مغرور لومڑی اور بلی کہانی KAHANI MAGHROOR LOMRI AUR BILLI

 مغرور لومڑی اور بلی

 کہانی مغرور لومڑی اور بلی

​                       ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ  ایک بلی ایک جنگل میں رہتی تھی۔ وہیں پاس ہی ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔ایک دن   ان کی ملاقات ہوئی۔ لومڑی نے کہا، “اگر کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی فکر نہیں۔ مجھے ہزاروں  تراکیب آتی ہیں۔ میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی، لیکن خدا نخواستہ تو اگر کسی آفت دوچار ہو تو کیا کرے گی؟” بلی بولی، “ ! مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب یاد ہے۔ اگر اس سے چُوک جاؤں تو میں ماری جاؤں ۔ کہنے لگی، “مجھے تیری حالت پر بہت رحم آتا ہے۔  تو میرے سے دو چار ترکیبیں سیکھ لے۔

            ابھی وہ دونوں یہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ بہت قریب سے کتوں  آوازیں سنائی دیں۔ بلی نے خطرہ دیکھ کر اپنی پرانی ترکیب پر عمل کیا اور جھٹ سے پیڑ پر چڑھ کر اونچی ڈالیوں میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ اسی دوران   کتے اتنے قریب آ گئے کہ لومڑی اپنی کسی ترکیب پر عمل نہ کر سکی۔ ذرا سی دیر میں کتوں نے لومڑی کو دبوچ لیا ۔

اخلاقی سبق:

غرور کا سر نیچا

ایک بلی آبادی سے دور ایک جنگل میں رہتی تھی۔ وہیں پاس ہی ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔ آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ایک دوسرے سے ہو جاتی تھی۔ ایک دن جب سورج چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ایک گھنے پیڑ کے نیچے ان کی ملاقات ہوئی۔ خاصی دیر دونوں ایک دوسرے سے بات کرتی رہیں۔ لومڑی نے کہا، “اے بی بلی! اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آ جائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی فکر نہیں۔ مجھے ہزاروں گُر اور تراکیب آتی ہیں۔ میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی، لیکن خدا نخواستہ تو اگر کسی آفت دوچار ہو تو کیا کرے گی؟” بلی بولی، “اے بُوا! مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب یاد ہے۔ اگر اس سے چُوک جاؤں تو ہرگز میری جان نہ بچے اور میں ماری جاؤں۔” یہ سن کر لومڑی کو بلی پر بہت ترس آیا۔ کہنے لگی، “اے بی! مجھے تیری حالت پر بہت رحم آتا ہے۔ میرا جی تو یہ چاہتا ہے کہ ان ترکیبوں میں سے دو چار تجھے بھی بتاؤں، لیکن بہن! زمانہ بہت خراب آ گیا ہے۔ کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔” ابھی وہ دونوں یہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ بہت قریب سے کتوں اور شکاریوں کی آوازیں سنائی دیں۔ آوازیں سن کر یہ دونوں گھبرا گئیں۔ بلی نے خطرہ دیکھ کر آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی پرانی ترکیب پر عمل کیا اور جھٹ سے پیڑ پر چڑھ کر اونچی ڈالیوں میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ اسی دوران میں کتے اتنے قریب آ گئے کہ لومڑی اپنی کسی ترکیب پر عمل نہ کر سکی۔ ذرا سی دیر میں کتوں نے لومڑی کو دبوچ لیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ ٭٭٭​

وہیں پاس ہی ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔ آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ایک دوسرے سے ہو جاتی تھی۔ ایک دن جب سورج چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ایک گھنے پیڑ کے نیچے ان کی ملاقات ہوئی۔ خاصی دیر دونوں ایک دوسرے سے بات کرتی رہیں۔ لومڑی نے کہا، “اے بی بلی! اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آ جائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی فکر نہیں۔ مجھے ہزاروں گُر اور تراکیب آتی ہیں۔ میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی، لیکن خدا نخواستہ تو اگر کسی آفت دوچار ہو تو کیا کرے گی؟” بلی بولی، “اے بُوا! مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب یاد ہے۔ اگر اس سے چُوک جاؤں تو ہرگز میری جان نہ بچے اور میں ماری جاؤں۔” یہ سن کر لومڑی کو بلی پر بہت ترس آیا۔ کہنے لگی، “اے بی! مجھے تیری حالت پر بہت رحم آتا ہے۔ میرا جی تو یہ چاہتا ہے کہ ان ترکیبوں میں سے دو چار تجھے بھی بتاؤں، لیکن بہن! زمانہ بہت خراب آ گیا ہے۔ کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔” ابھی وہ دونوں یہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ بہت قریب سے کتوں اور شکاریوں کی آوازیں سنائی دیں۔ آوازیں سن کر یہ دونوں گھبرا گئیں۔ بلی نے خطرہ دیکھ کر آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی پرانی ترکیب پر عمل کیا اور جھٹ سے پیڑ پر چڑھ کر اونچی ڈالیوں میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ اسی دوران میں کتے اتنے قریب آ گئے کہ لومڑی اپنی کسی ترکیب پر عمل نہ کر سکی۔ ذرا سی دیر میں کتوں نے لومڑی کو دبوچ لیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ ٭٭٭​

2 comments

  • The arrogance of the fox abundantly tricks did not save him because he was not sincere in the face of life with courage and sincerity and know his true abilities
    The rabbit was honest and kind and knew how to deal with the disasters of life

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.