوتا ہے، جہاں وہ پرورش پاتا ہے۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لئے ایک ایسا خوش گوار ماحول پیدا کرنا تاکہ گھر کے افراد اپنی مرضی سے اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکیں۔
8۔ خاندان کی رہائشی ضروریات:
اپنے وسائل کے مطابق خاندان کے افراد کورہائشی کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے اُصول بنانا۔ ایسے طریقے اپنانا جس سے گھر صاف ستھرا اور آرام دہ ہوجائے اور گھر کے سب افراد کو اچھی رہائشی سہولتیں میسر آسکیں۔
9۔ بچوں کی پرورش اور راہنمائی:
چوں کہ بچہ اپنے گھر کے ماحول سے ہی سب سے پہلے سیکھتاہے، اس لئے بچے کی بہتر جسمانی ،ذہنی ، جذباتی اور نفسیاتی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی مفید معلومات مہیا کی جاتی ہیں تاکہ بچوں کی پرورش اور راہنمائی اچھے انداز سے ہو سکے۔
10۔ پیشہ ورانہ مہارتیں پیدا کرنا:
گھر سے تعلق رکھنے والے مختلف پیشوں کے بارے میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا۔ طلبہ کو خاص قسم کے تجربات مہیا کرنا جو آئندہ آنے والی زندگی میں ان کی راہنمائی کرسکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ میں انتظامی صلاحیت اُجاگر کرناتاکہ وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔
2۔ ہوم اکنامکس کے مختلف شعبہ جات کون کون سے ہیں۔وضاحت کریں؟
ہوم اکنامکس کے محض ایک مضمون نہیں ہے بلکہ یہ بہت سے مضامین سے مل کر بنا ہے۔ یہ ایسے مضامین ہیں جو قدم قد م پر افراد کے لئے راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ ہوم اکنامکس کو پانچ بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہوم اکنامکس کے شعبے درج ذیل ہیں۔
غذااور غذائیت:
اس حصے میں کسی غذا کی غذائیت کے بارے میں علم حاصل کرنا، صحت اور غذا کا آپس میں تعلق پہنچاننا ، متوازن غذا کی صحیح مقدار کے بارے میں جاننا۔ غذا میں موجود مختلف قسم کے غذائی اجزاء کی اہمیت کے بارے میں جاننا، کھاناپکانے کے مختلف طریقوں کے ذریعے سے کھانے کا ذائقہ اور کھانے کی غذائیت پر ہونے والے اثرات کو جاننا۔ کسی بھی غذائی اجناس کے خراب ہونے کی وجوہات کا علم رکھنا اور اسے خرابی سے محفوظ رکھنے کے طریقوں کا علم رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔
پارچہ بافی اور لباس:
اس مضمون میں شخصیت کے مطابق لباس کا انتخاب کرنا، لباس کی اہمیت کے بارے میں بتانا۔ مختلف مواقع پر مختلف لباس کا انتخاب کرنا، اپنی آمدن کے مطابق اچھے اور بہتر لباس کا انتخاب کرنا،کپڑوں کی خریداری کرنا، مختلف قسم کے کپڑوں کے ریشوں کی پہچان کرنا، کپڑے کے بناوٹ کے بارے میں معلومات فراہم کرنا، کپڑوں کی سلائی اور کٹائی کے طریقوں کے بارے میں جاننا وغیرہ شامل ہیں۔
گھریلو انتظام اور ماحولیات :
اس مضمون میں گھر کا انتظام کرنا، حفظانِ صحت کے اُصولوں کو بہتر بنانا، اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے طریقے جاننا، عام قسم کی بیماریوں کی وجوہات تلاش کرنا، ان بیماریوں سے بچاؤ اور روک تھام کے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں معلومات دینا۔
انسانی نشوونما اور خاندانی علوم:
اس مضمون میں بچے کی نشوونما اور شخصیت کی تعمیر سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے مختلف افراد کے آپس میں تعلقات پر بھی اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔
آرٹ و ڈئزائن:
اس شعبے میں گھر کی آرائش کے بارےمیں معلومات فراہم کی جاتی ہیں جیسے مختلف رنگوں کا انتخاب کرنا، آرام دہ فرنیچر کا انتخاب کرنا۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے پردوں کے رنگ کو فرنیچر کے رنگ سے ہم آہنگ کرنا۔ مختلف مواقع پر موقع کے مطابق آرائش اور سجاوٹ کرنا شامل ہیں۔
3۔ ہوم اکنامکس کا دیگر مضامین سے تعلق بیان کریں؟
ہوم اکنامکس کا دیگر مضامین کے ساتھ تعلق:
ہوم اکنامکس ایک وسیع و عریض مضمون ہے۔ اس وجہ سے اس کا سائنس کے ساتھ بھی بہت گہرا تعلق ہے او ر آرٹ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔ ہوم اکنامکس کا مندرجہ ذیل مضامین کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
ہوم اکنامکس او ر نفسیات:
ہوم اکنامکس میں ہم ہر عمر کے افراد کی دیکھ بھال اور ان کے مسائل کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ان کے لئے مناسب خوراک، لباس، رہائش اور پرورش کرنے کے اُصول و طریقے سیکھتے ہیں۔ ان کاموں کے لئے افراد کی نفسیات کا سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ نفسیات میں فرد کی شخصیت اس کی نشوونما اور احتیاجات کو سمجھنے کے اُصول و طریقے پڑھائے جاتے ہیں اس لیے ہوم اکنامکس میں علم نفسیات کی مدد سے بچوں کے بہت سے مسائل حل کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
ہوم اکنامکس اور معاشیات:
ہوم اکنامکس میں روپے پیسے کے استعمال کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ گھر کا بجٹ بنانے کا طریقہ سمجھایا جاتا ہے تاکہ اپنی آمدنی کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے اخراجات اور بچت کا حساب رکھا جائے اور خریداری کرتے وقت سستی اور معیاری چیزیں خریدیں اور اپنی آمدنی سے تجاوز نہ کریں۔ چونکہ معاشیات کا ایک پہلو بجٹ اور اخراجات کے متعلق بھی ہے، اس لئے ہوم اکنامکس کا معاشیات کے ساتھ بڑاگہر اتعلق ہے۔
ہوم اکنامکس اور عمرانیات:
کسی علاقے کے رسم و رواج اور رہن سہن کے طریقون کا مطالعہ سماجی مطالعہ کہلاتا ہے۔ معاشرے کے طرزِ عمل کا مطالعہ عمرانیات کہلاتا ہے۔ ہوم اکنامکس میں بھی لوگوں کے رویوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان کے آپس کے تعلقات پر بحث کی جاتی ہے اس لیے ہوم اکنامکس اور عمرانیا ت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔
ہوم اکنامکس اور آرٹ:
اپنے گھر کو سجانے اور لباس کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لئے آرٹ کے تمام عناصر اور اصولوں کو کام میں لایا جاتا ہے۔ مثلا خطوط، رنگ، سطحی کیفیت ،شکل و ہئیت ، ہم آہنگی، توازن اور تسلسل سے مدد لی جاتی ہے جس طرح تخلیقی ہنر مثلاٌ مصوری، سنگ تراشی اور مجسمہ سازی میں ان اُصولوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح گھر کی آرائش اور لباس کے انتخاب میں ان کو سمجھنااور مدَِنظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے اس لیے ہوم اکنامکس اور آرٹ کو کبھی علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔
ہوم اکنامکس اور کیمیا:
ہوم اکنامکس میں غذااور غذائیت سے بحث کی جاتی ہے۔ ہماری غذا میں شامل غذائی حرارے مختلف قسم کے کیمیائی مرکبات سے مل کربنتے ہیں غذائی حراروں کے بارے میں جاننے کے علمِ کیمیا کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہوم اکنامکس میں غذا کو ڈبوں میں محفوظ کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ غذا کو ڈبوں میں محفوظ کرنے کے لئے مختلف کیمیائی مرکبات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہوم اکنامکس اور علمِ کیمیا کا آپس میں گہر اتعلق ہے۔
ہوم اکنامکس اور حیاتیات:
دیکھنے میں تو ہوم اکنامکس اور حیاتیات میں کوئی خاص تعلق نظر نہیں آتا،کیونکہ حیاتیات میں تو زیادہ تر پودوں اور جانوروں کے متعلق پڑھا جاتا ہے لیکن علمِ حیوانات کا ایک پہلو انسانی نشوونما کے متعلق ہے اور ہوم اکنامکس میں بھی بچے کی پیدائش اس کی حفاظت اور نشوونما خصوصیات اور تعلیم و تربیت کے اُصول و طریقے جاتے ہیں ، اس لیے حیاتیات اور مبادیات کا علم ِ ہوم اکنامکس میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے۔
ہوم اکنامکس اور تعلیم آبادیات:
ہوم اکنامکس مکمل طور پر گھریلوکام کاج، گھر کا تصور اور گھریلو فلاح و بہبود پر مبنی مضمون ہے اور اسی طرح تعلیم آبادیات اور ہوم اکنامکس کا مقصد بھی خاندانی ، معاشرتی اورقومی سطح پر افراد کی فلاح و بہبود ہے ۔ ہوم اکنامکس اور تعلیم آبادیات کا اصل مقصد حقیقت میں اپنے وسائل اور ضروریات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ مختلف مضامین سے ہوم اکنامکس کے قریبی تعلق کے بارے میں پڑھنے سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہوم اکنامکس کو نفسیات، معاشیات، آرٹ، شہریت، کیمیااور تعلیم آبادیات سے قطعی طورپر الگ نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان تمام علوم کا ہوم اکنامکس کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سے گہرا تعلق ہے۔
ہوم اکنامکس اور ماحولیاتی تعلیم:
اپنے اردگرد کے ماحول سے واقفیت حاصل کرنا ماحولیاتی تعلیم کہلاتا ہے۔ مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی ملکی ترقی میں حصہ لیتی ہیں۔ عورت کے ذمے گھر کا انتظام وانصرام ہوتا ہے۔ اگر ایک عورت اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھے گی تو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پائے گا۔ عورت کی دیکھا دیکھی گھر کے دوسرے افراد بھی اس کی پیروی کریں گےاور اپنے ماحول کو صاف ستھرارکھیں گے۔ طلبہ و طالبات ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کر کے اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح ہوم اکنامکس اور ماحولیاتی تعلیم ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جاسکتے ۔
4۔ انفرادی ،خاندانی اور معاشرتی سطح پر ذرائع وسائل کے بہتر استعمال پر نوٹ لکھیں؟
انفرادی ، خاندانی اور معاشرتی سطح پر ذرائع وسائل:
ایسی اشیاء اور سہولیات جو ہم اپنے مقاصد کو پور اکرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں وسائل کہا جاتا ہے۔ اس میں فوری سہولیات اور لمبے عرصے کی سہولیات دونوں ہی شامل ہیں۔ فوری سہولیات سے مراد یہ ہےکہ خوراک اور لباس کی سہولت ہو، جسمانی صحت اور تعلیم حاصل کرنے کی سہولت ہو۔
ہوم اکنامکس کی افادیت:
ہم اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بیک وقت کئی طرح کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔ ان میں وقت، طاقت اور روپیا پیسا وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ لوگوں کے ذرائع آمدنی محدود ہیں۔ اس کے مقابلے میں ضروریات اور خواہشات زیادہ ہیں۔ اس لیے ہوم اکنامکس کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے کیوں کہ اس مضمون کی مدد سے ہم اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنے ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔
خاندان اور معاشرے کی پہچان:
ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طالب علم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے مسائل کی پہچان کرسکیں اور ان کو حل کرنےکے لئے نہ صرف یہ کہ بہتر تجاویز پیش کرسکیں بلکہ عملی طور پربھی ان کے حل کی کوششیں کرسکیں۔ جیسے غذا اور غذائیت کے بارے میں جاننے سے ایک خاندان اور معاشرے کےلئے صحت مند اور متوازن کا انتظام کرسکیں۔
غذائی اجزاء کی فراہمی:
ہرعمر کے افراد کے لئے ان کی جسمانی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے غذا فراہم کرسکیں اور ضروریات کے مطابق غذائی اجزاء کی ایک فہرست مرتب کرسکیں۔ جن میں مہنگے اور سستے دونوں اقسام کے غذائی اجزاء کی فہر ست شامل ہو۔ اس کے علاوہ ماحول کی صفائی ، سکول اور محلے کی صفائی، گھر کی صفائی اور ذاتی صفائی پر بھی توجہ دیں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آسکے۔
5۔ ہوم اکنامکس کی تعلیم میں ہنر مندی اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما پر بحث کریں؟
جسمانی نشوونما:
جسمانی نشوونما سے مراد یہ ہے کہ انسان کا قد، جسامت اور وزن اس کی عمر کے ساتھ ساتھ پروان چڑھے۔ اس میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ ہو۔ذہنی نشوونما سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی عمر اور ماحول کے مطابق اپنی ذہانت اور خیالات کا اظہار کرے۔ ذہنی نشوونما میں انسان کی یادداشت، مشاہدہ، دھیان اور کسی چیز کو تخلیق کرنے کی صلاحیتیں شامل ہیں۔
ذہنی نشوونما کی درستی:
ہوم اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہم نشوونما کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وراثت اور ماحو ل سے کوئی فرد نشوونما پاتاہے۔ انسان کا ماحول اس کی شخصیت کو بناتا ہے۔ اگر انسان کوایک اچھا ماحول میسر ہوگا اس کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی نشوونما بھی درست طریقے پر ہوگی۔
انسانی نشوونما کو جاننا:
اگر کوئی انسان نشوونما کے طریقوں کو جانتا ہوگا تو وہ ان کی مدد سے مندرجہ ذیل فائدے حاصل کر سکتا ہے۔
فوائد:
1۔ بچے کے پروان چڑھنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے کسی بھی بچے کی آئندہ آنے والی زندگی کے بارے میں لائحہ عمل تیارکیاجا سکتا ہے۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے بچے کی نشوونما درست طریقے سے نہ ہورہی ہو تو والدین اس کے لئے بچے کی راہنمائی کرسکتے ہیں۔
2۔ بچوں کے لئے تعلیم نصاب ترتیب دیتے وقت مختلف عمر اور مختلف ماحول کے بچوں کی صلاحیتوں کو ضرورنظر میں رکھنا چاہیے۔ بچوں کی مشاہدات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بچوں کی تعلیم و تربیت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے بچوں کی بہترین ذہنی نشوونما ہو سکتی ہے۔
3۔ مختلف عمر کے بچوں کے رحجانات اور رویوں کو دیکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کس پیشے کو اپنا کر اپنے لیے بہتر روزگار کماسکتے ہیں۔
6۔ افراد کی پیشہ وارانہ مہارت کی تیاری میں ہوم اکنامکس کا کیا کردار ہے؟ وضاحت کریں۔
ایک ہوم اکنامکس کا ماہر اپنے لئے درج ذیل روزگار میں سے کسی ایک وسیلے کا انتخاب کرسکتا ہے۔
تعلیم:
ہوم اکنامکس کے ماہر تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دے سکتے ہیں کیوں کہ وہ بچوں کی نفسیات کو دوسروں لوگوں کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چھوٹے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو مدِ نظررکھتے ہوئے ان کے لئے مختلف قسم کی سرگرمیوں کا انتظام کرسکتے ہیں۔
معاشرتی بہبود کے پروگرام:
ہوم اکنامکس کے ماہر مختلف قسم کے سماجی بہبود کے اداروں میں اپنے فرائض منصبی ادا کرسکتے ہیں۔ ایسے ادارے جہاں معذور، خصوصی بچے اور بے راہ روی کا شکار بچے رکھے جاتے ہیں۔ ان اداروں میں بھی ہوم اکنامکس کے ماہر اپنی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں کیوں کہ وہ بچوں کو نفسیات کو سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ماہر ہوم اکنامکس غذائی علاج سے وابستہ بیماریوں جیسے ذیابیطس، بلند فشارِ خون (ہائی بلڈپریشر) اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے متوازن غذا ترتیب دے کر لوگوں کو آگاہ کرسکتے ہیں۔
صحافت ، مواصلات اور اشتہارات کے شعبے:
ماہر ہوم اکنامکس خاندانوں کو جدید تحقیق سے روشناس کروانے کے لئے تحقیقی مضامین لکھ کر صحافت کے شعبے میں فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف جرائد، رسائل اور اخبارات کے خصوصی شماروں میں غذا اور غذائیت سے متعلق مضامین لکھ کر اور تصاویر کے ذریعے سے عوام کو ان کی تفصیلات سے آگاہ کرسکتے ہیں۔
طبعی سائنس سروسز:
ایک ماہر ہوم اکنامکس غذائی ماہر کے طور پر کام کر کے صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جیسے مریض کو اس کے غذائی چارٹ کے حساب سے کھانا کھانے کی ترغیب دینا۔ مریض کے لئے بدل بدل کر غذا تجویز کرنا تاکہ مریض ایک ہی قسم کی غذا کھا کر اکتا نہ جائے۔ مختلف کھانے تیار کرنے والے اداروں میں نگران کے طورپر کام کرنا۔ مختلف اداروںمیں صفائی کے معیار اور غذائی معیار کی جانچ پڑتا ل کرنا۔ کسی نئی تیار شدہ مصنوعات کے استعمال کے طریقے بتانا اور عوام کو اس کی طرف راغب کرنا۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری:
لباس تیار کرنا اور خریدار کے رحجانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی ضروریات اور پسندیدگی کے لحاظ سے پارچہ جات کو بہتر بنانے کے لئے صنعت کاروں کو تجاویز پیش کرنا۔مختلف کپڑوں کے استعمال کے لئے خریدار کی راہنمائی کرنا۔
اندرون ِ خانہ آرائش و زیبائش:
پہلے پہل لوگوں کا طرزِ زندگی سادہ تھا مگر جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا لوگ گھر کی آرائش و زیبائش کی طرف بھی توجہ دینے لگے۔ آج کے دور میں گھر کی آرائش نے باقاعدہ ایک پیشے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ لوگوں نے گھر کی آرائش و زیبائش کو پیشے کے طورپر اپنا لیا ہے۔ گھر کی اندرونی آرائش کو بہتر بنانے کے لئے ہوم اکنامکس کے ماہر سے مددلی جاتی ہے۔
7۔ معاشرے کی ترقی میں ہوم اکنامکس کا کردار بیان کریں؟
معاشرتی ترقی میں ہوم اکنامکس کا کردار:
معاشرتی ترقی میں ہوم اکنامکس کا بڑا اہم کردار ہے ۔ ہوم اکنامکس مختلف کاموں میں بڑی اہمیت رکھتی ہے
ہوم اکنامکس کی اہمیت:
1۔ حکومتی اداروں کو مختلف خاندانوں کی خوراک، لباس اور دیگر ضروری چیزوں کے بارے میں تفصیلی معلومات مہیاکرنا۔
2۔ مختلف خاندانوں کی معاشی منصوبہ بندی کرنا۔
3۔ کام کو آسان بنانے کے لئے سادہ طریقے اپنانا۔ صارف سے ملاقات کرنااور اس کے رحجان سے متعلق معلومات کے بارے میں خاندان کرنا اور اس کے رحجان سے متعلق معلومات کے بارے میں خاندان کے دیگر لوگوں سے مشورہ کرنا۔
4۔ معذور افراد کی مدد کرنا۔ ملازمت پیشہ خواتین کی مدد کرنا۔
5۔ قرض پھنسے ہوئے لوگوں کی راہنمائی کرنا۔
6۔ گھریلو زندگی کو بہتربنانے کے لئے غذائی ماہرین، فن کار، دست کاراور دوسرے ہوم اکنامکس کے ماہرین سے رابطہ کرنا۔
7۔ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے گروہ تشکیل دینا اور اس سے عملی تعاون کرنا۔
8۔ دیہاتی خاندانوں کی ضروریات جاننے کے لئے مختلف زرعی کارکنوں سے رابطہ کرنا اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا۔
9۔ انفرادی طورپر گھر گھر جا کر لوگوں کے مسائل جاننااور ان کو حل کرنے میں لوگوں کی مدد کرنا۔
10۔معاشرے کے مختلف فلاح و بہبود کے منصوبوں میں حصہ لینا۔
(Introduction to Food and Nutrition) باب نمبر 2۔ غذا اور غذائیت کا تعارف
سوالات
سوالنمبر 1- ذیل میں دیے گئے بیانات میں ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
غذائی اجزاء کی تعداد کتنی ہے 1.
چھ (د) پانچ (ج) چار (ب) تین (الف)
وٹامن اور نمکیات کی جسم کو قلیل مقدار میں ضرورت ہوتی ہے اس لئے ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ 2
غیر سیر شدہ غذائی اجزا (د) ضروری غذائی اجزاء (ج) مائیکرو غذائی اجزاء (ب) میکروغذائی اجزاء (الف)
پروٹین کیلوری نقص غذائیت کا شکار عام طور پر کس عمر کے بچے ہوتے ہیں؟ 3.
چار سے چھ سال (د) ڈھائی سے چار سال (ج) ایک سے ڈیڑھ سال (ب) تین سے نو ماہ تک (الف)
غذا میں موجود کیمیائی مرکب جو جسم میں ایک یا ایک سے زائد کام سرانجام دینے کا ذمہ دار ہو کیا کہلاتا ہے؟ 4.
معدنی نمک (د) وٹامن (ج) غذائیت (ب) غذائی جزو (الف)
انسانی جسم کا کتنے فی صد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے؟ 5.
تین چوتھائی (د) ایک چوتھائی (ج) دوتہائی (ب) ایک تہائی (الف)
مالٹوز کو کون سی شوگر کہتے ہیں؟ 6.
ویجیٹیبل شوگر (د) فروٹ شوگر (ج) ملک شوگر (ب) سٹارچ شوگر (الف)
پروٹین میں کتنے فیصد نایٹروجن پائی جاتی ہے؟ 7.
20 فیصد (د) 18 فیصد (ج) 16 فیصد (ب) 14فیصد (الف)
جوابات: (4-)(2-)(2-)(2-)(2-)(1-)(2-)
سوالنمبر 2۔ مختصر جوابات تحریر کریں۔
1۔ غذا کی تعریف کریں؟
غذا سے مراد:
کھانے پینے کا عمل ایک ایسا”بنیادی عمل” ہے جس پر ہماری صحت اور زندگی کا دارومدا ر ہے۔ زندہ رہنے، ذائقے ،تشفی، نشوونما اور تندرستی و صحت کے لئے کھائی جانے والی چیزوں کو”غذا” کہا جاتا ہے۔
کھانے پینے کی صرف وہ اشیاء غذا کہلاتی ہیں۔ جو جسم کے لئے درج ذیل میں سےایک یا ایک سے زائد کام کرنے کی اہمیت اور خصوصیت رکھتی ہوں۔
غذا کے کام:
1۔ جسم کو حرارت اور توانائی فراہم کرنا۔
2۔ جس کے خلیات(ٹشوز) کی تعمیر و مرمت اور نشوونما کرنا۔
3۔ جسمانی نظام درست رکھنا اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیداکرنا،
2۔ غذائیت کسے کہتے ہیں؟
غذائیت سے مراد:
کھانے پینے کی اشیا میں موجود غذائی خصوصیات کو غذائیت کہتے ہیں جو زندگی کو روانی فراہم کرتی ہے۔ زندگی محض جینے اور سانس لینے کا ہی نام نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لئے “اچھی صحت” کا ہونا ضروری ہے جس کا بنیادی دارومدار غذا پر ہے۔
غذائی اجزاء کے نام لکھیں؟
غذائی اجزاء کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ کاربوہائیڈریٹس
2۔ پروٹین/لحمیات
3۔ چکنائی
4۔ معدنی نمکیات
5۔ وٹامن/حیاتین
6۔ پانی
3۔نقص غذائیت کی تعریف کریں؟
نقصِ غذائیت کی تعریف:
صحت کی بگڑی ہوئی کیفیت کو نقصِِ غذائیت کہتے ہیں جو جسم میں حراروں یا غذائی اجزاء کے اعتدال میں مسلسل کچھ عرصے تک کمی یا زیادتی رہنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جس سے درج ذیل مضرِ صحت صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔
4۔غذا کے تین بنیادی کام لکھیں؟
غذا کے تین بنیادی کام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ جسم کو حرارت اور توانائی فراہم کرنا۔
2۔ جسم کے خلیات(ٹشوز) کی تعمیر و مرمت اور نشوونما کرنا۔
3۔ جسمانی نظامِ درست رکھنا اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیداکرنا۔
5۔کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی کے اثرات لکھیں؟
کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی کے اثرات درج ذیل ہیں۔
1۔ دانت جلدی خراب ہوجاتے ہیں کیوں کہ کاربوہائیڈریٹس مٹھاس والی چیزوں میں زیادہ پایاجاتا ہے۔
2۔ انسان موٹاپے اور شوگر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
3۔ زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے انسان سست ہو جاتا ہے، اسے چلنے پھرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
6۔ضروری اور غیرضروری امینوایسڈ سے کیا مراد ہے؟
ضروری امائنوایسڈز:
ضروری امائنوایسڈز جسم میں خودبخود تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کو غذا سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ضروری امائنوایسڈ کی تعداد آٹھ ہے۔ یہ امائنوایسڈ پروٹین بنانے اور جسمانی نشوونماکے لئے بہت زیادہ ضروری ہیں۔
غیر ضروری امائنوایسڈز:
غیر ضروری امائنوایسڈکو غذا سے حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انہیں ہمارا جسم خود بخود تیار کرتا ہے۔ غیرضروری امائنوایسڈ کی تعداد 11 سے 14 ہے۔
7۔بچوں میں پروٹین کی کمی سے ہونے والے بیماری کون سی ہے؟
پروٹین کی کمی سے بچوں میں قوتِ مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کواشیورکور اور مراسمس یا سوکھے کی بیماری کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔ اس بیماری میں بچہ جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ جسم کی نشوونما رک جاتی ہے۔
8۔پروٹین کے نباتاتی ذرائع تحریرکریں؟
سویابین ، خشک مٹر، پھلیاں ،دالیں، سرخ و سفید لوبیا، چنے وغیرہ پروٹین کے نباتاتی ذرائع ہیں۔
9۔ضروری چکنے ترشوں کے نام لکھیں؟
چکنائی کے ضروری چکنے ترشے دو ہیں۔
ا۔ سیر شدہ چکنے ترشے ب۔ غیر سیر شدہ چکنے ترشے
10۔چکنائی کی زیادتی کے اثرات لکھیں؟
چکنائی کی زیادتی کے مندرجہ ذیل اثرات ہیں۔
موٹاپے کی بیماری:
اگر جسم میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوجائے تو انسان موٹا ہو جاتا ہے۔ موٹاپا بذاتِ خود بہت سی بیماریوں کا گھر ہے۔ موٹے آدمیوں کےلئے چلنا پھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔
مہلک امراض کا خطرہ:
اگر انسانی جسم میں چکنائی کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہوجائے تو انسان فالج، دل کی بیماری، بلندفشارِ خون(ہائی بلڈپریشر) اور جوڑوں کے درد جیسے جان لیوا امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
11۔وٹامن کے لفظی معنی کیا ہیں؟
وٹامن کا لفظ حیات سے نکلا ہے جس کےمعنی ہیں “حیات کے لئے ضروری جزو”۔
12۔وٹامن کی اقسام لکھیں؟
حل پذیری کے لحاظ سے وٹامن کی دو اقسام ہیں۔
چکنائی میں حل پذیر وٹامن:
چکنائی میں حل پذیر وٹامن میں وٹامن اے ،ڈی ، ای اور کے شامل ہیں۔
پانی میں حل پذیر وٹامن:
پانی میں حل پذیر وٹامن میں وٹامن سی اور وٹامن بی کا مپلیکس کی تمام اقسام شامل ہیں۔
13۔وٹامن اے کے ذرائع تحریر کریں؟
وٹامن اے ہمیں حیواناتی اور نباتاتی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دونوں ذرائع مندرجہ ذیل ہیں۔
حیواناتی ذرائع:
وٹامن اے حیواناتی ذرائع میں مچھلی کے جگر کے تیل ،کلیجی ،انڈے کی زردی،بالائی،مکھن، گھی اور تیل سے حاصل ہوتا ہے۔
نباتاتی ذرائع:
وٹامن اے نباتاتی ذرائع میں زرد ،نارنجی اور گہرے سبز رنگ کی سبزیوں اور پھلوں میں وافر ،مقدار میں پایاجاتا ہے۔
14۔وٹامن ڈی حاصل کرنے کے بہترین طریقے کون سے ہیں؟
وٹامن ڈی حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ سورج ہے۔ اس کے علاوہ حیواناتی غذاؤں میں انڈے کلیجی اور مچھلی کی تمام اقسام میں وٹامن ڈی کی کچھ نہ کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کو دودھ میں کیمیائی عمل کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے۔جسے فورٹی فائیڈ ملک کہتے ہیں۔
15۔وٹامن سی کے جسم میں کام لکھیں؟
وٹامن سی کے جسم میں کام درج ذیل ہیں۔
1۔ کولاجن نامی پروٹین بنانا:
کولاجن نامی پروٹین بنانا،وٹامن ‘سی’ کا اہم ترین کام ہے جو سکروی کی بیماری سے بچاتا ہے۔ جسم کے تمام خلیات کو آپس میں جوڑنے کے لئے سیمنٹ کا کام کرتا ہے اور جلد ،جھلیوں ہڈیوں اور رگوں کو مضبوط بنا تا ہے۔
2۔ زخموں کو جلد بھرنے میں مددگار:
وٹامن سی زخموں کوجلد ی مندمل کرنے کا کام کرتا ہے۔ ایسے افراد جن کے زخم جلد ٹھیک نہ ہوتے ہوں اگرانہیں کوئی اور بیماری نہ ہو تو ان کے جسم میں وٹامن سی کی کمی ہوتی ہے۔
3۔ متعدی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیداکرنا:
متعدی بیماریوں خصوصاٌ گلے، زکام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے۔
4۔ شریانوں کو مضبوط بنانا:
شریانوں کو مضبوط بنا کر جریانِ خون سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
5۔ مسوڑھے کی حفاظت کرنا:
وٹامن سی دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور مسوڑھوں کی حفاظت کرتا ہے۔
6۔ خون کے سرخ ذرات بنانے میں معاون:
وٹامن سی خوراک میں موجود آئرن کو ہضم اور جذب کرنے اور خون کے سرخ ذرات بنانے میں مدد دیتا ہے۔
7۔ کولیسٹرول کو کم کرنا:
خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
16۔وٹامن بی کامپلیکس میں شامل پانچ وٹامنز کے نام لکھیں؟
وٹامن بی کمپلیکس میں درج ذیل وٹامنز شامل ہیں۔
وٹامن بی کمپلیکس میں شامل پانچ وٹامنز کے نام
1۔ وٹامن بی تھایامین
2۔ وٹامن بی رائبوفلیوین
3۔ وٹامن بی نیاسین
4۔ وٹامن بی پائرڈوکسن
5۔ وٹامن بی کوبال امین
17۔معدنی نمکیا ت کے عمومی کام تحریر کریں؟
معنی نمکیات جسم میں عام طور پر درج ذیل کام کرتے ہیں۔
1۔ دل کے پٹھوں کو مضبوط کرنا:
معنی نمکیات دل کے پٹھوں سمیت جسم کے تمام ٹھوس پٹھوں اور نسوں کی تقویت دینے اور ان کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل کو درست اور باقاعدہ رکھنے کےلئے ضروری ہیں۔
2۔ خون کو گاڑھا کرنا:
معنی نمکیا ت خون کو گاڑھا کرنے اور چوٹ کی صور ت میں خون کو بہنے اور ضائع ہونے سے روکتے ہیں۔
3۔ غذائی اجزاء کے انجذاب میں اضافہ:
معنی نمکیات غذائی اجزاء کے انجذاب میں اضافہ کرتے ہیں اور جھلیوں کی قوتِ انجذاب بڑھاتے ہیں۔
4۔ ہڈیوں،دانتوں اور جسمانی ڈھانچے کی نشوونما:
معدنی نمکیات ہڈیوں ،دانتوں اور جسمانی ڈھانچے کی تعمیر و نشوونما کرتے ہیں اور انہیں مضبوط بناتے ہیں ۔
18۔پانی کی اہمیت پر نوٹ لکھیں؟
انسانی غذا کا لازمی جزو:
پانی ہماری روزمرہ کی غذا کا اہم اور ضروری جزو ہے اور آکسیجن کے بعد پانی ہی ایسی چیز ہے جو ہماری زندگی کی بقا کے لئے اشد ضروری ہے۔
انسانی جسم میں پانی کی فیصد مقدار:
انسانی جسم میں پانی کا تناسب تقریباٌ 50 سے 70 فیصد ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں پائے جانے والے پانی کی کل مقدار کا دوتہائی حصہ خلیوں میں اور ایک تہائی حصہ خلیوں میں اور ایک تہائی حصہ خلیوں کی درمیانی جگہ اور خون میں موجود ہوتا ہے۔
19۔صحت کی تعریف کریں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، “اچھی صحت سے مراد ایسی صحت ہے جس میں انسانی جسم کی مکمل ظاہری ،دماغی اور جذباتی صحت مندی کے آثار واضح ہوں او ر کسی بھی بیماری یا نقاہت کی کوئی علامت موجود نہ ہو”۔
20۔غذائی معیار کسے کہتے ہیں؟
غذا میں موجود مختلف قسموں کے غذائی اجزاء ہمارے جسم کی نشوونما کرتے ہیں۔ مختلف قسم کی قوت دینے والی غذائیں ہمیں حرارے مہیاکرتی ہیں۔ یہ حرارے ہمارے جسم میں دفاعی نظام کو بہتر بناتے ہیں اور روزمرہ کے کام کرنے میں مدددیتے ہیں۔ ایک بھرپور اور مکمل غذا کو غذاکا معیار ماناجاتا ہے اور اسے غذائی معیار کہا جاتا ہے۔
21۔اچھی غذائیت کے انسانی صحت پر اثرات لکھیں؟
اچھی غذا سے انسانی صحت پر درج ذیل خوش گوار اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
1۔ اچھی خوراک کھانے سے انسان ذہنی طورپر مطمئن ہوتا ہے۔
2۔ طبعیت خوش باش ہوتی ہے اور کام میں دل لگتا ہے۔
3۔ بال چمک دار ہوتے ہیں اور ان میں ملائمت آجاتی ہے جو دیکھنے میں بھلی لگتی ہے۔
4۔ دانت صاف ستھرے ، چمک دار اور خوب صورت ہوجاتے ہیں۔
5۔ چہرے کی جلد تروتازہ ، ملائم اور سرخ وسپید ہوتی ہے۔
6۔ انسان کا قداور وزن درست رہتا ہے۔
7۔ اعصاب میں مضبوطی آتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ دیر تک کام کرنے سے بھی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔
8۔ انسان کے اندر قوت ِ مدافعت بڑھ جاتی ہے اور وہ بیماریوں کا زیادہ بہادری سے مقابلہ کرسکتا ہے۔
س3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات دیں۔
1۔نقصِ غذائیت کی تعریف کریں اور انسانی نشوونما پر اس کے اثرات بیان کریں؟
نقصِ غذائیت کی تعریف:
صحت کی بگڑی ہوئی کیفیت کو نقصِ غذائیت کہتے ہیں جو جسم میں حراروں یا غذائی اجزاء کے اعتدال میں مسلسل کچھ عرصے تک کمی یا زیادتی رہنے کانتیجہ ہوتی ہے۔ جس سے درج ذیل مضرِ صحت صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔
1۔ غذائیت کی کمی :
بیماری یا نظامِ انہضام میں خرابی ،افلاس، قحط، اور بُری غذائی عادات کی وجہ سے جسم کو ایک یا زائد غذائی اجزا کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں وہ کمزور، لاغر اور بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ صحت کی ایسی کیفیت کو “غذائیت کی کمی” کہتے ہیں۔
2۔ غذائیت کی زیادتی :
بری غذائی عادات یا ضرورت سے زیادہ کھانے کی وجہ سے جسم میں حراروں یاغذائی اجزا ء کی مقدار بڑھ جاتی ہےجس سے “موٹاپا” ،”ذیابیطس”، دل،جگر اور معدے وغیرہ کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ صحت کی ایسی کیفیت کو”غذائیت کی زیادتی” کہتے ہیں۔
نقصِ غذائیت کے انسانی نشوونما پر اثرات:
کسی بھی جاندار کو نشوونما پانے اور صحت مند رہنے کے لئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ غذاجسم کو غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے مثلاٌ بچوں کے اندرونی و بیرونی اعضاء تعمیر ی مراحل میں ہوتے ہیں اس لئے نازک اور حساس ہوتے ہیں اور غذا میں کمی اور زیادتی کا اثرفوراٌ قبول کر لیتے ہیں۔
جس سے ان کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیاں ، ان کی جلد کی رنگت، آنکھوں ، بالوں ،ناخنوں اور دانتوں وغیرہ سے رونما ہونے لگتی ہیں جو مخصوص علامات کے ذریعے ان کی غذائی کیفیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
1۔ جلد پر اثرات:
ا۔پروٹین، وٹامن اے، وٹامن بی کامپلیکس،وٹامن سی اور وٹامن ای کی کمی سے انسان کی جلد خشک ،کھردری ،کانٹے دار او ررنگت میں سلیٹی نما بھوری ہوجاتی ہے۔ خارش کرنے سے جابجا زخم ہونے لگتے ہیں۔
ب۔ پروٹین ،وٹامن اے، وٹامن بی کامپلیکس، وٹامن سی اور وٹامن ای کی کمی سے انسان کے ہونٹوں کے کنارے اور باچھیں سوج کر سرخ ہوجاتے ہیں۔ ہونٹ سوج کر سرخ او رموٹے ہوجاتے ہیں۔
ج۔ پروٹین، وٹامن اے، وٹامن بی کامپلیکس ، وٹامن سی اور وٹامن ای کی کمی سے سورج کی روشنی پڑنے سے انسان کی گردن اور ہاتھ پاؤں کی جلد پر دانے نکل آتے ہیں۔
2۔ آنکھوں پر اثرات:
ا۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کی آنکھوں کی جھلی خشک ہوجاتی ہے۔
ب۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کے ڈھیلے پر دھبے پڑنے لگتے ہیں۔
ج۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کو آنکھوں میں خارش اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
د۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کی آنکھوں میں گدیں یا تار بننے لگتی ہیں۔
ر۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے اگر ننھے بچوں کے پپوٹے سوج کرپیپ پڑ جائے تو اس سے اندھا پن یا زیروفتھیلمیاہوجاتا ہے۔
ہ۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کو شب خوری ہوجاتی ہے۔
ڑ۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس کی کمی سے انسان کو مدھم روشنی میں اور رات کوکچھ دکھائی نہیں دیتا۔
3۔ بینائی کے اثرات:
ا۔ بیمارانسان کی روشنی میں آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ دکھائی کم دیتا ہے۔
ب۔ بیمارانسان کے سرمیں اکثر دردرہتا ہے۔
ج۔ بیمارانسان کی آنکھیں دھندلائی رہتی ہیں،صاف دکھائی نہیں دیتا۔
د۔ بیمار انسان میں بیماری کی شدت کی صورت میں نوبت موتیے تک پہنچ جاتی ہے۔
4۔ بال پر اثرات:
ا۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس ،پروٹین اور زنک کی کمی سے جسمانی طورپر بیمار شخص کے بال خشک،بھوسی کی طرح سخت اور کانٹے دار محسوس ہوتے ہیں۔
ب۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس ،پروٹین اور زنک کی کمی سیبیمار شخص کے بال کے سرے شاخ دار ہوتے ہیں۔
ج۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس ،پروٹین اور زنک کی کمی سےبیمارشخص کے بال ترش کرنے سے جڑوں اور درمیان سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔
د۔ وٹامن اے اور وٹامن بی کامپلیکس ،پروٹین اور زنک کی کمی سےچھوٹے بچوں کے بال کھردرے اور رنگ بھورا ہوجاتا ہے۔
5۔ ناخن پر اثرات:
پروٹین،کیلشیم ،وٹامن اے اور آئرن کی کمی سے بیمار شخص کے ناخن کے کنارے ٹوٹے پھوٹے ، بدوضع اور زردی مائل ہوتے ہیں اور ان میں سفید دھبے موجود ہوتے ہیں۔
6۔ مسوڑھے پر اثرات:
ا۔ وٹامن سی کی کمی سے انسان کے مسوڑھے پھول جاتے ہیں ان میں خارش رہتی ہے۔
ب۔ وٹامن سی کی کمی سے انسان کے مسوڑھوں سے خون اور پیپ رستا رہتا ہے۔
ج۔ وٹامن سی کی کمی سے انسان کے مسوڑھے نرم اور ڈھیلے پڑجانے سے دانتوں اور جبڑوں پران کی گرفت ڈھیلی ہونے لگتی ہے۔
7۔ دانت پراثرات:
ا۔ وٹامن سی کی کمی سے ایک بیمار شخص کے پیلے،بدبودار دانت عام تندرستی کی علامت ہے۔
ب۔ وٹامن سی کی کمی سے ایک بیمار شخص کے دانت جلدی گرنے لگتے ہیں۔
8۔ قد اور وزن پر اثرات:
ا۔ اگربچے کم غذا کھائیں گے توان کا قد چھوٹا رہ جائے گا۔ اس کےعلاوہ ان کا وزن بھی تیزی سے نہیں بڑھے گا او روہ صحیح طریقے سے نشوونما نہیں پا سکیں گے۔
ب۔ بچوں کا پیٹ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں اساسیت اور تیزابیت کا تناسب درست نہیں رہتا۔
9۔ جسمانی ڈھانچہ پر اثرات:
ا۔ کم خوراک کھانے سے انسان کی ہڈیوں کا ڈھانچہ بھی کمزور ہوجاتا ہے۔
ب۔ انسان میں قوتِ مدافعت ختم ہوجاتی ہے۔
ج۔ چال میں سستی آجاتی ہے۔
10۔ عضلات پراثرات:
ا۔ خوراک کی کمی سے عضلات ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔
ب۔ ان کی نشوونماٹھیک طریقے سے نہیں ہوتی۔
ج۔ جلد کے نیچے چکنائی کی سطح کم ہوجاتی ہے۔
د۔ جلد پرجھریاں پڑجاتی ہیں اور ایک جوان آدمی بھی بوڑھا معلوم ہونے لگتا ہے۔
11۔ نیند پر اثرات:
ا۔ انسان کی نیند کم ہوجاتی ہے۔
ب۔ غنودگی طاری رہتی ہے۔
ج۔ رات کم سونے کی وجہ سے دن بھر انسان سست رہتا ہے۔
د۔ انسان پر وقت بے چینی اور بے آرامی محسوس کرتا ہے۔
2۔غذاہمارے جسم کے کون کون سے بنیادی کام سرانجام دیتی ہے ؟تفصیلاٌ تحریرکریں؟
غذاکے بنیادی کام:
غذازندگی کی بنیادی ضرورت ہے جو ہمیں غذائیت فراہم کرکے صحت و توانائی فراہم کرتی ہے۔ غذا جسم میں درج ذیل کام سرانجام دیتی ہے۔
1۔ حرارت اور توانائی فراہم کرنا:
غذاجسم کوحرارت اور توانائی فراہم کرتی ہے تاکہ ہرقسم کے جسمانی ،ذہنی کام کاج اور جسم کے تمام اندرونی نظاموں کے افعال بخوبی انجام پاسکیں۔غذاہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی برقرار رکھتی ہے۔
2۔ خلیات کی نشوونما اور تعمیر و مرمت کرنا:
غذا نئے خلیات تعمیر کرکے جسمانی و ذہنی نشوونما کرتی ہے اور پرانے شکستہ خلیات کی مرمت کرتی ہے تاکہ صحت بحال رہ سکے۔ بچوں کونشوونما کرنے والی غذاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے اندر سے نئے خلیات بنتے رہیں اور ان کی مناسب نشوونما ہوتی رہے۔
3۔ جسمانی نظاموں کی درستگی اور بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنا:
غذاجسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرکے بیماریوں سے بچاتی ہے او رجسمانی نظاموں کودرست اور باقاعدہ رکھتی ہے ۔
3۔کاربوہائیڈریٹس کے جسم میں کام اور کمی کے اثرات بیان کریں؟
کاربوہائیڈریٹس:
کاربوہائیڈریٹ توانائی مہیاکرنے کابہترین ذریعہ ہے نیز کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں ہرجگہ کثرت سے پائی جاتی ہیں۔کاربوہائیڈریٹس سادہ شکر کے مرکبات ہوتے ہیں۔ ان کو “سیکرائیڈز” بھی کہتے ہیں۔ جزوِ بدن بننے کے لیے شکری مرکبات کوسادہ شکر میں اور سادہ شکر کا”گلوکوز” نامی شکرمیں تبدیل ہوناضروری ہے جو کاربوہائیڈریٹس کی سادہ ترین شکل ہے۔ گلوکوز کی مقدار غذاؤں اور جسم میں تمام کاربوہائیڈریٹس سے زیادہ پائی جاتی ہے۔
کاربوہائیڈریٹس کی اقسام:
کی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ سادہ شکر کےCHOکاربوہائیڈریٹس بنیادی طور پر کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہیں۔ ان کو علمِ کیمیا میں
ہے۔C_6 H_12 O_6ہر سالمے میں کاربن اورآکسیجن کی تعداد چھے اور ہائیڈروجن کی تعداد بارہ ہوتی ہے ۔ اس کا کیمیائی فارمولا
کاربوہائیڈریٹس کی درج ذیل تین اقسام ہیں۔
1۔ یک شکری مرکبات:
ا۔ گلوکوز ب۔ فرکٹوز ج۔ گلیکٹوز
2۔ دوشکری مرکبات:
ا۔ مالٹوز ب۔ لیکٹوز ج۔ سکروز
3۔ کثیر شکری مرکبات:
ا۔ نشاستہ ب۔ گلائیکوجن ج۔ ڈیکسٹرین
کاربوہائیڈریٹس کے ذرائع:
کاربوہائیڈریٹس کے درج ذیل ذرائع ہیں۔
نباتاتی غذائیں:
نباتاتی غذائیں کاربوہائیڈریٹس حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس “مٹھی اور نشاستہ دار” غذاؤں میں وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں مثلاٌ اناج، گندم، چاول، دالیں ، چینی، گڑ، شکر،شہد تمام میٹھے پھل،سبزیاں اور ان سے بنی اشیاء جو سستی ترین غذائیں ہونے کی وجہ سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔
کاربوہائیڈریٹس کے کام:
کاربوہائیڈریٹس ہمارے جسم میں درج ذیل کام سرانجام دیتے ہیں۔
1۔ جسم کو حرارت وتوانائی فراہم کرنا:
کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں جسم میں حرارت و توانائی مہیاکرتی ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں حرارت و توانائی پیدا کرنے کا کام پروٹین سرانجام دیتی ہے۔ کاربوہائیڈریٹس جسم کوقوت و حرارت کا بنیادی حصہ مہیا کرتے ہیں۔ ہم روزانہ کل توانائی کا 60 فیصد کاربوہائیڈریٹس سے حاصل کرتے ہیں اور اس کا ہر ایک گرام چار کیلوری فراہم کرتاہے۔
2۔ دماغ کے خلیوں کے لئے توانائی و حرارت کا واحد ذریعہ:
کاربوہائیڈریٹس دماغ کے خلیوں کے لئے توانائی و حرارت کا واحد ذریعہ ہیں اور یہ دماغی افعال کے لئے فوری توانائی فراہم کرتے ہیں ۔ یہ اعصابی بافتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔
3۔ جسم کو پروٹین اور نمکیات مہیاکرنا:
کاربوہائیڈریٹ سے کچھ پروٹین ،وٹامن بی اور چند نمکیات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹ پروٹین کو توانائی پیدا کرنے کے اضافی کام کے بوجھ سے بچاتے ہیں تاکہ وہ جسم کی نشوونما کے لئے استعمال ہو سکے۔
4۔ عملِ ہضم میں آسانی:
کاربوہائیڈریٹ دیگرغذاؤں کی نسبت آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں اور بہت حد تک پورے کے پورے جسم میں جذب ہو کر جسم کے لئے توانائی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔کچھ کاربوہائیڈریٹس ناقابلِ ہضم ہونے کی وجہ سے بھوک تو مٹاتے ہیں لیکن توانائی فراہم نہیں کرتے جبکہ نشاستہ “زود ہضم” ہونے اور گلوکوز فوری ہضم ہونے کے باعث جسم کو بھرپور توانائی فراہم کرتا ہے۔
5۔ آنتوں کی بیماریوں اور کینسر سے محفوظ رکھنا:
ناقابلِ ہضم کاربوہائیڈریٹس آنتوں کی صفائی کرکے آنتوں کی بیماریوں اور کینسر سے محفوظ رکھتے ہیں۔
6۔ کھانے کی اشتہایعنی بھوک کے احساس کو تسکین بخشنا:
کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے سے بھوک مٹ جاتی ہے جس سے پیٹ بھرنے کا احسا س ہوتا ہے۔اس طرح کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے کی اشتہا کو تسکین بخشتی ہیں۔ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں بھوک مٹانے اور توانائی حاصل کرنے کا سستاترین ذریعہ ہیں اسی لیے دنیا بھر میں کاربوہائیڈریٹس “بنیادی خوراک” کے طورپراستعمال ہوتے ہیں۔
کاربوہائیڈریٹس کی کمی کے اثرات:
کاربوہائیڈریٹس ہماری خوراک کا بنیادی حصہ:
ہماری خوراک کا بنیادی حصہ اناج اور ان سے بنی چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں 60 سے 80 فیصد تک صرف کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں ۔ کاربوہائیڈریٹس کی عام طور پر کمی نہیں ہوتی۔
جسم میں قوت و حرارت کی کمی:
ہماری خوراک میں کاربوہائیڈریٹس والی اشیاء مثلاٌ گڑ، شکر ،چینی اور میٹھے پکوان کا کثرت سے استعمال ہوتا ہےجس کی وجہ سے ہماری خوراک میں کاربوہائیڈریٹس کی کمی کی بجائے زیادتی کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی بھی وجہ سے کاربوہائیڈریٹس کی کمی واقع ہوجائے تو ا س سے جسم میں قوت و حرارت کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔
بچوں کی نشوونما کا رُک جانا:
کاربوہائیڈریٹس کی کمی سے پروٹین اور چکنائی کے افعال میں بے قاعدگی پیدا ہوجاتی ہے جو بچوں کی نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہے اور بچے دن بدن کمزور اور لاغر ہونے لگتے ہیں، ان کے وزن میں کمی واقع ہونے لگتی ہے اسی طرح وہ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
4۔پروٹین کی اہمیت ، جسم میں کام اور زیادتی کے اثرات تحریر کریں؟
پروٹین /لحمیات کی اہمیت:
ہمارے جسم کی بناوٹ میں سب سے زیادہ حصہ پروٹین کا ہے ۔ ہمارے جسم کے تمام حصوں مثلاٌ گوشت ،پوست، رگ و ریشے اور خون وغیرہ سب میں پروٹین کثرت سے موجود ہے۔ ہمارے جسم میں خلیوں کی مرمت اور نئے خلیوں کی بناوٹ میں پروٹین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری روزمرہ خوراک میں پروٹین کا شامل ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ پروٹین یونانی لفظ پروٹی ایوز سے اخذ شدہ ہے۔ جس کا مطلب ہے’اولین حیثیت والا’ ۔ یہ صحت اور زندگی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پروٹین کے بغیر متوازن غذا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
پروٹین کی کیمیائی ساخت:
پروٹین مختلف اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اجزاء کاربن، ہائیڈروجن ، آکسیجن اور نائٹروجن ہیں۔ اس لئے انہیں “نائٹروجن والے مرکبات”کہاجاتا ہے۔ نائٹروجن زندگی، جسم کی نشوونما اور خلیات کی تعمیر و تجدید کے لئے ضروری ہے۔ نائٹروجن پروٹین کا خاص عنصر ہوتی ہے۔ اوردوسرے “قوت” بخش اجزاء مثلاٌ کاربوہائیڈریٹس اور چکنائیوں میں موجود نہیں ہوتی۔
امائنوایسڈز کے اجزاء:
پروٹین جن مختلف اجزاء سے مل کر بنتی ہے، انہیں امائنوایسڈ کہاجاتا ہے۔ جسم کی نشوونما کے لئے درکار امائنوایسڈز کی تعداد 22 ہے۔ ہم جو بھی پروٹین والی غذاکھاتے ہیں وہ براہِ راست ہمارے جسم کی پروٹین نہیں بناتی بلکہ ہاضمے کے دوران ہرامائنوایسڈ الگ الگ ہو جاتا ہے اور جسمانی پروٹین میں تبدیل ہو کر گوشت پوست اور دوسری بافتیں بنانے کا کام کرتا ہے۔ امینو ایسڈز پروٹین کی اکائی ہوتے ہیں اور پروٹین کی ساخت، اقسام اور خصوصیات کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔
امائنوایسڈز کی درج ذیل دو اقسام ہیں۔
1۔ضروری امائنوایسڈ:
ضروری امائنو ایسڈ جس میں خود بخود تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کو غذا سے حاصل کرناپڑتا ہے۔ ضروری امائنوایسڈ کی تعداد آٹھ ہے۔ یہ امائنو ایسڈ پروٹین بنانے او رجسمانی نشوونما کے لئے بہت زیادہ ضروری ہیں۔ ضروری امائنو ایسڈز درج ذیل ہیں۔
1۔ لیوسین
2۔ لائسین
3۔ آئسولیوسین
4۔ ویلین
5۔ تھریونین
6۔ میتھیونین
7۔ فینائل الانین
8۔ ٹریپوٹوفین
2۔ غیر ضروری امائنوایسڈ:
غیر ضروری امائنوایسڈ کو غذا سے حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انہیں ہمارا جسم خود بخود تیار کرتا ہے۔ غیر ضروری امائنوایسڈ کی تعداد 11 سے 14 ہے۔
پروٹین کے ذرائع:
یہ حیواناتی ونباتاتی دونوں طرح کی غذاؤں سے حاصل ہوتی ہیں۔
1۔ حیواناتی ذرائع:
مثلاٌ ہر قسم کا حلال گوشت ،دودھ ، انڈے، اور ان سے بنی ہوئی چیزیں وغیرہ ان غذاؤں میں تمام ضروری امینو ایسڈز اپنی درست مقدار میں پائے جاتے ہیں جوان میں اعلیٰ درجے کی حیاتیاتی قدر بناتے ہیں۔ کیونکہ یہ نئے خلیات کی تعمیرو نشوونما اور شکستہ خلیات کی مرمت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی پروٹین کو مکمل پروٹین کہتے ہیں۔
2۔ نباتاتی ذرائع:
مثلاٌ سویابین ،خشک مٹر، پھلیاں، دالیں، سرخ و سفید لوبیا، چنے وغیرہ۔ ان میں ضروری امینو ایسڈز کی مقدار ناکافی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی “حیاتیاتی قدر کم ” ہو جاتی ہے اور ان میں نئے خلیات تعمیر کرنے یانشوونما کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں ہوتی۔ یہ صرف پرانے خلیات کی مرمت کر کے انہیں بحال رکھ سکتی ہیں۔ اس لیے انہیں نامکمل پروٹین کہتے ہیں۔
پروٹین کے کام:
پروٹین ہمارے جسم میں درج ذیل کام سرانجام دیتی ہیں۔
1۔ جسم کی نشوونما:
پروٹین جسم کی نشوونما کرتی ہیں۔ جسم کوبڑھنے اور نشوونما پانے کےلئے اضافی خلیا ت کی ضرورت ہوتی ہے ۔جنہیں بنانے کی صلاحیت صرف پروٹین میں ہوتی ہے۔ جسم کے ہر خلیے کا بنیادی جزو ہونے کی وجہ سے یہ سخت، نرم اور قیق بافتوں میں اضافہ کر کے ان کی نشوونما کری ہیں۔
2۔خلیات کی تعمیر و مرمت اور بحالی کا کام:
پروٹین خلیات کی تعمیر و مرمت اور بحالی کا کام کرتی ہیں۔ پروٹین جسم کے ناکارہ ہوجانے والے خلیات کی جگہ نئے خلیات تعمیر کرتی ہیں اور روزمرہ کام کاج ، کھیل کود سے گھسنے والے خلیات کی مرمت کر کے صحت بحال رکھتی ہے۔
3۔ جسم میں قوت ِ مدافعت کا پیدا کرنا:
پروٹین جسم میں ضداجسام پیدا کرکے بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتی ہیں۔
4۔ خون میں سرخ ذرات بحال رکھنا:
پروٹین کے استعمال سے خون سے سرخ ذرات کی تعداد بحال رہتی ہے۔ یہ جسم میں خون کی کمی ہونے سے بچاتی ہیں۔ خون میں پائے جانے والے سرخ ذرات جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ نیز خون میں سرخ ذرات کی کمی سے اینیمیا ہو جاتا ہے۔
5۔ پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنا:
پروٹین جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
6۔ جسم کو قوت او رحرارت فراہم کرنا:
پروٹین کابنیادی کام تو نئے خلیات کی تعمیر کرنا اور جسم میں خلیات، بافتوں اور عضلات وغیرہ کی مرمت کرنا ہے۔ پروٹین کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کی کمی کی صورت میں جسم کو قوت و حرارت بھی فراہم کرتی ہیں لیکن ایسا کرنےسے پروٹین کے تعمیر نشوونما کے کام ادھورے رہ جاتےہیں جس سے صحت اور نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
7۔ جسم میں ہارمونز او ر خامرے پیدا کرنا:
پروٹین جسم میں ہارمونزاور خامرے پید اکرتی ہیں جوجسمانی نظاموں کے افعال کو برقرار اور باقاعدہ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔
جسم میں وٹامنز کیا کام سرانجام دیتے ہیں؟ تفصیلاٌ تحریر کریں۔
وٹامنز کے عمومی کام:
یوں تو ہر وٹامن میں جسم کے لئے کچھ مخصوص کام کرنے کی اہلیت پائی جاتی ہے لیکن تمام وٹامنز بطور ایک گروہ کے درج ذیل عمومی کام سرانجام دیتے ہیں۔
1۔ جسم کی نشوونما:
جسمانی نشوونما کے لئے تمام وٹامن درکا ر ہوتے ہیں۔
2۔ جسمانی صحت اور نظاموں کی درستگی کے لئے :
جسمانی صحت، نظاموں کی درستگی اور صحت مند تولیدگی کے لئے تمام وٹامنز ضروری ہیں۔
3۔ بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنا:
وٹامن یا حیاتین مختلف بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
وٹامن کی اقسام، ان کے ذرائع، جسم میں کام اور کمی کے اثرات:
وٹامن کی اقسام:
حل پذیری کے لحاظ سے وٹامن کی درج ذیل دو اقسام ہیں۔
1۔ چکنائی میں حل پذیر وٹامن:
چکنائی مین حل پذیر وٹامن میں وٹامن اے۔ ڈی۔ ای اور کے شامل ہیں۔
2۔ پانی میں حل پذیر وٹامن:
پانی میں حل پذیر وٹامن میں وٹامن سی اور وٹامن بی کامپلیکس کی تمام اقسام شامل ہیں۔
چکنائی میں حل پذیر وٹامن:
چکنائی میں حل پذیر وٹامن درج ذیل ہیں۔
1۔ وٹامن اے:
وٹامن اے میں کیروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس لیےوٹامن اے کو پردو وٹامن بھی کہتے ہیں ۔نباتاتی غذاؤں میں موجود کیروٹین انسانوں اور جانوروں کی آنتوں میں جا کر وٹامن اے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ حیوانی غذاؤں میں یہ ریٹی نول کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ گرمی اور حرارت سے اسے نقصان نہیں پہنچتا ۔ اس لیے یہ پکانے سے عموماٌ ضائع نہیں ہوتا ۔
وٹامن اے کے ذرائع:
وٹامن اے ہمیں حیواناتی اور نباتاتی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتاہے۔ یہ دونوں ذرائع مندرجہ ذیل ہیں۔
حیواناتی ذرائع:
وٹامن اے حیواناتی ذرائع میں مچھلی جگر کے تیل ، کلیجی ، انڈے کی زردی ،بالائی مکھن ،گھی اور تیل سے حاصل ہوتاہے۔
نباتاتی ذرائع:
وٹامن اے نباتاتی ذرائع میں زرد ، نارنجی اور گہرے سبز رنگ کی سبزیوں اور پھلوں میں وافر مقدار میں پایا جا تا ہے۔
وٹامن اے کے جسم میں کام:
1۔ آنکھوں کی بینائی اور صحت:
یہ وٹامن بینائی اور آنکھوں کی درستگی اور صحت کے لئے بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ آنکھوں کے آنسوبنانے والے غدود کے لئے لازمی ہے۔
2۔ متعدی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنا:
وٹامن اے ہماری جلد اور استری جھلیوں کو چکنا، نرم اور مرطوب رکھنے کے لئے لازمی ہے۔ اندرونی اعضاء کو یہ غلافی جھلیاں ،رگڑاو رزخمی ہونے سے محفوظ رکھتی ہیں۔گلے ،ناک، کان،تنفس، اعضائے ہاضمہ کو متعدی بیماریوں سے بچانے کےلئے قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے ۔
3۔ ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں مددگار:
وٹامن اے ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دانتوں کا اینمل بنانے میں معاون بناتا ہے۔
وٹامن اے کی کمی کے اثرات:
1۔ بینائی کی کمزوری:
وٹامن اے کی کمی سے “شب خوری” کی بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے مدھم روشنی میں خصوصاٌ رات کو دکھائی نہیں دیتا ۔ آنکھوں کے ڈھیلے خشک ہو جاتے ہیں اور آنسو نہیں بنتے ۔
2۔ آشوب چشم اور اندھا پن:
وٹامن اے کی کمی سے آشوب چشم اور اندھا پن ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس میں آنسو خشک ہو جاتے ہیں۔ پپوٹوں میں سوزش او رپیپ بننے لگتی ہے۔
3۔ متعدد بیماریوں کا لاحق ہونا:
وٹامن اے کی کمی سے شدید خشکی ہو جاتی ہے جس سے اندرونی و بیرونی جلد کے خلیات خشک ہونے لگتے ہیں او ر سرمیں سکری بننے لگتی ہے۔ جلد کھردری اور خشک ہوکر پھٹنے لگتی ہے۔ خشکی بڑھنے سے جابجا زخم ہوجاتے ہیں اور جلد سے خون رسنے لگتا ہے۔ قوتِ مدافعت کمزور پڑجاتی ہے۔ اندرونی جھلیاں خشک ہونے سے گلے،ناک کان اور نظامِ ہاضمہ کی متعدد بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔جن سے خصوصاٌ دانتوں کا اینمل کمزور پڑجاتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما درست نہیں ہونے پاتی جو کئی اعصابی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔
وٹامن اے کی زیادتی کے اثرات:
1۔ وٹامن اے کی زیادتی سے معدہ خرات ہو جاتا ہے۔ سرچکرانے لگتا ہے ۔قے اور دست آتے ہیں۔
2۔ جب خوراک میں وٹامن اے کی زیادتی ہوتو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آنکھوں کے سامنے شعلے سے اُڑ رہے ہیں۔
3۔ انسانی جلد خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے اورباچھیں بھی زخمی ہونے لگتی ہیں۔
4۔ جب خوراک میں وٹامن اے کی کثرت ہوجائے توانسان کے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
5۔ ہاتھ پاؤں میں ایک مخصوص قسم کا درد رہنے لگتا ہے۔
6۔ وٹامن اے کی زیادتی سے انسان سست ہو جاتا ہے اور اس پر نیند کا غلبہ طاری رہتا ہے۔
وٹامن ڈی کے جسم میں کام اور کمی کے اثرات تحریر کریں؟
وٹامن ڈی:
وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ سورج کی شعاعیں ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہر جاندار میں چاہے وہ انسان ہو یا حیوان، یہ وٹامن بھی کہتے ہیں کیونکہ سورج کی شعاعیں جب براہِ راست جلد پرپڑتی ہیں تو جلد (Sunshine Vitamin)خود بخود پیدا ہوتا رہتا ہے۔ وٹامن ڈی کو
کے نیچے وٹامن ڈی خودبخود پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن اندھیرے مکانوں ،بندکھڑکیوں اور شیشوں سے گزرنے والی کرنوں سے وٹامن ڈی کا حصول ممکن نہیں ہے۔
وٹامن ڈی کے ذرائع:
ا۔ نباتاتی ذرائع:
وٹامن ڈی نباتاتی غذاؤں سے حاصل نہیں ہوتا۔
ب۔ حیواناتی ذرائع:
حیواناتی غذاؤں میں انڈے،کلیجی اور مچھلی کی تمام اقسام میں وٹامن ڈی کی کچھ نہ کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کو دودھ میں کیمیائی عمل کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے جسے فورٹی فائیڈ ملک کہتے ہیں۔
وٹامن ڈی کے جسم میں کام:
ا۔ کیلشیم اور فاسفورس کا انجذاب:
وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کے انجذاب کے لئے ضروری ہے ۔ یہ آنتوں میں کیلشیم اور فاسفورس کے انجذاب میں مدددیتا ہے۔
ب۔ ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما کرنا:
وٹامن کا سب سے اہم اور بڑا کردار ہماری ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما کرنا ہے۔ یہ ہڈیوں اور دانتوں کو بنانے، ان کی مضبوطی اور نشوونما کے لئے ضروری ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات:
1۔ خون اور کیلشیم کے انجذاب میں بے قاعدگی:
وٹامن ڈی کی کمی سے خون اور کیلشیم کے انجذاب میں بےقاعدگی پیداہوجاتی ہے۔
2۔ دانتوں کی نشوونما پر:
وٹامن ڈی کی کمی سے دانتوں کی نشوونما صحیح طرح نہیں ہو پاتی اورہڈیاں ٹیڑھی میڑھی ہو جاتی ہیں۔ جس سے جسم بدوضع ہوجاتا ہے۔
بچوں پر اثرات:
اگربچپن میں اس وٹامن کی کمی واقع ہوجائے تو بچوں میں رکٹس کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ اس مرض میں ہڈیاں ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں۔
3۔ قدوقامت نہ بڑھنا:
وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیاں اور دانت کمزور رہ جاتے ہیں۔ ان کی نشوونما رکنے سے بچوں کا قدوقامت بڑھنے نہیں پاتا۔
4۔ ہڈیوں کی کمزوری:
وٹامن ڈی کی کمی سے جسم کو ہلکی سی ٹھوکر لگنے سے ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں۔
وٹامن بی کامپلیکس پر تفصیلی نوٹ تحریرکریں؟
وٹامن بی کامپلیکس:
وٹامن بی کامپلیکس وٹامنزکا ایک ایسا گروہ ہے جو کئی اقسام پر مشتمل ہے۔ مثلاٌ بی 1، بی 2، بی 6 اور بی 12 وغیرہ۔
وٹامن بی کمپلیکس میں شامل وٹامنز کے نام:
1۔ وٹامن بی تھایامین
2۔ وٹامن بی رائبوفلیوین
3۔ وٹامن بی پائرڈوکسن
4۔ وٹامن بی کوبال امین
وٹامن بی کمپلیکس ،ان کے ذرائع ،جس میں کام اور کمی کے اثرات
حیواناتی ذرائع:
وٹامن بی کمپلیکس کے حیواناتی ذرائع میں کلیجی، گردے ، تمام اقسام کے گوشت ،انڈے اور دودھ وغیرہ شامل ہیں۔
نباتاتی ذرائع:
وٹامن کمپلیکس کے نباتاتی ذرائع میں گندم کے اندرونی تخم اور اس کے چھان ،سویابین، مونگ پھلی، سورج مکھی کے بیج مٹر اور پھلیاں وغیرہ شامل ہیں۔
جسم میں کام:
1۔ اعصاب اور یادداشت کو بہتر بنانا:
وٹامن بی 1ذہنی پریشانی اور پٹھوں کے تناؤ سے بچا کر ذہنی سکون ،خوداعتمادی اور حوصلہ ،اعصاب میں قوت برداشت پیدا کرتے اور یادداشت کو بہتر بناتے ہیں۔
2۔ نظامِ انہضام کی اصلاح:
وٹامن بی 1 نشاستہ دار غذاؤں کو ہضم کرنے اور توانائی مہیا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اور نظام انہضام کو درست رکھتے اور بھوک بڑھاتے ہیں۔
3۔ جلد کی حفاظت:
وٹامن بی 2ہماری جلد کو چمکدار ،نرم، مرطوب اور ملائم رکھتے ہیں۔
4۔ خون کے سرخ ذرات کی تخلیق میں معاونت کرنا:
وٹامن بی 12خون کے سرخ ذرات بنانے والے خامروں کے ساتھ بطور”شریک خامرہ” مل کر کام کرتے ہیں۔
جسم میں کمی کے اثرات:
1۔ یادداشت کی کمزوری:
وٹامن بی 1 کی کمی سے ذہنی پریشانی، پٹھوں میں تناؤ اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے۔ دماغ ماؤف، یادداشت کمزور اور نفسیاتی طورپر بزدلی ،خوف و ہراس، وہم اور طبعیت میں بے حد چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
2۔ پٹھوں اور نسوں کا کھینچاؤ:
وٹامن بی1 کی کمی سے پٹھوں اورنسوں خصوصاٌ گردن اور ٹانگوں میں درد اور کھینچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ جسم سن ہونے لگتا ہے۔
3۔ نظامِ انہضام کی خرابی:
وٹامن بی 1 کی کمی سے ہاضمہ خراب ہوجانے سے خوراک ہضم نہیں ہوتی۔ صحت بگڑنے لگتی ہے۔ کمزوری، سستی اور نقاہت طاری رہنے لگتی ہے۔ کام میں توجہ نہیں رہتی ۔
4۔ جلد کی خرابی:
وٹامن بی2 کی کمی سے جلد کھردری اور خشک ہو کر زخمی ہونے لگتی ہے۔ ہونٹوں کے کنارے پک جاتےہیں۔
5۔ خون کے سرخ ذرات کی کمی:
وٹامن بی 12 کی کمی سے جسم میں خون کی کمی ہونے لگتی ہے۔ سرخ ذرات بننے نہیں پاتے۔
اہم معدنی نمکیات ،ان کے ذرائع ،کام اور کمی کے اثرات بیان کریں؟
معدنی نمکیات:
غیر نامیاتی نمکیات جوزیرِ زمین ذخائر کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ وہ اناج ،سبزیوں اور پھلوں کے پودوں میں جذب ہوکر غذا کی صورت میں انسانی و حیوانی جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ غیر نامیاتی خاصیت رکھتے ہیں۔
جسم میں مقدار:
معدنی نمکیات انسانی جسم کے کل وزن کا چار فیصد حصہ بناتے ہیں جو جسم کی تمام ٹھوس ،نرم اور سیال بافتوں مثلاٌ ہڈیوں ،دانتوں، ناخن، گوشت پوست اور رطوبتوں میں پائے جاتے ہیں۔
جسم میں قلیل مقدار میں درکا ر معدنی نمکیات:
معدنی نمکیات انسانی جسم میں نہایت قلیل مقدار میں درکار ہوتے ہیں کیونکہ یہ جسم کو قوت و حرارت فراہم نہیں کرتے اور خوراک میں اکیلے نہیں بلکہ کسی نہ کسی دوسرے عنصر مثلاٌ سوڈیم کلورائڈ ، کیلشیم فاسفیٹ وغیرہ کے ساتھ مرکب کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔
اہم معدنی نمکیات ، ان کے ذرائع، جسم مین کام اور کمی کے اثرات:
معدنی نمکیات کے ذرائع:
معدنی نمکیات حیوانی اور نباتاتی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔
1۔ نباتاتی ذرائع:
نباتاتی ذرائع میں تمام تازہ و خشک پھل اور سبزیوں ، ڈرائی فروٹ اور تمام اقسام کے اناج، دالیں اور چاول وغیرہ شامل ہیں۔
2۔ حیواناتی ذرائع:
حیواناتی ذرائع میں تمام اقسام کے گوشت، دودھ ،انڈے اور مچھلی وغیرہ شامل ہیں۔
اہم معدنی نمکیات
ا۔ کیلشیم اور فاسفورس:
کیلشیم جسم میں سب سے زیادہ مقدار میں پایاجانے والا معدنی نمک ہے جس کا قریباٌ ننانوے فیصد حصہ صرف ہڈیوں اور دانتوں میں پایا جاتا ہےاور ایک فیصد حصہ جسم کی تمام دوسری سیال، نرم اور ٹھوس بافتوں کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ کیلشیم جسم متعدد کام فاسفورس کے ساتھ مل کر سرانجام دیتا ہے مثلاٌ جسمانی ڈھانچا بنانے کے لئے کیلشیم اور فاسفورس نہایت اہم ہوتے ہیں۔
اہم معدنی نمکیات کے ذرائع
معدنی نمکیات کے مندرجہ ذیل ذرائع ہیں:
معدنی نمکیات کے حصول کے ذرائع میں حیواناتی اور نباتاتی دونوں ذرائع شامل ہیں۔
ا۔ حیواناتی ذرائع:
حیواناتی ذرائع میں دودھ اہم ترین ذریعہ ہے۔ دودھ میں فاسفورس کی بھی کچھ مقدار موجود ہوتی ہے۔ انڈوں اور گوشت میں کیلشیم موجود نہیں ہوتا لیکن ہڈیوں والاگوشت کیلشیم سے بھرپور ہوتا ہے جنہیں گلاکر چبانے اور ان کا سوپ پینے سے کیلشیم کی اچھی مقدار حاصل ہوتی ہے البتہ مرغی، مچھلی اور انڈے فاسفورس کے اچھے ذرائع ہیں۔
ب۔ نباتاتی ذرائع:
نباتاتی ذرائع میں سبز پتوں والی سبزیاں گاجر، چنے ،مونگ اور مسور کی دالیں،خشک میوے ،بادام اور تل وغیرہ۔ کیلشیم اور فاسفورس کے اچھے ذرائع ہیں۔
اہم معدنی نمکیات کے جسم میں کام
کیلشیم فاسفورس
1۔ دل کے پٹھوں کو مضبوط کرنا:
معدنی نمکیات دل کے پٹھوں سمیت جسم کے تمام ٹھوس پٹھو ں اور نسوں کو تقویت دینے اور ان کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل کو درست اور باقاعدہ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔
2۔ خون کو گاڑھا کرنا:
معدنی نمکیات خون کو گاڑھا کرنے اور چوٹ کی صورت میں خون کو بہنے اور ضائع ہونے سے روکتے ہیں۔
3۔ غذائی اجزاء کے انجذاب میں اضافہ:
معدنی نمکیات غذائی اجزاء کے انجذاب میں اضافہ کرتے ہیں اور جھلیوں کی قوتِ انجذاب بڑھاتے ہیں۔
4۔ ہڈیوں، دانتوں اور جسمانی ڈھانچے کی نشوونما:
معدنی نمکیات ہڈیوں ،دانتوں اور جسمانی ڈھانچے کی تعمیر و نشوونما کرتے ہیں اور انہیں مضبوط بناتے ہیں۔
معدنی نمکیات کی کمی کے اثرات
1۔ دل کے امراض:
جسم میں معدنی نمکیات کی کمی سے دل کی دھڑکنوں میں بے ربطگی اور بے قاعدگی رہنے لگی ہے۔
2۔ پٹھوں کاکمزور ہونا:
معدنی نمکیات کی کمی سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں۔ جسم میں درد اور خصوصاٌ ٹانگوں میں کھنچاؤ پڑنے لگتے ہیں۔
3۔ خون کا پتلاہونا:
جسم میں معدنی نمکیات کی کمی سے خون زیادہ پتلا ہو جانے سےذراسی چوٹ سے بہنے اور ضائع ہونے لگتا ہے۔
4۔ جسمانی ڈھانچا اور دناتوں کی کمزوری:
معدنی نمکیات کی کمی سے ہڈیاں، دانت اور جسمانی ڈھانچا کمزور ہوجاتا ہے جس سے بچوں کو کٹس کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔
5۔ شیرخواربچوں میں توانائی کی کمی:
معدنی نمکیات کی کمی سے شیر خوار بچوں میں ہلنے جلنے کی طاقت نہ ہونے کے باعث بچہ ٹانگیں پھیلائے سیدھا لیٹارہتا ہے۔ سرکی پچھلی ہڈی بالکل چپٹی ہوجاتی ہے۔ سینہ تنگ ہو کر کبوتر کی طرح باہر کو نکل آتا ہے اور گردن اندر کی طرف دھنستی جاتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کمزور ہونے کے باعث بچہ درست طور پر کھڑا نہیں ہو سکتا اور پنڈلیاں محرابی شکل میں باہر کو نکلنے لگتی ہیں۔
6۔ بچوں کو چلنے اور کھڑے ہونے میں دقت:
معدنی نمکیات کی کمی سے تین سے چار سال کی عمرمیں بچے کو چلنے اور کھڑے ہونے میں بہت دِقت ہوتی ہے۔
7۔ ہڈیوں کی کمزوری:
جسم میں معدنی نمکیات کی کمی سے بیس سال کے بعد ہڈیاں کمزور ہونے سے چلنے پھرنے ،سیڑھیاں چڑھنے یا قدرے بوجھل قسم کے کام کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ معمولی سی ٹھوکر سے ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں۔
8۔ کبڑاپن کا شکار ہونا:
معدنی نمکیات کی کمی سے چالیس سال کے بعد کولھوں، ٹانگوں اور انگلیوں کی ہڈیاں مڑنے لگتی ہیں۔کندھوں میں جھکاؤ اور کمر میں کبڑا پن ہونے لگتا ہے۔ جسم میں درد او راکثر بخار رہنے لگتا ہے۔
آئرن/فولاد
جسم میں آئرن کی مقدار:
یہ جسم کو انتہائی قلیل مقدار میں مطلوب لیکن بہت اہم معدنی نمک ہے۔ ایک بالغ شخص کے جسم میں قریباٌ پانچ گرام آئرن پایاجاتا ہےجو خون ،جگر، تلی اور ہڈیوں کے گودے میں موجودہوتا ہے ۔
جسم میں آکسیجن کی ترسیل:
آئرن خون کے سرخ ذرات بنانے والی ہیموگلوبن کابنیادی جزوہوتا ہے جو خون کی رنگت کوسرخ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جسم کے تمام خلیات او ربافتوں کو آکسیجن بھی فراہم کرتا ہے۔ آئرن میں آکسیجن “لینے اور دینے” کی دوہری خاصیت پائی جاتی ہے۔
آئرن کے ذرائع:
آئرن حیواناتی اور نباتاتی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔
حیواناتی ذرائع:
گوشت، دودھ، مچھلی ا ور کلیجی وغیرہ آئرن کے بہترین ذرائع ہیں۔
نباتاتی ذرائع:
آئرن سبزیوں اور پھلوں سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
آئرن کے جسم میں کام
1۔جسم میں آکسیجن کی ترسیل:
آئرن جسم میں آکسیجن پہنچانے اور خون کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔
2۔ خون کے سرخ ذرات بنانا:
آئرن خون کے سرخ ذرات بناتا ہے۔
آئرن کی کمی کے اثرات:
1۔ قلتِ خون “اینیمیا:
جسم میں آئرن کی کمی سے قلتِ خون “اینیمیا” کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ جسم میں خون کے سرخ ذرات نہ صرف تعداد میں بلکہ سائز میں کم ہونے لگتے ہیں اور ان کی سرخی میں کمی پیدا ہونے لگتی ہے جو آہستہ آہستہ پیلاہٹ میں بدلنے لگتی ہے ۔ اس سے رنگت پیلی پڑجاتی ہے ۔ آنکھوں کے گردسیاہ حلقے پڑجاتے ہیں ۔سرمیں درد ،تھکن، کمزوری، اور سستی طاری رہنے لگتی ہے اور سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔
2۔ وزن کا کم ہونا:
جسم میں آئرن کی کمی سے وزن کم ہوجاتا ہے چکرآنے لگتے ہیں نیز تھکن اور سانس پھولنے کی شکایت ہوجاتی ہے۔
آیوڈین:
یہ معدنی نمک تھائرائیڈ گلینڈز کے فعل کی درستگی کے لئے ضروری ہے۔ ایسے بچے جن کی غذا میں آیوڈین کی کمی ہوتی ہے۔ اُن کی نشوونماکا عمل متاثرہوتا ہے۔
1۔ آیوڈین کی قلیل مقدار کی ضرورت:
ہمارے جسم کو روزانہ آیوڈین کی اتنی قلیل مقدار کی ضرورت ہوتی ہے کہ عموماٌ اس کی جسم میں کمی نہیں ہوتی لیکن سمندر سے دوردراز علاقوں میں اس کی کمی پائی جاتی ہے۔
2۔ آیوڈین کے سمندری ذرائع:
آیوڈین کے بہترین ذرائع سمندر کا پانی ،سمندری مچھلیاں ،چھینگے ، کیکڑے اور سمندری نباتات ہیں۔
3۔ آیوڈین کے حیواناتی ذرائع:
آیوڈین کے حیواناتی ذرائع دودھ ،انڈ ے اور پنیروغیرہ ہیں۔
4۔ آیوڈین کے نباتاتی ذرائع:
نباتاتی ذرائع میں سبز پتوں والی سبزیوں میں آیوڈین کی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آیوڈین والا نمک بھی عام دستیاب ہے۔
آیوڈین کے جسم میں کام:
آیوڈین گلے کے سامنے پائے جانے والے غدود رقیہ کی رطوبت کے لئے لازمی ہےجو جسم کے تمام کیمیائی عوامل کی باقاعدگی اور جسم و ذہن کی نارمل نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
آیوڈین کی کمی کے اثرات
1۔ گلہڑ کی بیماری:
انسان کے جسم میں آیوڈین کی کمی سے جسمانی اور ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے اور گلہڑ کی بیماری ہوجاتی ہے۔ جس میں گلے کے سامنے والا غدود پھول کر بڑھ جاتا ہے۔
2۔ بچوں میں دماغی کمزوری:
بچوں میں آیوڈین کی کمی کے اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ایسے بچے جو آیوڈین کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اُن کا دماغ کمزور ہوجاتا ہے۔ آیوڈین کی کمی سے نوزائیدہ بچوں میں پونا پن اور ذہنی پسماندگی ہوجاتی ہے۔
3۔ بچوں پراثرات:
آیوڈین کی کمی سے بچوں کا قد چھوٹا، ہونٹ موٹے ،جلدکھردری ا ورموٹی ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ بچہ کند ذہن رہ جاتا ہے۔
تسلی بخش غذائی معیار کسے کہتے ہیں نیز بچوں کی نشوونما جاننے کےمختلف طریقے لکھیں؟
تسلی بخش غذائی معیار:
1940ء میں نیشنل کونسل آف ریسرچ ، امریکاکے تحت غذا اور غذائیت کا ایک محکمہ تشکیل دیاگیا۔ جس نے عوام کو بہتر غذائیت کی RDAفراہمی کے لئے غذائی اجزاء کی مقدار کا تعین کیا اور اپنی تحقیقات کی روشنی میں غذائی معیار مقرر کیا۔ اس غذائی معیار کا عنوان
یا غذائی اجزاء کی تجویز کردہ مقدار رکھا گیا۔
غذا میں موجود مختلف قسموں کے غذائی اجزاء ہمارے جسم کی نشوونماکرتے ہیں۔ مختلف قسم کی قوت دینے والی غذائیں ہمیں حرارے مہیاکرتی ہیں۔ یہ حرارے ہمارے جسم میں دفاعی نظام کو بہتر بناتے ہیں اور روز مرہ کے کام کرنے میں مدددیتے ہیں۔ اگر ایک انسان صحت مندہو، اسے کسی قسم کی بیماری نہ ہو تو اس کی نشوونماکو اطمینان بخش نشوونما کا نام دیا جائے گا۔
معیاری نشوونما کو جانچنے کے لئے ماہرین نے کچھ پیمانے مقر ر کیے ہیں، جن کی مدد سے پتا چل جاتا ہے کہ بچے کی نشوونما درست طریقے سے ہورہی ہے یا نہیں۔
جسم کے مختلف حصوں کی نمائش:
بچے کی نشوونما کو پرکھنے کے لئے ان کے مختلف اعضاء کی پیمائش کی جاتی ہے۔
وزن میں درجہ بدرجہ ہونے والے اضافے کو ناپنا:
گاہے بگاہے بچے کے وزن کو ناپتے رہنا چاہیے اور پھر بچے کے وزن کا موازنہ وزن کے بین الاقوامی چارٹ سے کرنا چاہیے۔ اس طرح بچے کی نشوونما کے بارے میں پتاچل جائے گا۔ کہ بچے کو متوازن غذا مل رہی ہے یا نہیں۔
قد یالمبائی ناپنا:
ماہرین نے مختلف عمر کے بچوں کے لئے ان کی عمر کے مطابق لمبائی کا ایک معیاری پیمانہ مقرر کیا ہے۔ بچوں کا قد ناپتے رہنا چاہیے تاکہ پتا چل سکے کہ اس کا قد اس کی عمر کے حساب سے درست طریقے سے بڑھ رہا ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی تو نہیں ہورہی ۔
بازو کی گولائی ناپنا:
بعض اوقات خوراک میں کسی قسم کی کمی کی وجہ سے بچے کے بازو دبلے پتلے رہ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی بچے کے بازو کی گولائیاں بھی ناپنی چاہیں اور ان کاموازنہ بین الاقوامی چارٹ سے کرنا چاہیے۔
سر کی گولائی ناپنا:
اگربچہ سوکھے کا مریض ہوتو اس کا سر باقی جسم کی نسبت بڑا ہوجاتا ہے۔ س لیے اسے بھی ناپنا چاہیے۔
جلد کی موٹائی ناپنا:
جسم میں ذخیرہ شدہ چکنائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے جلد کی موٹائی ناپی جاتی ہے۔ جلد کی موٹائی ناپنے کے لئے اپنے ایک خاص قسم کا پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے جسے لینگ کہا جاتا ہے۔
خوراک اورجسمانی سرگرمیوں کا باہمی تعلق بیان کریں؟
غذااور جسمانی سرگرمیوں کا تعلق:
غذاہماری صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ کسی بھی ارادی یا غیرارادی سرگرمی کے لئے طاقت صرف ہوتی ہے۔ اس طاقت کا حصول اچھی غذا ہی سے ممکن ہے۔ مختلف کام کرنے کے لئے ہماری جو توانائی استعمال ہوتی ہے وہ خوراک ہی کے ذریعے سے پوری ہوتی ہے۔ جو لوگ ایک جگہ بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں انہیں کم حراروں کی ضرورت پیش آتی ہے کیوں کہ وہ کم توانائی استعمال کرتے ہیں ، اس کے مقابلے میں جسمانی محنت مشقت کرنے والے افراد کو حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے اُچھلتے کودتے اور بھاگتے دوڑتے ہیں اس لئے انہیں زیادہ حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
فرد کی غذائی ضروریات کاتعین کرنا
1۔ کم محنت طلب کام: 140 سے 150 کیلوریز فی گھنٹہ:
مرد:
دفتر میں کام کاج کرنے والے وکیل ،ڈاکٹر،اُستاد ، بنک ملازمین، دکاندار وغیرہ
خواتین:
ہلکے پھلکے گھریلو کام کاج ، اُستاد، بنک ملازم، ملازمت پیشہ خواتین
2۔ درمیانی محنت طلب کام: 175 سے 200 کیلوریز فی گھنٹہ:
مرد:
کھیتی باڑی کرنے والے کسان، مزدور، معمار، طالبِ علم، سپاہی، ماہی گیروغیرہ۔
عورت:
طالبہ، گھریلو کام کاج کرنے والی، صنعتی کارکن، سلائی مشین پرکام کرنے والی
3۔ زیادہ محنت و مشقت طلب کام: 225 سے 300 کیلوریز فی گھنٹہ:
مرد:
بڑھئی کا کام، ٹینس کھیلنا، تیراکی کرنا، بھاری مشقت و مزدوری کرنا، بوجھ اُٹھانا
عورت:
جسمانی مشقت کے گھریلو کام کاج مثلاٌ جھاڑو دینا، کپڑے دھونا، باغبانی کرنا، پوچالگانا، بستر جھاڑنااور بچھانا وغیرہ۔
4۔ شدید مشقت طلب کام: 300 کیلوریز یا اس سے زائد فی گھنٹہ:
مرد:
زمین کی کھدائی، کوہ کن، کوئلے کی کان میں کام کرنے والے جنگلات کاٹنے والے مزدور۔
گومز کے نظریے کے مطابق نقصِ غذائیت کی تقسیم بیان کریں؟
غذائیت کے نقص کو واضح کرنے کے لئے ماہرِ غذائیت گومز نے ایک نظریہ پیش کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ “نقصِ غذائیت کی تقسیم کا انحصار عمر کی مناسبت سے وزن کی کمی پر ہوتا ہے۔” گومز نے اس کی مختلف درجات میں تقسیم کی ہے جو کہ درج ذیل ہے۔
پہلا درجہ:
پہلے درجے کی نقصِ غذائیت کم درجے کی قوت بخش او ر پروٹین غذاؤں کا استعمال۔
علامات اور وجوہات:
ا۔ عمر اور جنس کے مطابق مریض کا وزن اس کے نارمل وزن سے 80 سے 90 فیصد تک ہوتا ہے۔
ب۔ بچوں کو دودھ کم مقدار میں پلانایا پانی ملا دودھ دینا نیز ضمنی غذاؤں کا استعمال دیر سے اور ناموزوں کرنا۔
ج۔ پروٹین کیلوری نقصِ غذائیت کی کیفیت پیداہوتی ہے۔
دوسرادرجہ:
دوسرے درجے کی نقصِ غذائیت قوت بخش اور پروٹینی غذاؤں کا نامناسب استعمال۔
علامات اور وجوہات:
ا۔عمر اور جنس کے مطابق مریض کا وزن اس کے نارمل وزن سے 60 سے 66 فیصد تک ہوتاہے ۔
ب۔ دودھ اور نشاستہ دار غذاؤں کا کم مقدار میں اور نامناسب استعمال کرنا، حفظانِ صحت کے اُصولوں سے ناواقفیت کی بناپر اسہال اور دوسری متعدد بیماریاں ہونا نیز سوکھے کی بیماری ہونا۔
تیسرا درجہ:
تیسرے درجے کی نقصِ غذائیت شدید درجے کی غذائیت میں کمی۔
علامات اور وجوہات:
ا۔ عمر اور جنس کے مطابق مریض کا وزن اس کے نارمل وزن سے 60 فیصد اور اس سے بھی کم ہوتا ہے۔
ب۔ بچوں کو ان کی غذائی ضروریات سے انتہائی کم مقدار کی وجہ سے سوکھے پن اور کواشیور کور کی بیماریاں ہونا، احتیاط اور علاج نہ کرنے کی صورت میں متعدد بیماریوں کا لاحق ہونا اور جان لیوا ثابت ہونا۔
(Understand of Food and Diet) باب 3 ۔ غذا اور خوراک کو سمجھنا
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ متوازن غذا کو کس کا مجموعہ کہا جاتا ہے؟
(الف) غذائی اجزاء کا (ب) پروٹین کا (ج) معدنی نمکیات کا (د) وٹامن کا
2۔ غذائی گروہوں کی تعداد کتنی ہے؟
(الف) 2 (ب) 3 (ج) 5 (د) 6
3۔ سبزیوں کو کس طرح کی غذائیں کہا جاتا ہے؟
(الف) محافظ (ب) تعمیری(ج) تخلیقی (د) توانائی سے بھرپور
4۔ جنک فوڈز کس چیز سے بھرپور ہوتی ہیں؟
(الف) غذائی قدر (ب) چکنائی (ج) غذائی اجزاء (د) وٹامن نمکیات
5۔ کام کاج کی نوعیت کے لحاظ سے کون سی ضروریات مختلف ہوتی ہیں؟
(الف) تندرستی (ب) غذائی (ج) پانی کی مقدار (د) نشوونما
6۔ وہ کونسا خاکہ ہے جس میں ایک دن کی غذائی ضروریات پوری کرنے سے متعلق رہنمائی ملتی ہے؟
(الف) فوڈ پیرائڈ (ب) جدول (ج) غذا کا تعین (د) سرونگ سائز
7۔ دودھ کس غذائی جزو کا بہترین ذریعہ ہے؟
(الف) سیلولوز (ب) آئرن (ج) وٹامن سی (د) کیلشیم
8۔ دل، گردے او ر کلیجی میں کون سا غذائی جزو زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے؟
(الف) آئرن (ب) کیلشیم (ج) کاربوہائیڈریٹس (د) وٹامن اے
9۔ سردیوں کے موسم میں کس غذا کا استعمال بڑھ جاتا ہے؟
(الف) تربوز (ب) خربوزہ (ج) خشک میوہ جات (د) مشروبات
10۔ ماں کا دودھ بچے کو کس عمر تک پلاناچاہیے؟
(الف) 3 ماہ تک (ب) 6 ماہ تک (ج) ایک سال تک (د) ڈیڑھ دو سال تک
11۔ کس ماہ میں شیر خوار بچے کو مالٹے کارس دینا شروع کرناچاہیے؟
(الف) 2 ماہ (ب) 5 ماہ (ج) 8 ماہ (د) 12 ماہ
12۔ حاملہ خواتین کو کن غذاؤں کے زائد استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے؟
(الف) پھل اور سبزیاں (ب) چکنائی والی اور میٹھی اشیاء (ج) اناج اور دالیں (د) دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء
جوابات: (1-)(3-)(1-)(3-)(2-)(1-)(4-)(1-)(3-)(4-)(1-)(2-)
سوال 2۔ مختصر سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ متوازن غذا کی تعریف کریں؟
ا۔ “متوازن غذا سے مراد وہ ملی جلی غذا ہوتی ہے جس میں تمام ضروری غذائی اجزاء مناسب مقدار اور صحیح تناسب میں پائے جاتے ہیں”۔
ب۔ “متوازن غذا وہ صحت افزا غذا ہے جس میں جسمانی صحت برقرار رکھنے والے تمام غذائی اجزا کافی مقدار اور صحیح تناسب میں موجود ہوتے ہیں۔
2۔ غیر متوازن غذا کسے کہتے ہیں؟
ایسی غذا جس میں تمام غذائی اجزاء مناسب مقدا رمیں موجود نہیں ہوتے اسے غیر متوازن غذا کہا جاتا ہے۔
3۔ “جنک فوڈذ” کی تعریف کریں؟
ایسی غذائیں جو جلدی تیار اور ہضم ہوجاتی ہیں اور ان میں کیلوریز بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن یہ صحت مند غذائیں نہیں ہوتیں انہیں جنک فوڈز کہا جاتا ہے۔
4۔ جنک فوڈز کی مثالیں دیں؟
جنک فوڈز میں پیزا، برگر،شامی کباب ،شوارما اور دوسرے فاسٹ فوڈز شامل ہیں۔ بیکری کی بنی ہوئی اشیاء جیسے بسکٹ ، کیک، پیسٹری وغیرہ بھی جنک فوڈز ہی کے زمرے میں آتے ہیں۔
5۔ بنیادی غذائی گروہوں کے نام لکھیں؟
بنیادی غذائی گروہ درج ذیل ہیں۔
ا۔ گوشت ،مچھلی،مرغی اورانڈے
ب۔سبزیاں ،پھل
ج۔اناج اور دالیں
د۔چکنائی اور میٹھی اشیاء
6۔ پھلوں اور سبزیوں کی غذائی اہمیت بیان کریں؟
پھلوں اور سبزیوں کی غذائیت:
تمام سبزیاں وٹامن ،معدنی نمکیات اور سیلولوز کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وٹامن اے حاصل کرنے کے لئے گہرے سبز رنگ کی سبزیوں اور وٹامن سی کے لئے ترش سبزیوں مثلاٌ ٹماٹر اور لیموں کا انتخاب کیا جائے۔ موسمی پھلوں کا کثرت سے استعمال کیا جائے۔ پھلوں کو اچھی طرح دھو کر ممکنہ حدتک چھلکا اُتارے بغیر استعمال کریں۔ زرد اور نارنجی پھلوں مثلاٌآم، امرود،پپیتا وغیرہ سے ہمیں وٹامن اے ،معدنی نمکیات اور پانی کی خاصی مقدار حاصل ہوتی ہے۔ رس دار اور ترش پھل مثلاٌ مالٹا، کینو، گریپ فروٹ سے وٹامن سی اور دیگر پھلوں سے وٹامن بی اور معدنی نمکیات حاصل ہوتے ہیں۔
7۔ فوڈپیرائڈ کی تعریف کریں؟
فوڈپیرائڈ:
فوڈ پیرائڈ ایک خاکہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوراک میں کون کون سی غذائیں شامل کی جائیں۔یہ رہنمائی ہمیں صحیح غذا منتخب کرنے میں مدددیتی ہے۔ آج کے دور میں کھانے کی فہرست مرتب کرتے وقت فوڈپیرائڈ سے مدد لی جاتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ خوراک مین غذائی اجزاء پورے ہوں اور جتنی کیلوریز ایک دن میں درکا ر ہیں وہ پوری ہوں۔
8۔ فوڈ پیرائڈ کے مطابق اناج اور دالوں کے گروہ کی اہمیت بیان کریں؟
فوڈ پیرائڈ میں اناج کے گروہ کو اہمیت حاصل ہے۔ اس گروہ میں گندم ، چاول ،باجرہ ،جوار ،مکئی،روٹی اور ساگودانہ شامل ہیں۔ ایک فرد کو روزانہ 6 سے 11 سرونگ اناج کے گروہ سے حاصل کرنی چاہیئں۔ثابت اناج کی کوئی بھی غذا نہ صرف وٹامن سی اور معدنی نمکیات بالخصوص زنک جو کہ اہم معدنی نمک ہے۔ مہیا کرتی ہے بلکہ سیلولوز شکم سیری کابھی احساس دلاتے ہیں اور آنت کے سرطان سے بچاؤممکن ہو جاتا ہے۔
9۔ غذائی ضروریات کی تعریف کریں؟
ایک انسان اپنی زندگی میں چا رمختلف مراحل سے گزرتا ہے جس میں بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا شامل ہیں۔ انسانی جسم میں توڑپھوڑ ہوتی رہتی ہے۔ پرانے خلیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح انسان کو اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف قسم کی غذا کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے جو لوگ جسمانی محنت زیادہ کرتے ہیں انہیں توانائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور جولوگ ایک جگہ بیٹھ کر دماغی کام کرتے ہیں انہیں نسبتاٌ کم کیلوریز درکار ہوتی ہیں۔ اس طرح مختلف لوگوں کی غذائی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ افراد کے جسم کو درکار غذا اس کی غذائی ضرورت کہلاتی ہے۔
سوال 3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات تحریر کریں؟
1۔ متوازن اور غیر متوازن غذا کا فرق واضح کریں؟
متوازن غذا اور غیر متوازن غذا میں فرق:
متوازن غذا:
1۔ متوازن غذا میں جس کی صحیح نشوونما کے لئے تمام غذائی اجزاء ایک خاص تناسب میں موجود ہوتے ہیں۔
2۔ متوازن غذا سے انسان تندرست وتوانا رہتا ہے کیونکہ اس ک غذا میں ضروری غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو اس کی توانائی اور نشوونما کرتے ہیں اور و ہ بیماریوں کا مقابلہ بہتر طور پر کرسکتا ہے۔
3۔ متوازن غذا سے مطلوبہ حراروں کی فراہمی یقینی ہوتی ہے اور جسم میں کام کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
4۔ متوازن غذا کے استعمال سے قدوقامت اور وزن جسم کی بناوٹ اور عمر کے مطابق ہوتا ہے۔ چمکدار دانت، درست بصارت اور چہرے کی تروتازگی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں
5۔ متوازن غذاکے استعمال سے طویل عمری ،بڑھاپے کا دیر سے ظاہر ہونااور بزرگی میں بھی صحت مندی قائم رہنا جیسی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔
غیرمتوازن غذا:
1۔ غیرمتوازن غذا میں تمام غذائی اجزاء مناسب مقدار میں موجود نہیں ہوتے ۔
2۔ غیر متوازن غذا سے جسم کی تمام ضروریات پوری نہ کرنے کی وجہ سے جسم کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ انسان کمزور اور لاغرہوجاتا ہے اور گاہے بہ گاہے مختلف امراض کا شکاررہنے لگتا ہے۔
3۔ غیر متوازن غذا سے جسم کو مطلوبہ حرارے فراہم نہیں ہوتے جس کی بنا پر کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔
4۔ غیر متوازن غذا کے مسلسل استعمال سے وزن کی کمی، بھوک کا نہ لگنا اور جسم پر مختلف غذائی اجزا ء کی کمی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔
5۔ غیر متوازن غذا کے مسلسل استعمال سے بڑھاپا جلد آنا، نیند نہ آنا، اور شرح اموات میں اضافہ جیسے اثرات ظاہرہونے لگتے ہیں۔
2۔ غیر افادی غذا یا جنک فوڈز پر نوٹ لکھیں؟
غیرافادی غذائیں:
جو بچے تیرہ سال سے سترہ سال کی عمر کے ہوتے ہیں ان کے مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن میں جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ عمر ایسی ہوتی ہے جس میں بچوں کو زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے اس عمر میں لڑکوں کو عام طور پر 3000 سے 3400 کیلوریز اور لڑکیوں کو 2200 سے 2500 کیلوریز روزانہ درکار ہوتی ہے۔
فاسٹ فوڈ ز غذائیں:
آج کے دور میں ہر کوئی مصرو ف نظرآتا ہے۔ ہرکوئی وقت کی کمی کا رونا روتا ہے۔ ایسے حالات میں بچے ایسی خوراک کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس کی تیاری میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔ یعنی خوراک فوری طورپر کھانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی خوراک جس میں کیلوریز کی تعداد زیادہ ہو جب کہ مقدار میں خوراک کم ہو زیادہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے ۔ ایسی غذاؤں میں پیزا، برگر،شامی کباب، شوارمااور دوسرے فاسٹ فوڈز شامل ہیں۔
بیکری کی اشیاء:
بیکری کی بنی ہوئی اشیاء جیسے بسکٹ ،کیک ، پیسڑی وغیرہ ایسی غذائیں ہیں جو جلدی تیار اور ہضم ہوجاتی ہیں اور ان میں کیلوریز بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن یہ صحت مند غذائیں نہیں ہیں۔
ذہنی کام کرنے والے بچوں کی غذا:
جوبچے جسمانی کھیل کود کی بجائے ذہنی کاموں کی طرف توجہ دیتے ہیں یعنی اگر کھیلنا ہو تو گھر بیٹھ کر کمپیوٹر پر کوئی کھیل کھیلتے ہیں وہ فاسٹ فوڈ کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ ورزش سے دور رہ کر ایسے بچوں کی زیادہ کیلوریز خرچ نہیں ہوتیں جس کے نتیجے میں وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع میں موٹاپے پر قابو نہ پایا جائے تو پھر اس پر قابوپانا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور انسان مختلف قسم کی بیماریوں کاشکار ہوجاتا ہے۔
غیر افادی غذا کے نقصان پہنچانے والے اثرات سے بچنے کے لئے ان سے دور ہی رہنا چاہیے۔ اس کی بجائے صحت مند غذا استعمال کرنی چاہیے۔
3۔ غذا کے بنیادی گروہوں کی غذائیت بیان کریں؟
غذائی گروہ:
ماہرین غذائیت نے تمام اشیائے خوردونوش کو پانچ بنیادی گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ جنہیں غذائی گروہ کہتے ہیں ۔
اشیائے خوردنی کی گروہ بندی:
اشیائے خوردنی کی گروہ بندی بنیادی غذائی گروہوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ کسی ایک کھانے کی اشیاء میں تمام غذائی اجزاء موجود نہیں ہوتے مثلاٗ ہم گوشت اور انڈوں سے پروٹین اور اناج سے نشاستہ حاصل کرتے ہیں ۔جبکہ سبزیوں او رپھلوں سے معدنی نمکیات اور وٹامن وافر مقدار میں حاصل کرتے ہیں۔ یہ تمام غذائی اجزاء مختلف کھانوں میں مختلف مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں متوازں غذا حاصل کرنے کے لئے ہر گروہ میں سے روزانہ ایک ایک چیز کا استعمال کرنا چاہیے۔
غذاکے پانچ بنیادی گروہ:
اس گروہ میں غذا پانچ بنیادی حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ متوازن غذا کے انتخاب کے سلسلے میں یہ گروہ سب سے زیادہ استعمال کیاجاتا ہے نیز یہ گروہ باقی تمام گروہوں کی نسبت زیادہ پسند بھی کیا جاتا ہے۔ اس گروہ میں شامل غذائیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء
2۔ گوشت، مچھلی ،مرغی اور انڈے
3۔ سبزیاں اور پھل
4۔ اناج او ردالیں
5۔ چکنائی اور میٹھی اشیاء
1۔ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء:
چونکہ دودھ میں تقریباٌ وہ تمام ضروری غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو ہماری جسمانی نشوونما او رصحت کی برقراری کے لئے ضروری ہیں اس لئے دودھ قریباٌ ایک مکمل غذا ہے۔
نومولود بچوں کی اولین غذا:
دودھ کو دیگر تمام غذاؤں پر اس لحاظ سے بھی فوقیت حاصل ہے کہ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو قدرت اس کے لئے سب سے پہلے جس غذا کا انتخاب کرتی ہے وہ دودھ ہے۔ عمر کے ابتدائی چند ماہ میں چھوٹے بچوں کو جن غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں ان غذائی اجزاء کی ضرورت صرف بچپن ہی میں نہیں ہوتی بلکہ نوجوانوں او ربڑی عمر کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
غذائی اجزاء کی مناسب مقدار کا حصول:
دودھ میں پائے جانے والے چند ایک غذائی اجزاء ایسے ہیں جو صرف دودھ میں ہی مناسب و موزوں مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ دیگر کسی غذاسے ان غذائی اجزاء کی مناسب مقدار حاصل نہیں کی جاسکتی ۔
دودھ میں موجود غذائی اجزاء:
دودھ میں سب سے زیادہ اہم غذائی اجزاء پروٹین، کیلشیم اور وٹامن بی2 ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ میں کل مقدار کا 87 فیصد پانی اور 13 فیصد دیگر غذائی اجزاء مثلاٌ کاربوہائیڈریٹ ،چکنائی اور معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں۔دودھ میں پائی جانے والی پروٹین نہایت اعلیٰ درجہ کی اور زودو ہضم ہوتی ہے۔
دودھ سے تیارشدہ اشیاء:
دودھ سے دہی، مکھن ،لسی،پنیراو ر کھویا وغیرہ تیار کیاجاتا ہے۔ مکھن میں وٹامن اے پایاجاتا ہے۔چھاچھ میں سوائے وٹامن اے اور چکنائی کے دودھ کے دیگر تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ دودھ سے تیارکیاگیا کھویا مٹھائیاں وغیرہ بنانے کے کام آتا ہے۔
2۔ گوشت ،مچھلی ،مرغی،انڈے
1۔ پروٹین کاخزانہ:
گوشت کے اس گروہ میں اعلیٰ حیاتیاتی قدر والی پروٹین پائی جاتی ہے اس میں جسم کی نشوونما اور تعمیر کے لئے ضروری امینوایسڈز پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو روزانہ کم سے کم ایک بار اپنی غذامیں ضرورشامل کرنا چاہیے۔ گوشت خواہ کسی بھی جانور کا ہو۔اس میں پروٹین سب سے زیادہ موجود ہوتی ہے 100 گرام گوشت سے قریباٌ 20 گرام مکمل پروٹین حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آئرن ،فاسفورس اور وٹامن بی حاصل ہوتے ہیں۔
2۔ دیگرغذائی اجزاء:
گوشت میں اعلیٰ قسم کی پروٹین کے علاوہ وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن ڈی، نیاسین اور چکنائی پائی جاتی ہے۔
3۔ کلیجی گردے اور دل:
کلیجی میں وٹامن اے اور آئرن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ گردوں اور دل میں بھی آئرن پایاجاتا ہے لیکن ان میں وٹامن اے کی مقدار کم ہوتی ہے۔
4۔ مچھلی:
عمدہ قسم کی پروٹین کے حصول کے لئے مچھلی ایک بہترین غذا ہے۔ مچھلی کی چربی میں وٹامن ڈی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ سمندری مچھلی میں آئیوڈین بھی پائی جاتی ہے۔
5۔ مرغی:
مرغی کے گوشت اور دیگر جانوروں کے گوشت میں غذائیت کے لحاظ سے توکوئی فرق نہیں ہوتا البتہ مرغی کا گوشت زودہضم ہوتا ہے۔
6۔ انڈے:
انڈوں میں پروٹین، وٹامن اور نمکیات موجود ہوتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں چکنائی ،وٹامن اے،وٹامن ڈی اور آئرن بہت زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
3۔ سبزیاں اور پھل:
سب سبزیوں میں وٹامن اور معدنی نمکیات کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ وٹامن اور معدنی نمکیات معدے کے نظام کو درست رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے سبزیاں جسم کی محافظ غذائیں بھی کہلاتی ہیں۔ سبزیوں میں توانائی فراہم کرنے کی اہلیت بہت کم ہوتی ہے۔
لیکن ذائقہ اچھا ہوتا ہے۔ دسترخوان کی رونق او رزیبائش بڑھاتی ہیں۔ جسم کو ناقابلِ ہضم اور مفید ریشے مہیاکرتی ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ خوراک میں کم از کم ایک پھل اور ایک موسمی سبزی ضرور شامل کرنی چاہیے۔ بعض سستی سبزیاں غذائیت کے لحاظ سے پھلوں کی نسبت مفید ہوتی ہیں۔ مثلاٌ سیب کے مقابلے میں گاجر سستی بھی ہے اور بھی مفیدبھی۔
سبزیوں میں پائے جانے والے وٹامن اور معدنی نمکیات:
سبزیاں وٹامن اور معدنی نمکیات سے بھرپورہوتی ہیں۔ہرے پتوں والی سبزیوں مثلاٌ ساگ اور پالک میں وٹامن اے اور آئرن موجود ہوتا ہے۔ گاجریں وٹامن اے کا خزانہ ہیں۔ ٹماٹروں میں وٹامن اے اور وٹامن سی پائے جاتے ہیں۔ تازہ مٹروں اور دھنیے کے پتوں میں وٹامن اے، وٹامن سی، پروٹین، فاسفورس، کیلشیم اور آئرن کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ سبزمرچوں میں وٹامن اے، وٹامن سی اور آئرن پایاجاتا ہے۔ آلوؤں میں وٹامن سی ،فاسفورس او ر کاربوہائیڈریٹس کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔
پھل:
پھل سبزیوں کی نسبت زیادہ توانائی رکھتے ہیں۔ پھلوں میں نشاستے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ پھلوں میں پروٹین بھی پائی جاتی ہیں لیکن بہت کم۔پھلوں میں وٹامن اے اور وٹامن سی بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ پیلے رنگ کے پھلوں میں وٹامن اے کی کافی مقدات پائی جاتی ہےجبکہ امرود، مالٹے،سنگترے، کینو، لیموں اور گریپ فروٹ وغیرہ وٹامن سی سے بھرپورہوتے ہیں۔ بعض سستے پھل غذائیت کے لحاظ سے سبزیوں کی نسبت مفید ہوتے ہیں۔
4۔ اناج اور دالیں:
ہم اناج مثلاٌ چنا، چاول او رگیہوں وغیرہ کو غذا کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں 65 تا 70 فیصد تک کیلوریز انہیں غذاؤں سے حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے گھروں میں گیہوں کی روٹی اور چاول کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں۔
حراروں کی مقدار:
انا ج میں کافی زیادہ مقدار میں حرارے (کیلوریز) پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں حرارون کی 80فیصد مقدار اناج سے حاصل کی جاتی ہے۔
اناجوں اور دالوں میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار:
ہرقسم کے اناجوں میں کاربوہائیڈریٹ وافرمقدار میں موجود ہوتا ہے۔ لیکن اناجوں میں پروٹین نہایت قلیل مقدار میں موجود ہوتی ہے ۔البتہ دالوںمیں کاربوہائیڈریٹ کے ساتھ ساتھ پروٹین بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔اناج کی نسبت دالوں سے دُگنی پروٹین حاصل ہوتی ہے۔ دالوں میں وٹامن بی بھی پایاجاتا ہے لیکن ان میں حیوانی پروٹین کی بہت کمی رہتی ہے۔
5۔ چکنائی اور میٹھی اشیاء:
گھی، تیل ، چربی ،مکھن ،بالائی اور مارجرین وغیرہ ایسی غذائیں ہیں جن سے انسانی جسم کو حرارت مہیاہوتی ہے ۔یہ ساری غذائیں چکنائی کے زُمرے میں آتی ہیں۔ چکنائی کی موجودگی میں دوسرے غذائی اجزاء جیسے مختلف قسم کے وٹامنزاپنا کام زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔
مختلف چیزوں سے گڑ، شکر،چینی،شہد، جام اورجیلی وغیرہ میں بہت زیادہ مٹھاس ہوتی ہے۔ ان میں کیلوریز کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان چیزوں کو کبھی کبھار اور تھوڑا تھوڑا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا زیادہ اور مسلسل استعمال نقصان دہ ہے کیوں کہ چکنائی والی میٹھی چیزیں کھانے سے انسان موٹا ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
4۔ غذائی ضروریات پر اثرانداز ہونے والے عوامل پر بحث کریں؟
غذائی ضروریات پر اثرانداز ہونے والے عوامل:
عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت نے بھی حراروں کی تعداد کا تعین کیا ہے ،وہ مرد و خواتین جن کی عمریں 25 سال ہیں ، وہ معتدل آب و ہوا میں رہائش پذیر ہیں اور روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں ، اُن میں سے ایک اوسط بالغ مرد کو 2150 سے 2450 تک اور ایک اوسط عورت کو 1800 سے 2100 تک حراروں کی روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔عمر کے لحاظ سے حراروں کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ مختلف سرگرمیوں کی نوعیت کے مطابق حراروں کی ضروریات بدلتی رہتی ہیں۔ موسم کا بھی اس پر کافی حد تک اثر ہوتا ہے۔ ہر ایک فرد کی غذائی اور حراروں کی ضروریات دوسر ے فرد سے مختلف ہوتی ہیں اور اس کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہوتا ہے۔
1۔ عمر
2۔ جنس
3۔ کام کاج کی نوعیت
4۔ موسم
5۔ جسم کی بناوٹ
6۔ جسمانی کیفیت
1۔ عمر:
عمر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف گروہوں کے لئے غذائی ضروریات کا تعین کیا جاتا ہے۔ افراد کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اُس کی غذائی ضروریات میں بھی واضح تبدیلی آتی رہتی ہے ۔بچوں کوبڑوں کے مقابلے میں زیادہ خوراک کی ضرور ت ہوتی ہے۔ کیونکہ اُن کا جسم نشوونما کے دور سے گزررہا ہوتا ہے اور انہیں زیادہ حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیس سال کی عمر تک افراد کا قد اور جسم کے اعضا اپنی مقررہ حد تک بڑھ چکے ہوتے ہیں۔اس لیے انہیں اتنے غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے جو اُن کے وزن کو اعتدال پر رکھ سکیں۔ بوڑھے افراد جو زیادہ محنت طلب کام نہیں کرتے اُن کو نوجوانوں کی نسبت کم خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی صحت برقرار رکھنے کے لئے ان کو متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔
2۔ جنس:
غذا کے تعین میں جنس بھی اثر انداز ہوتی ہے چونکہ مرد عورتوں کی نسبت زیادہ محنت اور مشقت والا کام کرتے ہیں۔ اس لئے انہیں عورتوں کی نسبت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی خاتون بھی مشقت طلب کام کرتی ہوتو اسے بھی زیادہ حراروں والی غذا کی ضرورت ہوگی۔ نیز مردوں کو اُ ن کی جسمانی بناوٹ اور قد کاٹھ کی وجہ سے زیادہ حرارے درکار ہوتے ہیں۔
3۔ کام کاج کی نوعیت:
کام کاج کی نوعیت کے لحاظ سے افراد کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ جسمانی محنت و مشقت زیادہ کرتے ہیں تو کچھ لوگ ذہنی،جسمانی محنت کرنے والوں کو زیادہ حراروں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ آرام کی حالت میں ذہنی کام کرنے والوں کو کم حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ افراد کوان کے کام کی نوعیت کے مطابق درج ذیل چارگروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ ہلکا پھلکا کام کرنے والے افراد:
دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے والے افراد وکیل، اُستاد، ڈاکٹر وغیرہ۔
2۔ درمیانہ کام کرنے والے افراد:
طلبا،سپاہی ، ماہی گیر، مشینی صنعتوں میں کام کرنے والے مزدور اور گھریلوخواتین۔
3۔ سخت کام کرنے والے افراد:
مزدور، کاشت کار، بھاری صنعتوں میں کام کرنے والے کارکن ،کھلاڑی ،تیراکی کرنے والے افراد۔
4۔ زیادہ محنت طلب کام کرنے والے افراد:
جنگلات کاٹنے والے،کوہ کن اور کوئلے کی کان میں کام کرنے والے افراد۔
4۔ موسم:
افراد کو سردیوں کے موسم میں زیادہ حرارت و توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے مرغن اور تلی ہوئی غذاؤں اور خشک میوہ جات و مغزیات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ گرمیوں میں مشروبات اور پھلوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے ۔ پانی کے زیادہ استعمال کرنے سے خوراک میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
5۔ جسم کی بناوٹ:
ہرفرد کو اس کی جسامت کے لحاظ سے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرکوئی موٹا ہے تو اُسے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس کی نسبت پتلے شخص کو کم خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرکسی شخص کا اپنی عمر کے اوسط وزن سے زیادہ وزن ہوتو پھر اُسے ایسی خوراک کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں زیادہ چکنائی نہ ہواو رحرارے بھی نسبتاٌ کم ہوں ۔اگر افراد کو ان کی جسمانی ضروریات کے مطابق خوراک نہ ملے تو اُن کی صحت اور کارکردگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
6۔ جسمانی کیفیت:
بیمارشخص کو اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے اور اپنے جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرنے کے لئے زیادہ حراروں اور بہتر غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کوبھی، بچوں کی نشوونما کے لئے زائد حرارے درکا ر ہوتے ہیں۔
5۔ شیرخوار بچوں کی غذائی ضروریات بیان کریں؟
شیرخوار بچوں کی غذائی ضروریات:
نوزائیدہ بچے کوتو ماں ہی دودھ پلاتی ہےا ور بعد میں بچے کے لئے بوتل میں دودھ ڈال کر پلایاجاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جو طریقہ بھی استعمال کیا جائے صفائی کا خاص خیال رکھا جائے بوتل ہر مرتبہ دھوکر استعمال کریں۔ دن میں ایک بار بوتل کو اُبلتے ہوئے پانی میں ڈالیں۔
ماں کا دودھ اہم جزو:
پیدائش کے وقت سے ہی بچے کو ماں کا دودھ پلان شروع کردینا چاہیے ،کیونکہ ماں کے دودھ میں چند ایسے اہم جزو ہوتے ہیں جو بچے میں قوتِ مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
متبادل ذرائع:
اگر ماں کا دودھ بچے کو نہ دیا جاسکے تو بوتل سے گائے، بھینس، بکری یا ڈبے کا خشک دودھ بھی پلایا جا سکتا ہے جب بچہ تین چار ہفتے کا ہوجائے تو اسے وٹامن’ڈی’ کی ضرورت ہوتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تھوڑی دیر دھوپ میں لٹائیں۔ چار ہفتے کے بعد سنگترے کا رس چھان کر اس میں برابرکے وزن کا اُبلا ہوا پانی ملادینا چاہیے۔ تین ماہ بعد اس کے پتلے چاول یا پتلا سفوف بناکر ایک چمچ کھلائیں اور آہستہ آہستہ یہ مقدار بڑھاتے جائیں۔ تیسرے مہینے انڈے کی زردی دینی شروع کریں۔ اسی طرح سبزیاں اُبال کر چھان کر دیں۔ شیرخوار بچے کی صحیح نشوونما کے لئے ابتداء ہی سےبچے کی غذا میں دودھ کے ساتھ ساتھ دوسری غذائیں شامل کردیں۔
6۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کی غذاترتیب دیتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ؟ تفصیلاٌ لکھیں؟
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کی غذا:
حمل کے دوران غذا کا اثر نہ صرف ماں بلکہ بچے کی صحت پر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اکثر اوقات اسقاطِ حمل یا بہت کمزور بچے پیدا ہونے کا سبب ماں کی ناقص اور غیر متوازن غذا ہوتی ہے جو وہ دورانِ حمل کھاتی رہی ہو۔ اس دوران بچہ اپنی غذائی ضروریات ماں کے خون سے لیتا ہے اس لئے خیال رکھیں کہ ماں کی غذامکمل متوازن ہو یعنی ماں کی غذا میں تمام غذائی گروپ شامل ہونے چاہیئں۔
(Food Preparation) باب نمبر4۔کھانوں کی تیاری
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ پکانے سے غذا خوش بودار اور خوش ذائقہ ہوجاتی ہے۔ اس کا عروقِ ہاضمہ پر کیا اثر ہوتا ہے؟
(الف) اخراج نہیں ہوتا (ب) تیزابی ہو جاتے ہیں (ج) اخراج زیادہ ہوتا ہے (د) دیر سے اثر کرتے ہیں
2۔ تر پکانے کے طریقوں میں کیا استعمال ہوتا ہے؟

3۔ مائیکروویواوون میں استعمال ہونے والے برتن کیسے ہوتے ہیں؟
(الف) روایتی (ب) دھات کے (ج) مخصوص (د) پلاسٹک کے
4۔ چاولوں کو ان کے بھگوئے ہوئے پانی میں نہ پکانے سے کون سے غذائی اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں؟
(الف) پروٹین (ب) نشاستہ (ج) پروٹین و معدنی نمکیات (د) چکنائی
5۔ دسترخون یا ٹر ے کور ہمیشہ کس کپڑے کے ہونے چاہییں ؟
(الف) سوتی (ب) ریشمی (ج) باریک (د) گہرے رنگ کے
6۔ مغربی طریقے کے رسمی انداز میں کھانا کس فرد سے شروع کیا جاتا ہے؟
(الف) میزبان (ب) مہمان (ج) عورت (د) بزرگ
7۔ نیپکن کا سائز عموماٌ کتنے مربع انچ ہوتا ہے؟
(الف) س12 (ب) 16 (ج) 18 (د) 22
8۔ ریفریجریٹر کو ہفتے میں کم از کم کتنی بار ڈی فراسٹ کیا جائے؟
(الف) ایک مرتبہ (ب) دو مرتبہ (ج) تین مرتبہ (د) ایک مرتبہ بھی نہیں
9۔ کھانوں میں تنوع پیداکرنے کے لئے خوراک کو کس انداز میں سٹورکیا جاسکتا ہے؟
(الف) ٹھنڈی جگہ پر (ب) بارش، نمی سے محفوظ کر کے (ج) اچار، چٹنی ،مربہ جات اور جام بناکر (د) کیڑے مکوڑون سے بچا کر
جوابات: (3-)(1-)(3-)(3-)(1-)(4-)(1-)(3-)(2-)
سوال 2۔ مختصر سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ کھاناپکانے کے مقاصد تحریرکریں؟
کھاناپکانے کے مقاصد درج ذیل ہیں۔
1۔ پکانے سے غذانرم اور قابلِ ہضم ہوجاتی ہے۔ پکی ہوئی غذا کو ہضم کرنے کےلئے معدے کو کم محنت کرنا پڑتی ہے۔جس کے نتیجے میں معدہ زیادہ دیر تک کام کرسکتا ہے۔
2۔ غذاکا ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔ پکانے کے دوران میں اس میں کئی طرح کے مصالحے استعمال کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے غذا خوش رنگ دکھائی دیتی ہے اور زیادہ رغبت سے کھائی جاسکتی ہے۔
3۔ پکانے سے غذا میں موجود نقصان پہنچانے والے جراثیم مرجاتے ہیں اور انسان بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔
4۔ غذا کے عمدہ ہونے کی وجہ سے اشتہاء بڑھ جاتی ہے اور انسان زیادہ دلجمعی سے کھانا کھالیتا ہے۔
5۔ مختلف قسم کی غذا کوپکانے سے اس کا حجم بڑھ جاتا ہے جیسے چاول کی ایک پیالی اُبالیں تووہ تین پیالی چاول بن جاتے ہیں۔
6۔ مختلف غذاؤں میں ناگوارسی بوہوتی ہے۔اگران کو پکالیاجائے تو ان کی ناگوار بوختم ہوجاتی ہے جیسے لہسن، مولی، گابھی،شلغم ،مچھلی اور انڈے وغیرہ۔
7۔ مختلف سبزیاں اور گوشت مختلف انداز میں پکا کر ان کی غذائیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان یکسانیت سے بھی بچ جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی غذا کو بدل بدل کر پکایا جاسکتا ہے۔
8۔ مختلف افرادِ خانہ کی پسند مختلف ہوتی ہے۔ اس طرح ایک ہی غذاٹھنڈی، گرم، نرم، سخت یا مائع حالت میں تیار کرکے گھر کے تمام افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔
جہاں کھانا پکانے کے اتنے زیادہ فوائد ہیں وہاں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
1۔ اگرخوراک کو اُبالاجائے تو اس کے کئی غذائی اجزاء ضائع ہو جاتے ہیں۔
2۔ اُبالنے سے غذا میں موجود وٹامنز اورمعدنی نمکیات پانی میں مل کر اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔
3۔ کئی غذائی اجزاء بھوننے سے ضائع ہوجاتے ہیں۔
4۔ اگرخوراک کوتلاجائے تو غذا میں موجود پروٹین کی کم ہوجاتی ہے۔
2۔ ترپکانے کے طریقے کون کون سے ہیں؟
تر پکانے میں تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ا۔ اُبالنا ب۔ بھاپ دینا ج۔ دم پذیری
ا۔ اُبالنا:
مختلف قسم کی سبزیاں ،دالیں اور چاول پانی میں اُبالے جاتے ہیں۔اُبالنے کے لیے پانی کا درجہ حرارت 100 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا چاہیے۔ اس درجہ حرارت پر چیزیں گل جاتی ہیں۔ آلو، چاول، دالیں وغیرہ پانی میں اُبالی جاتی ہیں۔ اُبالنے کے دوران میں کوشش کی جاتی ہے کہ چیزوں کے غذائی اجزاء ضائع نہ ہونےپائیں۔ کئی دفعہ اس پانی کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے جس میں کوئی چیز اُبالی گئی ہو۔ پلاؤ بنانے کے لئے گوشت اُبالاجاتا ہے وہی پانی چاولون کو پکانے کے لئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔
ب۔ بھاپ دینا:
کچھ غذائیں بھاپ میں پکائی جاتی ہیں۔ بھاپ میں پکانے کےلئے سبزیوں یا دالوں کو پانی یا دودھ کا ہلکا سا چھینٹا دے کر کسی برتن سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ اس کے نیچے ہلکی آنچ جلائی جاتی ہے تاکہ غذا کی غذائیت برقراررہے اورغذانرم بھی ہوجائے ۔ کئی سبزیاں صرف بھاپ میں ہی بنائی جاتی ہیں ۔
ج۔ دم پذیری:
ڈھکن والے برتن میں کم پانی ڈال کر پکانے کے طریقے کو دم پذیری کہتے ہیں۔ پہلے گوشت کو کم پانی میں گلالیتے ہیں ۔ اس کےبعد کم چکنائی ڈال کر اس گوشت کو بھون لیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے گوشت نرم،خوش ذائقہ اور مزےدار ہو جاتا ہے۔
3۔ مائیکروویواوون کے فوائد لکھیں؟
1۔ مائیکروویواوون میں کھانا جلدی پک جاتا ہے اس لیے وقت کی بچت ہوتی ہے۔
2۔ انسان کھاناپکانے کے لئے بہت سی محنت سے بچ جاتا ہے۔
3۔ مائیکروویواوون کی مدد سے بچے ہوئے کھانے کو کئی بار گرم کیا جاتا سکتا ہے۔ اس سے کھانے کی غذائیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
4۔ مائیکروویواوون میں گرم کرنے سے کھانے کا ذائقہ اور رنگت خراب نہیں ہوتی۔
5۔ عام طریقے سے پکائیں تو کئی بار آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ مائیکروویواوون میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ۔
6۔ مائیکروویواوون کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جس برتن میں کھاناپکایا جائے اسی میں مہمان کے سامنے پیش بھی کیا جاسکتا ہے۔
4۔ پکانے کے دوران انڈوں کی غذائیت برقراررکھنے کے طریقے لکھیں؟
1۔ اندوں کو ہمیشہ ہلکی آنچ پر پکاناچاہیے۔
2۔ اگرانڈوں کو تیز آنچ پر پکایا جائے تو اس میں موجود پروٹین جم کر سخت ہو جاتی ہے اور ہضم کے قابل نہیں رہتی۔
3۔ اگرانڈوں کو کیک اور پیسٹری وغیرہ میں شامل کرناہوتوانہیں دیر تک پھینٹنا چاہیے کیوں کہ پھینٹنے سے ان کا حجم زیادہ ہو جاتا ہے اور کیک وغیرہ پھول جاتے ہیں۔
4۔ انڈوں میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جوجوڑنے کے کام آتے ہیں ۔اس لیے انڈون کے تلنے اور مختلف قسم کی مٹھائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
5۔ کھاناپیش کرنے کے بنیادی اُصول لکھیں؟
1۔ کھاناہمیشہ صاف ستھرے برتنوں میں پیش کریں۔
2۔ کبھی کھانا پیش کرنے کے لئے ایسا برتن استعمال نہ کریں جس کا کوئی کنارا ٹوٹا ہوا ہو۔
3۔ کھانے کی میز یا دسترخوان پر برتن ترتیب سے رکھنے جاہیئں تاکہ کھانا کھانے والوں کو آسانی ہو۔
4۔ ڈش یا ڈونگے کی جسامت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس میں کھانا پیش کریں۔
5۔ ڈونگے میں سالن نہ تو اتنا کم ہو کہ پیندا نظرآئے او ر نہ ہی اتنا زیادہ ہو کہ چھلک جائے ۔ سالن مناسب مقدار میں ہونا چاہیے۔
6۔ کھانے کی خوب صورتی بڑھانے کےلئے سبز پتوں والی سبزیوں جیسے پودینہ اور سبز دھنیاوغیرہ سے اس کی آرائش کرنی چاہیے۔
7۔ موقع کی مناسبت سے مختلف قسم کے سلاد بھی کھانے کےساتھ پیش کریں اس سے کھانے کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
8۔ اگرچٹنی رکھنی ہو تو افرادِ خانہ کی تعداد دیکھ کر ایک کی جگہ دوتین برتنوں میں رکھنی چاہیےتاکہ دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو باربار مانگنی نہ پڑے۔
9۔ اگرمیزبڑے ہو اور کھانے والے لوگ کم ہوں تو میز پر کچھ جگہوں پر تازہ پھولوں کے گلدستے رکھ دینے چاہییں۔اس سے میز خوش نما بھی دکھائی دے گی اور خالی خالی بھی معلوم نہیں ہوگی۔
10۔ جب سب کھانا کھا کر اُٹھ جائیں تب برتن سمیٹنے چاہییں۔
6۔ ایک سے زائد افراد کے ٹر ے لگانے کا طریقہ لکھیں؟
1۔ اگر ٹرے زیادہ افراد کے لئے تیار کرنی ہو تو اس میں رکابیاں یا پلیٹ تلے اوپر رکھی جاتی ہیں۔
2۔ نیپکن بائیں جانب ایک ڈھیر کی صورت میں اکٹھے ہی رکھے جائیں۔
3۔ عام طور پر زیادہ لوگوں کے لئے ٹرے مشروبات وغیرہ کے لئے لگائی جاتی ہے۔
4۔ اگرچائے کے لئے ٹرے لگائی جائے تو تمام پیالیوں کے کنڈوں کا رخ ایک ہی سمت میں ہونا چاہیے۔
5۔ اگرٹھنڈا مشروب ہو تو ٹرے پیش کرتے وقت اس چھلکنا نہیں چاہیے۔
7۔ بوفے انداز میں کھانا کیسے پیش کی جاتا ہے؟
1۔ بوفے انداز می کھانا اپنی مدد آپ کے تحت کھایا جاتا ہے۔
2۔ کم جگہ میں زیادہ لوگوں کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔
3۔ کھانا کھڑے ہو کر اور چلتے پھرتے کھایا جاتا ہے۔
4۔ بوفے کی میز خوب صورت طریقے سے سجائی جاتی ہے۔
5۔ کھانے کی میز کی آرائش تازہ پھولوں سے کی جاتی ہے۔
6۔ رات کے کھانے میں میز پر موم بتیوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
7۔ چائے اور قہوے کے لئے الگ الگ پیالیاں ہوتی ہیں جن میں میزبان اپنی مرضی کے مطابق چائے یا قہوہ لے سکتا ہے لیکن اگر میزبان چاہے تو خود بھی چائے یا قہوہ بناکر مہمانوں کو پیش کر سکتا ہے۔
8۔ خوراک کو سٹور کرنے کے عوامل کون کون سے ہیں؟
خوراک کو محفوظ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تین بنیادی عوامل ہیں۔
1۔ خوراک کی نوعیت 2۔ خوراک کی کوالٹی 3۔ استعمال سے پہلے ذخیرہ کرنے کی مدت
9۔ ریفریجریٹر کی صفائی کا طریقہ بیان کریں؟
ریفریجریٹر کی صفائی کے طریقے:
ریفریجریٹر کی ہر ہفتے گرم سوڈا واٹر سے اندر اور باہر سے صفائی کی جائے اس سے کھانے کی تمام اشیاء نکال لی جائیں۔
1۔ تمام فوڈز باہر نکال لیں بجلی کی رو منقطع کر دیں اور ریفریجریٹر کو ڈی فراسٹ ہونے دیں۔
2۔ ڈینٹرجنٹ سلوشن سے دھوڈالیں۔ صاف گرم پانی سے مزید صاف کرلیں۔
3۔ اسے خشک کریں۔ موٹر دوبارہ اسٹارٹ کریں۔ اور کھانے پینے کی چیزیں دوبارہ اس میں رکھ دیں۔
4۔ چیک کر لیں کہ موٹر صحیح طریقے سے چل رہی ہے۔
5۔ اگر ریفریجریٹر کے اندر پھپھوندی لگی ہو تو اسے سر کے اور میٹھے سوڈے کے محلول سے صاف کرنا چاہیے۔
6۔ کچھ علاقوؐ میں سردی کے موسم میں فریج کو مکمل طور پر بندکردیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں فریج کا مین پلگ نکال دیں اور فریج کا دروازہ کھول دیں۔ صاف کرنے کے بعد دیکھیں کہ اس میں کسی جگہ نمی نہ رہے کیوں کہ اگر فریج میں نمی ہو گی اور اس کو بند کر دیا جائے تو اس میں ناگوار بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔
10۔ باورچی خانے میں معمولی حادثات کی روک تھام کیونکر کی جاسکتی ہے؟
باورچی خانے میں معمولی حادثات کی روک تھام:
1۔ باورچی خانے میں ابتدائی طبی امداد کٹ ضرور رکھیں۔
2۔ ابتدائی طبی امداد کی کٹ میں ڈیٹول، برنال، لال دوائی(پوٹاشیم پر میگنیٹ) روئی ،اسپرٹ، پٹیاں اور فوری درددو ر کرنے والی ٹکیاں ضرور ہونی چاہئییں ۔
3۔ اکثر اوقات باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے ہاتھ جل جاتا ہے۔ ایسی صور ت میں فوراٌ متاثرہ حصے پر برنال لگائیں۔ اگر برنال موجود نہ ہوتو سرسوں کے تیل کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔
4۔ جلے ہوئے حصے پر پٹی نہیں باندھنی چاہیے اس سے زخم کے خراب ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
5۔ اگرجلی ہوئی جگہ پر چھالا بن جائے تو اسے خود سے نہیں پھوڑنا چاہیے۔ اگرچھالا اپنے آپ ہی پھوٹ جائے تو اس پر برنال لگا دینی چاہیے۔
6۔ اگر باروچی کانے میں چوٹ لگ جائے تو زخم کو ڈیٹول سے صاف کرکے مرہم لگادینا چاہیے۔
7۔ اگرمرہم موجود نہ ہو تو ٹنکچر آئیوڈین کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
8۔ اگر زخم گہرا ہو اور خون نکلنا بند نہ ہو رہا ہو تو زخم پر لال دوائی لگائیں پھر بھی اگرخون نکلنا بند نہ ہوتو فوراٌ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
9۔ باروچی خانے میں عام طور پر گیس کا چولہا کھلا رہ جانے کی وجہ سے بھی حادثہ پیش آسکتا ہے۔ ایسی صور ت میں متاثرہ شخص کو فوراٌ کھلی فضا میں لے جانا چاہیے اور اس کے کپڑے ڈھیلے کردینے چاہئییں ۔
10۔ اگر کوئی شخص غلطی سے یا جان بوجھ کر کوئی زہریلی دوا پی لے تو اسے فوراٌ نمک ملاگرم پانی پلائیں۔ اس سے اُسے قے ہو جائے گی۔ اور اس کا معدہ صاف ہوجائے گا۔ اس کے بعد فوراٌ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
سوال 3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ کھانا پکانے کے اُصول و طریقے بیان کریں؟
کھانا پکانے کے چار مختلف طریقے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
1۔ خشک پکانے کا طریقہ
2۔ تر پکانے کا طریقہ
3۔ مائیکروویواوون میں پکانے کا طریقہ
1۔ خشک پکانے کا طریقہ:
اس طریقے سے کھاناپکایا جائے تو پانی یا بھاپ کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا اس کی بجائے کھانا پکانے کے لئے چکنائی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔خشک پکانے کے لئے تین طریقے ہیں۔
1۔ بیک 2۔ سینکنا 3۔ بھوننا
بیک کرنا:
کسی کھانے کو بیک کرنے کے لئے اوون کو کام میں لایا جائے ۔ اوون ایک ڈبہ نما ہوتا ہے جو ہرطرف سے بند ہوتا ہے۔ صرف سامنے کے رخ پر ایک دروازہ ہوتا ہے۔ اوون کے ریگولیٹر کی مدد سے اس کا درجہ حرارت کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اپنی مرضی کے مطابق بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ اوون میں مختلف قسم کے بسکٹ تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوشت کو مصالحہ لگا کر اوون میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ایک مقررہ درجہ حرارت پر کچھ دیر کےلیے رکھتے ہیں۔ پھر تیارشدہ خوراک کو اوون میں سے نکال لیا جاتا ہے۔ اوون مختلف قسم کی چیزوں کو گرم کرنے کے کام بھی آتا ہے۔
سینکنا:
مختلف اقسام کے گوشت کے سیخ کباب اور تکے کباب بنانے کے لئے سینکنے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے ۔ سینکنے کے لئے بھی پانی کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ گاہے بہ گاہے کسی قدر چکنائی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔چکنائی لگانے سے گوشت جلنے سے بچ جاتا ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا ہو جاتا ہے۔
بھوننا:
بھوننے کے لئے بھی پانی کا استعمال نہیں کیا جاتا ۔ کسی برتن میں گھی یا تلنے والے تیل کی اتنی مقدار لی جاتی ہے کہ چیز اچھی طرح بھونی جا سکے۔ گوشت،قیمہ ،مچھلی اور مختلف قسم کی دالیں بھون کر ہی پکائی جاتی ہیں۔ اس طرح ان کا ذائقہ بڑ ھ جاتا ہے اور کھانے والا اسے شوق سے کھاتا ہے ۔
2۔ تر پکانے کاطریقہ:
تر پکانے میں بھی تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ا۔ اُبالنا ب۔ بھاپ دینا ج۔ دم پذیری
ا۔ اُبالنا:
مختلف قسم کی سبزیاں ،دالیں اور چاول پانی میں اُبالے جاتے ہیں۔اُبالنے کے لیے پانی کا درجہ حرارت 100 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا چاہیے۔ اس درجہ حرارت پر چیزیں گل جاتی ہیں۔ آلو، چاول، دالیں وغیرہ پانی میں اُبالی جاتی ہیں۔ اُبالنے کے دوران میں کوشش کی جاتی ہے کہ چیزوں کے غذائی اجزاء ضائع نہ ہونےپائیں۔ کئی دفعہ اس پانی کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے جس میں کوئی چیز اُبالی گئی ہو۔ پلاؤ بنانے کے لئے گوشت اُبالاجاتا ہے وہی پانی چاولون کو پکانے کے لئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔
ب۔ بھاپ دینا:
کچھ غذائیں بھاپ میں پکائی جاتی ہیں۔ بھاپ میں پکانے کےلئے سبزیوں یا دالوں کو پانی یا دودھ کا ہلکا سا چھینٹا دے کر کسی برتن سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ اس کے نیچے ہلکی آنچ جلائی جاتی ہے تاکہ غذا کی غذائیت برقراررہے اورغذانرم بھی ہوجائے ۔ کئی سبزیاں صرف بھاپ میں ہی بنائی جاتی ہیں ۔
ج۔ دم پذیری:
ڈھکن والے برتن میں کم پانی ڈال کر پکانے کے طریقے کو دم پذیری کہتے ہیں۔ پہلے گوشت کو کم پانی میں گلالیتے ہیں ۔ اس کےبعد کم چکنائی ڈال کر اس گوشت کو بھون لیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے گوشت نرم،خوش ذائقہ اور مزےدار ہو جاتا ہے۔
تلنے کا طریقہ:
تلنے کے لئے گھی ، تیل ، چربی یا کسی بھی قسم کی چکنائی کو کام میں لایا جاتا ہے۔ تلنے کے لئے پانی کا استعمال بالکل نہیں کیاجاتا۔ تلنے کے لئے درجہ حرارت بھی کم رکھا جاتا ہے تاکہ غذائی اجزاء ضائع نہ ہونے پائیں۔
ا۔ کم چکنائی میں تلنا
ب۔ درمیانی چکنائی میں تلنا
ج۔ گہری چکنائی میں تلنا
کم چکنائی میں تلنا:
مرغی اور مچھلی کے قتلے وغیرہ کم چکنائی میں ہی تلے جاتے ہیں۔ اس طرح ان کی غذائیت برقرار رہتی ہے۔ کسی کھلے برتن میں کم گھی ڈال کرخوراک کو تلاجاتا ہے۔ جب ایک طرف سے خوراک تل کر سرخ ہوجائے تو اسے پلٹ کر دوسری طرف سے تل لیا جاتا ہے ۔
درمیانی چکنائی میں تلنا:
اس طریقے سے چیز کی قریب قریب آدھی موٹائی تیل یا گھی میں ڈبو دی جاتی ہے۔ اس طریقے سے چپل کباب، شامی کباب، پراٹھے اور ٹوسٹ وغیرہ تلے جاتے ہیں۔
گہری چکنائی میں تلنا:
گہری چکنائی میں تلنے کے لئے تیل یا گھی، کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔ اس طریقے سے پکوڑے ،سموسے ،چرغہ، مرغی کی چانپیں وغیرہ تلی جاتی ہیں۔
مائیکروویواوون میں پکانے کا طریقہ:
یہ ایک جدید سائنسی طریقہ ہے ۔ اس طریقے میں برقی رو کو توانائی کی لہر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے کھاناپکانے میں بہت کم دقت صرف ہوتاہے۔ کھانا بہت جلدی پک جاتا ہے اور کھانا پکانے والابرتن بھی زیادہ گرم نہیں ہوتا۔ اس طریقے سے پکانے سے کھانے کی نمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے کھانا سخت یا بھربھر ا نہیں ہوتا۔
پہلے پہل پاکستان میں مائیکروویواوون کا استعمال کچھ زیادہ نہیں تھالیکن پچھلے چند برسوں سے اس کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مختلف قسم کی فاسٹ فوڈز اوون کی مدد سے گرم کی جاتی ہیں اور ان کی غذائیت بھی برقرار رہتی ہے۔
مائیکروویو اوون ایک اہم ایجاد ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ 100 فیصد کام کرنے کے لئے مناسب نہیں ہے کیوں کہ اس کی مدد سے ہم کھانے کو بھون نہیں سکتے اور نہ ہی تل سکتے ہیں ۔ہمارے روایتی کھانے زیادہ تر بھونے جاتے ہیں، اس لیے ان کھانوں کے لئے مائیکروویواوون مناسب نہیں لیکن پھر بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ کم سے کم وقت میں کھاناتیار اور گرم کر دیتا ہے۔
مائیکروویواوون خریدتے وقت اپنی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے رکھیں تاکہ بعد کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مائیکروویواوون میں پکانے کے فوائد:
1۔ مائیکروویواوون میں کھانا جلدی پک جاتا ہے اس لیے وقت کی بچت ہوتی ہے۔
2۔ انسان کھانا پکانے کے لئے بہت سی محنت سے بچ جاتا ہے۔
3۔ مائیکروویواوون سے بچے ہوئے کھانے کو کئی بار گرم کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے کھانے کی غذائیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
4۔ مائیکروویواوون میں گرم کرنے سے کھانے کا ذائقہ اور رنگت خراب نہیں ہوتی۔
5۔ عام طریقے سے پکائیں تو کئی بارآگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ مائیکروویواوون میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
6۔ مائیکروویواوون کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جس برتن میں کھانا پکایا جائے اسی میں مہمان کے سامنے بھی پیش کیا جا سکتا ہے ۔
مائیکروویواوون میں پکانے کے نقصانات:
جہاں مائیکروویواوون کے بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ مائیکروویواوون سے ہونے والے نقصانات درج ذیل ہیں۔
1۔ مائیکروویواوون میں بھاپ دینے کا طریقہ نہیں اپنایا جا سکتا ۔
2۔ دم پذیری سے پکانے کا طریقہ بھی مائیکروویواوون میں کارآمدنہیں ہے۔
3۔ مائیکروویواوون میں بسکٹ یا خطائی وغیرہ بنائی جائے تو اس کی مطلوبہ رنگت حاصل نہیں ہوتی۔
4۔ اگرمقررہ وقت سے زیادہ دیر تک چیز مائیکروویواوون میں رہے تو چیز جل جاتی ہے اور کھانے کے قابل نہیں رہتی ۔
5۔ مائیکروویواوون بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اگر درست طریقے سے استعمال نہ کیا جائے تو خراب ہونے کا خدشہ ہے اور اس کو مرمت کروانے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔
6۔ مائیکروویواوون میں استعمال کیے جانے والے برتن بہت مہنگے ہوتے ہیں اس لیے متوسط طبقہ انہیں باربار نہیں خریدسکتا ۔
2۔ پکانے کے مراحل میں گوشت کی غذائیت برقراررکھنے کے اُصول لکھیں؟
کھاناپکانے کے دوران میں غذائیت برقراررکھنے کے طریقے:
اگرخوراک کو محفوظ کرنے کے طریقوں سے آگاہی ہو تو گھر کے افراد کے لئے ایک متوازن غذا ترتیب دے کر ان کی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اگرخاتون ِخانہ غذا کو محفوظ کرنے کے طریقے سے واقف ہوگی تو وہ خوراک کو کم سے کم ضائع کرے گی جس کی وجہ سے نقصِ غذائیت پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔
مختلف چیزوں کی غذائیت کو محفوظ کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔ آئیے ان طریقوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
گوشت کی غذائیت کو برقرار رکھنا:
گوشت کی غذائیت کو مندرجہ ذیل طریقوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
1۔ گوشت کوئی بھی ہو چاہے مرغی کا ہویا بکرے وغیرہ کا، ہمیشہ کھلے اور صاف پانی میں دھونا چاہیے۔
2۔ گوشت کو بازار سے لاکر فوراٌ ہی دھو لینا چاہیے اسے زیادہ دیر تک کھلی فضا میں نہیں رکھنا چاہیے۔
3۔ گوشت میں موجود پروٹین جم جاتی ہیں اس لیے اسے نرم کرنے کے لئے پکاناضروری ہے۔
4۔ پکانے کی صورت میں گوشت میں موجود چربی پگھل جاتی ہے اور گوشت کو نرم اور خوش ذائقہ بناتی ہے۔
5۔ گوشت کا سالن پکانے کی صورت میں اس میں موجود چکنائی ضائع نہیں ہوتی کیونکہ وہ شوربے میں شامل ہو جاتی ہے۔ اور خوراک ہی کاایک حصہ بن جاتی ہے۔
6۔ اگر گوشت کے تکے او رسیخ کباب بنائے جائیں تو اس کے کافی اجزء جل کر ضائع ہوجاتے ہیں۔
7۔ زیادہ دیر تک پکانے سے گوشت کے حرارے ضائع ہوجاتے ہیں ، اس لیے جیسے ہی گوشت پک جائے اسے چولھے سے اتارلینا چاہیے۔
8۔ گردے ،کلیجی اور دل میں چونکہ پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہےاور یہ جلدی نرم ہوجاتے ہیں اس لیے انہیں بھاپ میں پکانا چاہیے تاکہ ان کے غذائی اجزاء ضائع نہ ہونے پائیں۔
9۔مچھلی کا سالن بنانے کی بجائے اسے روسٹ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
انڈوں کی غذائیت برقراررکھنا:
1۔ انڈوں کو ہمیشہ ہلکی آنچ پر پکان چاہیے۔
2۔ اگرانڈوں کو تیز آنچ پر پکایاجائے تو اس میں موجود پروٹین جم کر سخت ہوجاتی ہے اور ہضم کے قابل نہیں رہتی۔
3۔ اگر انڈوں کو کیک اور پیسٹری وغیرہ میں شامل کرنا ہو تو انہیں دیر تک پھینٹنا چاہیے کیوں کہ پھینٹنے سے ان کا حجم زیادہ ہو جاتا ہے اور کیک وغیرہ پھو ل جاتے ہیں۔
4۔ انڈے میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو جوڑنے کے کام آتے ہیں۔ اس لیے انڈوں کو تلنے اور مختلف قسم کی مٹھائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
دودھ کی غذائیت برقراررکھنا:
دودھ کی غذائیت کو محفوظ رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے اُبال کر رکھ لیں۔ کچا دودھ ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ کچے دودھ میں بہت سے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ابالنے سے مر جاتےہیں۔
سبزیوں کی غذائیت کو محفوظ رکھنا:
سبزیوں میں بہت سے وٹامن اور معدنی نمکیات ہوتےہیں۔ کچھ وٹامنز ایسے ہیں جو پانی میں حل ہوجاتے ہیں جب کہ زیادہ تر وٹامنزایسے ہیں جو پکانے کے دوران ضائع ہوجاتے ہیں ۔سبزیوں کو پکاتے وقت یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس کے کارآمد معدنی نمکیات اور وٹامنز ضائع نہ ہونے پائیں۔سبزی خریدتے وقت درج ذیل باتوں کو ذہن نشین کرنا چاہیے۔
1۔ ہمیشہ تازہ اور اچھی سبزی ہی خریدی جائے۔
2۔ سبزی پرکسی قسم کا داغ یا شکن نہیں ہونی چاہیے۔
3۔ سبزی کو کاٹنے اور چھیلنے سے پہلے ہی دھو لینا چاہیے۔ اس طرح سبزی کی بیرونی سطح پر لگے ہوئے جراثیم صاف ہو جاتے ہیں ۔
4۔ اگرپانی میں دو چار چمچ سرکہ ڈال کر اس میں سبزی بھگو دی جائے تو وہ دیر تک تروتازہ رہ سکتی ہے۔
5۔ کوشش کریں کہ سبزیوں کا چھلکا نہ اُتارا جائے۔ اگراُتارنا ناگزیر ہو تو تیز دھا ر چاقو سے پتلا چھلکا اُتاریں کیوں کہ سبزیوں میں زیادہ تر نمکیات چھلکے کے قریب ہوتے ہیں جو موٹا چھلکا اُتارے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔
6۔ جب سبزی پکانی ہو تو اسی وقت اسے کاٹا جائے۔ پکانے سے زیادہ دیر پہلے سبزی نہیں کاٹنی چاہیے اس طرح سبزی میں موجود وٹامن سی ضائع ہوجاتی ہے۔
7۔ سبزی کو بڑے ٹکڑوں کی بجائے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنا چاہیے۔
8۔ سبزی کو کاٹ کر زیادہ دیر تک نہیں رکھنا چاہیے۔
9۔ سبزی پکاتے وقت اس میں مطلوبہ مقدار کے مطابق ہی پانی ڈالاجائے۔ زائد پانی ہو تو اسے گرانا پڑتا ہے اور اس طرح کئی غذائی حرارے ضائع ہوجاتے ہیں۔
10۔ سبزیوں کو کھلے برتن میں پکانے کی بجائے ڈھکن والے برتن میں ڈھانپ کر پکانا چاہیے۔
11۔ سبزی پکاتے عقت چمچ کو باربار نہیں ہلاناچاہیے۔
12۔ جمی ہوئی سبزیوں کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر فوراٌ پکا لینا چاہیے۔
پھلوں کی غذائیت کو برقرار رکھنا
1۔ پھل ہمیشہ تازہ خریدنا چاہیے۔ باسی پھل صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔
2۔کبھی گلاسڑا پھل نہ خریدیں۔
3۔ پھل کو ہمیشہ دھو کر استعمال کرنا چاہیے۔ پھل کو دھونے سے اس پر لگی ہوئی مٹی اور جراثیم صاف ہوجاتے ہیں۔
4۔ جو پھل چھلکے سمیت کھانے والےہوں انہیں دچھلکے سمیت کھائیں اور جن پھلوں کا چھلکا اُتارنا ضروری ہو ان کا باریک چھلکا اُتاریں۔
5۔ اگر پھلوں کو ایک دو دن تک رکھنا پڑے تو کوشش کریں کہ یہ پھل فریج میں رکھے جائیں۔ اگرفریج نہ ہو تو پھلوں کوٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں۔
6۔ اگر منڈی سے پھل خریدنے ہوں اور انہیں زیادہ دنوں تک رکھنا ہو تو کوشش کریں کہ قدرے کچے پھل خریدے جائین تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود ہی پک جائیں۔
چاول اناج اور دالوں کی غذائیت کو برقرار رکھنا:
1۔ اناج میں مختلف قسم کی دالیں، چاول، باجرہ او ر مکئی شامل ہیں۔ اناج کو پکانے کا مقصد یہ ہے کہ اناج میں موجود پروٹین اور نشاستہ پک کر ہضم ہونے کے قابل ہو جائے اور صحیح طرح جزوبدن بن سکے۔
2۔ گند م میں معدنی نمکیات بہت زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں گندم کو آٹے کی شکل میں پیس کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح اس کا بیرونی چھلکا اُتر جاتا ہے۔ اس بیرونی چھلکے کو بھوسی کہا جاتا ہے۔ یہ بھوسی آٹا چھانتے وقت ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آٹا بغیر چھانے استعمال کریں۔
3۔ دالوں کو کھلے برتن میں پکانے کی بجائے اگر پریشر ککر میں پکایا جائے تو وقت بھی کم صرف ہوگااور دالوں کی غذائیت بھی برقرار رہے گی۔
4۔ دالوں کوپکانےسےپہلے بھگویا جاتا ہے کیوں کہ دالیں سخت ہوتی ہیں اور دیر سے گلتی ہیں۔
5۔ دالوں کو جس پانی میں بھگویا جائے اسی میں پکایا جائے کیوں کہ جس پانی میں دالوں کو بھگویا جاتا ہے اس پانی میں دالوں میں موجود کافی حرارے شامل ہوجاتے ہیں۔
6۔ چاولوں کو پکانے سے پہلے بھگونا ضروری ہے، اس لئے کوشش کریں کہ چاول اسی پانی میں پکائے جائیں جس پانی میں وہ بھگوئے گئے ہیں تاکہ ان کی غذائیت برقراررہے۔
7۔ بعض لوگ چاول اُبالتے وقت اس میں زائد پانی ڈال دیتے ہیں جو اُبالنے کے بعد گرادیتے ہیں،ایسا کرنا درست نہیں اس طرح چاولوں میں موجود نمکیات جو پانی میں آجاتے ہیں، ضائع ہو جاتے ہیں۔
8۔ اناج کو پکانے کےلئے مختلف عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اس لیے اناج کو صحیح طور پر پکاناچاہیے۔ اناج کا ہر دانہ صحیح طور پر گلا ہوا ہونا چاہیے۔
3۔مغربی طریقے سے کھانا کس طرح پیش کیا جاتا ہے؟
مغربی طریقے سے کھانا پیش کرنا:
1۔ مغربی طریقےمیں کھانا کھانے کے لئے میز اور کرسی استعمال کی جاتی ہے۔
2۔ مغربی طریقے میں کھانا کھانے کے لئے زیادہ تر چمچ اور کانٹے استعمال کیا جاتا ہے۔
3۔ ہر چیز کھانے کے لیے الگ الگ چمچ استعمال کیے جاتے ہیں۔
4۔ مغربی طریقے میں کھانا رسمی اور غیر رسمی دونوں طریقوں سے کھایا جاتا ہے۔
غیر رسمی انداز میں کھانا پیش کرنا:
اس طریقے سے کھانا میز پر چن دیا جاتا ہے ۔ سالن کے ڈونگے اور چاول کی ڈشیں ایک ایک مہمان کی طرف بڑھائی جاتی ہیں۔ مہمان اپنی مرضی کے مطابق کھانا اپنی پلیٹ میں نکلا ل لیتے ہیں۔ پانی کے گلاس مہمانوں کے دائیں جانب رکھے جاتے ہیں۔
اگر کھانے کے بعد کوئی میٹھی ڈش جیسے حلوہ، کسٹرڈ، جیلی یا آئس کریم وغیرہ رکھنی ہو تو اسے رکھنے سے پہلے جھوٹے برتن میز سے اٹھا لیے جاتے ہیں۔
رسمی اندا ز میں کھانا پیش کرنا:
1۔ رسمی انداز میں کھانا پیش کرنے کے لئے گھر کاکوئی ایک فردمیزبان کے فرائض انجام دیتا ہے۔ گھرکے دوسرے افراد کو کھاناکھلانا اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
2۔ کھانا میزبان خود شروع کرتا ہے تاکہ اگرکوئی مہمان کھان کھانے کے طریقے سے واقف نہ ہو تو وہ جان لے کہ میزبان کا کھانا کھانے کا طریقہ کار کیا ہے۔
3۔ ہر فرد کی کرسی کے سامنے ایک میٹ بچھایا جاتا ہے ، اس میٹ پر کٹلری اور کراکری رکھی جاتی ہے۔
4۔ رسمی انداز میں کھاناکھانے کے لئے چھری اور کانٹے کا استعمال بے دریغ ہوتا ہے۔
5۔ رسمی انداز میں کھانا کھانے کے لئے چھری اور چمچ دائیں ہاتھ میں جب کہ کانٹا ہمیشہ بائیں ہاتھ میں ہوتا ہے۔
6۔ چھری کی دھاروالا حصہ پلیٹ کی جانب رکھا جاتا ہے۔
7۔ بائیں ہاتھ پر نیپکن رکھے جاتے ہیں۔ اگر نیپکن گلاس میں رکھ دیا جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
8۔ جو کھاناسب سے پہلے پیش کرنا ہو اس کے برتن ہی میز پر رکھے جاتے ہیں جیسے جوس یا سوپ وغیرہ۔
9۔ گوشت او ر مچھلی سے بنی ہوئی ڈشز مین ڈشزکہلاتی ہیں اس لیے انہیں میز پر پہلے رکھنا چاہیے ۔
10۔ دال یا سبزی کی بنی ہوئی ڈش کا سائیڈ ڈش کہاجاتا ہے اس لیے اسے دوسرے نمبر پر رکھنا چاہیے۔
11۔ سبزی اور دال کی ڈشز کے ساتھ ہی چاول اور سلاد وغیرہ بھی رکھ دینے چاہئیں۔
12۔ کھانا بائیں جانب میں رکھنا شروع کریں تاکہ کھانے والا دائیں ہاتھ سے آسانی سے کھانا لے سکے۔
13۔ پانی اورجوس دائیں جانب سے پیش کریں۔
14۔ میز پر رکھی گئی تمام چیزوں میں سے تھوڑی تھوڑی چیزیں ضرور چکھنی چاہیئں۔ایسا نہ ہو کہ ایک ہی ڈش زیادہ مقدا ر میں کھا لی جائے اور کئی ڈشیں بغیر کھائے رہ جائیں۔ اس سے میزبان کا دل بُرا ہوتا ہے۔
4۔ کھانا پیش کرنے میں صفائی کی کیا اہمیت ہے؟
کھانا پیش کرنے میں صفائی کی اہمیت:
1۔ کھانے کے برتن ، دسترخوان اور جگہ کا صاف ہونانہایت ضروری ہے۔
2۔ ذاتی صفائی بھی کھانا پیش کرنے میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
3۔ کھانا پیش کرنے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھو لینے چاہییں۔
4۔ کھانا مشرقی انداز میں پیش کریں یا مغربی اندا ز میں، برتنوں کا صاف ستھراہونا ضروری ہے۔
5۔ کھاناپیش کرتے وقت نیپکن ضرورساتھ رکھیں۔
6۔ پانی کے گلاس صاف ستھرے اور خشک ہونے چاہییں۔
7۔ جگ میں پانی اتنازیادہ نہ ہو کہ ذرا ساہلنے پر چھلک جائے۔
8۔ ٹرے میں کوئی چیز گری ہوئی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بدذوقی کی علامت ہے۔
9۔ کھانے کا کمرہ صاف ستھرا اور ہوادار ہونا چاہیے۔
10۔ کھانا پیش کرتے وقت صفائی کو مدِ نظررکھنا میزبان کی خوش ذوقی کا آئینہ دار ہے۔
5۔ اشیائے خوردنی کو سٹور کرنے کے مختلف طریقے بیان کریں؟
گھر پر غذا کو محفوظ کرنے کے مختلف طریقے درج ذیل ہیں۔
کھانے پینے کی اشیا ء کو فریج میں محفوظ کرنا:
فریج میں کھانے پینے کی چیزوں کو محفوظ کرناعام طریقہ ہے۔ فریج کا درجہ حرارت 0 ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر 4- ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ موسم کے مطابق فریج کے درجہ حرارت کو بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ایک ریگولیٹر کی مدد سے کیاجاتا ہے۔ فریج بجلی سے چلتا ہے۔ اس میں کافی دیر تک درجہ حرارت برقراررہتا ہے۔ فریج میں گوشت ،انڈے ،پھل اور سبزیاں محفوظ کی جاتی ہیں۔ جب محفوظ کی ہوئی کوئی بھی چیز فریج میں سے نکالیں تو فوراٌ استعمال کرلیں۔ ایسی چیزوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھنا چاہیے کیوں کہ ان میں ٹھنڈک ہونے کی وجہ سے بیکٹیریا کی افزائش کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔ اور چیزیں جلدی خراب ہوجاتی ہیں۔
کھانے پینے کی اشیاء کو فریزر میں محفوظ کرنا:
اگر کھانے پینے کی اشیاء کو جمادیا جائے تو غذا کوخراب کرنے والے بیکٹیریا بے اثر ہوجاتے ہیں لیکن یہ مکمل طور پر ہلاک یاختم نہیں ہوتے ۔ تازہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پولی تھین کے لفافوں میں ڈال کر فریزر میں محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔ پولی تھین کے لفافوں کی وجہ سے ہوا کی آمد ورفت رک جاتی ہے اور گوشت یا دوسری اشیاء جلد خراب نہیں ہوتیں۔ ایک دفعہ جمی ہوئی خوراک کوپگھلانے کے بعد دوبارہ نہیں جماناچاہیے کیوں کہ اس طرح چیز خراب ہوجاتی ہے۔
پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرکے محفوظ کرنا:
خشک کر کے غذاکو محفوظ کرنا بہت پرانا طریقہ ہے۔ کسی چیز کو خشک کرکے اس میں پانی کی مقدار اتنی کم کردی جاتی ہے کہ اس میں جراثیم بڑھ نہ سکیں۔ سورج کی حرارت سے مختلف قسم کی سبزیاں اور پھل جیسے میتھی ،پودینہ ،شلغم، کریلے،مٹر،انگور،خوبانی،آلوبخارااور انجیز وغیرہ خشک کیے جاتے ہیں۔
سبزیوں اور پھلوں کا اچار، چٹنی اور مربہ بنا کر محفوظ کرنا:
مختلف قسم کی سبزیوں کو اچار کی شکل میں تبدیل کر کے ایک سال تک ذخیرہ کیاجاسکتا ہے۔ آم ،لہسوڑہ، لیموں، سبزمرچ، گاجر، لہسن اور شلغم کا اچار بنایاجاتا ہے۔ سیب ، گاجر، آم ،آلوبخاراو غیرہ کی چٹنی اور مربہ بناکر محفوظ کیا جاتا ہے۔
6۔ باروچی خانے میں حادثات اور ان سے بچاؤ کی تدابیر بیان کریں؟
باورچی خانے میں پیش آنے والے حادثات سے بچاؤ کے لئے تدابیر:
باورچی خانے میں عام طور پر حادثات لاپرواہی کی وجہ سے ہی پیش آتے ہیں چوں کہ باروچی خانے میں چولہا ہوتا ہے اس لیے باورچی خانے میں آگ لگنے کا امکان زیادہ ہوتاہے۔
اس کے علاوہ باروچی خانے میں چھری ،چاقو ، کانٹا وغیرہ لگنے سے ہاتھ زخمی ہوسکتے ہیں۔ باروچی خانے میں پیش آنے والے حادثات کی روک تھا م کے لئے درج ذیل اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
حادثے کا مرکز:
فرش پر پھسلنا
حادثے کی وجوہات:
ا۔ فرش کا گیلا ہونا۔
ب۔ فرش پر چکنائی جمی ہونا۔
ج ۔ جھاڑو یا زمین پر پھیرنے والا کپڑاپڑا ہونا۔
حادثے سے بچاؤ کے لئے تدابیر :
ا۔ گیلے فرش کو فوراٌ خشک کرلیں۔
ب۔ فرش کو کھانا پکانے سے پہلے اور بعد میں اچھی طرح صاف کریں۔
ج۔ صفائی کا سامان مخصوص جگہ پر رکھیں۔
حادثے کا مرکز:
ہلکے آلات سے زخمی ہونا
حادثے کی وجوہات:
ا۔ چاقو اور چھری کا مناسب استعمال نہ کرنا۔
ب۔ ٹوٹے ہوئے کنارے والے برتن استعمال کرنا۔
ج۔ چھری یا چاقو مناسب جگہ پر نہ رکھے ہونا۔
حادثے سے بچاؤ کے لئے تدابیر:
ا۔ چاقو ،چھری اور دوسرے تیز دھارآلات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
ب۔ ٹوٹے کنارے والے برتن فوراْ ضائع کردیں۔ انہیں استعمال نہ کریں۔
ج۔ چاقو، چھری اور دوسرے تیز دھا ر آلات مناسب جگہ پر رکھیں۔
حادثے کا مرکز:
بھاری برتن
حادثے کی وجوہات:
ا۔ بھاری برتنوں جیسے پریشر ککر اور پتیلے وغیرہ کا اونچی جگہ پر رکھنا۔
ب۔ دیگچی یا پتیلے کو چولہے کے کنارے پر رکھنا۔
ج۔ بلاوجہ چولہا جلائے رکھنا۔
د۔ اوون کا دروازہ کھلارہ جانا۔
حادثے سے بچاؤ کے لئے تدابیر:
ا۔ بھاری برتن ہمیشہ شیلف کے نچلے خانوں میں رکھے جائیں۔
ب۔ دیگچی کو ہمیشہ چولہے کے درمیان میں رکھیں تاکہ اس کے گرنے کا خطرہ نہ رہے۔
ج۔ جیسے ہی کھانا پک جائے چولہا فوراٌ بند کردیا جائے۔
د۔ اوون کا دروازہ کام ختم کرنے کے بعد بندکردیا جائے۔
حادثے کا مرکز:
لباس
حادثے کی وجوہات:
ا۔ کھلے کف کی قمیض پہننا، نائلون کے کپڑے پہن کر کھاناپکانا، ایپرن کا ڈھیلاہونا۔
ب۔ پھسلنے والے تلے کا جوتا استعمال کرنا۔
حادثے سے بچاؤ کے لئے تدابیر:
ا۔ مناسب لباس پہنا جائے۔ کھاناپکاتے وقت نائلون کے کپڑے نہ پہنے جائیں ۔ایپرن ڈھیلا نہ ہو۔
ب۔ ایسے جوتے استعمال کریں جن کا تلاپھسلنے والا نہ ہو۔
7۔ باورچی خانے میں غذا کی تیاری کے دوران کن حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہے؟
باورچی خانے میں کام کے دوران حفاظی اقدامات:
باورچی خانے کاگھر بھر کے افراد کی صحت سے بڑاگہراتعلق ہے۔ کھانا ہمیشہ باورچی خانے میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔ باورچی خانے میں کھاناتیار کرنے کے دوران میں درج ذیل حفاظی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
حفاظی اقدامات:
1۔ کھانا پکاتے وقت لباس کا خاص خیال رکھیں۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے ہرگز نہ پہنیں ان سے آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
2۔ کھاناپکاتے وقت ایپرن استعمال کریں۔
3۔ اگرآپ کے بال لمبے ہیں تو کھاناپکاتے وقت انہیں باندھ لیں اور ایپرن کے اندر کرلیں۔
4۔ نائلون کے کپڑے پہن کر کھانا نہ پکائیں کیوں کہ نائلون کے کپڑے جلدی آگ پکڑتے ہیں اور آگ پکڑنے کے بعد جسم سے چپک جاتے ہیں جس سے جسم جل کر زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
5۔ اگر خدانخواستہ کپڑوں کو آگ لگ جائے تو فوراٌ زمین پر لیٹ کر لوٹنا شروع کردیں۔ کوئی بھاری کپڑا لپیٹ لیں لیکن مدد کے لئے بھاگنا نہیں چاہیے۔ بھاگنے سے آگ زیادہ بھڑکتی ہے۔
6۔ زمین پر لیٹ کر لوٹنے سے آگ چہرے کی طرف نہیں بڑھتی ہے اور چہرہ خراب نہیں ہوتا۔
7۔ ماچس جلانے کے لئے دیا سلائی ڈبیا میں سے نکال کر ڈبیا فوراٌ بند کردینی چاہیے۔ڈبیا بند کرنے کے بعد دیاسلائی جلانی چاہیے۔
8۔ جب ماچس جلائیں تو دیا سلائی اور ماچس کی ڈبیا ممکنہ حدتک اپنے جسم سے دور رکھیں۔
9۔ کھاناپکاتے وقت ایندھن یعنی لکڑی،کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ احتیاط سے استعمال کریں۔
10۔ جلتی ہوئی دیاسلائی کبھی زمین پر نہ پھینکیں،یہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔
11۔ ماچس کی ڈبیا کو کسی اونچی جگہ پر رکھیں جہاں تک بچوں کی پہنچ نہ ہو۔
12۔ چولہا جلانے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ چولہا بند ہے، جو چولہا جلانا ہو صرف اسی کو کھولیں۔ اس بات کی تسلی کرلیں کہ ساتھ والا چولہا بند ہو۔
13۔ اگر چولہا گیس والا ہو اور جلانے کی ضرورت پیش آئے تو پہلے دیا سلائی جلائیں اس کے بعد گیس کھولیں۔اگر چولہا جلانے سے پہلے ہی دیاسلائی بجھ جائے تو چولہا بند کرکے پہلے دیاسلائی جلائیں اس کے بعد دوبارہ چولہا کھولیں۔
14۔ اگر کھانا کوئلوں والے چولہے پر پکانا ہو تو پہلے انگیٹھی یا چولہے میں کوئلے ڈال کر کسی کھلی جگہ پر جلالیں، جب وہ اچھی طرح دہک جائیں تب انہیں باورچی خانے میں لایاجائے۔
15۔ تیل والے چولہے میں تیل کی مقدار مناسب رکھیں۔ زیادہ تیل کے چھلک جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔
16۔ اگرکسی وجہ سے تیل والے چولہے میں آگ لگ جائے تو اسے پانی سے یا پھونک مار کر بجھانے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اس پر ریت یا بھاری کمبل ڈال کر آکسیجن روک لیں، اس طرح آگ بجھ جائے گی۔
17۔پکوڑےیاکوئی اور چیز کڑاہی میں تلتے ہوئے کڑاہی کا ڈھکن اپنے پاس رکھیں۔ اگرکبھی تیل یا گھی میں آگ لگ جائے تو فوراٌ چولہا بند کردیں اور کڑاہی پر ڈھکن دے دیں۔
18۔ مچھلی یا پکوڑے تلتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ گرم تیل یا گھی میں کنارے کی طرف سے مچھلی یا پکوڑے ڈالیں۔ درمیان میں ڈالنے سے چھینٹے اُڑتے ہیں جو نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
19۔ عام طور پر ساس پین یا فرائنگ پین چولہے پر رکھا ہو تو بچوں کو اس کے پاس نہ جانے دیاجائے۔
20۔ عام طور پر ساس پین یا فرائنگ پین کا دستہ لکڑی کا ہوتا ہے۔ اسے آگ سے بچاتا ہے۔
21۔ جو برتن باورچی خانے میں استعمال کیے جائیں ان کے دستے کسے ہوئے ہونے چاہیئیں۔ڈھیلے دستے حادثے کاسبب بن سکتے ہیں۔
22۔ اگر کھاناپریشر ککر میں پکانا ہو تو پریشر ککر کھولنے سے پہلے اس میں موجود تمام بھاپ نکال لینی چاہیے۔
23۔ اُبلتے ہوئے پانی کا برتن اُٹھاتے وقت خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
24۔ آ پ برتن کو دیکھ کر اندازہ کر لیں کہ یہ آپ سے اُٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
25۔ اگر برتن بھاری ہو تو کسی دوسرے برتن میں پہلے تھوڑاپانی نکال لیں اور جب آپ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ میں یہ برتن اُٹھا سکتی ہوں تب اس برتن کو اُٹھائیں۔
26۔ اُبلتے ہوئے پانی کے برتن پر ڈھکن ضرورہونا چاہیے۔
27۔اگر کھانے کے برتن بھاری ہوں ۔ا ور انہیں ایک جگہ سے دوسرے جگہ لے جانا ہو تو اس کام کےلئے دوسروں سے مدد لے لینی چاہیے۔
28۔ دیگچے کا سائز چولہے کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔ دیگچہ بہت بڑا نہیں ہوناچاہیے۔ جس کے گرنے کا خطرہ ہو۔
29۔ باورچی خانے میں موجود جراثیم کش ادویات کوکھانے پینے کی چیزوں سے دور رکھیں۔
30۔ چاقو، چھریاں ،کانٹے اور دوسرے تیزدھار آلات ،بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
31۔ فرش پر چکنائی نہ جمنے دیں، اس سے پھسلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
باب نمبر5۔ بچوں کی نگہداشت اور نشوونما کا تعارف
(Introduction to Child Care & Development)
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ انسانی زندگی میں جوحیاتیاتی ،معاشرتی اور نفسیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں انہیں کیا کہا جاتا ہے؟
(الف) نشو (ب) نمو (ج) نشوونما (د) اہلیت
2۔ بچوں کی صلاحیتوں اور مخصوص تقاضوں کو سمجھنے میں کیا چیز مددگار ثابت ہوتی ہے؟

3۔ پیدائش کے وقت نوزائیدہ کا سر جسم کے باقی حصوں کے مقابلے میں حجم میں کیسا ہوتا ہے؟
(الف) بڑا (ب) چھوٹا (ج) برابر (د) وزنی
4۔ بچے کی نشوونما کی رفتار و راثت، ماحول اور کس کے زیرِ اثر ہوتی ہے؟
(الف) ضروریات (ب) تجربات (ج) تقاضوں (د) خاندان
5۔ شیرخوارگی کے دور سے کیا مراد ہے ؟
(الف) پیدائش سے ایک (ب) پیدائش سے ڈیڑھ سال (ج) پیدائش سے اڑھائی سال (د) دو سے پانچ سال
6۔ انسانی نشوونما کے کتنے اُٗصول ہیں؟
(الف) دو (ب) چار (ج) چھ (د) سات
جوابات: (3-)(4-)(1-)(3-)(3-)(2-)
سوال نمبر 2۔ مختصر سوالات کے جوابات دیں۔
1۔ نشوونما کی تعریف کریں؟
پیدائش سے وفات تک انسانی جسم میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو نشوونما کہا جاتا ہے۔نشوونما اصل میں دولفظوں “نشو” اور “نمو” کا مرکب ہے جو ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی آتے ہیں انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
نشو:
نشو سے مراد ہے افعال میں تبدیلی یعنی انسانی جسم میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں جن سے کام کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
نمو:
نموسے مراد ہے جسمانی اور عضویاتی تبدیلیاں ،یہ تبدیلیاں عمر کے ہر دور میں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی پیمائش بھی کی جاسکتی ہے۔
2۔ نشوونما پر اثرانداز ہونے والے عوامل کی شناخت کریں؟
نشوونما پر اثر انداز ہونے والے عوامل:
انسا ن کی نشوونما آخری سانس تک ہوتی رہتی ہے۔ہر انسان کی نشوونما زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف ہوتی ہے۔ بچے بڑوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ انسانی نشوونما ایک پیچیدہ عمل ہے۔ انسانی نشوونما پر اثرانداز ہونے والے عوامل مختلف ہیں۔ ان عوامل کو تین طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔
ا۔ انفرادی عوامل ب۔ عضویاتی عوامل ج۔ معاشرتی عوامل
ا۔ انفرادی عوامل:
ہر شخص منفردخصوصیات رکھتا ہے۔ یہ خصوصیات اس میں ذہنی نشوونما اور ماحول کے اثر میں رہ کر پروان چڑھتی ہیں۔ انفرادی عوامل میں انسان کی ذہانت ،گفتگو کا انداز، اہلیت ، جذبات، رویے اور نظریات شامل ہیں۔
ب۔ عضویاتی عوامل:
انسان جو خصوصیات اپنے والدین سے حاصل کرتا ہے جیسے شکل، جسمانی ساخت رنگ و روپ ، دماغ اور اعصاب کی مضبوطی وغیرہ۔ انسانی نشوونما ورثے اور ماحول کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگرایک ذہین بچے کی صحیح طرح سے تعلیم و تربیت نہ کی جائے تو وہ ذہنی طورپر سست ہوجائے گا۔

ج۔ معاشرتی عوامل:
انسان جس معاشرے یا ماحول میں رہتا ہے اس کا بھی اثر قبول کرتا ہے۔ قدرتی ماحول اور قدرتی وسائل سے بہرہ مند ہونا، انسان کے رہن سہن میں دشواری یا آسانی پیداہونا یہ ایسے معاشرتی عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسانی نشوونما پراچھا یا بُرااثر پڑسکتا ہے۔
3۔ انسانی نشوونما پر وراثت کے اثرات بیان کریں؟
انسانی نشوونما پر وراثت کے اثرات:
ایسی خوبیاں یا خامیاں جو انسان میں پیدائشی طورپر اس کے والدین یا والد یا والدہ دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے اس میں منتقل ہوجائیں انہیں وراثت کہاجاتا ہے۔ انسان اپنے چہرے کی بناوٹ، بال کے رنگ ا ور قدوقامت میں بڑی حد تک اپنے والدین سے ملتا جلتا ہے۔
والدین سے صلاحیتوں کا حصول:
انسان اپنے والدین سے بہت سی ذہنی قابلیتیں اور صلاحیتیں بھی لے کر آتا ہے جیسے ذہانت ۔ غصہ یا جذباتیت وغیرہ اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے کی شکل و صورت میں بالکل اپنے باپ یا مان جیسے ہوتےہیں۔ بعض اوقات بچوں کی شکلیں اپنے کسی قریبی رشتہ داری سے بھی ملتی ہے۔
4۔ نشوونما پر ماحول کے اثرات کا جائزہ لیں؟
نشوونما پر ماحول کے اثرات:
ایسے طبعی اور جغرافیائی عوامل جو انسانی نشوونما میں مدد گار بنتے ہیں یا پھر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالتے ہیں انہیں ماحول کہا جاتا ہے۔ موسم، آب و ہوا خطہ زمین اور آلودگی سے پاک فضا کو جغرافیائی ماحول کا نام دیا جاتا ہے۔چوبچے صاف ستھرے ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان کی شخصیت میں ایک عجب طرح کا نکھار آجاتا ہے۔ ہماراخاندان ،دوست احباب، ہماری درس گاہیں اور ہمارے ہم پیشہ افراد ہمارا معاشرتی ماحول ہیں۔ ہمارا ماحول انسانی نشوونما کے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔
ا۔ جسمانی نشوونما
ب۔ عضلاتی نشوونما
ج۔ ذہنی نشوونما
د۔ معاشرتی نشوونما
ہ۔ جذباتی نشوونما
1۔ جسمانی نشوونما:
جسمانی صحت میں اضافے کے لیے ماحول بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارے جسم میں مرحلہ وار ہونے والی تبدیلیاں ہمارے ماحول کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ ہماری آب و ہوا ،حفظانِ صحت کے اُصول اور ہماری رہائشی سہولتیں ہماری جسمانی نشوونما پر خاص اثر ڈالتی ہیں۔
2۔ عضلاتی نشوونما:
عضلات کی اچھی یا بری نشوونماعضلاتی نشوونما کہلاتی ہے۔ عضلات کی نشوونما اگر درست طریقے سے ہوتو انسان کا جسم متوازن حالت میں رہتا ہے بصورت دیگر اس میں کئی قسم کے بگاڑ پیدا ہوجاتے ہیں۔
3۔ ذہنی نشوونما:
اگر ایک شخص کا ماحول اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوگاتو اس کی ذہانت میں اضافہ ہوگا۔ایچ ایچ گارڈنز کے مطابق موجودہ حالات کے تجربات کو فوراٌ سمجھنے کے لئے اور ان کے حل کے لئے مناسب اقدام کرنے کا نام ذہانت ہے۔
4۔ معاشرتی نشوونما:
معاشرے میں رہنے والے دوسرے لوگوں سے اچھے تعلقات ہماری معاشرتی نشوونما میں اضافہ کرتےہیں۔ دوستوں ،عزیزوں ،اساتذہ کرام اور والدین سے خوشگوا ر تعلقات معاشرتی نشوونما کو بہتر بناتے ہیں۔
5۔ جذباتی نشوونما:
ماحول انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔ بچوں میں سوجھ بوجھ پیدا کرتا ہے۔ بچوں کواس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی واقعے کو دیکھ کر اس کے بارے میں درست فیصلہ کرسکیں۔
5۔ انسانی صحت پر مناسب نشوونما کے اثرات لکھیں؟
انسانی صحت پر مناسب نشوونما کے اثرات:
بچوں کی شخصیت کی مناسب فلاح و بہبود کے لئے ان کی بہترین نشوونما نہایت ضروری ہے۔ بچوں کو پورے طور پر معاشرتی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے تاکہ وہ اپنی مخفی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے ملک کے سود مند شہری ثابت ہوں۔
ہیوگ برٹ کے مطابق”عمر کے مختلف ادوار میں کیے جانے والے کاموں کی کامیابی یا ناکامی بچے کی شخصیت کی تعمیر میں بڑااہم کردار اداکرتی ہے۔” نیچے دیے گئے نکات کی مدد سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچے کی مناسب نشوونما سے بچے کی شخصیت پر کیا اثرپڑتا ہے۔
انسانی صحت پر نشوونما کے اثرات:
1۔ عام طورپر بچے خوش مزاج اور طاقت ور ہوتے ہیں لیکن اگر ان کی غذا متوازن نہ ہو تو ان کی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے اور وہ کمزور ہوجاتے ہیں۔
2۔ مناسب غذا نہ ملنے سے بچہ چڑچڑاہٹ کا شکار ہوجا تا ہے اور اس کے جسمانی اعضاء بھی ٹھیک طریقے سے نشوونما نہیں پاتے۔
3۔ بچوں کی توانائی کا استعمال ہمیشہ مثبت ہوتا ہے۔ بچے خود کوکبھی برا بھلا نہیں کہتے۔
4۔ بچوں کی جانب سے کبھی مایوسی اور بے زاری کا اظہار نہیں ہوتا کیوں کہ بچے پر جوش ہوتے ہیں۔ ان میں آگے بڑھنے اور کام پوراکرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھراہوتا ہے۔
5۔ بچوں میں ذمہ داری سنبھالنے کی اہلیت ہوتی ہے ، ان کو کسی بھی قسم کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری سے اچھی طرح عہدہ برآہوتے ہیں۔
6۔ جب دوسرے لوگ بچوں سے محبت آمیز سلوک کرتے ہیں تو جواب میں بچے بھی دوسرے لوگوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔
7۔ بچے اپنے کام کی تکمیل کی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ہرکام کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہیں اور بڑی ذمہ داری سے اسے پوراکرتے ہیں۔
8۔ بچے اپنی ناکامیوں سے دل برداشتہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں کامیابیوں کے لئے ایک زینہ تصورکرتے ہیں۔
6۔ نشو اور نمو میں فرق بتائیں؟
نشو اور نمو میں فرق:
نشو:
نشوسے مراد ظاہری یا مقداری تبدیلیاں ہیں جو جسمانی اعضاء میں مختلف امور کو مربوط کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ نشو سے مراد ایسی تبدیلیاں ہیں جو عمل کے بغیر محسوس یا ظاہر نہ کی جاسکیں۔نشو میں نئے امور اور ہنر سیکھے جاتے ہیں۔ انسانی زندگی کے افعال کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ نشو کی تبدیلیاں مرنے تک جاری رہتی ہیں۔نشو میں دماغی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت و توانائی اور ہاتھوں اور انگلیوں کی چھپی ہوئی مہارت کی تبدیلیاں زیرِ بحث لائی جاتی ہیں۔
نمو:
نمو سے مراد عصبی نظام، ہڈیوں اور بافتوں کی تبدیلی ہے۔ نمو سے مراد ایسی تبدیلیاں ہیں جن کو آنکھ سے دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔نمو میں جسامت اور حجم میں اضافے کا عمل ہوتا ہے۔ نمو میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیمائش ممکن ہے۔ نموبچے کی مثبت تبدیلیوں سے متعلق ہے جو تکمیل تک مشاہدے میں آتی ہیں۔ نمو میں جسم کی ساخت، گوشت پوست، خون میں اضافے اور دانتوں وغیرہ سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔
سوال نمبر 3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات دیں۔
1۔ انسانی نشوونما کے مطالعہ کی اہمیت بیان کریں؟
انسانی نشوونما کے مطالعے کی اہمیت:
یہ ایک ایسا سائنسی علم ہے جو کسی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ہونے والی نشوونما کے بارے میں معلومات مہیا کرتا ہے۔
1۔ انسانی نشوونما کے مطالعے سے بچوں کی نشوونماکے مختلف ادوار کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔
2۔ انسانی نشوونما کی مطالعے سے بچوں کے مختلف مشاغل کا آپس میں تعلق بیان کیا جاسکتا ہے۔
3۔ درمیانے بچے کی نشوونما کے مختلف مراحل کی علامات کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
4۔ انسانی نشوونما کے مطالعے سے بچوں کے بارے میں قبل از وقت اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچہ دوسرے بچوں سے پیچھے ہے یا زیادہ ذہین ہے، اس طرح اس بچے کی بہتر نشوونما کی جاسکتی ہے اور اس میں موجودکمی کودور کیا جا سکتا ہے۔
5۔ اگربچےاپنی عمر کے نارمل بچوں سے پیچھے رہ جائیں تو اس کا علم ہونے کی وجہ سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
6۔ نشوونما کے بہت سے مراحل ہیں، اس طرح مختلف مراحل پر ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کا مناسب تدارک بھی کیا جا سکتا ہے۔
7۔ نوزائیدہ بچہ کچھ بھی نہیں سمجھتا لیکن جیسے جیسے وہ بڑاہوتا ہے اس میں جسمانی و ذہنی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اگر والدین کو ان تبدیلیوں سے بروقت آگاہی حاصل ہوجائے تو وہ بچے کی صحیح طور پر پرورش کرسکتے ہیں۔
8۔ انسانی نشوونما کے مطالعہ سے بچے کے مستقبل کے بارے میں پہلے اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ اور اس کے ذہنی رحجان کو دیکھتے ہوئے اس کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔
9۔ بچے کی عمر کے مطابق اس کی ضرورت کو سمجھا جاسکتا ہے اور بروقت اس کی ضرورت پوری کرکے اس کو احساسِ کمتری سے بچایا جاسکتا ہے۔
10۔ بچوں کی نشوونما کا سائنسی مطالعہ کرنے سے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اُبھارا جا سکتا ہے۔ اور بچے کومعاشرے کا ایک قابلِ قدرشہری بنایا جاسکتا ہے۔
نشوونما کے سلسلے میں مندرجہ ذیل چار امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
1۔ جسم کے مختلف حصوں کی نشوونما کی رفتار:
چھوٹے بچوں کے جسمانی اعضابڑوں کی نسبت زیادہ جلدی سے بڑھتے ہیں۔ولادت سے پہلے بچے کا سر سب سے زیادہ نشوونما پاتا ہے جب کہ نوزائید بچے کا سر جسم کے دوسرے اعضاء کے حساب سے ہی بڑھتا ہے۔
2۔ ہرعضو کی نشوونما کی علامتی اور تکمیلی حد:
جسم کا ہر عضو نشوونما پاتا ہے۔ ہرعضوکی نشوونما کی ایک حد ہوتی ہے۔ جسم کے مختلف حصے مختلف ادوار میں پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ انسانی قد25،26 سال کی عمر تک بڑھتا ہے۔ اس کے بعد اس کی نشوونما رک جاتی ہے۔ اسی طرح دماغ اور ذہن کی نشوونما قریب قریب 18 سال کی عمر تک مکمل ہوجاتی ہے۔
3۔ نشوونما کی تبدیلیوں میں بیک وقت چند رونما اور چندروپذیر ہوتی ہیں:
نشوونما کے دوران میں بچے میں بیک وقت دو قسم کی تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں جیسے پیدائشی بالوں کا خودبخود غائب ہوکر نئے بال نکلنا، دودھ کے دانت نکلنا او ر اس کے بعد مستقل مضبوط دانت نکلنا۔عمر کے ہر حصے میں کسی نہ کسی تبدیلی کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے ۔ جب کہ کچھ اپنی تکمیل تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔
4۔ ہر بچے کی نشوونما کی رفتار الگ ہوتی ہے:
کچھ بچے اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں، کچھ بچوں کے بڑھنے کی رفتاراوسط ہوتی ہے اور کچھ کی بہت کم۔
2۔ انسانی نشوونما کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں؟
انسانی نشوونما ایک ایسا عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے۔ انسانی نشوونما کے دوران میں اعضاء اپنی بڑھوتی کے حساب سے پختگی کی عمر تک پہنچتے ہیں۔ نشوونما کے دو پہلو نہایت اہم ہیں:
1۔ نشوونما کی سمت سر سے پاؤں کی جانب:
انسانی نشوونما کی سمت سر سے پاؤں کی جانب ہوتی ہے۔ پہلے دماغ اور عصبی نظام کی نشوونما ہوتی ہے۔ اس کے بد نچلادھڑنشوونما پاتا ہے۔ پیدائیش کے بعد بچہ سب سے پہلے جس چیز کو کنٹرول کرتا ہے وہ اس کا سر ہے۔ اس کےبعد آنکھوں او ر منھ کا نمبر آتا ہے۔ وہ ان کے حرکات و سکنات پر عبور حاصل کرتا ہے۔
2۔ نشوونما کی سمت درمیان سے باہر کی جانب:
اس اُصول کے مطابق جسمانی نشوونما کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔ اس طریقے میں بچہ سب سے پہلے اپنے دھڑ پر قابوپاتا ہے، اپنے پاؤں کوہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنی انگلیوں اور ہاتھوں پر کنٹرول کرنے میں مہارت حاصل کرتا ہے۔
نشوونما کے مختلف ادوار کے اہلیتی کام:
نشوونما ایک ایسا تربیتی عمل ہے جو مختلف تبدیلیوں سے گزرتا ہوا اپنا سفرکرتا ہے۔ انسان زندگی میں مختلف مراحل طے کرتا ہے۔ اس میں شیر خوارگی، ابتدائی بچپن، درمیانی بچپن، نوبولوغت کادور اور نوجوانی کادور شامل ہے۔کسی بھی مرحلے پر اگربچوں کی نشوونما میں کسی قسم کی کمی رہ جائے گی تو وہ باقی لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ خاندان اور معاشرہ پر فرد کے ساتھ کچھ توقعات وابستہ کرلیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان توقعات میں بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ کسی بھی فرد کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے۔
شیر خوراگی(پیدائش سے اڑھائی سال تک):
1۔ بچے کا سونے اور جاگنے کے وقت میں توازن ہونا اور جسمانی توازن کا حاصل کرنا۔
2۔ اپنی عمر کے مطابق دودھ پینا اور ہلکی ٹھو س غذاکھانا۔ اس کے علاوہ نئے ذائقوں سے مانوس ہونا۔
3۔ بول و براز کی تربیت لینا ان کے اوقات کے بارے میں جاننا۔
4۔ بچوں کا زمین پر رینگنا، چلنا اور دوڑنے کی تربیت حاصل کرنا یعنی جسمانی تنظیم کوبروئے کار لانا۔
5۔ بچوں میں یہ شعور پیداکرنا کہ کون سی چیزدرست ہے اور کون سی غلط۔ اس کے علاوہ بچوں کو بڑوں کاحکم ماننے کی تربیت دینا۔
6۔ بڑوں سے محبت اورپیار حاصل کرنا اور دوسروں پر اعتماد کرنا۔
7۔ بات چیت میں سلیقہ حاصل کرنا۔
8۔ اپنی ذات کو پہچان کرنا۔
9۔ دوسروں سے رابطہ کرنا اور اپنے آپ پر اعتماد کرنا سیکھنا۔
ابتدائی بچپن (قبل از سکول):
1۔ اس بات کا خیال رکھنا کہ آرام کا وقت کون سا ہے اور کس وقت کھیلنا ہے۔ دوسرے کھیلوں میں خوشی سے شامل ہونا۔
2۔ کھاناکھانے کے آداب سےواقفیت حاصل کرنا اور نئے نئے ذائقوں سے آشنا ہونا۔
3۔ اس بات کی تربیت لینا کہ لباس کیسے تبدیل کرتے ہیں۔ بول وبراز کے وقت اور جگہ کو سمجھنا۔
4۔ مختلف قسم کی مہارتیں حاصل کرنا جیسے دوڑنا، کودنا، اُچھلنا، گیند پھینکنااو رپکڑنا وغیرہ۔
5۔ اپنے آپ پر بھروسا کرتے ہوئے چھوٹے موٹے فیصلے خود کرنا۔
6۔ مختلف مواقع پر جذبات کا اظہار کرنا سیکھنا۔ خوشی اور غم کے مواقع پر اظہار کرنا۔
7۔ بات چیت کے آداب سیکھنااور اپنے تجسس کی تسکین کرنا۔
8۔ اپنی ذات کی پہچان کرنا، اپنے ماحول کو سمجھنا ، اپنی جنس کی پہچان کرنا۔
9۔ دوسروں کی ہدایات کو سننا، اپنے آپ میں خوداعتمادی پیدا کرنااور والدین کے علاوہ خاندان کے دوسرے لوگوں سے بھی رابطہ کرنا۔
درمیانی بچپن(چھے سے بارہ سال تک)
1۔ جسمانی مہارتیں حاصل کرنا، سائیکل چلانا سیکھنا اور گیندسے کھیلنا، ماحول کے مطابق درختوں پر چڑھنا سیکھنا۔
2۔ کھانا کھانے کے آداب سیکھنا، روپے پیسے کو خرچ کرنے میں اپنی ضرورت کا خیال رکھنا۔
3۔ جنس کے لحاظ سے اپنے کردار کو سمجھنا۔ لڑکے اور لڑکی کو اپنا کردار سمجھنا۔
4۔ لکھنے پڑھنے میں مہارت حاصل کرنا اور تعلیم کی اہمیت کو جاننا۔
5۔ گھریلو ذمہ داری نبھانا اور جائز طریقے سے اپنی ضرورت پوری کرنا۔
6۔ خواہشات کو قابو میں رکھنااور موقع کے مطابق خوشی یا پریشانی کا اظہار کرنا۔
7۔ ہم عمر دوستوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا۔ نئے دوست بنانا اور دوستی نبھانا سیکھنا۔
8۔ اپنے آپ میں پسندیدہ عادات پیداکرنا۔
9۔ گھر کے افراد او ر سکو ل کے ہم عمر بچوں سے محبت کا جذبہ رکھنا۔
نوبلوغت کا دو ر (13 سے 19 سال ):
1۔ سن ِ بلوغت میں ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کو سمجھنا۔اپنے قدوقامت کے افعال اور اہلیت کو جاننا۔
2۔ اپنی حیثیت کے مطابق ضروریات کو خاص حدمیں رکھنا اور روپے پیسے کی اہمیت کو سمجھنا۔
3۔ جنس کے لحاظ سے لڑکا یا لڑکی ہونے کو قبول کرنا اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا۔
4۔ مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا،اساتذہ کرام اور والدین سے مشورے کرنا۔
5۔ زندگی کے مسائل کو سمجھنااور اپنے آپ پر انحصار کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا مقام بنانا۔
6۔ غصے پر قابو پانا والدین ،اساتذہ اور بزرگون کی عزت کرنا۔
7۔ رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا۔ ہمسایوں سے اچھے تعلقات رکھنا۔
8۔ اچھے اور برے کی تمیز کرنا۔ اچھی عادتیں اپنانااور بری باتون سے اجتناب کرنا۔
9۔ اپنے آپ سے شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریاں نبھانے کی اہلیت پیدا کرنا۔ لڑکیوں کا گھر کے کاموں میں مہارت حاصل کرنا۔
نوجوانی کادور(20 سے 40 سال):
1۔ تخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانا اور محنت کرنے کی طرف راغب کرنا۔
2۔ جائز طریقے سے روزی کمانے کے ذرائع اپنانا۔
3۔ اپنے خاندان اور بچوں کی جائز ضروریات کو پورا کرنا۔
4۔ حیثیت کے مطابق اپنی آمدن میں اضافہ کرنا اور اپنے علم میں اضافے کے لئے کوشان رہنا۔
5۔ اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کاج میں بھی دلچسپی لینا۔
6۔ بیوی/شوہر اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا۔
7۔ اپنے لیے اچھی بیوی/شوہر کا انتخاب کرنااور گھر کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا۔
8۔ اچھی عادات کو اپنانا اور بری عادات سے کنارہ کشی اختیار کرنا۔
9۔ کام کاج میں ماہر ہونا اور رشتے داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا۔
3۔ انسانی نشوونما کے اُصول بیان کریں؟
انسانی نشوونما کے اُصول:
نشوونما ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ چند مقررکردہ اُصولون کے تحت کام کرتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں۔
ا۔ نشوونما کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں۔
ب۔ نشوونماایک ترتیب وار سلسلہ ہے۔
ج۔ نشوونما کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔
د۔ نشوونما کا ہر دور حساس اور نازک ہوتا ہے۔
1۔ نشوونما کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں:
جسم کے ہر حصے کے بڑھنے کی اپنی ایک الگ رفتار ہوتی ہے۔ کوئی حصہ زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے اور کوئی آہستگی سے یہ نشوونما ہمیشہ آسان سے مشکل کی جانب بڑھتی ہے ۔ جسمانی نشوونما میں بچہ پہلے اپنے بازو کو حرکت دیتا ہے۔ اس کے بعد اپنے انگوٹھے کو اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ ملاکر چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
2۔ نشوونما ایک ترتیب وار سلسلہ ہے:
پیاجے کا نظریہ ہے کہ “انسان کبھی یکساں حالت میں نہیں رہتا، وہ جنبین سے اپنی موت تک مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتا رہتا ہے”۔ کوئی بھی تبدیلی اچانک وقع پذیر نہیں ہوتی بلکہ یہ آہستہ آہستہ اور لگاتار ہوتی رہتی ہے۔
3۔ نشوونما کی رفتار مختلف ہوتی ہے:
بچوں کی نشوونما کی رفتار ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بچے جلدی بڑ ے ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ دیر سے بڑے ہوتے ہیں۔ ہرشخص مختلف خصوصیات اور ماحول کا حامل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نشوونما کی رفتار بھی یکساں نہیں ہوتی۔
4۔ نشوونما کا ہردور حساس اور نازک ہوتا ہے:
مشہور نفسیات دان فرائیڈنے ثابت کیا کہ کسی بچے کے بچپن کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وہ بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا۔ بچے کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے میں دو سے پانچ سال کی عمر بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹی عمر میں بچوں میں جو عادتیں پیدا ہوتی ہیں، بالغ ہونے کے بعد وہ پختہ ہوجاتی ہیں۔
(Developmental Characteristics) باب نمبر 6۔نشوونمائی خصوصیات
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ نشوونما کے کتنے پہلو ہیں؟
(الف) دو (ب) تین (ج) پانچ (د) چھے
2۔ شیرخوارگی اور طفولیت کے دور کی عمر کیا ہوتی ہے؟

3۔ نوزائیدہ بچے کے قد کی اوسط لمبائی کتنی ہوتی ہے؟
(الف) 30 سینٹی میٹر (ب) 40 سینٹی میٹر (ج) 50 سینٹی میٹر (د) 70 سینٹی میٹر
4۔ ایک اندازے کے مطابق دو سال کا بچہ کتنے الفاظ سمجھ سکتا ہے؟
(الف) 30 سے 50 الفاظ (ب) 50 سے 100 الفاظ (ج) 100 سے 150 الفاظ (د) 200 سے 300 الفاظ
5۔ ابتدائی بچپن کے دور کی عمر کیا ہوتی ہے ؟
(الف) تین سے پانچ سال (ب) چھے سے آٹھ سال (ج) نو سے دس سال (د) دس سے بارہ سال
6۔ ابتدائی بچپن کے دور کو کیا کہا جاتا ہے؟
(الف) کھانے پینے کا دور (ب) خود مرکزیت کا دور (ج) جذباتی دور (د) پختگی کا دور
7۔ درمیانی بچپن کس عمر کا ہوتا ہے؟
(الف) تین سے پانچ سال (ب) چار سے آٹھ سال (ج) سات سے گیارہ سال (د) چھ سے بارہ سال
8۔ درمیانی بچپن میں نو سے بارہ سال کی عمر کے بچے کیسے ہوتے ہیں؟
(الف) سُست (ب) چست و توانا (ج) کمزور (د) موٹے تازے
9۔ نوبلوغت کی عمر کیا ہوتی ہے؟
(الف) چھ سے بارہ سال (ب) تیرہ سےا ٹھارہ سال (ج) اٹھارہ سے بیس (د) بیس سے بائیس سال
10۔ نوبلوغ کا حلقہ احباب کیساہوتا ہے؟
(الف) وسیع (ب) تنگ (ج) غیر معمولی (د) بہت چھوٹا
جوابات: (3-)(1-)(3-)(4-)(1-)(2-)(4-)(2-)(2-)(1-)
سوال 2۔ مختصر سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ جسمانی نشوونما سے کیا مراد ہے؟
بچے کی جسمانی نشوونما ڈھانچے کی اندرونی اور بیرونی جسمانی نشوونما کہلاتی ہے۔ اس سے مراد بچے کا دبلاپتلا یا جسم کے بے ڈول ہونا شامل ہے۔
2۔ ذہنی نشوونما کی تعریف کریں؟
بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور عقل و شعور کی نشوونما ذہنی نشوونما کہلاتی ہے۔ ذہنی نشوونما بچے کی شخصیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔
3۔ معاشرتی نشوونماسے کیا مراد ہے؟
بچوں کا اپنے دوستوں سے میل ملاپ، اساتذہ سے تعلق، ہم جماعتوں سے سلوک وغیرہ معاشرتی نشوونما کے زمرے میں آتا ہے۔
4۔ بچوں کی نشوونما کے مدارج کون کون سے ہیں ؟ نام لکھیں۔
بچوں کی نشوونما کے مدارج درج ذیل ہیں۔
قبل از وقت ولادت ، شیرخوارگی اور طفولیت، ابتدائی بچپن، درمیانی بچپن، نوبلوغت کا دور، جوانی، ادھیڑ عمر،بڑھاپا۔
5۔ پیدائش کے وقت نومولود کا نارمل وزن کتنا ہوتا ہے؟
پیدائش کے وقت نومولود کا نارمل وزن ساڑھے تین کلو گرام ہوتا ہے۔
6۔ شیر خوارگی کے دور کی تعریف کریں؟
شیر خوارگی اور طفولیت کادور تین سال تک ہوتا ہے جب کہ شیرخوارگی کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو سال کا ہوتا ہے۔ اس دوران میں بچہ باتیں کرناشروع کرتا ہےاور ٹوٹے پھوٹے الفاظ زبان سے ادا کرتا ہے۔ شیرخوارگی کے بعد ڈیڑھ سال تک طفولیت کا دور ہوتا ہے۔
7۔ ابتدائی بچپن کے دور کی ذہنی نشوونما بیان کریں؟
اس دور میں بچے کی زیادہ ذہنی نشوونما ہوتی ہے۔ وہ مکمل جملے بولنا سیکھ جاتا ہے۔ وہ اپنی مافی الضمیر بیان کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ یہ عمر کا وہ دور ہوتا ہے جس میں بچےخیالی دنیا میں رہتے ہیں ۔وہ مختلف انہونی باتوں کے بارے میں سوچتے ہیں ۔اپنے آپ کو کہانیوں کا ہیرو تصور کرتے ہیں اور ان جیسے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس دور میں بچے میں تجسس بہت زیادہ ہوتا ہے۔
8۔ درمیانی بچپن کی جسمانی نشوونما پر روشنی ڈالیں؟
ابتدائی بچپن کی نسبت درمیانی بچپن میں بچوں کے قد اور جسامت میں اضافہ ہونے کی رفتار سست ہوتی ہے۔لڑکوں اور لڑکیوں کی نشوونماایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس عمرمیں لڑکیاں قدمیں لڑکوں کی نسبت زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اس دور میں لڑکیوں کی آوا زنرم اور لچکیلی جب کہ لڑکوں کی آواز میں بھاری پن پیدا ہو جاتا ہے۔
9۔ نوبلوغ کے دور کی تعریف کریں؟
نوبلوغت کا دورتیرہ سال کی عمر سےشروع ہوتا ہے اور اٹھارہ سال کی عمر تک رہتا ہے۔ اس دورمیں جسمانی پختگی کے ساتھ ساتھ جنسی پختگی بھی آجاتی ہیں۔ ایسی تبدیلیاں بھی آتی ہیں جن کی مدد سے لڑکوں اور لڑکیوں میں واضح تمیز کی جاسکتی ہے
10۔ نوبلوغت کے دور کی معاشرتی نشوونما کی اہمیت بیان کریں؟
بچہ اس دور میں مذہب کی طرف راغب ہوتا ہے۔ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے والدین اور اساتذہ کا ادب کرتا ہے۔ وہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور ایسے کام کرکے خوشی محسوس کرتا ہے۔ نوبلوغت میں بچہ جلد غصے میں آجاتا ہے۔ لیکن یہ غصہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا بلکہ فوراٌ ہی ختم بھی ہو جاتا ہے۔ غصے کی وجوہات میں عام طور پر دوستوں کا رویہ یا جیب خرچ کے مسائل ہوتے ہیں لیکن وہ سوچتا ہے کہ میں جلد ہی ان کوحل کرلوں گا۔ وہ کسی بات پر زیادہ دیر کے لئے پریشان نہیں ہوتا۔
سوال 3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ انسانی نشوونما کے مختلف پہلوبیان کریں؟
انسانی نشوونما کے مختلف پہلو:
انسانی نشوونما کے مختلف پہلو درج ذیل ہیں۔
1۔ جسمانی پہلو
2۔ عضلاتی نشوونما
3۔ ذہنی نشوونما
4۔ معاشرتی نشوونما
5۔ جذباتی نشوونما
1۔ جسمانی پہلو:
بچے کے جسمانی ڈھانچے کی اندرونی اور بیرونی نشوونما جسمانی نشوونما کہلاتی ہے۔اس سے مراد بچے کا دبلا پتلا یا جسم کے بے ڈول ہونا شامل ہے۔
2۔ عضلاتی نشوونما:
اس سے مراد بچے کے عضلات کی نشوونما جس کاتعلق رگوں اور پٹھوں سے ہوتاہے۔ اس نشوونما کا تعلق جسمانی پٹھوں کی مضبوطی یا کمزوری پر ہوتا ہے۔
3۔ ذہنی نشوونما:
بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور عقل و شعور کی نشوونما ذہنی نشوونما کہلاتی ہے۔ ذہنی نشوونما بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
4۔ معاشرتی نشوونما:
بچوں کا اپنے دوستوں سے میل ملاپ ،اساتذہ سے تعلق، ہم جماعتوں سے سلو ک وغیرہ معاشرتی نشوونما کےزمرے میں آتا ہے۔
5۔ جذباتی نشوونما:
اس کا تعلق ہر قسم کے جذبات اور احساسات سے ہے۔ انسان میں پیار، محبت،غصے، نفرت،حسد، رشک اور دشمنی وغیرہ کے جذبات ہوتے ہیں۔ ان جذبات کا کھلم کھلا اظہار کرنا تاکہ ان کی نشوونما پر قابوپایا جا سکے اور مستقبل میں ان جذبات کی وجہ سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
2۔ نوزائیدگی کا دور کن عوامل پر مبنی ہوتا ہے؟
نوزائیدگی کا دور:
پیدائش سے لے کر ایک ماہ تک نوزائیدگی کا دوررہتا ہے۔ اس دوران میں بچہ اپنے آپ کو اپنے ماحول کے مطابق بنا لیتا ہے۔
نوزائیدگی کے دور کی نشوونما:
اس دور کی نشوونما کے عوامل درج ذیل ہیں۔
پیدائش کے وقت بچے کی جسمانی نشوونما:
1۔ جسامت:
اس عمر میں پٹھے کمزور اور چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہڈیاں لچک دار ہوتی ہیں جو آسانی سے مڑ سکتی ہیں۔ بال چمک دار اور ملائم ہوتے ہیں۔ آنکھوں کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
2۔ وزن:
عام طور پر پیدائش کے وقت بچے کا وزن ساڑھے تین کلوگرام تک ہوتا ہے۔ ابتدائی دنوںمیں بچے کا وزن زیادہ نہیں بڑھتا لیکن دوسرے ہفتے سے وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکوں کا وزن لڑکیوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔
3۔ قد/لمبائی:
بچے کی پیدائش کے وقت اس کی لمبائی پچاس میٹر یعنی بیس انچ ہوتی ہے۔ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کا قد زیادہ لمبا ہوتا ہے۔
جسمانی حرکات اور سرگرمیاں:
پیدائش کے وقت بچے کو سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت بچہ صرف روتا ہی نہیں بلکہ مختلف قسم کی حرکات کرنے کے قابل بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے بازو، سراور پاؤں کوہلاتا ہے۔ ہچکی لیتا اور چھینکتا ہے۔ بچے کی یہ حرکات خودکار ہوتی ہیں۔ اس میں بچے کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔
4۔ چوسنے اور نگلنے کا طرزِ عمل:
جب نوزائیدہ بچے کے منھ میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ اس کو چوستا ہے اور نگلنے کی کوشش کرتا ہے۔
5۔ بنیادی جبلت:
اگر بچے کے جسم کے کسی حصے خاص طورپر چہرے کو چھواجائے تو وہ سرکو گھماکر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایساوہ اپنی جبلت کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے اس فعل میں ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔
6۔ پکڑنے کا ردِ عمل:
جب نوزائیدہ بچے کے ہاتھ میں کوئی چیز پکڑائی جاتی ہے تو وہ اس کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔
7۔ چلنے کی غیرشعوری کوشش:
بچہ جب کھڑا ہونا شروع کرتا ہے تو ساتھ ہی وہ چلنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ زمین پر کبھی ایک پاؤں رکھتا ہے اور کبھی دوسرا ،اس طرح وہ چلنے کی کوشش کرتا ہے۔
گرنے کا اضطراری ردِعمل:
جب بچے کے قریب کوئی اونچی آواز میں بولے یا تیز روشنی ہو تو بچہ ڈر جاتا ہے۔ اُسے غیر شعوری طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ گرجائے گا۔ اس طرح وہ اپنے بازو باہر کی جانب پھیلاتا ہےاور اپنے آپ کو گرنے سے روکنے کے لئے کسی بھی قریبی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
حسیات
1۔ دیکھنے کی حس:
نوزائیدہ بچہ دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے دیکھنے کی حد تک صرف آٹھ انچ تک ہوتی ہے۔ وہ صرف اسی چیز کو ٹھیک طریقے سے دیکھ سکتا ہے جو اس کی آنکھ سے آٹھ انچ کے فاصلے پر ہو۔ وہ دور کی روشنی کو بھی دیکھ سکتا ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دے سکتا۔
2۔ سننے کی حس:
نوزائیدہ بچے میں سننے کی حس ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص نوزائیدہ بچے کے قریب اونچی آواز میں بولتا ہے تو بچہ ڈرجاتا ہے اور اگروہ دودھ پی رہا ہو تو گھبراکر دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے۔
3۔ سونگھنےاور چکھنے کی حس:
نوزائیدہ بچے کو ذائقے اور خوشبو کی پہنچان ہوتی ہے۔ اگربچے کوکوئی ناگوار بومحسوس ہوتو وہ اپنا منھ دوسری طرف پھیرلیتا ہے۔ دودھ کی محسوس خوشبو جب بچے کی ناک کے قریب پہنچی ہے تو بچہ دودھ پینے کے لئے اپنا منھ کھول دیتا ہے۔
4۔ چھونے کی حس:
چھونے کی حس بھی نوزائیدہ بچے میں موجود ہوتی ہے۔ جب بچے کو ذراسختی سے پکڑا جائے تو وہ رونے لگتا ہے۔ اسی طرح جب بچے کو نہلایا جائے اور پانی زیادہ گرم یا زیادہ ٹھنڈا ہوتو بچہ اسے بھی محسوس کرتا ہے۔ بچہ ماں کے لمس سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ بچہ کسی دوسرے کے پاس رہاہوتو عام طور پر وہ ماں کی گود میں آکر چپ ہو جاتا ہے۔
نیند:
نوزائیدہ بچوں کا زیادہ تر وقت سوکر گزرتا ہے۔ وہ اس وقت جاگتے ہیں جب انہیں بھوک لگتی ہے۔ نوزائیدہ بچوں کے سونے کا دورانیہ عام طور پر بیس گھنٹے ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نیند میں کمی آجاتی ہے۔
رونا:
نوزائیدہ بچوں کا واحد ذریعہ اظہاررونا ہے۔ وہ اپنی کسی بھی ضرورت کو پورا کروانے کے لئے روتا ہے۔ بچے تیز روشنی، اونچی آواز یا پیٹ میں گیس ہونے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں اور رونا شروع کردیتے ہیں۔ بچوں کے رونے کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ توجہ چاہتے ہیں اور جب ان کی طرف توجہ دی جائے تو وہ چپ ہو جاتے ہیں ۔
3۔ شیرخوارگی کے دور کی جسمانی و عضلاتی اور معاشرتی نشوونما پر نوٹ لکھیں؟
شیرخوارگی کے دور کے نشوونما:
1۔ جسمانی اور عضلاتی نشوونما:
جسمانی اور عضلاتی نشوونما کا دور تین سال کی عمر تک ہوتا ہے۔ بچہ پہلا دانت چھ ماہ کی عمر میں نکالتا ہے ۔جسمانی ڈھانچے کی نشوونما کی رفتار ہر عمر میں مختلف ہوتی جبکہ چارسال کی عمر تک دودھ کے تمام ہے۔ نومولود کی نشوونما سر سے پاؤں کی طرف ہوتی ہے۔ جسم کے دانت نکل آتے ہیں۔ دوسرے حصوں کی نسبت نومولود کا سربڑا ہوتا ہے۔
جب بچہ پیداہوتا ہے تو اس کے دانت نہیں ہوتے لیکن جب وہ شیرخوارگی کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے دانت بھی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پیدائش کے وقت بچے کا وزن ساڑھے تین کلوگرام تک ہوتا ہے جو ایک سال میں نوکلوگرام سے زیادہ یعنی قریباٌ تین گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔
2۔ ذہنی نشوونما:
پیدائش کے بعد عام طورپر بچے صرف رونے کی آوازیں نکالتے ہیں ۔یہ آوازیں سادہ نوعیت کی ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ بچہ ایسی آوازیں نکالنا شروع کردیتا ہے جو الفاظ جیسی ہوتی ہیں۔ ماں کو ان آوازوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت بچہ کیا چاہتا ہے۔ڈیڑھ سال کا بچہ بولنا سیکھنا شروع کردیتا ہے۔ اس وقت وہ کم ازکم چھوٹے چھوٹے دس الفاظ بول سکتا ہے۔ لڑکوں کی نسبت لڑکیاں جلدی باتیں کرناسیکھ جاتی ہیں۔
معاشرتی اور جذباتی نشوونما:
پیدائش کے بعد مان کی تربیت سے بچے کی معاشرتی نشوونما شروع ہوتی ہے۔ بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کے رویوں کا عکس ان کے بچوں میں نظرآتا ہے۔ ماں اگر پریشان ہوتی ہے تو بچہ بھی اس کو محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر میں موجود دوسرے لوگوں کابچے کے ساتھ رویہ بھی اس کی نشوونما پر اثرانداز ہوتا ہے۔
بچے کی زندگی کے پہلے چھے ماہ میں کوئی معاشرتی نشوونما نہیں ہوتی لیکن اس کے بعد ڈیڑھ سال کی عمر تک بچہ اپنے ماحول کو محسوس کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنی ذات میں لگارہتا ہے۔ مختلف قسم کے کھلونوں سے کھیلتا ہے۔ وہ مختلف قسم کے جذبات کا اظہار بھی کرتا ہے۔
شیرخوارگی میں جسمانی نشوونما:
پیدائش سے لے کر شیرخوارگی تک بچہ ماہ بماہ افزائش کی طرف بڑھتا ہے۔
4۔ درمیانی بچپن میں ذہنی ،جذباتی و معاشرتی نشوونما پر نوٹ لکھیں؟
درمیانی بچپن:
درمیانی بچپن کا دور چھے سے بارہ سال کی عمر کا دورہوتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں بچہ باقاعدہ طور پر سکول جانا شروع کردیتا ہے۔
جسمانی اور عضلاتی نشوونما:
ابتدائی بچپن کی نسبت درمیانی بچپن میں بچوں کے قد اور جسامت میں اضافہ کی رفتار سست ہوتی ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی نشوونما ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس عمر میں لڑکیاں قد میں لڑکوں کی نسبت زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اس دور میں لڑکیوں کی آواز نرم اور لچکیلی جب کہ لڑکوں کی آواز میں بھاری پن پیدا ہوجاتا ہے۔
بچے مختلف قسم کے کھیل کھیلتے ہیں۔ فٹ بال، ہاکی، کرکٹ کھیلنا،سائیکل چلانا لڑکوں کے پسندیدہ کھیل ہوتے ہیں جب کہ لڑکیاں جسمانی کھیل کم کھیلتی ہیں اور زیادہ تر موسیقی سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
ذہنی نشوونما:
اس دور میں ذہنی نشوونما عروج پر ہوتی ہے۔ دماغ بڑی تیزی سے درست سمت میں کام کرتا ہے۔ بچوں میں تجسس کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں علم حاصل کرنے کی کوششوںمیں لگے رہتے ہیں۔ وہ اپنی ذہانت اور معلومات کو بروئے کار لا کر چھوٹے چھوٹۓ مسائل حل کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ ان میں ذمہ داری کا احساس زیادہ ہوجاتا ہے۔
معاشرتی اور جذباتی نشوونما:
اس دور میں انسان مختلف طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ بچے اکیلے کام کرنے کی بجائے گروپ بناکر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بچوں میں وفاداری کا جذبہ پیداہوتا ہے۔ بچے اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں اور ان کو پوراکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں میں قابلِ قدراضافہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے ۔ جلدی غصے میں آجاتے ہیں اوربرملاغصے کا اظہار بھی کردیتے ہیں۔
5۔ نوبلوغت کے دور کی جسمانی و عضلاتی اور ذہنی نشوونماپر نوٹ لکھیں؟
نوبلوغت کی نشوونما:
نوبلوغت کادور تیرہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے اور اٹھارہ سال کی عمر تک رہتا ہے۔ اس دور میں جسمانی پختگی کے ساتھ ساتھ جنسی پختگی بھی آجاتی ہے۔ ایسی تبدیلیاں بھی آتی ہیں جن کی مدد سے لڑکوں اور لڑکیوں میں واضح تمیز کی جاسکتی ہے۔
جسمانی اور عضلاتی تبدیلیاں:
جسمانی نشوونما کے لحاظ سے یہ دور شخصی تبدیلیوں کادور کہلاتاہے۔ لڑکیاں تیرہ سال کی عمر میں جب لڑکے پندرہ سال کی عمر میں پختگی کی حد کو پہنچتے ہیں۔ لڑکے عضلاتی طور پر لڑکیوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ بلوغت کا انحصار خوراک پر بھی ہوتا ہے جن کی خوراک میں زیادہ گوشت شامل ہو وہ بچے جلدی بالغ ہوجاتے ہیں۔ ان کی نسبت جن بچوں کے جسم دبلے پتلے اور کمزور ہوتے ہیں وہ دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔
ذہنی نشوونما:
نوبلوغت کا دور بچوں میں خاص رویے اور رحجانات پیداکرتا ہے۔ اس وقت بچے کی ذہنی نشوونما مکمل ہورہی ہوتی ہے۔ ذہنی سرگرمیوں میں بڑی تیزی آجاتی ہے۔
بچہ بہت سی معلومات حاصل کرتا ہے اور ان کو یاد بھی رکھتا ہے۔ بچوں اپنے اردگرد پھیلے ماحول میں موجود مسائل کو سمجھتا ہے اور ان کا حل کرنے کی کوششوں میں لگارہتا ہے۔
معاشرتی اور جذباتی نشوونما:
بچہ اس دور میں مذہب کی طرف راغب ہوتا ہے۔ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے والدین اور اساتذہ کا ادب کرتا ہے۔ وہ سماجی کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور ایسے کام کرکے خوشی محسوس کرتا ہے۔ نوبلوغت میں بچہ جلدی غصے پر آجاتا ہے۔ لیکن یہ غصہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا بلکہ فوراٌ ہی ختم بھی ہوجاتا ہے۔ غصے کی وجوہات میں عام طور پر دوستوں کا رویہ یا جیب خرچ کے مسائل ہوتے ہیں لیکن وہ سوچتا ہے کہ میں جلد ہی ان کو حل کرلوں گا۔ وہ کسی بات پر زیادہ دیر کے لئے پریشان نہیں ہوتا۔
(Behavioural Problems of Children) باب نمبر 7۔ بچوں کے رویوں کے مسائل
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ جن بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش محبت و شفقت اور اُصولوں کے مطابق کی جاتی ہے وہ بچے کن جذباتی تجربات کے درمیان پھلتے پھولتے ہیں؟
(الف) مثبت (ب) منفی (ج) بے خوفی (د) عدم تحفظ
2۔ والدین کی محبت و توجہ یں کمی یا پھر دودھ چھڑانے کی بنا پر بچہ کس عادت میں مبتلاہوجاتا ہے؟

3۔ جوبچے عدم تحفظ یا معاشرتی عدم مطابقت کا شکارہوں وہ اپنے سے چھوٹی عمر کے بچوں میں بہتر صلاحیتیں دکھاتے ہیں لیکن پھر بھی کیسے دکھائی دیتے ہیں؟

4۔ بچوں کی تربیت کے لئے اُصول و ضوابط مرتب کرنے میں کس بات کی ضرورت ہوتی ہے؟
(الف) لچک (ب) نرمی (ج) تنقید (د) مستقل مزاجی
5۔ بچوں کو تنبیہ کس لیے ہونی چاہیے ؟

جوابات: (1-)(2-)(3-)(4-)(3-)
سوال 2۔ سوالات کے مختصر جوابات دیں۔
1۔ رویہ کی تعریف کریں؟
رویہ کی تعریف:
کسی انسان کا ردِ عمل جو اندرونی، بیرونی تحریکوں کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے، اس کا رویہ کہلاتا ہے۔
2۔ رویوں کے مسائل سے کیا مراد ہے؟
جوبچہ والدین کی محبت حاصل نہیں کر سکتااس کی جذباتی پرورش صحیح طور پر نہیں ہوتی ۔ وہ خوف زدگی کا شکار رہتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں مکمل نہیں ہوتا ۔ دوسرے بچوں کی نسبت وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا بچہ مناسب رویے کا اظہار کرنے کی بجائے ایک برے رویے کا اظہار ہے جو اس کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔ اسی چیزوں کو رویوں کے مسائل کہا جاتا ہے۔
3۔ بچے میں حسد کا جذبہ کیوں کر پیدا ہوتا ہے؟
بچوں کے نارمل جذبات میں سے ایک جذبہ دوسرے بچوں سے مقابلہ کرنا اور حسدکرنا بھی ہے ۔کچھ حالات ایسے بھی ہیں جن کے تحت یہ جذبہ سود مندثابت ہوتا ہے جیساکہ بچے میں مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ جب ایک کے بعد دوسرے بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو پہلا آنے والے نئے بچے سے حسد کرنا شروع کردیتا ہے کیوں کہ والدین کی زیادہ توجہ آنے والے نئے بچے کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ جب بڑے بچے کو توجہ نہیں ملتی تو وہ چڑاچڑا ہو جاتا ہے۔ وہ نوزائیدہ بچے سے اپنا زیادہ حسد کرتا ہے کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ نئے بچے کی پیدائش پر بڑے بچے پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ کسی قسم کی احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو۔
4۔بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت کیسے پیدا ہوتی ہے؟
بچے جب آپس میں کھیلتے ہیں تو چھوٹی موٹی باتوں پر آپس میں جھگڑ بھی پڑتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں عام طور پر ہوجاتی لیکن اگر کوئی بچہ زیادہ جھگڑالو ہو او رلڑائی جھگڑا میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اس پر توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔ کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو معمولی غلطی پر سخت سزادیتے ہیں۔ ایسے بچوں میں مارپیٹ کا رحجان پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی سزا کا بدلہ اپنے سے کمزور بچوں سے لیتے ہیں۔ ایسے بچوں کو اگر موقع ملے تو وہ جانوروں پر بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔
5۔ رویوں کے مسائل کی چار وجوہات لکھیں؟
رویوں کے مسائل کی وجوہات درج ذیل ہیں۔
1۔ بچے جب اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں اور سمجھیں کہ دوسرے ان کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔
2۔ بچوں کو زیادہ دیر تک کھانے کے لئے کچھ نہ ملے۔
3۔ جب بچوں کو سکول کے کام کی پریشانی ہو۔
4۔ جب کھیل ان کے من پسند نہ ہو او ر ان کا دل کھیل میں نہ لگے۔
6۔ رویوں کے مسائل میں بہن بھائی کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
رویوں کے مسائل میں بہن بھائیوں کا کردار:
1۔ بہن بھائی ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں جس کی وجہ سے رویوں میں تبدیلی آجاتی ہے۔
2۔ نئے بچے کی پیدائش پر پہلا بچہ حسد کا شکار ہوجاتا ہے۔
3۔ والدین کا کسی ایک بچے سے زیادہ پیار کرنا دوسرے بچوں میں منفی رویے کو جنم دیتا ہے۔
4۔ کم شکل و صورت والابچہ اپنے خوب صورت بھائی بہنوں کے مقابلے میں احساس کمتری کا شکار رہتا ہے۔
5۔ اگر خاندان میں بچوں کم تعداد زیادہ ہو تو سب کی طرف توجہ نہیں دی جاسکتی اور بچے عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
6۔ بڑے بچے عام طور پر حاکمانہ ذہن رکھتے ہیں۔ وہ چھوٹے بچوں پر حکم چلاتے ہیں جو انہیں ناگوار گزرتا ہے۔
7۔ عام طور پر دیکھا گیا کہ والدین چھوٹے بچے سے زیادہ پیارکرتے ہیں جس کی وجہ سے بڑابچہ چڑچڑا ہوجاتا ہے۔
8۔ بچے اپنے جیب خرچ کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہیں اور اس طرح آپس میں حسد کرنے لگتے ہیں۔
9۔ کچھ گھروں میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کا اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ لڑکیوں میں منفی جذبات پیدا کرتا ہے۔
10۔ گھر کے سب سے بڑے بچے کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے اور چھوٹے بچے اس سے حسد کرنے لگتے ہیں یا ان کی شخصیت صفر ہو کر رہ جاتی ہے۔
7۔ بچوں کے سامنے مثالی کردار بننے سے کیا مراد ہے؟
بچوں چونکہ بڑوں کی نقالی کرتے ہیں اس لیے بچوں میں مثبت رویہ پیدا کرنے کے لئے ان کے سامنے ایک مثالی کردار کے طورپر آئیں۔ بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے سے گریزکریں۔ تاکہ بچہ بھی سچ بولنے کی ترغیب حاصل کرے۔
8۔ ہم عمر بچے رویوں کے مسائل کی شناخت میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
سکول نشوونما کا بہترین ذریعہ ہے۔ سکول کے بچے آپس میں ایک دوسرے سے گہر اتعلق رکھتے ہیں۔ وہ پڑھائی اور کھیل کود میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ بچے روزانہ چھے سات گھنٹے سکول میں گزارتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ بڑی جماعتوں میں جاتے ہیں ان کی تعلیمی سرگرمیاں بڑھتی جاتی ہیں اسی طرح ان کے آپس کے تعلقات میں بھی مضبوطی آتی جاتی ہے۔ اگر کوئی بچہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائے تو اس کے معاشرتی معاملات بھی ا س سے متاثرہوتے ہیں۔
سوال 3۔ سوالا ت کے تفصیلی جوابا ت تحریر کریں۔
1۔ رویوں کے مسائل کی تعریف کریں۔نارمل/معاشرتی رویے اور غیرنارمل /غیرمعاشرتی رویے میں فرق بیان کریں؟
رویہ کی تعریف :
کسی انسان کا ردِ عمل یا عمل جو اندرونی ،بیرونی یا ذاتی تحریکوں کے نتیجے میں ظاہرہوتا ہے ،اس کارویہ کہلاتا ہے۔
رویوں کے مسائل:
بچوں کے بہترین جذباتی نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ ان سے محبت اور شفقت کا سلوک کیا جائے۔ جوبچہ والدین کی محبت حاصل نہیں کرسکتا اس کی جذباتی پرورش صحیح طور پر نہیں ہوتی ۔ وہ خوف زدگی کا شکاررہتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں مکمل نہیں ہوتا۔ دوسرے بچوں کی نسبت وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا بچہ مناسب رویے کا اظہار کرنے کی بجائے ایک برے رویے کا اظہار کرتا ہے۔ جوا س کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔ ایسے بچے سمجھتے ہیں کہ اگر وہ مناسب رویےکا اظہار کریں گے تو سب لوگوں کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوجائے گی۔ لوگ ان کی باتوں کو اہمیت دیں گے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایسے بچے جس قسم کے رویے کا اظہار کرتے ہیں ان میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہوتی ہیں۔
1۔ حسدورقابت
2۔ بدمزاجی و بدتمیزی
3۔ توڑپھوڑ کرنا
4۔ گھبراہٹ
5۔ ہکلانا
6۔ پیٹ میں درد ہونا
7۔ بول وبراز کے مسائل
8۔ خوف
9۔ لڑنا جھگڑنا
10۔ غصے کا اظہار
11۔ شرمیلا پن
12۔ سردرد یا دوسرے امراض کی شکایت کرنا
13۔ ماں سے چمٹ جانا
14۔ بستر یا کپڑے گیلے یا گندے کرنا
نارمل/معاشرتی اور غیر نارمل/معاشرتی رویہ میں فرق
1۔ نارمل معاشرتی رویہ۔تعاون:
بچے کی عمر جب چار سال ہوتی ہے تو وہ دوسرے بچوں سے تعاون کرنے کی عادت کا اپنا لیتے ہیں۔ اگر اس عمر کے بچوں کو موقع فراہم کیا جائے تو وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ تعاون کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
2۔ مقابلے کا رحجان:
بچوں میں دوسرے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کا رحجان پایاجاتا ہے۔ جب کوئی انہیں چیلنج کرتا ہے تووہ اسے خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ مقابلے میں جیتیں۔ وہ مقابلہ جیتنے کے لئے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔
3۔ فراخ دلی/فیاضی:
بچے اپنی چیزوں میں دوسرے بچوں کو بھی شریک کرتے ہیں ۔انہیں مل بانٹ کر کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ بچے خودغرض نہیں ہوتے ۔ انہیں دوسروں کے احساسات کا بھی خیال ہوتا ہے۔
4۔ سماجی مقبولیت کے خواہش مند:
بچے کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے نے ان سے جو توقعات وابستہ کی ہیں وہ ان توقعات پر پورااُتریں۔ پہلے پہل وہ اپنے بزرگوں کی توقعات کو پوراکرتے ہیں اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کی توقعات پر پورااُترنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔
5۔ ہمدردی:
پہلے پہل تو بچے ہمدردی کے جذبے سے ناآشنا ہی ہوتے ہیں لیکن جب خود اپنے آپ کو کوئی گزند پہنچتا ہے تو انہیں دوسروں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہےاور ان میں دوسروں سے ہمدردی کا جذبہ پیداہوتا ہے۔
6۔ بھروسا اور اعتماد:
ایسے بچے جن کو والدین کی بھرپور توجہ ملتی ہے وہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ قابل اعتماد ہوتے ہیں اور ان پر ہر طرح سے بھروسا کیا جا سکتا ہے۔
7۔ دوستانہ رویہ:
بچوں میں اپنے دوستوں کے لئے بڑی محبت ہوتی ہے اور وہ برملا اس محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کے چھوٹے موٹے کام کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
8۔ تقلیدی نمونہ:
بچوں کواپنے بڑوں میں جس کی عادت زیادہ اچھی لگتی ہیں وہ ان عادات کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
9۔ وابستگی اور لگاؤ:
بچوں کی وابستگی کا رویہ شیرخواری کی عمر سے ہی پرورش پاتا ہے۔ شیرخوارگی کی عمر میں ماں بچے سے محبت کرتی ہے تو بچے کو وابستگی کااحساس ہوتا ہے یہی احساس آہستہ آہستہ لگاؤ کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
غیر نارمل/غیر معاشرتی رویے
1۔ عدم تعاون:
جب بچے کی عمر دوسال ہوتی ہے تو اس میں دوسروں کے ساتھ منفی رویہ اپنانے کی ابتداء ہوتی ہے ،جب اس کی عمر کا تین سے چھے سال کا دور شروع ہوتا ہے تو یہ رویہ زیادہ ہوجاتا ہےا ور بچے کے مزاج میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔
2۔ جارحیت پسند:
ایسے بچے اپنے سے چھوٹے بچوں کو اکیلا پا کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔ انہیں مختلف قسم کی دھمکیاں دیتے ہیں اور بہت جلدی غصے میں آجاتے ہیں۔
3۔ لڑنا جھگڑنا:
جب بچوں کو غصہ آتا ہے تو وہ جھگڑا شروع کردیتے ہیں۔ اگرایسے میں ان کے سامنے ان کا اپنا ہی کوئی پالتوجانورآجائے تو اپنا غصہ اس پر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
4۔ چھیڑخانی اور تنگ کرنا:
جو بچے غیر نارمل رویے کا اظہار کرتے ہیں وہ اپنے سے کمزوربچوں کوتنگ کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
5۔ بالادستی کارویہ:
منفی معاشرتی رویے کے حامل لوگ اپنی طاقت کے بل پوتے پر دوسروں پر حکم چلاتے ہیں اور چاہیتے ہیں کہ ہرکام میں انہیں قائد مانا جائے اور ان کے حکم پر عمل کیا جائے۔
6۔ خودغرضی:
غیر نارمل رویے کے حامل بچے خود غرض ہوتے ہیں۔ ایسے بچے صرف اپنے متعلق ہی سوچتے ہیں انہیں دوسروں کے کاموں یاباتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔اگرایسے بچوں پر بروقت توجہ نہ دی جائےتو یہ بچے معاشرے میں غیرمقبول ہوجائیں گے اور غیر پسندیدہ شخصیت بن جائیں گے۔
7۔ جنسی مخالفت:
لڑکے شروع ہی سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہرلحاظ سے لڑکیوں سے بہتر ہیں۔ اس لیے وہ لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا یا بات کرناپسند نہیں کرتے ۔
2۔ خوف، حسد اور جھوٹ کے مسائل پر نوٹ تحریر کریں؟
رویوں کے مسائل کی وجوہات:
انسان کو روزمرہ زندگی میں بے شمار مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ انسان کاواسطہ مختلف قسم کے جذبات سے پڑتا ہے۔ اس میں خوشی ،غمی، غصہ، حسد، رشک، خوف،ناراضی، افسردگی، پریشانی اور شرمندگی جیسے جذبات شامل ہیں۔بچوں کی نشوونما کے دوران میں جو رویے پیش آتے ہیں انہیں سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ بچوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تجاویز پر عمل کرنا چاہیے۔
خوف:
پیدائش سے لے کر چھے ماہ تک بچے کو کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوتا ۔ جیسے جیسے بچہ بڑاہوتا ہے اس میں خوف کا جذبہ پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ خوف دوقسم کا ہوتا ہے۔
ا۔ حقیقی خطرے کو محسوس کرنا ب۔ تخلیلاتی یا نفسیاتی خوف
بچے کے خوف کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے گفتگو کی جائے۔ اسے اندھیرے سے دوررکھا جائے ۔ بچہ جس کمرے میں ہوا س میں روشنی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ بچوں کو ڈرایا نہ جائے تاکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہواور وہ تخلیلاتی طور پر بھی خوف سے دوررہیں۔
بسترگیلاکردینا:
مشہور ماہرِ ہوم اکنامکس جیسل کا کہنا ہے کہ پہلے پہل بچہ جاگتے میں پیشاب پر کنٹرول کرنا سیکھتا ہے ۔ بچہ عام طورپر دو اڑھائی سال کی عمر تک پیشاب پر کنٹرول کرنا سیکھ جاتا ہے لیکن اگر بچہ پانچ چھے سال کی عمر میں بھی بستر پر پیشاب کردے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی دماغی یانفسیاتی مرض میں مبتلاہے یا اسے کسی قسم کا خوف ہے، جس کاوہ اظہار کرنے سے بھی قاصر ہے۔ اس کی عادت ختم کرنے کے لئے اسے کوئی مناسب دوادیں اور کوشش کریں کہ بچے کو سونے سے پہلے دودھ یا پانی بہت کم مقدار میں دیاجائے۔بچے کو ڈراؤنی کہانیاں نہ تو خودسنائی جائیں اور نہ ہی پڑھنے کے لئے دی جائیں۔
انگوٹھا چوسنااور ناخن چبانا:
بچہ فطری طور پر اپنا انگوٹھا چوستا ہے۔ اگر بچے کو اس کی ضرورت سے کم دودھ ملے تو وہ اپنی ضروریات انگوٹھا چوس کر پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بچہ مختلف چیزوں کو چوستا ہے۔ بچہ اپنے ناخن چباتا ہے یا اپنے کھلونوں کوچوستا ہے۔ سکول جانے سے پہلے بچے یہ عادت خودبخود ترک کردیتے ہیں ۔اگر سکول جانے کی عمر تک یہ عادت باقی رہے تو اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ بچے کی پرورش میں کسی قسم کی کمی رہ گئی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں بچے کے دانتوں کی نشوونما بھی ٹھیک طریقے سے نہیں ہوتی۔ اس کے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں ۔مسوڑھے خراب ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر رات کے وقت بچہ سونے سے پہلے انگوٹھا چوستا ہے یا کوئی کپڑا منھ میں لے لیتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بچیاں اپنی فراک کا کونہ اور بچے بستر کی چادر کا کونہ منھ میں لے کر سوتے ہیں۔
بچوں کو اس بات سے روکنے کے لیے انہیں کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔ انہیں پھل کھانے کے لئے دیں۔ ایسے بچوں کو بھرپور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں بھرپور توجہ دیں تاکہ ان کا دھیان بٹا رہے۔
حسد کرنا:
بچوں کے نارمل جذبا ت میں سے ایک جذبہ دوسرے بچوں سے مقابلہ کرنا اور حسد کرنا بھی ہے۔ کچھ حالات ایسے بھی ہیں جن کے تحت یہ جذبہ سودمند ثابت ہوتا ہے جیسا کہ بچے میں مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ جب ایک کے بعد دوسرے بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو پہلا بچہ آنے والے نئے بچے سے حسد کرناشروع کردیتا ہے کیوں کہ والدین کی زیادہ توجہ آنے والے نئے بچے کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔ جب بڑے بچے کو توجہ نہیں ملتی تو وہ چڑچڑاہوجاتا ہے۔ وہ نوزائیدہ بچے سے اتنا زیادہ حسد کرتا ہے کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ نئے بچے کی پیدائش پربڑے بچے پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ کسی قسم کے احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو۔
جھوٹ بولنا:
بچے جب آپس میں مل کوئی ایسا کھیل کھیلتے ہیں جس میں ماوارئی اور مافوق الفطرت کردار ہوتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس کردار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایسے میں وہ جھوٹی کہانیوں سے دل بہلاتے ہیں۔ اگر ایسے حالات میں انہیں جھوٹ او ر سچ میں تمیز کرنا نہ سکھایاجائے تو ان کی جھوٹ بولنے کی عادت پختہ ہوجاتی ہے اور وہ ہرمعاملے میں جھوٹ بولنے لگتے ہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر نظر رکھیں۔ انہیں سچی کہانیاں پڑھنے کے لئے دیں اور سچ بولنے کی تلقین کریں۔ خود بھی سچ بول کر سچ کی افادیت سے آگاہ کریں۔ بچے کسی ڈانٹ سے بچنے کے لئے یا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں ۔ بچوں کو سچ کے فوائد سے آگاہ کیاجائے اور جھوٹ سے نفرت دلائی جائے۔
لڑنا جھگڑنا:
بچے جب آپس میں کھیلتے ہیں تو چھوٹی موٹی باتوں پر آپس میں جھگڑ بھی پڑتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں عام طور پر ہو جاتی ہیں لیکن اگر کوئی بچہ زیادہ جھگڑالو ہو اور لڑائی جھگڑے میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کومعمولی غلطی پر سخت سزادیتے ہیں۔ ایسے بچوں میں مارپیٹ کا رحجان پیداہوجاتا ہے۔ وہ اپنی سزا کابدلہ اپنے سے کمزوربچوں سے لیتے ہیں۔ ایسے بچوں کو اگر موقع ملے تو وہ جانوروں پر بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔
بچوں کے اس رویے کی وجہ معلوم کرنی چاہیے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔بچوں کو اس با ت کا احساس دلانا چاہیے کہ مارپیٹ سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا اچھی بات نہیں ہے۔
3۔ رویوں کے مسائل کی وجوہات پر بحث کریں؟
رویوں کے مسائل کی وجوہات:
1۔ بچے جب اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں اور سمجھیں کہ دوسرے ان کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔
2۔ بچوں کو زیادہ دیر تک کھانے کے لئے کچھ نہ ملے۔
3۔ جب بچوں کو سکول کے کام کی پریشانی ہو۔
4۔ جب کھیل ان کے من پسند نہ ہو او ر ان کا دل کھیل میں نہ لگے۔
5۔ جسمانی طور پر بچے کی صحت بہتر نہ ہو اور وہ اپنے آپ کو دوسرے بچوں سے کمزور سمجھیں۔
6۔ گھر اورسکول میں نظم و ضبط نہ ہو اور بچہ اکتاہٹ محسوس کرے۔
7۔ جب بچے کو معمولی سی غلطی پر بھی سخت سزا ملتی ہو۔
8۔ جب نئے بچے کی پیدائش پر پہلے بچے کی طرف سے توجہ ہٹا لی جائے۔
9۔ جب والدین آپس میں جھگڑیں تو اس کا لازمی اثربچوں کے رویوں پر پڑتا ہے۔
10۔ جب بچوں کے کاموں کوسراہا نہ جائے بلکہ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے تو بچے اپنے آپ کو دوسروں سے کم سمجھتے ہیں۔
4۔ بچوں کے رویوں کے مسائل میں والدین کے کردار کو تفصیلاٌ بیان کریں؟
رویوں کے مسائل میں والدین کا کردار:
1۔ جب والدین کو معاشی مشکلات درپیش ہوں ۔ روپے پیسے کی کمی ہو۔
2۔ کوئی مستقل نوکری نہ ہو یا آمدن کم ہو جس سے گھر کا ماحول ناخوشگوار رہتا ہے۔
3۔ خود بھی فکر مندرہتے ہوں اور بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی پریشان رہتے ہوں۔
4۔ عارضی یا مستقل طور پر انہیں کوئی پریشانی لاحق ہو اور وہ اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہوں۔
5۔ خاندان کسی بحران کا شکار ہو۔
6۔ گھر میں کوئی معذور ہو جو پریشانی کا باعث بنتا ہو۔
7۔ والدین کے کام کا دورانیہ زیادہ ہو اور وہ بچوں کو مناسب وقت نہ دے سکتے ہوں بلکہ چڑچڑاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوں۔
8۔ کسی مستقل بیماری جیسے بلڈ پریشر،شوگریا دل کے عارضے میں مبتلا ہوں۔
9۔ والدین بچوں کی درست تربیت سے واقف نہ ہوں اور زیادہ معلومات نہ رکھتے ہوں۔
10۔ بچوں کو دی جانے والی مناسب غذا سے لاعلم ہوں۔
11۔ بچوں سے خواہ مخواہ زیادہ توقعا ت وابستہ کرلیں جنہیں بچے پورا نہ سکیں۔
5۔ بچوں کے رویوں کے مسائل میں دوستوں ، ہم جماعت بچوں اور اساتذہ کے کردار کی اہمیت بیان کریں؟
بچوں کے مسائل میں دوستوں، ہم جماعت بچوں اور اساتذہ کا کردار:
سکول نشوونما کا بہترین ذریعہ ہے۔ سکو ل کے بچے آپس میں ایک دوسرے سے گہر اتعلق رکھتے ہیں۔ وہ پڑھائی اور کھیل کود میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ بچے روزانہ چھے سات گھنٹے سکول میں گزارتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ بڑی جماعتوں میں جاتے ہیں ان کی تعلیمی سرگرمیاں بڑھتی جاتی ہیں اسی طرح ان کے آپس کے تعلقات میں بھی مضبوطی آتی جاتی ہے۔ اگرکوئی بچہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائے تو اس کے معاشرتی معاملات بھی اس سے متاثرہوتے ہیں۔
دوستوں اور ہم جماعت بچوں کا کردار:
1۔ چو بچے نظم وضبط کو نہیں اپناتے ہیں، ان کے دوست ان سے دور ہو جاتے ہیں اور وہ اکیلے رہ جاتے ہیں۔
2۔ شکل و صورت کے لحاظ سے کمتربچے غیر مقبول ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو جلد ی غصہ آتا ہے اور وہ خوب صورت بچوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
3۔ بچے کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ ہی کھیلیں اگر وہ اپنی عمر سے بڑے بچوں کے ساتھ کھیلیں گے تو احساسِ کمتری کا شکار ہو جائیں گے اور ان میں ایک خوف سا پیدا ہوجائے گا۔
4۔ جن بچوں کو گھر کے ماحول سے اپنائیت نہیں ملتی وہ اپنے سے چھوٹے بچوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے۔
5۔ جو بچے سماجی مہارتوں میں دوسروں سے پیچھے ہوتے ہیں ان میں بھی بے شمار جذباتی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔
6۔ بچے تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں جتنا زیادہ حصہ لیں گے اتنا ہی وہ دوسرے بچوں کے لئے زیادہ پسندیدہ تصور کیے جائیں گے۔
7۔ ایسے بچے جو سکول کا کام وقت پر نہیں کرتے او راُستا د صاحب کی ڈانٹ کی وجہ سے سکو ل آنے کی بجائے دوستوں کے ساتھ کھیلنے چلے جاتے ہیں ان میں مجرمانہ عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔
8۔ اگر کسی بچے میں ذہنی صلاحیتیں دوسروں کی نسبت کم ہوں اور وہ اپنی جماعت میں فیل ہوجائے تو وہ اپنے دوستوں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔
9۔ اپنے ہم عمر بچوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے اکثر بچے غلط رویہ اپنا لیتے ہیں۔
اساتذہ کا کردار:
1۔ بعض اساتذہ کرام بچے پر بے جا سختی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ تعلیم اور سکول سے متنفر ہوجاتا ہے۔ اور بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
2۔ اگر جماعت میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہو تو استاد ہر ایک کی طرف بھرپور توجہ نہیں دے سکتا ۔ اس طرح استاد کی نظروں میں رہنے والے بچے اُستاد کی زیادہ توجہ حاصل کرلیتے ہیں اور دوسرے بچے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
3۔ کچھ اساتذہ کرام بچوں کو بہت زیادہ ہوم ورک دے دیتے ہیں۔ بچے اس کو پور ا نہیں کرسکتے اور نتیجے کے طور پرپڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔
6۔ بچوں میں مثبت رویہ پیداکرنے کے طریقے لکھیں؟
مثبت رویے پیداکرنے کے طریقے:
مثالی اور کردار بنیں:
بچے چونکہ بڑوں کی نقالی کرتے ہیں اس لیے بچوں میں مثبت رویہ پیدا کرنے کے لئے ان کے سامنے ایک مثالی کردار کے طور پر آئیں۔ بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے سے گریزکریں۔ تاکہ بچہ بھی سچ بولنے کی ترغیب حاصل کرے۔
تنقید کی بجائے:
بچہ اگر کسی اچھے رویے کا مظاہر کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس کو شاباش دیں۔ ہو سکے تو ہلکاپھلکا انعام بھی دیں تاکہ اس کے اندر آئندہ کے لئے بھی اچھا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔
بچوں سے حقیقت پسند توقعات وابستہ کرنا:
بچے نئی عادتیں سیکھنے کے لئے کچھ وقت صرف کرتے ہیں۔ ایسے میں کچھ والدین بچوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اپنے بچے کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ سب بچوں کی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اپنے بچے کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو سمجھنا چاہیے تاکہ بچہ مثبت رویہ اپنا سکے۔
مستقل مزاجی کا مظاہرہ:
اگر بچے کی تربیت کے لئے کسی قسم کے اُصول و ضوابط وضع کیے گئے ہیں تو ان پر لازمی عمل کریں۔ خود بھی اُصولوں پر عمل کریں اور بچے کو بھی اس کی تلقین کریں ۔ اس طرح بچہ ساری زندگی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بچے کی تربیت کے لئے والدین کو مستقل مزاجی کی ضرور ت ہے۔
واضح رابطہ:
بچوں کے ساتھ ہر وقت رابطے میں رہیں تاکہ ان میں پیدا ہونے والی ہر قسم کی تبدیلیوں سے آگا ہ ہو سکیں ۔اگر والدین بچوں سے رابطہ نہیں رکھیں گے تو بچے عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے۔
غلط رویے پر معذرت کرنا:
اگر والدین بچے کی کسی غلطی پر اسے زیادہ سزادیں تو انہیں چاہیے کہ بعد میں نرمی کے ساتھ بچے سے معذرت کرلیں اس طرح بچے کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگااور وہ آئندہ اس غلطی سے بچنے کی کوشش کرےگا۔
7۔ بچوں میں منفی رویے کی روک تھام کیوں کر ممکن ہے؟ تفصیلی نوٹ لکھیں۔
بچوں میں منفی رویے کہ روک تھام
بچے کے چہرے کی جانب نگاہ نہ کرنا:
اگر بچے کی کسی غلطی پر اسے سزادی جائے تو حتی الوسع کوشش کریں کہ بچے کے چہرے کی جانب نہ دیکھیں اس طرح بچہ زیادہ شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اگر بچے سے اپنی توجہ ہٹالی جائے تو وہ جلدی معذرت کرنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
بات چیت سے گریز:
اگر بچہ کوئی غلط حرکت کرے تو کچھ دیر کے لئے اس سے بات چیت نہ کی جائے تاکہ وہ اس بات کو سمجھے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے اور اسے احساس ہو کہ اس کی غلطی کی وجہ سے والدین اس سے ناراض ہیں۔ اس طرح وہ جلد ہی معذرت کرلے گا۔
عدم دلچسپی کا مظاہرہ:
بچے اگر غلط رویہ اپنا لیں تو ایک دم اس کے کاموں پر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کریں اور کچھ وقت کے لئے اسے نظر انداز کردیں۔
نقصان دہ حالات کے سوابچوں کے چھونے سے گریز:
اگر بچہ کوئی غلط رویہ اپنائے تو اس کو چھونے سے گریزکریں۔ اس طرح بچے کو احساس ہوگا کہ اس کے والدین اس سے ناراض ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔
ناراضی کا اظہار:
بچے اگر غلط رویہ اپنائیں تو اس پر ناراضی کا اظہار کریں۔ انہیں اس با ت کا احساس دلائیں کہ ان کا رویہ غلط ہے۔ بچہ کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے رہیں۔ جیسے ایک بچہ کوڑاکوڑے دان میں پھینکتا ہے۔ اور دوسرا فرش پر تو جو کوڑے دان میں پھینکتا ہے اس کو شاباش دیں اور دوسرےبچے سے ناراضی کا اظہار کریں تاکہ اس کو بھی احسا س ہو کہ وہ نامناسب رویے کا مرتکب ہوا ہے۔
فوری اصلاح:
بچوں کی غلطی کی اصلاح فوری اور بروقت کریں۔ اسے موقع پر ٹوک دیں۔ بچے کو یہ بات سمجھائی جائے کہ اسے غلط کام کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی ۔
بے جا دھمکی سے گریز:
بچوں کو بے جا دھمکی نہیں دینی چاہیے۔ کبھی کبھی اپنی دھمکی کو عملی جامہ بھی پہنانا چاہیے ورنہ بچہ یہ سمجھے گا کہ میں کوئی بھی غلطی کرلوں مجھے اس کی سزا نہیں ملے گی۔
8۔ بچوں کے رویوں کے مسائل حل کرنے کے مناسب طریقے تحریر کریں؟
رویوں کے مسائل حل کرنے کے مناسب طریقے:
چو بچے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ انہیں کس قسم کا رویہ اپنانا چاہیے۔اگر بچوں کی بری عادات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں کسی بڑے کی مدد کی ضرورت ہے۔ بچے توقع کرتے ہیں کہ بڑے ان کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کریں گے ۔
بچے کی حوصلہ افزائی کرنا:
اگر بچے کسی اچھے رویے کا مظاہرہ کریں توان کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ اگر ان کے اچھے کاموں کو نظر انداز کردیا جائے تو آئندہ وہ اچھے کام کرنے کی طرف راغب نہیں ہوں گے۔
ضروری ہدایات و راہنمائی کرنا:
بچے کو ہر وقت ہدایات ہی نہ دیتے رہیں بلکہ بچوں میں قوتِ فیصلہ پیدا ہونے دیں۔ بچے اپنے طورپر بھی فیصلہ کرسکیں۔ اگر ان کا فیصلہ اچھاہو تواسے سراہیں اور اگر اچھا نہ ہو تو نرمی سے ان کی راہنمائی کریں۔
بے جا روک ٹوک سے گریز:
بچوں پر بے جا روک ٹوک نہ رکھیں۔ انہیں آزادانہ کھیلنے اور کام کرنے دیں۔ ہاں انہیں ایسا کھیل نہ کھیلنے دیں جس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ ہر وقت کی روک ٹوک سے بچے گستاخ ہوجاتے ہیں اور ان کے مزاج میں چڑچڑا ہ پن آجاتا ہے۔
غیرضروری تنقید سے گریز:
بچوں کو غیر ضروری طور پر برابھلا نہ کہیں اور نہ ہی ان کے کاموں پر تنقید کریں اس طرھ ان کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ بچوں کو اپنے طورپر کام کرنے دیں۔
متوازن غذا کی فراہمی:
بچوں کی ایسی غذا دیں جو ان کی غذائی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ ایسی غذا نہ دیں جو بچوں کے رویوں میں تیزی لائے جیسے کولا وغیرہ۔
بچوں کی بہترین پرورش اور نگہداشت کے ذمہ دار ان کے والدین ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ٹھیک طریقے سے نشوونما کریں تاکہ کل وہ ملک و قوم کے بہترین شہر ی بن سکیں۔
(Roll of Family and Community in Human Development) با ب 8۔انسانی نشوونما میں خاندان اور معاشرے کا کردار
سوالات
سوال1۔ ذیل میں دے گئے بیانات میں سے ہر بیان کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔ درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
1۔ فرویڈ کے مطابق”ایسے والدین جو بچوں کی پرورش حد سے زیادہ توجہ، پیار تحفظ اور محتاط پرورش کرتے ہیں، وہ بچے جذباتی اور نفسیاتی طور پر کیا ہوتے ہیں؟
(الف) خود اعتماد (ب) خودانحصار (ج) باغی (د) دست نگر
2۔ کس ماہرِ نفسیات کے مطابق سخت گیر والدین بچوں کو بدمزاج ، باغی، سرکش،جھگڑالو اور جارحانہ مزاج والا بنا دیتے ہیں؟
(الف) فلوجیل (ب) فرائیڈ (ج) ایرکسن (د) الفریڈایڈلر
3۔ بہن بھائیوں کے درمیان مقابلے اور حسد کے جذبات کیا ہیں؟
(الف) لازم (ب) غیرضروری (ج) خوش گوار (د) مثبت
4۔ بچے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے وقت کیا اثر لیتے ہیں؟
(الف) چڑچڑے ہو جاتے ہیں (ب) نفسیاتی دباؤ محسوس کرتے ہیں (ج) زیادہ سیکھتے ہیں (د) تعلیمی کامیابی سے دور ہوجاتے ہیں
5۔ استاد کی نگرانی میں بچے کتنے گھنٹے گزارتے ہیں ؟
(الف) چار سے پانچ گھنٹے (ب) چھے سے سات گھنٹے (ج) تین سے آٹھ گھنٹے (د) نو سےدس گھنٹے
جوابات: (4-)(1-)(4-)(3-)(2-)
سوال نمبر 2۔ مختصر سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
1۔ والدین پر بچوں سے متعلق ذمہ داریاں لکھیں؟
والدین پر بچوں کے متعلق ذمہ داریاں درج ذیل ہیں۔
1۔ بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچنے دیں۔ ان کی ہر طرح سے حفاظت کریں۔
2۔ بچوں کی حفاظت میں دل چسپی لیں۔
3۔ جب بچہ سکول جانے کی عمر کو پہنچے تو اسے کسی اچھے سکول میں داخل کروائیں۔
4۔ بچے کو درپیش معاشی ضروریات پوراکرنے کی کوشش کریں۔
5۔ بچے کو جسمانی اور اخلاقی تحفظ دیں۔
6۔ بچوں کو تنہانہ چھوڑیں اس سے بچے عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
7۔ بچے جو حرکات کرتے ہیں والدین ان کے لئے قانونی طور پر جواب دہ ہوتے ہیں۔
8۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے قریبی رابطہ رکھیں۔
2۔ بچوں کی تربیت پر والدین کے طرزِ عمل کی اقسام کے نام لکھیں؟
مختلف قسم کے والدین بچوں کی تربیت کے لئے مختلف قسم کا رویہ رکھتے ہیں۔ ایسے والدین کی چار اقسام بیان کی جاتی ہیں۔
ا۔ جمہوری والدین
ب۔ اباحتی والدین
ج۔ تحکمانہ والدین
د۔ غفلت شعار والدین
3۔ غفلت شعار والدین کے بچوں کی شخصیت پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟
یہ ایسے والدین ہیں جو جذباتی طورپر پریشان رہتے ہیں۔وہ اپنے بچوں پر اپنا زیادہ وقت اور زیادہ توانائیاں صرف نہیں کرتے ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کا بچہ کیسے تعلیم حاصل کررہا ہے۔ یا اس کا تعلیمی معیار کیسا ہے۔ ایسے والدین کے بچے شفقت اور محبت سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے بچے مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں دوسرے بچوں کے رویوں کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ایسے بچے سکول میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ اور پھر جماعت کے دوسرے بچوں سے الگ تھلگ ہوجاتے ہیں۔
4۔ بہن بھائیوں کی رقابت سے کیامراد ہے؟
نوزائیدہ بچے کی پیدائش پر بڑے بہن بھائی رقابت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اس بات کو کئی طرح سے ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے معمولی بات پر اونچی آواز میں رونا، خواہ مخواہ والدین کی گود میں چڑھنا، باہرجانے کے لئے ضد کرنا، یہ سب شیر خوار بچے سے رقابت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
5۔ بہن بھائیوں کی صحبت کے فوائد لکھیں؟
بچوں کے بہن بھائیوں کے ساتھ پرورش پانے کے کئی فائدے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں ۔ ان میں آگے بڑھنے کا رحجان پیدا ہوتا ہے۔ وہ اجتماعی کھیل کود اورلڑائی جھگڑے سے بھی روشناس ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت باہر کی دنیا سے بھی مانوس ہوتی ہے اور بہن بھائیوں کی موجودگی میں اسے تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔
6۔ ہم عمر گروپ کسے کہتے ہیں؟
کے لفظی معنی ہم رتبہ، ایک جیسا (Peer)ہم عمر گروپ کی اصطلاح ہر اس معاشرتی رشتے کے لئے استعمال ہوتی ہے جو بچوں کےدرمیان ہوتا ہے۔
یا ہم عصر ہونا ہے یعنی ایسا گروپ جس میں ایک ہی عمر اور جماعت کے بچے شامل ہوں۔
7۔ ہم عمروں سے تعلقات کی کیا اہمیت ہے؟
ہم عمروں سے اچھے تعلقات بچوں کی نشوونما پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں ۔ ہم عمروں سے تعلقات نبھانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں اور آپس میں تعاون کرتے ہیں ، اس طرح ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
8۔ سکول میں استحصال بالجبر کی تعریف لکھیں؟
استحصال بالجبر کی تعریف:
بچے کے ساتھ ایسارویہ روا رکھنا جس سے بچے کو جسمانی یا ذہنی اذیت سے دوچارہونا پڑے استحصال بالجبر کہلاتا ہے۔ ایسے بچے استحصال بالجبر کا شکار بنتے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی خامی یا کمی ہوتی ہے۔ کمزور ،بدصورت ،غریب یا شرمیلے بچے استحصال بالجبر کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
9۔ ڈے کئیر سنٹر کی کیا سہولت ہے؟
خواتین کے ملازمت پیشہ ہون ےکی صورت میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کے لئے ڈے کئیر سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ اس کی انچارج ایک خاتون فیلڈ آفیسر ہوتی ہے ،جو ملازمت پیشہ عورتوں کے بچوں کی دیکھ بھال کرواتی ہے۔ ڈے کئیر سنٹر میں بچوں کے لئے مندرجہ ذیل سہولیات ہوتی ہیں۔
1۔ بچوں کے لئے دودھ
2۔ دوپہر کا کھانا
3۔ دیکھ بھال اور تحفظ
4۔ بچوں کے لئے مختلف اقسام کے کھیل اور تفریح
5۔ مونٹیسوری طریقہ تعلیم
6۔ مؤثر تربیت
10۔ معمر افراد کی دیکھ بھال کے لئے نگران کے فرائض لکھیں؟
معمر افراد گھر میں ہوں یا کسی دیکھ بھال کے ادارے میں ان کی نگہداشت کے لئے ایک نگران کو درج ذیل کام سر انجام دینے چاہیئں۔
1۔ چونکہ بوڑھے لوگ ورزش نہیں کرسکتے اس لیے انہیں ہلکی پھلکی غذا دینی چاہیے جو آسانی سے ہضم ہو جائے ان کے معدے پر بُرااثر نہ پڑے۔
2۔ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے بزرگوں سے مشورہ ضرورلیں اس طرح انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
3۔ مختلف کاموں میں بزرگوں کی مددکرنی چاہیے جیسے بستر سے اُترنا، کرسی پر بیٹھنا یا غسل خانے میں جانا وغیرہ۔
4۔ ان کے نام آئے ہوئے خطوط خود انہیں پڑھ کر سنائے جائیں۔
5۔ صبح کے وقت اخبا رسے ان کی دلچسپی کی خبریں پڑھ کر سنائی جائیں تاکہ وہ حالاتِ حاضرہ سے بھی باخبر رہ سکیں اور بوریت بھی محسوس نہ کریں۔
6۔ نگران کو چاہیے کہ وہ نہانے دھونے میں بزرگوں کی مدد کرے۔
7۔ اگرکوئی بزرگ بیمارہو تو ڈاکٹر نے دوا کے لئے کوئی وقت مقرر کیا ہو تو نگران کو چاہیے کہ اس وقت کی پابندی کرے اور انہیں مقررہ وقت پر دواکھلائے۔
8۔ نگران کا چاہیے کہ وہ بزرگوں کو مناسب وقت پر سیر و تفریح کروئے تاکہ وہ اپنے آپ کو عضوِ معطل نہ سمجھیں۔
9۔ بزرگوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے۔
10۔ اچانک ضرورت کے تحت فوری طورپر ڈاکٹر یا ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔
سوال 3۔ تفصیلی سوالات کے جوابات تحریرکریں۔
1۔ بچوں کی نشوونما پر والدین اور بچوں کے تعلقات کے اثرات لکھیں؟
بچے کی نشوونما پر والدین اور بچوں کے تعلقات کے اثرات:
بچے کی تربیت کی اساس اس کا خاندان ہے۔ بچے اپنے گھریلو حالات سے سب سے زیادہ اثر قبول کرتا ہے۔ والدین میں موجود خصوصیات بچے میں منتقل ہوتی ہیں اور اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ والدین کی جو خصوصیات بچے میں منتقل ہوتی ہیں۔ بچہ انہیں سمجھتا ہے۔ بچے کی اخلاقی تربیت اس کے والدین ہی کی طرف سے آتی ہے۔
بچہ اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو والدین اسے ٹوکتےہیں۔ کبھی نرمی سے تو کبھی سختی سے اسے سمجھاتے ہیں۔ اگر بچہ کو اچھا کام سرانجام دیتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،بعض اوقات بچے کو انعام بھی دیتے ہیں تاکہ بچے میں مزید اچھے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔والدین بچے کو برائی سے منع کرتے ہیں اور اچھائی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ بچے کی نشوونما پر والدین کے تعلق سے درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
زیادہ افراد پر مشتمل خاندان:
جن بچوں کے بہن بھائی زیادہ ہوتے ہیں وہاں بچوں کی تربیت اچھے انداز میں نہیں ہو سکتی کیوں کہ والدین سب بچوں کی طرف یکساں توجہ نہیں دے سکتے ۔ اس طرح بچوں میں منفی رویے بیدار ہوجاتے ہیں۔
تربیت اولاد:
جب ایک بعد دوسرا نیا بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین کے تجربات میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ سب سے پہلے بچے کو خاندان والوں سے زیادہ توجہ ملتی ہے۔ ہر کوئی اس کی ضرورت کا دوسروں کی نسبت زیادہ خیال رکھتا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہے۔ اس طرح اس کا ذہن حاکمانہ ہوجاتا ہے۔ اس کی بات چیت میں بھی خود اعتمادی ہوتی ہے۔
بچوں کی شکل و شباہت اور وضع قطع:
اگر بچے کی شکل و صورت والدین کے کسی ایسے رشتے دار سے ملتی ہے جس کو وہ ناپسندکرتے ہیں تو غیر شعوری طور پروہ اپنے بچے کو بھی ناپسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ ایسے بچوں کی پیدائش پر گرم جوشی نہیں دکھاتے ۔ اس کے برعکس اگربچہ خوبصورت ہے اور اس کی شکل و صورت والدین کے کسی پسندیدہ رشتہ دار سے ملتی ہے تو وہ بچہ زیادہ محبت ،پیار اور شفقت سمیٹتا ہے۔
جنس کا اثر:
ہمارا معاشرہ زیادہ دیر تک ہندوؤن کے ساتھ رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی کئی باتیں ہم میں درآئی ہیں۔ ہندولوگ لڑکیوں کو اچھا نہیں سمجھتے اس کے مقابلے میں لڑکا ان کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر دو کے بعد تیسری بیٹی پیدا ہوجائے تو باپ اسے دیکھتا ہی نہیں ہے۔ بیٹی کو وہ پیار نہیں ملتا جس کی وہ حق دار ہے۔ حالانکہ لڑکا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے تو لڑکی اللہ کی رحمت ہے۔
والدین کی سماجی حیثیت:
جو والدین غریب ہوتے ہیں۔ جنہیں روزگار حاصل کرنے کے لئے بڑی تگ و دو کرنا پڑتی ہیں و ہ اپنے بچوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکتے ۔ ان کے بچے والدین کا حکم نہیں مانتے اور دوسرے بچوں کی نسبتوں سماجی برائیوں کی طرف جلدی مائل ہوتے ہیں۔ درمیانے طبقے کے لوگ جو خودتو زندگی کی خوشیاں حاصل نہیں کرسکتے وہ اپنے بچوں سے بہت سی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ جب ان کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ماؤں کا تعلیم یافتہ ہونا:
ایسی خواتین جو ملازمت کرتی ہیں وہ دوسروں کی نسبت اپنے بچوں کی تربیت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں۔وہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔ وہ جتنا بھی وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارتی ہیں اس میں بچے کی تربیت ہی کی طرف لگی رہتی ہیں۔ گھریلو خواتین اگرچہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہیں لیکن مسلسل کام اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ چڑچڑاہٹ کا شکارہو جاتی ہیں۔ وہ بچوں کی پرورش کی طرف سے بھی لاپرواہ رہتی ہیں۔ ایسے ماؤں کے بچوں میں منفی رویے پروان چڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔
2۔ بہن بھائیوں کے صحت مند انہ تعلقات میں والدین کا کردار تحریر کریں؟
بہن بھائیوں کے صحت مندانہ تعلقات میں والدین کا کردار:
جب کوئی بڑا بچہ چھوٹے بچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس وقت صرف اخلاقی نصیحت سے کام نہیں چلتا ہے کیونکہ اخلاقی نصیحت کرنے سے بچے میں موجود حسد کے جذبات کوفوری طور پرختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے درج ذیل اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
ذہنی تیاری:
بڑے بچے کو نومولود کے لئے ذہنی طورپر تیار کرنا چاہیے۔ مختلف حیلوں بہانوں سے اسے بتانا چاہیے کہ گھر میں ایک نیا بچہ آنے والا ہے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ نیا آنے والا بچہ اس کا دوست ہوگا جو بڑا ہو کر اس کے ساتھ کھیلے گا۔
محبت و شفقت کی یقین دہانی:
بچوں کو سمجھایا جائے کہ اس کے ساتھ والدین کی محبت ہمیشہ رہے گی اور آنے والے نئے بچے کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کم نہیں ہوگی۔
حوصلہ افزائی:
بچوں کی آزادی، خودمختاری اور خوداختیاری کی پہلے جیسی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ نئے آئے والے بچے کی وجہ سے اس کی وقعت کم ہوجائے گی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اچھے کاموں کی تعریف کریں تاکہ ان میں مزید اچھے کام کرنے کا شوق پیداہو۔
مقابلے سے گریز:
ہر بچے کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ہر بچے کی انفرادیت کی قدر کریں اور کسی ایک بچے کو دوسرے بچے پر فوقیت نہ دیں اس طرح بچہ احساسِ کمتری کا شکارہوجائے گا۔
خاندان کے فرد کے طور پر قبولیت:
والدین خاص طور پر ماں کو چاہیے کہ وہ نومولود کے سلسلے میں بڑے بچوں سے بھی ہلکا پھلکا کام لیں یا کہ بچہ نومولود کے لئے اپنائیت محسوس کرے۔ جیسے بچے کے لئے دودھ تیارکرنا، اس کے کپڑے تبدیل کرنا یا اس کے ساتھ کھیلنا وغیرہ۔
ایثاروقربانی کا جذبہ:
والدین کا فرض ہےکہ وہ اپنے بچوں میں قربانی کے جذبے کو پروان چڑھائیں۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ انہیں جوپیار، محبت اور شفقت سے مل سکتی ہے کسی اور جگہ سے کبھی نہیں مل سکتی ۔ ان احساسات سے بچوں میں خود اعتمادی پیداہوگی اور وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے۔
سلوک میں توازن:
والدین کو چاہیے کہ وہ سب بچوں سے مساوی سلوک کریں ۔کسی ایک بچے سے زیادہ اور دوسر ے سے کم محبت نہ رکھیں اور اس طرح بچہ احساسِ کمتری میں مبتلاہوجائے گا۔
پیدائش میں وقفہ:
بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ہونا چاہیے تاکہ سب بچوں کی طرف مناسب توجہ دی جاسکے۔
3۔ ہم عمروں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کریں؟
ہم عمروں سے اچھے تعلقات بچوں کی نشوونما پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ سکول جانے سے قبل اور سکول کے ابتدائی دور میں معاشرتی تعلقات نبھانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں اور آپس میں تعاون کرتے ہیں ، اس طرح ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
1۔نوبلوغت کے دورمیں بچے ایک دوسرے سے بہت سے تجربات حاصل کرتے ہیں جیسے ایک دوست اپنے دوست کو اپنی ضرورت سے آگاہ کرتا ہے ، دوسرا دوست اس کی ضرورت کو پورا کرتاہے، اس طرح ان میں انفرادی تعلقات پروان چڑھتے ہیں۔
2۔ بچے اپنے ہم عمروں کے ساتھ جنس کے کردار کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جنس کے کردار سے مراد ہے کہ مردوں اور عورتوں کو خصوصیات کوسمجھنا جیسے مرد خود مختار ہوتا ہے اور عورتیں صابر و شاکر ہوتی ہیں۔
3۔ خاندان سے باہر کے ماحول میں اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ہم عمر دوستوں کا ساتھ انتہائی ضروری ہے۔
4۔ خاندان کے رویوں کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادیت حاصل کرنے کے لئے ہم عمر بچوں سے دوستی ضروری ہے۔
5۔ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنا انسان کو ایثار، محبت اور خلوص سکھاتا ہے۔
6۔ مقابلہ بازی کا رحجان پیدا ہوتا ہے جس کی مدد سے اپنا مقام بنانے میں مدد ملتی ہے۔
4۔ سکو ل میں استحصال بالجبر کے مسائل کا حل تجویز کریں؟
سکول میں استحصال بالجبر کے مسائل کا حل:
بچے عام طور پر سکول میں شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ چھیڑچھاڑ ایسے انداز میں کی جاتی ہے کہ اُستاد کو اس کا علم نہیں ہونے پاتا۔ ایسے بچے جو کسی قسم کی کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں یا احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں وہ اس چھیڑچھاڑ کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نشوونما صحیح طور پر نہیں ہوپاتی اور وہ ہر وقت مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔
اگربچے باربار اس امر کی شکایت کریں تو والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اس کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ اس مسئلے کو احسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے طریقے اختیار کریں جس سے بچوں کی اصلاح ہو سکے۔ اس کےلئے مندرجہ ذیل طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔
1۔ اساتذہ اور والدین بچوں کی نشوونما کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کے ہم عمر دوسرے بچوں کوان کا دوست بنانے میں ان کی مدد کریں۔
2۔ اگردوست مخلص ہوگا تو بچے کو تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔
3۔ دوستوں کی موجودگی میں بچہ آوارہ قسم کے بچوں کی چھیڑچھاڑ سے پریشان نہیں ہوگا بلکہ دوستوں کی موجودگی میں اسے تحفظ کااحساس ہوگا۔
4۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کسی تعمیری کام کی طرف لگائیں تاکہ ان کا فالتووقت اچھے کاموں میں صرف ہو۔
5۔ بچوں کواخلاقیات سکھانے اور اس پر عمل کرنے کے لئے کہیں۔
6۔ بچوں کو مختلف قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے کہیں اور اچھی کارکردگی پر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔
7۔ بچوں کو انفرادی کام کرنے کی بجائے گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی طرف راغب کریں، اس طرح بچے میں مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا ہے اور وہ کام کو بہترانداز میں کرسکتا ہے۔
8۔ بچوں کی نگرانی اس طرح کی جائے کہ بچے کو اس نگرانی کاعلم نہ ہو۔
9۔ آدھی چھٹی کے وقت بچے کہا ں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اس کی طرف توجہ دینا چاہیے۔
10۔ کھیل کے میدان میں بھی بچوں کی طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ سکول کا ماحول خراب نہ ہو۔
11۔ ہرہفتے بچوں سے مختلف امور پر مشاورت کی جائے تاکہ بچے کو اپنی اہمیت کا احساس ہو۔
12۔ جو بچہ اُصول توڑے اسے سزا ضرور دی جائے لیکن کوئی سخت سز ا نہ دی جائے۔
13۔ بچوں سے پیار اور محبت سے پیش آیا جائے تاکہ بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
5۔ ہم عمروں کے تعلقات کے مثبت اور منفی اثرات تحریر کریں؟
ہم عمروں کے ساتھ مثبت اور منفی دباؤ کے اثرات:
مثبت دباؤ کے اثرات:
1۔ مثبت دباؤ بچوں کو انفرادی تجربات سے آگاہ کرتا ہے اور شخصیت میں پختگی پیداکرتا ہے۔
2۔ دوستوں میں مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا ہے اوربچہ دوسرے بچوں کی بہت سی اچھی عادات سیکھتا اور اپناتا ہے۔
3۔ بچوں سے میل جول رکھنے سے بچوں میں ہمدردی اور ایثار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہے۔
4۔ بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے اور ان کی باتیں توجہ سے سنتا ہے اس طرح بچے میں برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔
5۔ بچہ اپنے غصےاور جذبات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔
6۔ ہم عمر بچوں کے ساتھ رہ کر بچے کی جسمانی او رذہنی صحت اچھی ہو جاتی ہے اور اس کی پوشیدہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔
منفی دباؤ کے اثرات:
1۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے دوسروں پر بلاوجہ تنقید کرتے ہیں، دوسروں میں عیب جوئی کرتے ہیں، انہیں اپنے آپ سے کم تر جانتے ہیں ، جب ایسا ہوتا ہے تو بچہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔
2۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ ایک بچہ اپنے ہم عمر بچے کی نقالی میں اپنی خاندانی روایات سے ہٹ جاتا ہے اور یوں وہ خاندان بھر کی تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ تنقید اسے خاندان سے دور اور متنفر کردیتی ہے۔
3۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے پر ہم عمر دوستوں کا دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ بچے کے مزاج میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔ اور وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ اس کی معاشرتی زندگی ناہمواری کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ اپنی تعلیم کی طرف بھی دھیان نہیں دے سکتا ۔
6۔ گھریلو ملازمہ کی ذمہ داریاں لکھیں؟
گھریلو ملازمہ کی ذمہ داریاں:
1۔ ملازمہ کو دودھ اور غذا کے بارے میں مکمل معلوما ت ہونی چاہیے کیوں کہ اسے بچوں کی خوراک اور کھانے پینے کا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔
2۔ ملازمہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ کس وقت سوتا اور کس وقت جاگتا ہے۔
3۔ بچے کو وقت پر سلانا ملازمہ کی ذمہ داری ہے۔
4۔ ملازمہ کو چاہیے کہ وہ بچے کی کھیل کود کی جگہ کاتعین کرے تاکہ بچہ محفوظ جگہ پر کھیل سکے۔
5۔ بچے کو نہلانے کی ذمہ داربھی ملازمہ ہی ہوتی ہے۔ بچے کو مناسب وقت پر نہلاناچاہیے۔
6۔ ملازمہ کو چاہیے کہ وہ بچے کے ساتھ محبت اور نرمی سے پیش آئے۔
7۔ کھیل کے دوران میں بچوں کی نگرانی کرنا بھی ملازمہ کی ذمہ داری ہے۔
8۔ ملازمہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ بچہ کھیل کود کے دوران میں کوئی چوٹ نہ لگوا لے۔
9۔ ملازمہ کو کئی ایک سبق آموز کہانیاں یاد ہونی چاہیئں تاکہ وہ بچے کی دلچسپی کے لئے اسے یہ کہانیاں سنا سکے۔
10۔ ملازمہ کو گھر یلوکاموں میں بھی ماہر ہونا چاہیے جیسے گھر کی صفائی کرنا، کھاناپکانا وغیرہ ملازمہ یہ کام بچے کو سلانے کے بعد کرسکتی ہے۔
7۔ بچوں کی تربیت میں اُستاد کے کردار کی اہمیت لکھیں؟
بچوں کی تربیت میں اُستاد کے کردار کی اہمیت:
استادکا طالب علم سے بڑا گہرارشتہ ہوتا ہے۔ بچے کی معاشرتی نشوونما میں اُستاد بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کے گھریلو حالات کا جائزہ لے کر ہر ممکن ان کی مدد کرتا ہے۔ بچے روزانہ چھے سے سات گھنٹے اپنے اُستادصاحب کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اس طرح اُستاد کی شخصیت طالب علم کی زندگی پر گہر اثرمرتب ہوتا ہے۔ بچوں کی شخصیت کے سلسلے میں استاد کا مقام بلند ہے۔ بچوں کو کامیاب زندگی گزرانے کے طریقے اس کا استاد ہی سکھاتا ہے۔
اُستاد کے فرائض:
بچوں کی نشوونما کے سلسلے میں اُستا د کے فرائض درج ذیل ہیں۔
توجہ:
بچوں کی بہتر نگہداشت کے لئے ان پر توجہ دینا از حد ضروری ہے۔ ایک اچھا اُستاد وہی ہوتا ہے۔ جو بچوں پر بھرپور توجہ دے۔ وہ بچوں کی ذہنی استعداد کا جائزہ لیتا ہے اور گاہے بہ گاہے وہ طالب علموں کی دلچسپیوں پر توجہ رکھے تاکہ بچے کو پتا چلے گا کہ اس نے کیا کام کرنے ہیں اور کن کامون سے دوررہنا ہے۔
تحریک پیدا کرنا:
کچھ بچے اپنے گھریلو ماحول کی وجہ سے تنہائی پسند ہوتے ہی۔ ایسے بچوں کی نشوونما کے لئے ضرور ی ہے انہیں دوسرے بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا موقع دیا جائے ۔ایک اُستاد یہ کام بخوبی کر سکتا ہے۔ وہ بچوں کے مشاغل کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔ گروپ بنا کر بچوں میں باہمی رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ اس طرح شرمیلے بچے بھی دوسروں کے ساتھ مل کر کھیل سکتے ہیں گروپ بنانے بچوں کی تنہائی کا احساس کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
حوصلہ افزائی کرنا:
بچے جب کوئی اچھا کام کریں تو اُستاد صاحب کو چاہیے کہ وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس طرح بچوں میں کام کرنے کی لگن پیدا ہوتی ہے اور وہ پہلے سے بہترکام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
صحت مند مقابلے:
بچوں میں مقابلے کا جذبہ ابھاریں تو وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا آزماتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایک دوسرے سے تعاون کرنے پربھی ابھارا جا سکتا ہے۔
عزت و تکریم:
استاد کو چاہیے کہ وہ بچوں پر بہت زیادہ نکتہ چینی نہ کرے۔ اس سے بچے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ بچے کی عزت کریں تاکہ اس میں بھی دوسروں کی عزت کرنے کاجذبہ پیدا ہو۔
نگرانی کرنا:
استاد کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نگرانی کی طرف خاص توجہ دے۔ انہیں لڑائی جھگڑا سے دوررکھے۔ اگربچے آپس میں جھگڑا کریں تو احسن طریقے سے اس جھگڑے کو نمٹا دیں۔استاد کو کنٹرول جماعت کے تمام بچوں پر ہونا چاہیے ۔اُستاد کو جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔
علم کی جستجو:
تجسس کا مادہ بچوں میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ وہ ہر بات کی کھوج لگاناچاہتے ہیں۔ بچے طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ ان سوالات کا تسلی بخش جواب دے تاکہ بچے کی معلومات میں اضافہ ہو۔
ذمہ دار قابلِ اعتماد:
استاد بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ بچوں کے والدین سے رابطہ قائم کرے اور انہیں بچوں کی تعلیمی پوزیشن سے آگاہ کرے۔ استاد کو اپنی ذمہ داری کا پوراپورا احساس ہونا چاہیے۔ اس نے بچے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ بچے کے تعلیمی رحجان پر گہر ی نظر رکھے۔
اظہاررائے کی آزادی:
استاد کو چاہیے کہ وہ ہر بچے کو اظہارِ رائے کی آزادی دے۔ استاد کو سخت گیر نہیں ہونا چاہیے نہ ہی اسے جانبداری سے کام لینا چاہیے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ سکول کے ماحول کو دوستانہ رکھے۔
انفرادی اختلافات:
ہر بچے کا رہن سہن مختلف ہوتا ہے۔ کچھ بچے سبق جلد ی یاد کرلیتے ہیں اور کچھ بچوں کو سبق یاد کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ کچھ بچے خوب ہلا گلا کرتے ہیں جب کہ کچھ بچے خامو ش طبع ہوتے ہیں۔ استاد کو ہرایک کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کے مطابق ہی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ سب بچوں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں سامنے آ سکیں۔
قریبی رابطہ:
استاد کوبچوں سے قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ استاد بچوں کے تعلیمی حالات سے مکمل آگاہ ہوتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ بچوں کی بہترین تربیت کے لئے ان سے دوستانہ رویہ رکھے۔ وہ بچوں کو مختلف مشاغل میں حصہ لینے کی ترغیب دے تاکہ جماعت کا ماحول خوش گوار رہے۔
غیرجانب داری:
جماعت کے سب بچے ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور کچھ کم ذہین۔ استاد کو چاہیے کہ وہ سب بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ کمزور بچوں کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ کسی کے ساتھ جانبداری اک رویہ نہیں رکھنا چاہیے بلکہ استاد کو تمام طالب علموں کے ساتھ غیر جانبداری کا رویہ اپنانا چاہیے۔ ایک اچھااستاد وہی ہے جو سب بچوں سے مساوی سلوک کرے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ کرے۔
—————————تمت بالخیر مبادیات ہوم اکنامکس جماعت نہم 9——————————

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *