نوٹس / مشقی سوالات کا حل :اسلامیات 6 جماعت:ششم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور پاکستان

[bws_pdfprint display=”pdf,print”]اسلامیات 6 جماعت:ششم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور پاکستان[wysija_form id=”1″]
باب اول : القرآن الکریم
الف: ناظرہ قرآن پارہ 7 تا پارہ 12
ب: حفظ قرآن ا-سورۃ الانشراح 2- سورۃ التین 3- سورۃ القدر
سورة الشرح
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴿١﴾ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ﴿٢﴾ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ﴿٣﴾ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ﴿٤﴾ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴿٥﴾ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿٦﴾ فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ﴿٧﴾ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب ﴿٨﴾
سورة التين
بِّسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴿١﴾ وَطُورِ سِينِينَ ﴿٢﴾ وَهَـٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ﴿٣﴾ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿٤﴾ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ﴿٥﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ ﴿٦﴾ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ ﴿٧﴾ أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ﴿٨﴾
سورة القدر
بِّسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾
ج: حفظ و ترجمہ
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٥٠
ترجمہ : اے پروردگار ہم پر صبر کے دھانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں ) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتح یاب کر۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾
ترجمہ: اے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿١٠﴾
ترجمہ: اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہماے دل میں کینہ (حسد) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔
1- خالی جگہ پر درست الفاظ اور اعراب لگا کر سورۃ الانشراح مکمل کریں۔
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
—————- نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴿١﴾ وَوَضَعْنَا —————- وِزْرَكَ ﴿٢﴾ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ﴿٣﴾ وَرَفَعْنَا —————- ذِكْرَكَ ﴿٤﴾ فَإِنَّ —————- الْعُسْرِ يُسْرًا﴿٥﴾ —————- مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿٦﴾ —————- فَرَغْتَ فَانصَبْ ﴿٧﴾ —————- رَبِّكَ فَارْغَب ﴿٨﴾
2- خالی جگہ پر درست الفاظ اور اعراب لگا کر سورۃا لقدر مکمل کریں۔
سورة القدر
بِّسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
————– أَنزَلْنَاهُ ————– لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ ————– لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ ————– شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم ————– كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ ————– حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾
3- خالی جگہ پر درست الفاظ اور اعراب لگا کر سورۃا لتین مکمل کریں۔
سورة التين
بِّسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴿١﴾ ————– سِينِينَ ﴿٢﴾ ————– الْبَلَدِ الْأَمِينِ﴿٣﴾ ————– خَلَقْنَا الْإِنسَانَ ————– أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿٤﴾ ————– رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ﴿٥﴾ ————– الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ ————– غَيْرُ مَمْنُونٍ ﴿٦﴾ ————– يُكَذِّبُكَ ————– بِالدِّينِ ﴿٧﴾ أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ﴿٨﴾
4- مثال کے مطابق کالم الف میں دی گئی آیات کو کالم ب میں دی گئی آیات کے ساتھ اس طرح ملائیں کہ آیت مکمل ہوجائے۔
کالم الف کالم ب
1. رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا
2. رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا
3. رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا
4. وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا a) وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۔
b) وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ۔
c) رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
d) الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ
جوابات: (1-)(2-)(3-)(4-)
5- کالم الف میں دی گئی ہر آیت کو کالم ب میں دے گئے اس کے ترجمے سے ملائیں۔
کالم الف کالم ب
a) رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿
b) رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿
c) رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ
d) وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ 1. اور مومنوں کی طرف سے ہماے دل میں کینہ (حسد) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔
2. ترجمہ : اے پروردگار ہم پر صبر کے دھانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں ) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتح یاب کر۔
3. ترجمہ: اے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔
4. ترجمہ: اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما۔
جوابات: (1-)(2-)(3-)(4-)
6- درج ذیل سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
الف: سبق میں دی گئی سورۃ البقرۃ کی آیت کا ترجمہ تحریر کریں ۔؟
جواب:

ب: سورۃ الاعراف کی دی گئی آیت مع ترج ہ تحریر کریں۔
جواب:

ج: سورۃ الحشر کی دی گئی آیت مع ترج ہ تحریر کریں۔
جواب:

باب دوم: ایمانیات و عبادات
اللہ تعالیٰ پر ایمان صفحہ:9
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: ایمان سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا کیا مطلب ہے؟
جواب: ’’
ایمان دل سے تصدیق ، زبان سے اقرار اور اعضاء و جوارح کے سا تھ عمل کا نام ہے۔‘‘
اللہ تعالی پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی کے پروردگار ہونے، معبود ہونے اور اس کے اسماء و صفات پر پختہ یقین ہو، نیز یہ یقین ہو کہ وہی عبادت کے مستحق ہے۔
ب: توحید کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب:
توحید کے لغوی معنی ہے ایک ماننا ،یکتا جاننا
ج: عقیدہ توحید سے کیا مراد ہے؟
جواب:
شریعت کی اصطلاح میں توحیدا ورعقیدہ توحید یہ ہے کہ اللہ تعالی کو ذات و صفات میں ایک مانا جائے اور اس کے تمام احکامات پر سختی سے عمل کیا جائے۔
د:عقید ہ توحید کی وجہ سے انسا ن میں کون کون سی صفات پیدا ہوتی ہیں؟
جواب: عقید ہ توحید کی وجہ سے مسلمان میں مندرجہ ذیل صفات پیدا ہوتی ہیں:
1- جرات
2- بہادری
3- صبر
4- توکل
5- یقین
6- اتحاد
7- مساوات
8- اخوت وغیرہ
2: درست جواب منتخب کرکے جملے مکمل کریں:
جوابات: (1-یقین کرلینا)(2-آخری)(3-یقین)(4-اختیار)
3: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-ایک)(2-عیب)(3-آخری)(4-حکم ) (5-ایمان)(6-یکتا)(7-مدد)(8-شریک)(9-نظام)(10-موت)
4: کالم الف کو کالم ب سے ملائیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
جوابات: (1-7)(2-5)(3-9)(4-6)(5-4)(6-3)(7-2)(8-1)(9-8)
اذان – فضیلت و اہمیت صفحہ:13-15
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: اذان کے لفظی معنی اور اس کی اہمیت بیان کریں؟
جواب:
” اذان کے لغوی معنی ہیں، خبردار کرنا، اطلاع دینا اور اعلان کرنا۔ اذان” اسلام میں نماز کے لئے پکار کو کہتے ہیں۔
اہمیت :
1- در حقیقت اذان ایک خدائی دعوت ہے جو اپنے بندوں کو اپنی عبادت کی طرف بلاتی ہے.
2- جس طرح اذان کے الفاظ اپنے اندر بے پناہ معانی و مفاہیم لیے ہویے ہیں وہیں ان الفاظ کی ترتیب بھی کسی حکمت سے خالی نہیں ہے
ب: اذان کی فضیلت بیان کریں؟
جواب:
اذان کی فضیلت :
1- رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن‘ اذان دینے والے سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے یعنی سب سے ممتازنظر آئیں گے۔۔۔۔۔۔ مسلم ۔ باب فضل الاذان
2- رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مؤذن کی آواز جہاں جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ ہر جاندار اور بے جان جو اُس کی آواز کو سنتے ہیں، اُس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مسند احمد
3- رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مؤذن کی آواز کو جو درخت، مٹی کے ڈھیلے، پتھر، جن اور انس سنتے ہیں وہ سب قیامت کےدن مؤذن کے لئے گواہی دیں گے۔۔۔۔۔۔۔ ابن خزیمہ
4- رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے بارہ سال اذان دی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی (ان شاء اللہ) ۔۔۔ حاکم
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اذان دینے والوں کو قیامت کی سخت گھبراہٹ کا خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کو حساب دینا ہوگا،بلکہ وہ مشک کے ٹیلے پر تفریح کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ترمذی ، طبرانی، مجمع الزوائد ۔ باب فضل الاذان
5- رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان سننے کے بعد اذان کے بعد کی دعا پڑھے تو اس کے لئے قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کی شفاعت واجب ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ۔ باب الدعاء عند النداء
ج: اذان کی ابتدا ء بیان کریں؟
جواب:
پہلی رائے: لوگوں کی اطلاع کے لئے آگ روشن کر دی جائے۔ اس میں مجوسی یعنی آتش پرستوں کی مشابہت تھی۔
دوسری رائے : ناقوس بجایا جائے۔ آپ نے فرمایا اس میں نصاریٰ کی مشابہت ہے۔ تیسری رائے : یوق بجایا جائے۔ آپ نے فرمایا یہ یہودیوں کی مشابہت ہو گی۔ آپ نے مذکورہ تینوں صورتوں کو غیر مسلموں سے مشابہت ہونے کی وجہ سے مسترد فرما دیا۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو اطلاع دینے کا طریقہ ممتاز اور منفرد ہونا چاہئے۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے عرض کیا کہ ایک آدمی کی ذمہ داری ہو کہ وہ ہر نماز کے وقت اطلاع کر دیا کرے۔ چنانچہ آپ کے حکم سے حضرت بلال یہ کہتے الصلوٰۃ جامعتہ ۔
اسی اثناء میں حضرت عبداللہ بن زید انصاریٰ نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اذان کے الفاظ کا خواب عرض کیا ۔ لہذا آپؐ نے فرمایا یہ خواب سچا ہے اور آج یہی وہ اذان مروج ہے۔ حضور اکرمؐ نے حضرت عبداللہ کو حکم دیا کہ یہ حضرت بلال کو بتا دو تاکہ وہ اذان دیا کریں۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند اور نرم و شیریں آواز والے ہیں۔ یہاں دو باتوں کا خاص طورسے پتہ چلا کہ مئوذن صحیح خوان اور خوش آواز ہونا چاہئے اور دوسری یہ کہ ایک مسلمان کو کسی بھی معاملے میں غیر مسلمانوں کی نقل یا مشابہت اختیار نہیں کرنی چاہئے۔
2: درست جملوں پر √ نشان لگائیں۔
جوابات: (1-اعلان کرنا)(2-پانچ)(3-مؤذن)(4-بھاگتا ہے) (5-ایمان مضبوط ہوتا ہے)
3: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-x)(2-x)(3-x)(4-x) ) 5-/)
4: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-اعلان )(2-اذان)(3-شر)(4-حضرت بلال رضی اللہ عنہ)(5-مؤذن)(6-نماز)(7-بلند)(8-خوف)(9-اتفاق)
نماز اہمیت و فضیلت اور فرائض صفحہ:19-20
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: نماز سے کیا مراد ہے؟ اسکی اہمیت اور فضیلت بیان کریں؟
جواب:
( نماز )لفظ صلوٰۃ کا لغوی معنی دعا و استغفار اور رحمت ہے۔
اہمیت :
رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائیگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداؤد، مسند احمد)
فضیلت٭نماز ہمیں کاہل اور سست ہونے سے بچاتی ہے۔
٭ نماز ہمیں وقت کا پابند بننے کا درس دیتی ہے۔
٭ نماز ہمیں بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
ب: نماز سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کریں؟
جواب:
نماز سے مراد وہ عبادت ہے جس کا دن رات میں پانچ مرتبہ ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں دیگر عبادات سے بڑھ کرکثرت اور تاکید سے نماز کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔
ج: نماز بے حیائی اور برے کاموں سے کیسے روکتی ہے؟
جواب:
:اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ .عنکبوت 85
بے شک نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے
ایک شخص حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے اور صبح ہوتے چوری کرتا ہے۔ حضورﷺنے فرمایا کہ اس کی نماز اس کو اس فعل سے عنقریب ہی روک دے گی۔
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-دعا)(2-پانچ)(3- نماز)(4-اللہ کی بڑائی بیان کرنا)(5-مومن)
3: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-درست)(2-غلط)(3-درست)(4-درست)(5- درست)
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-صلوۃ)(2-ستون)(3-نماز)(4-معراج) (5-ارکان)(6-بڑائی)(7-جھکنا)(8-ترین رکن)(9-گواہی)
نماز جنازہ اور اس کی اہمیت ص: 21-23
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: نماز جنازہ سے کیا مرادہے؟
جواب:
جنازہ کی نماز فرضِ کفایہ ہے۔فرضِ کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر چند آدمی بھی پڑھ لیں تو سب بری الذمہ ہو گئے ورنہ وہ سب گنہگار ہوں گے جن کو خبر پہنچی تھی لیکن وہ نہیں آئے۔ اس کے لیے جماعت شرط نہیں ایک آدمی بھی پڑھ لے تو فرض ادا ہوگیا۔
اس کے دورکن ہیں: چار بار تکبیر کہنااور کھڑے ہوکر پڑھنا۔ اس کی تین سنتیں ہیں: اللہ کی حمدوثناء کرنا، حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا اور میت کے لیے دعا کرنا۔ میت سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہوا پھر مرگیا۔ جو مرا ہوا پیدا ہو اس کی نماز جنازہ نہیں۔ نیز میت کا سامنے ہونا ضروری ہے غائب کی نماز نہیں۔ کئی میتیں جمع ہوجائیں تو سب کے لیے ایک ہی نماز کافی ہے۔ سب کی نیت کرے اور علیحدہ علیحدہ پڑھے تو افضل ہے۔
ب: نماز جنازہ کی ادائیگی کاطریقہ کیا ہے؟
جواب:
نمازِ جنازہ کا طریقہ
1 ہر مسلمان کا جنازہ پڑھانا ضروری ہے۔ میت مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔
2 چار مہینے سے زائد عمر کا حمل اگر ساقط ہو جائے تو بھی ناقص الخلقت بچے کا جنازہ پڑھانا چاہیئے کیونکہ اس بچے میں روح ڈال دی گئی تھی۔
3 اگر بچے میں روح نہیں ڈالی گئی تھی تو ایسے اسقاط کا غسل و جنازہ نہیں ہوتا۔
4 میت اگر مرد ہو تو اس کے درمیان میں اور اور عورت کے سر کی طرف امام کو کھڑا ہونا چاہیئے۔
5 جنازے کی چار تکبیرات ہوتی ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد تعوذ، بسم اﷲ اور سورہ فاتحہ پڑھی جائے۔ دوسری تکبیر کے بعد دوردِ ابراہیمی مکمل پڑھا جائے۔ تیسری تکبیر کے بعد مسنون دعائیں میت کی بخشش کے لئے پڑھی جائیں۔ اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھر دی جائے۔
ج: نماز جنازہ کی دینی اور معاشرتی اہمیت کیا ہے؟
جواب:
اس دنیا میں ہر ایک کی جان خواہ وہ انسان ہو یا ہوں الله کی عطا کردہ امانت ہے- ہر انسان اور حیوان کو اس کی زندگی کی طے شدہ حد پوری کرنے کے بعد موت آنی ہے- اس کے بعد اس کا حساب کتاب شروع ہو جانا ہے اور الله کی پاک ذات کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے- دنیا کی ہر چیز چرند ، پرند، حیوان، انسان، جنوں یہاں تک کہ فرشتوں کو بھی فنا ہے باقی رہنے والی صرف الله کی ذات ہے – قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ” ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے” –
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-نماز جنازہ)(2-کفن پہنانا)(3-امام کے سامنے)(4-آخرت پر ایمان پختہ ہوتاہے)
3: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-موت)(2-کفایہ)(3-غسل)(4-آخرت)
4: کالم الف کو کالم ب سے ملائیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
جوابات: (1-4)(2-3)(3-5)(4-2)(5-1)
حج اور اسکی اہمیت ص:24-27
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: حج کا مفہوم اور اسکی فضیلت بیان کریں؟
جواب:
حج قولی، بدنی، قلبی، مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور بندی کی بندگی کا بے پناہ اظہار ہوتا ہے۔
حج کے لغوی معنی ارادہ کرنا کے ہیں۔
حج کے شرعی معنی : اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کے قصد کرنے کو حج کہتے ہیں۔
حج کی فضیلت:
نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:
“حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔”
(صحیح البخاری، العمرۃ، حدیث:17733)
حج مبرور: وہ حج ہے جو مسنون طریقے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق کیا گیا ہو، اس میں کوئی شہوانی بات، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا نہ کیا گیا ہو۔ ایک اور حدیث میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:
“جس شخص نے الله کے لیے حج کیا، (اس دوران میں) کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا”۔
(صحیح البخاری، الحج، حدیث: 15211)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے عظیم اجروثواب کا مستحق صرف وہ شخص ہے جس نے دوران حج زبان سے کوئی بیہودہ بات کی نہ ہاتھ، پاوؑں اور دیگر اعضاؑ (آنکھوں، کانوں وغیرہ) سے کوئی برا کام کیا۔
ب: حج کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں تحریر کریں؟
جواب:
حج کی اہمیت:
حج کی اہمیت اس بات سے روزروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ رب العالمین نے قرآن مجید میں اس کی فرضیت کو بیان کیا ہے اور ایک بڑی سورت کا نام “سورۃ الحج” رکھا ہے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
” میں چاہتا ہوں کہ شہروں میں اہنے عُمّال بھیجوں، وہ جا کر جائزہ لیں اور ہر اس شخص پر جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، جزیہ مقرر کریں کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں۔”
(التلخیص الخبیر:223/22)
اسی طرح سنن بیہقی میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین بار فرمایا: ” جو شخص وسعت اور پر امن راستے (استطاعت) کے باوجود حج نہیں کرتا اور مر جاتا ہے تو ( اس کے لیے برابر ہے) چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر اور اگر استطاعت کے ہوتے ہوئے می نے حج نہ کیا ہو تو مجھے حج کرنا، چھ یا سات غزوات (میں شرکت کرنے) سے زیادہ پسند ہے۔”
(السنن الکبرٰی للبیھقی:334/44)
چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ:”اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے ۔” (سورہؑ اٰل عمران: 97) سے بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس اثر کی تائید ہوتی ہے کہ صاحب استطاعت شخص کا حج مں تساہل کرنا اس کو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔
اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن حج بھی ہے، ان ارکان کو اسلام کے پانچ ستون بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن و سنت اور تاریخ اور مسلمانوں کا ہمیشہ سے حج پر عمل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نماز، روزہ اور زکوۃ کے جیسی اہم عبادت ہے۔ قرآن میں وَ لِلهِ عَلَي‌ الناسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْهِ سَبيلاً (قرآن: سورۃ آل عمران:97)
ترجمہ: خدا کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے: اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، يقينا محمد صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم اللہ كے رسول ہيں، نماز كى پابندى كرنا، زکوۃ ادا كرنا، رمضان كے روزے ركھنا اور بيت اللہ كا حج كرنا۔ ابو ہریرہ سے مروی ہے: میں نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ و رسول پر ایمان لانا،عرض کی پھر کون سا؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد،پھر عرض کی تو فرمایا حج مبرور[33] نبى كريم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ہے: “يقينا اللہ تعالى نے تم پر حج فرض كيا ہے اس ليے تم حج كرو”۔
ج: حج کے فوائد بیان کریں؟
جواب:
حج مختلف عبادات کا مجموعہ ہے، قبل از اسلام عبادت حج عرب معاشرے میں روحانی آسودگی کے ساتھ ساتھ امن اور معاشی لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل تھی۔ حج کے مہینوں اور اشہر حرم میں جنگ و جدل کرنا سخت ممنوع تھا، نیز حج کے موقع پر دیگر علاقوں سے لوگ آتے تو اپنے مال تجارت بھی لاتے، اور یہاں سے واپسی پر خریداری بھی کرتے. عرفات کے قریب عکاظ نامی میلہ بھی لگتا تھا جو عرب کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھی۔ یہ منڈی ذو القعدہ کے نصف سے آخر ماہ تک جاری رہتی.
اسلام کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکوں اور کافروں (غیر مسلموں) کو حج کرنے اور مسجد الحرام میں آنے سے روک دیا۔ حج مسلمانوں کے مابین عالمگیر اخوت کا شاندار مظاہرہ ہے۔ نسل، زبان، جائے پیدائش اور طبقاتی امتیاز کو قطع نظر کر کے حج کو ایک فرض سمجھ کر وہاں جاتے ہیں اور ایک دوسرے میں برادرانہ مساوات کے جذبہ کے تحت گھل مل جاتے ہیں۔ ایک ساتھ سارے اعمال بجا لاتے، ایک ہی زبان میں میں تلبیہ پڑھتے اور ایک ہی رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-الف)(2-ج)(3-الف)
3: کالم الف کو کالم ب سے ملائیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
جوابات: (1-5)(2-4)(3-1)(4-3)(5-2)
باب سوم : سیرت طیبہ
صلح حدیبیہ ص:28-32
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: صلح حدیبیہ سے کیا مراد ہے؟ اس صلح کا پس منظر بیان کریں؟
جواب:
مکہ معظمہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ایک کنواں حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ وہاں مدینہ اورمشرکینِ مکہ کے درمیان مارچ 628ء کو ایک معاہدہ ہوا جسے صلح حدیبیہ (عربی میں صلح الحديبية) کہتے ہیں۔ 628ء (6 ھجری) میں 1400 مسلمانوں کے ہمراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ عرب کے رواج کے مطابق غیر مسلح افراد چاہے وہ دشمن کیوں نہ ہوں کعبہ کی زیارت کر سکتے تھے جس میں رسومات بھی شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانتقریباً غیر مسلح تھے۔ مگر عرب کے رواج کے خلاف مشرکینِ مکہ نے حضرت خالد بن ولید (جو بعد میں مسلمان ہو گئے) کی قیادت میں دو سو مسلح سواروں کے ساتھ مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر مکہ کے باہر ہی روک لیا۔ رسول اللہ نے حضرت عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ انھیں وہاں روک لیا گیا۔ ان کے واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو آپﷺ نے صحابہ سے بیعت لی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔اس بیعت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ مرتے دم تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس آگئے اس بیعت کی خبر مکہ والوں کو ہوئی اور انھوں نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار پایا۔ تو صلح پر آمادہ ہوگئے۔ رسول پاک نے مکہ والوں کی شرائط قبول فرما لیا اور حضرت علی علیہ السلام سے یہ صلح نامہ لکھوایا گیا۔ صلح حدیبیہ تک مسلمان انتہائی طاقتور ہو چکے تھے مگر یہ یاد رہے کہ اس وقت مسلمان جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اسی لیے بعض لوگ چاہتے تھے کہ جنگ ضرور ہو۔ خود مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جن کو معاہدہ کی شرائط پسند نہیں تھیں۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ مگر حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دانشمندی سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی بنیادی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ نہیں لڑی جائے گی اور مسلمان اس سال واپس چلے جائیں گے اور عمرہ کے لیے اگلے سال آئیں گے۔ چنانچہ مسلمان واپس مدینہ آئے اور پھر 629ء میں حج کیا۔ اس معاہدہ کے بہت سود مند اثرات برآمد ہوئے۔
ب: بیعت رضوان کسے کہتے ہیں؟
جواب:
ہجرت کے بعد چھ سال تک مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کو مکہ نہ جاسکے۔ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چودہ سومسلمانوں کے ہمراہ فریضہ حج ادا کرنے کے لیے مدینے سے روانہ ہوئے۔قریش نے تہیہ کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو حج نہ کرنے دیں گے۔ آنحضرت نے حدیبیہ کے مقام پر قیام کیا۔ اور اہل مکہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمارا مقصد جنگ کرنا نہیں۔ ہم حج کرنے آئے ہیں۔ لیکن قریش مکہ کے ساتھ تمام بات چیت بے سود ثابت ہوئی۔ آخر رسول خدا نے حضرت عثمان کو سفیر بنا کر بھیجا کہ وہ قریش سے بات چیت کریں۔ قریش نے حضرت عثمان کو مکے میں روک لیا۔ اس سے مسلمانوں کو خدشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں حضرت عثمان کو شہید نہ کر دیا گیا ہو۔ آنحضرت نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تمام جانثاروں سے بیعت لی کہ جب تک حضرت عثمان کا قصاص نہیں لیں گے اس جگہ سے نہیں ہلیں گے۔ مرتے دم تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیں گے۔ اس بیعت کو بیعت الرضوان کہتے ہیں اور وہ درخت شجرۃ الرضوان کہلاتا ہے۔قرآن پاک کو سورۃ الفتح میں اس واقعے کی طرف اشارہ موجود ہے۔
ج: بیعت رضوان حضرت محمد ﷺ نے کس صحابی کا بدلہ لینے کے لیے لی؟
جواب:
بیعت رضوان حضرت محمد ﷺ نے اپنے صحابی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ لینے کے لیے لی
د- صلح حدیبیہ کی شرائط کیا تھیں؟
جواب:
ابتداء اللہ کے نام سے۔ امن کی یہ شرائط محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور سہیل بن عمرو سفیرِ مکہ کے درمیان طے ہوئیں۔ دس سال تک کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ کوئی بھی (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ اسی طرح کوئی بھی قریش (مشرکینِ مکہ) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ کوئی بھی جوان آدمی یا ایسا شخص جس کا باپ زندہ ہو (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف اپنے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر جائے تو اسے اپنے والد یا سرپرست کو واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی بھی قریش کی طرف جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ اس سال (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ مگر اگلے سال وہ اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں، تین دن گزار سکتے ہیں اور طواف کر سکتے ہیں۔ ان تین دنوں میں قریشِ مکہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے ہٹ جائیں گے۔ جب (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں گے تو غیر مسلح ہوں گے سوائے ان سادہ تلواروں کے جو عرب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-الف)(2-ج)(3-ب)(4-ج) (5-ج)(6-الف)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-حدیبیہ)(2-1400)(3-حضرت عثمان رضی اللہ عنہ)(4-سہیل بن عمرو) (5-10)(6-فتح مبین)
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-x)(2-x)(3-x)(4-x)
فرمانرواؤ ں کو دعوت اسلام ص:33-37
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: نبی کریم ﷺ نے مختلف فرماں رواؤں کو تبلیغی خطوط کیوں روانہ کیے؟
جواب:
۶ ھ کے اخیر میں جب رسول اللہﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔
ب: قیصر روم کے نام لکھے گئیے خط کا متن تحریر کریں؟ اس خط کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟
جواب:
قیصر شاہ روم کے نام خط :
” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ”
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہرقل عظیم روم کی طرف
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ تم اسلام لاؤ سالم رہو گے ۔ اسلام لاؤ اللہ تمہیں تمہارا اجر دوبارہ دے گا ۔ اور اگر تم نے رو گردانی کی تو تم پر اریسیوں ( رعایا) کا بھی ( گناہ ) ہوگا ۔ اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پوجیں ، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور اللہ کے بجائے ہمارا بعض بعض کو رب نہ بنائے ۔ پس اگر لوگ رخ پھیریں تو کہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں ” ۔ (14)
اس گرامی نامہ کو پہنچانے کے لئے دحیہ بن خلیفہ کلبی ( رضی اللہ عنہ ) کا انتخاب ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ خط سربراہ بُصرٰی کے حوالے کردیں اور وہ اسے قیصر کے پاس پہنچا دے گا ۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ان کا ارشاد ہے کہ ابو سفیان بن حرب نے ان سے بیان کیا کہ ہرقل نے اس کو قریش کی ایک جماعت سمیت بلوایا ۔ یہ جماعت صلح حدیبیہ کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان طے شدہ عرصہ امن میں ملک شام تجارت کے لئے گئی ہوئی تھی ۔ یہ لوگ ایلیاء ( بیت المقدس ) میں اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ (15) ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلایا ۔ اس وقت اس کے گردا گرد روم کے بڑے بڑے لوگ تھے ۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے اس سے تمہارا کون سا آدمی سب سے زیادہ قریبی نسبی تعلق رکھتا ہے ؟ ابو سفیان کا بیان ہے کہ میں نے کہا ‘ میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں ۔ ہرقل نے کہا ، اسے میرے قریب کردو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرکے اس کی پشت کے پاس بٹھا دو ۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا میں اس شخص سے اُس آدمی ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق سوالات کروں گا ۔ اگر یہ جھوٹ بولے تو تم لوگ اسے جھٹلا دینا ۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یقیناً جھوٹ بولتا ۔ ابو سفیان کہتے ہیں اس کے بعد پہلا سوال جو ہرقل نے مجھ سے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے بارے میں کیا وہ یہ تھا کہ تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے؟

میں نے کہا : وہ اونچے نسب والا ہے ۔
ہرقل نے کہا : تو کیا یہ بات اس پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی؟
میں نے کہا : نہیں ۔
ہرقل نے کہا : کیا اس کے باپ دادا میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟
میں نے کہا : نہیں ۔
ہرقل نے کہا : اچھا تو بڑے لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا کمزوروں نے؟
میں نے کہا : بلکہ کمزوروں نے۔
ہرقل نے کہا : یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں ؟
میں نے کہا : بلکہ بڑھ رہے ہیں ۔
ہرقل نے کہا : کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس دین سے برگشتہ ہوکر مرتد بھی ہوتا ہے ؟
میں نے کہا : نہیں ۔
ہرقل نے کہا : اس نے جو بات کی ہے کیا اسے کہنے سے پہلے تم لوگ اس کو جھوٹ سے مُتہم کرتے تھے ؟
میں نے کہا : نہیں ۔
ہرقل نے کہا : کیا وہ بدعہدی بھی کرتا ہے ؟
میں نے کہا : نہیں ۔ البتہ ہم لوگ اس وقت اس کے ساتھ صلح کی ایک مدت گزار رہے ہیں معلوم نہیں اس میں وہ کیا کرے گا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس فقرے کے سوا مجھے اور کہیں کچھ گھسیڑنے کا موقع نہ ملا ۔
ہرقل نے کہا : کیا تم لوگوں نے اس سے جنگ کی ہے ؟
میں نے کہا : جی ہاں ۔
ہرقل نے کہا : تو تمہاری اور اس کی جنگ کیسی رہی ؟
میں نے کہا : جنگ ہم دونوں کے درمیان برابر کی چوٹ ہے ۔ وہ ہمیں زک پہنچا لیتا ہے اور ہم اسے زک پہنچا لیتے ہیں ۔
ہرقل نے کہا : وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟
میں نے کہا : وہ کہتا ہے صرف اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ۔ تمہارے باپ دادا جو کچھ کہتے تھے اسے چھوڑ دو ۔ اور وہ ہمیں نماز ، سچائی ، پرہیز ، پاک دامنی اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے ۔
اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا : ” تم اس شخص ( ابو سفیان ) سے کہو کہ میں نے تم سے اس شخص کا نسب پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ اونچے نسب کا ہے ، اور دستور یہی ہے کہ پیغمبر اپنی قوم کے اونچے نسب میں بھیجے جاتے ہیں ۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی ؟ تم نے بتلایا کہ نہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی اور نے کہی ہوتی تو میں یہ کہتا کہ یہ شخص ایک ایسی بات کی نقالی کر رہا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے ۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟ تم نے بتلایا کہ نہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنے باپ کی بادشاہت کا طالب ہے ۔
اور میں نے یہ دریافت کیا کہ کیا جو بات اس نے کہی ہے اسے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے ؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں۔ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بولے ۔
میں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بڑے لوگ اس کی پیروی کر رہے ہیں یا کمزور ؟ تو تم نے بتایا کہ کمزوروں نے اس کی پیروی کی ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ پیغمبروں کے پیروکار ہوتے ہیں ۔
میں نے پوچھا کہ کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص برگشتہ ہو کر مرتد بھی ہوتا ہے ؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں ، اور حقیقت یہ ہے ایمان کی بشاشت جب دلوں میں گھس جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا وہ بدعہدی بھی کرتا ہے ؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں اور پیغمبر ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ وہ بدعہدی نہیں کرتے ۔
میں نے یہ بھی پوچھا کہ وہ کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دیتا ہے ، بت پرستی سے منع کرتا ہے ، اور نماز ، سچائی اور پرہیز گاری و پاک دامنی کا حکم دیتا ہے ۔
تو جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یہ شخص بہت جلد میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہو جائے گا ۔ میں جانتا تھا کہ یہ نبی آنے والا ہے لیکن میرا یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم سے ہوگا ۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ سکوں گا تو اس سے ملاقات کی زحمت اٹھاتا ، اور اگر اس کے پاس ہوتا تو اس کے دونوں پاؤں دھوتا”۔
اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگا کر پڑھا ۔ جب خط پڑھ کر فارغ ہوا تو وہاں آوازیں بلند ہوئیں اوربڑا شور مچا ۔ ہرقل نے ہمارے بارے میں حکم دیا اور ہم باہر کر دئیے گئے ۔ جب ہم لوگ باہر لائے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ، ابو کبشہ ( 16)کے بیٹے کا معاملہ بڑا زور پکڑ گیا۔ اس سے تو بنواصفر ( رومیوں ) (17) کا بادشاہ ڈرتا ہے ۔ اس کے بعد مجھے برابر یقین رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب آکر رہے گا یہاں تک کہ اللہ نے میرے اندر اسلام کو جاگزیں کر دیا۔
یہ قیصر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کا وہ اثر تھا جس کا مشاہدہ ابو سفیان نے کیا ۔ اس نامہ مبارک کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پہنچانے والے یعنی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو مال اور پارچہ جات سے نوازا ۔
ج: حبشہ کے بادشاہ او ر والئ مصر نے آپﷺ کے خطوط پر کس قسم کے جواب دیئے؟
جواب:

د: شاہ ایران نے آپﷺ کے خط کو سن کر کیا رویہ اختیار کیا اور اس کا کیا انجام ہوا؟

2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-ج)(3-الف)(4-الف ) (5-ب)
3-فرماں رواؤں کے ناموں کو انکے ملک کے نام سےملائیں۔
جوابات: (1-2)(2-4)(3-1)(4-3)
4: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-قیصر روم)(2-حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ)(3- حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ)(4-شیرویہ)
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-غ)(2-غ)(3-د)(4-د)

غزوہ خیبر ص:38-41
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: غزوہ خیبر کا پس منظر کیا تھا؟
جواب:
پس منظر
خیبر کا علاقہ بالخصوص اس کے کئی قلعے یہودی فوجی طاقت کے مرکز تھے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے خطرہ بنے رہے اور مسلمانوں کے خلاف کئی سازشوں میں شریک رہے۔ ان سازشوں میں غزوہ خندق اور غزوہ احد کے دوران یہودیوں کی کاروائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہود نے قبیلہ بنی نظیر کو بھی پناہ دی تھی جو مسلمانوں کے ساتھ سازش اور جنگ میں ملوث رہے تھے۔ خیبر کے یہود کے تعلقات بنو قریظہ کے ساتھ بھی تھے جنہوں نے غزوہ خندق میں مسلمانوں سے عہد شکنی کرتے ہوئے انہیں سخت مشکل سے دوچار کر دیا تھا۔ خیبر والوں نے فدک کے یہودیوں کے علاوہ نجد کے قبیلہ بنی غطفان کے ساتھ بھی مسلمانوں کے خلاف معاہدے کیے تھے۔ محرم 7ھ (مئی 628ء) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 1600 کی فوج کے ساتھ، جن میں سے ایک سو سے کچھ زائد گھڑ سوار تھے، خیبرکی طرف جنگ کی نیت سے روانہ ہوئے اور پانچ چھوٹے قلعے فتح کرنے کے بعد قلعہ خیبر کا محاصرہ کر لیا جو دشمن کا سب سے بڑا اور اہم قلعہ تھا۔ یہ قلعہ ایک نسبتاً اونچی پہاڑی پر بنا ہوا تھا اور اس کا دفاع بہت مضبوط تھا۔
ب: فتح خیبر کے اثرات کیا تھے؟
جواب:
مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہودیوں کو ان کی خواہش پر پہلے کی طرح خیبر میں رہنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا نصف بطور جزیہ مسلمانوں کو دیں گے اور مسلمان جب مناسب سمجھیں گے انہیں خیبر سے نکال دیں گے۔ اس جنگ میں بنی نضیر کے سردار حئی بن اخطب کی بیٹی صفیہ بھی قید ہوئیں جن کو آزاد کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔
ج: خیبر میں یہود کتنی تعدا د میں جمع تھے؟
جواب:
خیبر میں یہود بیس ہزار کی تعدا د میں جمع تھے۔
د: قلعہ قموص کس کے ہاتھوں فتح ہوا؟
جواب:
قلعہ قموص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا۔
ہ: قلعہ قموص کے سردار کاکیانام تھا؟
جواب:
قلعہ قموص کے سردار کانام مرحب تھا۔
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-ج)(3-الف)(4-الف)(5-ب)
3: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-قلعے)(2-6)(3-مرحب)(4-مکہ) (5-مال غنیمت )
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-غ)(2-د)(3-غ)(4-غ) (5-د) جوابات: (1-)(2-)(3-)(4-)(5-)(6-)(7-)(8-)(9-) (10-)
باب چہارم اخلاق و آداب
طہارت و پاکیزگی ص44-45
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: طہارت سے کیا مراد ہے؟
جواب:
طہارت:پاکیزگی کو عربی زبان میں “طہارۃ” کہتے ہیں۔ طہارت محض صفائی ہی نہیں بلکہ اس بات سےمراد جسم ،جان ،لباس اور ماحول کی پاکیزگی ہے۔
ب: صفائی اور پاکیزگی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا ہے؟ واضح کریں؟
جواب:
پاکیزگی کی اہمیت اور قرآن :
اللہ تعالٰی نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ابتدائی دور میں اس کی تلقین فرمائی:۔
“ اپنے کپڑے (لباس) صاف ستھرا اور مطہر رکھا کرو اور ہر قسم کی غلاظت اور گندگی سے پرہیز کیا کرو۔“ (المدثر 5۔ 4)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں ہر طرح سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے اور ظاہری صفائی کا بھی اس کے ہاں اتنا ہی اہتمام ہے جتنا باطن کی صفائی کا۔
پاکیزگی کی اہمیت اور حدیث :
رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:۔ “پاکیزگی نصف ایمان ہے (یعنی اجر و ثواب میں آدھے ایمان کے برابر ہے۔۔۔۔۔ (مسلم شریف)
اس حدیث میں رسول اللہﷺنے امت کی اصلاح کے لئے کئی باتوں کو بیان کیا ہے، سب سے پہلے پاکیزگی کا ذکر فرمایا، اور اسے نصف ایمان سے تعبیر فرمایا ہے، دراصل انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے قلب اور قالب، انسان کا ایمان اس وقت مکمل ہوتا ہے جب ان دونوں کو پاکی حاصل ہو، دل کی پاکی تو یہ ہے کہ انسان شرک، کفر و بدعات سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر کامل ایمان رکھے، دراصل یہی انسان کے ایمان کی بنیاد ہے، اور انسان جب جسم کی پاکی بھی اختیار کر لے تو انسان کے ایمان کی تکمیل ہو جاتی ہے اس لئے حدیث شریف میں ظاہری پاکی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔
ج: پاک صاف رہنے سے ہمارے کردار میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
جواب:
پاک صاف رہنے سے ہمارے کردار میں بہت ساری تبدیلیاں آتی ہیں
2: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-ب)(3-الف)(4-ب)
3: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
۱۔عربی زبان میں صفائی اور پاکیزگی کےلیے——–کالفظ استعمال ہوتا ہے۔
2۔ صفائی اور پاکیزگی سےمراد ——— کی پاکیزگی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں کو——– رکھتاہے۔
4۔ پاکیزگی ایمان کا ——— ہے۔
5۔اپنے آپ کو بری عادتوں سے بچانا———- ہے۔
جوابات: (1-طہارت)(2-جسم،جان، لباس، ماحول)(3-دوست)(4-حصہ)(5-طہارت)
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-د)(2-د)(3-غ)(4-غ)(5-د)
صداقت ص46- 50
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: صداقت کا مفہوم کیا ہے؟
جواب:
صداقت سے مراد سچائی یا راست بازی ہے۔ یعنی ایسی بات کہنا جسے کوئی جھٹلا نہ سکے۔ سچا قول و فعل اور درست عمل عین صداقت ہے۔
ب: صداقت کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث میں کیا بیان ہوئی ہے ؟
جواب:
سچ کے معنی ہیں ظاہر وباطن میں موافقت ہونا، قول و عمل میں موافقت ہونا اور خبر کا واقعہ کے مطابق ہونا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے مومنو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ”۔
(سورۃ التوبہ: 119)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور یقیناً جھوٹ بدکاری کی طر ف رہنمائی کرتا ہے اور بدکاری جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یقیناً جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔”
(متفق علیہ)
د: صداقت کی اقسام کون سی ہیں ؟
جواب:
صداقت کی اقسام:
سچائی کی تین بڑی قسمیں ہیں؛
1- زبان کی صداقت: یہ صداقت کی عام اور مشہور قسم ہے۔ جس کی پابندی ہر مسلمان کا فرض ہے۔
2- دل کی صداقت
3- صداقت عمل
2:صحیح جواب پر √نشان لگائیں:
جوابات: (1-الف)(2-ب)(3-ب)(4-ب)(5-الف)
3: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-د)(2-د)(3-غ)(4-د)(5-د)
4: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-سچائی)(2-سچائی)(3-جھوٹ)(4-مومن)

امانت ص53-54
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: امانت کا مفہوم بیان کریں؟
جواب:
ب: امانت کی اہمیت قرآن و حدیث کے حوالہ سے واضح کریں ؟
جواب:
قرآن وحدیث کی روشنی میں امانتداری کی اہمیت:
امانت کے معنی ہےکوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا امانت داری ہے ۔
امانت کا معنی بہت وسیع وعریض ہے اور جو لوگ امانت داری بہت وسیع معنی پر دلالت کرتاہے۔
مفسر قرآن امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں’’امانت دین کے تمام کاموں کو شامل ہے اور اس دین کی تبلیغ و اشاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے ۔ تمام انبیاء کرام اسی وظیفہ کیلیے مبعوث کیے گیے تھے ‘‘۔
1- امانت داری ایک اعلی اخلاق ہے ۔
2- دین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔
3- یہ ایک نادر اور بیش بہا صفت ہے۔
4- انسانی معاشرہ کے لیے جزء لا ینفک ہے۔
5- اس صفت میں حاکم و محکوم کے ما بین کوئی فرق نہیں ہے‘ تاجر وکاریگر ‘مزدور وکاشت کار ‘ امیر و فقیر ‘ بڑا اور نہ چھوٹا اور نہ ہی شاگرد و استاذ بلکہ ہر ایک کے لیے باعث شرف ومنزلت ہے۔
6- انسان کا اصل سرمایاہے۔اور اس کے کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے۔اور ترقی وارتقاء کی چابھی ہے۔
7- ہر ایک کے لیے باعث سعادت ہے۔
د: منافق کی نشانیاں بیان کریں ؟
جواب:
منافق کی نشانیاں
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’چار (نشانیاں) جس میں ہوں وہ منافق ہوتا ہے، یا جس میں سے ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو، اس میں نفاق کی ایک علامت ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے:
1۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
2۔ وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
3۔ عہد کرے تو بد عہدی کرے۔
4۔ جب جھگڑا کرے تو پھٹ پڑے۔‘‘ (صحيح البخاري)
بعض روایات میں ہے کہ
’’اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔‘‘
الغرض یہ جملہ نشانیاں نفاق سے تعلق رکھتی ہیں جس میں یہ سب جمع ہوجائیں اس کو اپنے ایمان پر یقینا غور کرنا چاہیے۔
2: مختصر جواب دیں:
الف:امانت کی تعریف کریں ؟
جواب: امانت کے معنی ہے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا امانت داری ہے ۔
ب:انبیاء کرام علیہ السلام نے امین ہونے کا حق کیسے ادا کیا ؟
جواب: انبیاء کرام علیہ السلام نے امین ہونے کا حق بہت احسن طریقے سےادا کیا۔ انھوں نے وہ امانت جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپر دکی تھی نہایت اچھے طریقے سے لوگوں تک پہنچائی۔
ج:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کس شہر میں “الصادق” اور “الامین ” کے لقب سے مشہور تھے؟
جواب: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ شہر میں “الصادق” اور “الامین ” کے لقب سے مشہور تھے۔
د: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی رات کفار مکہ کی امانتیں کس کے سپرد فرمائیں ؟
جواب: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی رات کفار مکہ کی امانتیں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سپرد فرمائیں۔
ہ:منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بیان کریں ؟
جواب: منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے وہ امانت میں خیانت کرتاہے۔
3:صحیح جواب پر √نشان لگائیں:
جوابات: (1-ج)(2-ب)(3-ج)(4-الف)
3: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-د)(2-د)(3-غ)(4-غ)(5-د)
4: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-خیانت)(2-خوبی)(3-حضرت علی رضی اللہ عنہ)(4-مومن) (5-ایمان)
احسان ص: 55-57
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: احسان سے کیا مراد ہے؟ قرآن و احدیث سے وضاحت کریں؟
جواب:
حسان کے لغوی معانی ہیں:
• نیکی، اچھا سلوک، مہربانی کا برتاو، اچھے سلوک کا بار، یا وہ جسے سلوک کرنے والا یا جس سے سلوک کیا گیا، محسوس کرے۔
• نیکی۔ عمل خیر وغیرہ۔
• اچھے سلوک کا اعتراف۔ ممنونیت اور اعتراف ممنونیت۔
ب: احسان کس طریقہ سے کیا جاسکتاہے؟
جواب:
ہمیں چاہیےکہ جب بھی دوسروں کے ساتھ احسان کا موقع ملے تو لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں ہمیشہ پہل کریں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہم سے راضی ہوں۔ اور گفتگو میں بھی احسان ہی ہونا چاہیے۔ جھگڑوں میں اس کی بالخصوص تاکید ہے۔
ج: احسان کی اہمیت و افادیت کیا ہے ؟
جواب:
احسان کی اہمیت:
1- اسلام میں دوسروں کے ساتھ بھلائی اور مہربانی کا برتاؤ روا رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
2- اللہ تعالیٰ بھی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
احسان کی افادیت
احسان کا فائدہ صرف آخرت میں ہی نہیں؛ بلکہ دنیامیں بھی ان کے لئے بھلائی ہے۔
د: احسان کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟
جواب:

2: کالم الف کو کالم ب سے ملائیں کہ جملے مکمل بن جائیں۔
جوابات: (1-4)(2-3)(3-2)(4-1)
3: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-د)(2-د)(3-غ)(4-غ)(5-غ)
4: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-بھلائی)(2-احسان)(3-جتانا)(4-پہل/جلدی)
ملک و ملت کے لیے ایثار کا جذبہ 59-60
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: ایثار سے کیا مرادہے؟
جواب: ایثار کے معنی اپنی ضرورت پر کسی دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ دوسروں کی ضرورت کے لیے اپنی ضرورت کو قربان کردینا ۔ مثلاً خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھانا کھلانا، خود تکلیف برداشت کرنا اور دوسروں کو آرام پہنچانا ایثار ہے۔
ب: قرآن پاک کی روشنی میں ایثار کی اہمیت کیا ہے؟
جواب:
قرآن پاک کی روشنی میں ایثار کی اہمیت :
حدیث کی روشنی میں ایثار کی اہمیت :
ج: ہم اپنے ملک و ملت کے لیے طرح ایثار کا مظاہرہ کرسکتے ہیں؟
جواب:
2: مختصر جواب دیں:
الف:کس صحابی نے غزوہ تبوک کے موقع پر کھجوروں کا چندہ پیش کیا ؟
جواب: حضرت عقیل رضی اللہ تعالٰی عنہ انصاری نے غزوہ تبوک کے موقع پر کھجوروں کا چندہ پیش کیا۔
ب:حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر کس قدر چندہ پیش کیا ؟
جواب: حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا سارا سامان حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔
ج:1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اہل وطن نے کس طرح ایثار کا مظاہرہ کیا ؟
جواب: 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اہل وطن نے دل کھول کر ایثار کا مظاہرہ کیا اور دفاع وطن کے فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔
3: درست جواب پر √ نشان لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-ب)(3-الف)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-غزوہ تبوک)(2-یہودی)(3-وطن)(4-ایثار)
5: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-غ)(2-غ)(3-د)(4-د)
حقوق العبادص66-67
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے مفصل جواب تحریر کریں:
الف:قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق کیا ہیں ؟
جواب: والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ’’احسان‘‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔
ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔

قرآن کی روشنی میں والدین کے حقوق:
۔قرآن کی روشنی میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ اﷲَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ١-
ترجمہ: اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
( وَاعْبُدُوا اﷲَ وَلاَتُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا)(٢)
اور خدا ہی کی عبادت کر ے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھر اؤاور ماں باپ کے سا تھ اچھا سلوک کرو
حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔
والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔
ج:اولاد کے حقوق کی ادائیگی کے فضائل کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب: اولاد کے حقوق: والدین پر بچّوں کی پیدائش کے وقت سے حقوق کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے
اولاد کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے نبی ﷺ نے کثرت سے ترغیب دلائی ہے کیونکہ اس میں بچوں کا روشن مستقبل ہے چنانچہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے’’مسلمانوں اپنی اولاد کی تربیت اچھی طرح کیا کرو(طبرانی)
دوسری حدیث پاک میں ہے کہ’’باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی طرح تعلیم و تربیت ہے(مشکوٰۃ)
ہمیں چاہئے کہ مندرجہ بالا ہدایات کے مطابق اپنی اولاد کی پرورش کریں تاکہ ہماری اولاد دونوں جہاں میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکے۔ ۔
د:استاد کا رتبہ معاشرے کے دیگر افراد سے بلند کیوں ہے ؟
جواب:
استاد کا رتبہ معاشرے کے دیگر افراد سے بلند ہے:
استاد وہ عظیم ہستی ہے جو ہمیں علم سکھاتی ہے ہنر سکھاتی ہے اور ہر وہ شخص استاد ہے جس سے آپ کچھ بھی سیکھتے ہیں۔
۔خود رسالت مآب ﷺکی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ اداہوئے :’’میں اُستاد بناکر بھیجا گیاہُوں۔
‘‘ گویااسلامی نظامِ تعلیم میں اُستاد کو مرکزی مقام حاصل ہے۔معلّم کی ذات ہی علمی ارتقا ء سے وابستہ ہے۔ نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں اُستاد کی مثال کسان اور باغبان جیسی ہے ۔ ملّتِ اسلامیہ کی قابلِ قدر ،قدآور چنداہم شخصیات کے احوال واقوال کا ذکر کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ادب واحترام کی درخشندہ مثالیں قائم کیں، جو ہمارے لیے مشعل ِراہ ہیں۔
خلیفۂ چہارم امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے فرمایا ’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، میں اُس کا غلام ہوں ۔وہ چاہے مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔ ‘‘ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اُس کے آگے نہ بیٹھواور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اُس کی خدمت کے لیے کھڑے ہوجاو
ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم ِدین تشریف لاتے تو بادشاہ اُن کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جاتا۔ ایک دن ہارون الرشید اتفاقاًاُن کے پاس جا پہنچا۔دیکھا کہ امام اصمعی ؒ اپنے پاؤں خود دھورہے ہیں اور شہزاد ہ مامون پاؤں پرپانی ڈال رہا ہے ۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا ’’میں نے تو اسے آپؒ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپؒ ا سے ادب سکھا ئیں گے ۔آپؒ نے شہزادے کویہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپؒ کے پاؤں دھوئے۔
‘‘ علامہ محمد اقبال ؒ کے یہ الفاظ معلّم کی عظمت واہمیت کے عکاس ہیں ’’اُستاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیوں کہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور انہیں ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہی کی ذمّے داری ہے۔یہ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاری ہے، معلّم کا فرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیوں کہ تمام قسم کی اَخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اُس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اُس کی محنت ہے۔
ہ:ہمسائے کے حقوق کیا ہیں ؟ ان کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب:
ہمسائے کے حقوق:
ہمسایہ وہ ہے جو آپ کے گھر کے قریب ہو،اس کا آپ پر بہت برا حق ہے۔اگر وہ نسب میں سے آپ سے قریب ہو اور مسلمان بھی ہو ،تو اس کے تین حقوق ہیں:ہمسائیگی،قرابت داری اور اسلام کا حق۔اگر وہ نسب میں قریب ہے لیکن مسلمان نہیں تو اس کے دو حق ہیں: ایک ہمسائیگی کا اور دوسرا قرابت داری کا۔اگر وہ رشتہ میں دور ہے اور مسلمان بھی نہیں تو اس کا ایک حق ہے: یعنی ہمسائیگی کا حق۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ترجمہ: اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں (سورۃ النساء،آیت 36)
ہمسائے کے حقوق کی اہمیت :
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں ہمسایوں کے حقوق کی اتنی زیادہ اہمیت بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی ادائیگی کے لحاظ سے قرابت داروں تک پہنچ گئے جن کو ادا کرنا ہر مرد و عورت کے لیے لازم اور ضروری قرار پایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
” جبریل (علیہ السلام)مجھے ہمسایوں کے حقوق کے متعلق اس قدر تاکید کرتے رہے حتی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔”
آج کل بہت سے لوگ حق ہمسائیگی کا کوئی اہتمام نہیں کرتے،نہ ان کی شرارتوں سے ان کے ہمسائے محفوظ ہوتے ہیں۔آپ انہیں ہمیشہ آپس میں الجھتے،مخالفت کرتے،زیادتی کرتے ،اور ہر لحاظ سے ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہوئے دیکھیں گے ۔یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہے اور یہ باتیں مسلمانوں کی آپس میں جدائی ،دلوں کی دوری اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کا سبب بن جاتی ہے۔
2: درست جواب پر √ لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-الف)(3-ج)(4-الف)(5-ج)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-اساتذہ)(2-احسان)(3-والدین)(4-جائز وصیت)(5-وارث)(6- پڑوسی)(7-صبر)
سوال4: درست جملوں پر √ اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔
جوابات: (1-غ)(2-د)(3-غ)(4-د)(5-د)
ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہاص72-73
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی کے ابتدائی حالات کے باے میں
آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی کے ابتدائی حالات:
خدیجہ نام، امّ ہند کنیت اور طاہرہ لقب ہے۔حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے اور نہ صرف اپنے قبیلے میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے بلکہ اپنی خوش معاملگی اور دیانداری کی بدولت تمام قریش میں بیحد ہر دلعزیز اور محترم تھے۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عام الفیل سے پندرہ سال قبل سنہ 555 عیسوی میں پیدا ہوئیں، بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، ان کے والد ضعف پیری کی وجہ سے اپنی وسیع تجارت کے انتظام سے عاجز آ گئے، نرینہ اولاد کوئی زندہ نہ تھی، تمام کام اپنی ذہین اور عاقلہ بیٹی کے سپرد کردیا کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
ب:اسلام کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمات کیا ہیں ؟
جواب:
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
’’ خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی، وہ ایمان لائیں جب سب لوگ کافر تھے، اس نے میری تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا، اس نے اپنا زرومال مجھ پر قربان کر دیا، جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے اس کے بطن سے اولاد دی۔‘‘
فضائل اور خدماتِ دین ِاسلام
حضرت خدیجہکے فضائل اور خدماتِ دین ِ اسلام بے شمار ہیں،
نعمت ایمان سے سر فراز ہونے کے بعد ام المومنین خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی سب دولت و ثروت تبلیغ اسلام کے لیے وقف ہو گئی۔ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کاروبار ترک کر کے دینی امور میں مصروف تھے۔ آمدن بند ہو جانے کے بعد جمع پونجی پر گزر بسرہو رہی تھی۔
شعب ابی طالب کے صبر آزما دنوں میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ساتھی
حضرت خدیجہ  نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ہر مشکل سے مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔جب عرب نے دیکھا کہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کا لایا ہوادین ِاسلام عرب میں پھیلتا جا رہا ہے تو انہیں اس پر کافی تشویش ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ قبیلہ بنو ہاشم کا ہر طرح سے بائیکاٹ کیا جائے اورانہیں مجبور کیا جائے کہ وہ محمد کا ساتھ چھوڑ دیں۔لیکن بنوہاشم نے محمد صلی الله علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا اور ابوطالب کے کہنے پر بنوہاشم اور بنو طالب کے سب لوگ( سوائے ابولہب کے ) شعب ابی طالب میں چلے گئے ،تاکہ وہاں محمد صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کر سکیں۔یہ دن نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور ان کا ساتھ دینے والوں کے لیے بہت سخت تھے۔ ان حالات میں حضرت خدیجہ  نے نبی کریم اکا ساتھ ڈٹ کر دیا اور ہر مشکل سے مشکل موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم کا حوصلہ بڑھایا۔عرب میں ”سیدہ“کے لقب سے مشہور اسلام کی خاتون اول کو ان دنوں میں پتے اور درختوں کی چھال کھانی پڑی تو آپ نے ان حالات کو بھی انتہائی صبر سے برداشت کیا۔
ج:حضور اکرمﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی تعریف کس طرح فرمایا کرتے تھے ؟
جواب:
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
’’ خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی، وہ ایمان لائیں جب سب لوگ کافر تھے، اس نے میری تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا، اس نے اپنا زرومال مجھ پر قربان کر دیا، جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے اس کے بطن سے اولاد دی۔‘‘
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ سے اور حضرت خدیجہ کو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی کا سوچا تک نہیں اور پورے پچیس سال آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاری۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اورحضرت خدیجہ کی محبت کا اندازہ ذیل میں بیان کردہ حدیث سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
” مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا کہ خدیجہ  پر آیا، حالاں کہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں۔لیکن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان کو کثرت سے یاد کرتے تھے اورکبھی کبھی ایسا ہوتا کہ جب بکری ذبح فرماتے ‘پھر اس کے حصے الگ الگ کرتے تو انہیں خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے۔(حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ) کبھی کبھی میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے کہہ دیتی کہ کیا اس دنیا میں صرف خدیجہ ہی ایک عورت ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے :” وہ ایسی تھیں‘ایسی تھیں (یعنی ان کی خدمات او ر اوصاف کا ذکر کرتے)اور(یہ بھی فرماتے کہ) ان سے میری اولاد ہوئی۔“
2: درست جواب پر √ لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-الف)(3-ج)(4-ب)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-خویلد بن اسد)(2-فاطمہ بنت زائدہ)(3-شام)(4-میسرہ)(5-حضرت ابوطالب)(6-حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا)(10 نبوی)
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ص76-77
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف:حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوالحسن”اور”ابو تراب”ہے۔ آپ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب کے فرزند ارجمندہیں۔
عام الفیل کے تیس برس ۱۳رجب کو جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانۂ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ آ پ کی والد ہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد ہے آپ نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے زیرتربیت ہر وقت آ پ کی امدادونصرت میں لگے رہتے تھے ۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ چاربرس آٹھ ماہ نو دن تک خلیفہ ۔
۱۷ رمضان ۴۰ھ؁ کو عبدالرحمن بن ملجم نے آپ کوشدید زخمی کردیااوردودن زندہ رہ کر شہادت پائی۔
ب: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شجاعت و بہادری کوئی ایک واقعہ بیان کریں؟
جواب:
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شجاعت و بہادری کے بہت سے واقعات ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور میری یہ چادر اوڑھ کر سورہو۔ تمہیں انکے ہاتھوں کوئی گزند نہیں پہنچے گا”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی چادر اوڑھ کر سو یا کرتے تھے۔
رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ امانتیں دی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امانتیں اہل مکہ کے سپر د کرکے مدینہ ہجرت فرمائی۔
ج: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فاتح خیبر کیوں کہا جاتاہے؟
جواب:
جنگ خیبر کا موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیگا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشخبری کو سن کر صحابہ کرام نے وہ رات بڑی بیقراری میں کاٹی،ہر صحابی کی یہ تمنا تھی کہ اے کاش!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح اسے جھنڈا عنایت فرمائیں تو اس بات کی سند ہو جائے کہ ہم اللہ و رسول کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ و رسول ہمیں چاہتے ہیں اور اس نعمت عظمیٰ و سعادت کبریٰ سے بھی سرفراز ہو جاتے کہ فاتح خیبر جاتے۔
حضرت علی علیہ السلام کو قلعہ فتح کرنے کے لیے مقرر کیا گیا۔ آپ نے پرچم سنبھالا اور دشمن پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوگئے۔
یہود کے بہادروں میں ”مرحب“ کا نام شجاعت و دلیری میں شہرت یافتہ تھا وہ زرہ و فولاد میں غرق قلعے سے نکل کر باہر آیا۔ دو جانبازوں کے درمیان نبرد آزمائی شروع ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے پر وار کرتے اور کاری ضرب لگاتے رہے۔ اچانک حضرت علی کی شمشیر براں مرحب کے سر پر پڑی۔ جس کے باعث اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ مرحب کے ساتھیوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کے حوصلے پست ہوگئے چنانچہ فرار کرکے قلعے میں پناہ گزیں ہوئے۔ جہاں انہوں نے اپنے اوپر اس کا دروازہ بھی بند کرلیا اور حضرت علی علیہ السلام نے قدرت خدا کی مدد سے قلعے کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا۔
اس واقعہ کی وجہ سےحضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فاتح خیبر کہا جاتاہے۔
2: درست جواب پر √ لگائیں۔
جوابات: (1-الف)(2-ج)(3-ب)(4-الف)(5-الف)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-حضرت ابو طالب)(2-دس)(3-علم وفضل )(4-مرتضیٰ)(5-عَلَم)(6-مرحب )(7-فاتح خیبر)(8-خوبیاں)(9-چار سال نوماہ)

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ80-81
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف: حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی حالات زندگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:
حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی حالات زندگی
حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان معروف بہ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ
(400ھ تا 465ھ
سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ سے پائی ۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہ کے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔
عوام آپ کو گنج بخش (خزانے بخشنے والا) اور داتا صاحب کہتے ہیں اور آپ انہی القابات سے مشہور ہیں۔
ب: حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کیا ہیں؟
جواب:
حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کوعلوم دین، فقہ، تفسیر و حدیث میں کمال حاصل تھا آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے لئے بہت جدوجہد کی اور وسطِ ایشیا کے کئی ممالک کاسفر کیا۔ اور بہت سے علماء و مشائخ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی تعلیمات سے ان علوم و فنون کی جھلک دکھائی دیتی ہے جن پر آپ کو خاطر خواہ عبور حاصل تھا۔
فقہی طور پر آپ ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مذہب پر تھے۔ اور آپ شریعت مطہرہ کے نہایت پابند تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کشف المحجوب میں جابجا شریعت پر عمل پیرا رہنے کی تلقین موجود ہے۔
آپ نے جاہل صوفیاء کی صحبت سے بچنے کی تاکیدکی۔ آپ فرماتے تھے کہ فقیر کو صبر اور غنی کو شکر کرنا چاہیے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے: نفس کو اس کی خواہش سے دور رکھنا حقیقت کے دروازے کی چابی ہے۔
ج:کشف المحجوب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:
کشف المحجوب:
کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی روحانیت و تصوف کے موضوع شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ اس کی زبان فارسی ہے۔
’’ کشف المحجوب میں آپ نے شرعیت اور تصوف کے معاملات پر بحث کی ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:
نہ شریعت کے بغیر حقیقت کوئی شے ہے اور نہ حقیقت کے بغیر شریعت کوئی شے ہے۔دونوں لازم و ملزوم ہیں۔شریعت کے بغیر حقیقت بے دینی اور حقیقت کے بغیر شریعت نفاق و ریاکاری ہے۔”
2: درست جواب پر √ لگائیں۔
جوابات: (1-ب)(2-الف)(3-الف)(4-ب)(5-ب)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-ہجویر)(2-حضرت علی رضی اللہ عنہ)(3-غزنوی خاندان)(4- حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ)(5-کشف المحجوب)
طارق بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ ص:83-86
طارق بن زیاد کا شمار ان عظیم فاتحین میں ہو تا ہے جنہوں نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا اورجن کی شجاعت ، ہمت اور بہادری کے کارنامے تاریخ عالم میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔طارق بن زیاد فاتح سپین کے نام جانے جاتے ہیں۔آپ افریقہ کے رہنے والے اور بربر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ایک مختصر فوج کے ساتھ بہت بڑی فوج کو شکست دے کر دین اسلام کا پرچم بلند کیا تھا۔طارق بن زیاد افریقہ کے گورنرموسیٰ بن نصیر کے نائب تھے۔یہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کا دورِ حکومت تھا۔طارق بن زیاد نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ کم عمری میں ہی جنگی فنون سیکھ لیے تھے۔اس زمانے میں شمالی افریقہ میں مسلمانوں کی حکومت تھی ۔اسلامی سلطنت میں امن و امان اور خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ اس کے برعکس یورپ کے ملک سپین میں راڈرک کی حکومت تھی۔جس نے ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی۔ بادشاہ اور اس کے درباری ،امیروزیر سب امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی بسر کر رہے تھے جبکہ غریب عوام غربت کی چکی میں پس رہے تھے۔راڈرک بادشاہ کے ظلم وستم سے تنگ آ کر اُس کا گورنر جولین مسلمانوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گیا ۔ موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے سپین فتح کرنے کی اجازت طلب کی۔اجازت ملنے پرانہوں نے طارق بن زیاد کو سات ہزار جان نثاروں کا لشکر دے کر سپین کی مہم پر روانہ کیا۔طارق بن زیاد فرض شناس اور بلند ہمت انسان تھے۔طارق بن زیاد نے افریقہ کے جنوبی ساحل کی طرف پیش قدمی کی اور وہ اندلس( سپین) میں ایک پہاڑی کے قریب اُترے جو بعد میں جبلِ طارق کے نام سے مشہور ہوئی۔راڈرک ایک لاکھ فوج لے کر مسلمانوں سے مقابلے کے لیے بڑھا۔طارق بن زیاد نے موسیٰ بن نصیرسے مزید مدد کی درخواست کی جس پر موسیٰ بن نصیر نے پانچ ہزار فوج روانہ کر دی ۔ یوں مسلمان فوج کی کل تعداد بارہ ہزار ہوگئی۔مسلمانوں کی فوج صرف تلواروں اور نیزوں سے لیس تھی جبکہ اس کے مقابلے پر ایک لاکھ کا لشکر تھا جس کے پاس گھوڑے اور اسلحہ تھا ۔ اسلامی لشکر جب ساحل پر اُتر گیا تو طارق بن زیاد نے ایک انتہائی جراٗت مندانہ قدم اُٹھایا ۔اُس نے وہ تمام جہاز اور کشتیاں جلانے کا حکم دیا جن کے ذریعے وہ یہاں پہنچے تھے۔طارق بن زیاد کے ساتھی دشمن کی تعداد اور اُن کے جنگی سازو سامان کی کثرت دیکھ کر متاثر ہوئے۔طارق بن زیاد نے اس موقع پر ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ جس میں کہا’’ مسلمانو! خوب سمجھ لو کہ اب تمہارے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ۔ دشمن تمہارے آگے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔اب عزم وہمت کے سواکوئی چارہ نہیں۔ تم اپنی جانوں پر کھیل جاؤ تاکہ کامیابی تمہارے قدم چوم لے ۔تم اس علاقے میں اللہ تعالیٰ کے دین کو سر بلند کرنے کے لیے آئے ہو۔تم جو عزم کرو گے اللہ تعالیٰ اس میں تمہاری مدد کرے گا اور تمہارا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔اگر میں مارا جاؤں تو آپس میں جھگڑا مت کرنا ۔اگر تم دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے تو قتل کر دیے جاؤ گے یا گرفتار ہو کر برباد ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھو ۔جب میں حملہ کروں تو تم دشمن پر ٹوٹ پڑو اور اُس وقت تک دم نہیں لینا جب تک جزیرہ فتح نہ ہو جائے‘‘طارق بن زیاد کے خطبے نے مسلمانوں کے دلوں کو گرما دیا اور اُن میں جوش و ولولے کی ایک نئی روح پھونک دی ۔دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا بالآ خر طارق بن زیاد ایمانی طاقت کے بل بوتے پر اپنے قلیل لشکر کے ساتھ کثیر لشکر پر غالب آ گئے اور جنوبی سپین پرطارق بن زیاد کا قبضہ ہو گیا ۔ مسلمانوں نے پیش قدمی جاری رکھی اور سپین کے کئی اہم شہروں قرطبہ، مالقہ،البیرہ اور تدمیر کو فتح کر لیا ۔ اندلس( سپین) کی تاریخی فتح کے بعد آٹھ سو سال تک اندلس پر حکمرانی کرتے رہے۔سپین کی فتح نے یورپ کی معاشرتی زندگی پر زبردست اثر ڈالا۔ عیسائیوں نے مسلمانوں سے رواداری اور فراخ دلی سیکھی۔ مسلمانوں کے حسنِ انتظام سے علاقے کے لوگوں کی حالت بہتر ہوگئی۔ وہ مسلمانوں کے زیرِ سایہ پُر امن اور خوش حال زندگی بسر کرنے لگے۔ طارق بن زیاد95 ہجری میں موسیٰ بن نصیر کے ساتھ دمشق آ گئے اور وہاں قیام کے دوران اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:
الف:طارق بن زیاد رح کے بارےمیں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:
طارق بن زیاد (انتقال 720ء) بربر نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان اور بنو امیہ کے جرنیل تھے۔ انہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) کی مسیحی حکومت پر قبضہ کرکے یورپمیں مسلم اقتدار کا آغاز کیا۔ وہ ہسپانوی تاریخ میں Taric el Tuertoo کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہیں اسپین کی تاریخ کے اہم ترین عسکری رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ شروع میں وہ اموی صوبہ افریقیہ کے گورنر موسی بن نصیر کے نائب تھے جنہوں نے ہسپانیہ میں وزیگوتھ بادشاہ کے مظالم سے تنگ عوام کے مطالبے پر طارق کو ہسپانیہ پر چڑھائی کا حکم دیا۔
ب: طارق بن زیاد رح کی سپین کی طرف پیش قدمی کی تفصیلات تحریر کریں؟
جواب:
30 اپریل 711ء کو طارق کی افواج جبرالٹر پر اتریں۔ واضح رہے کہ جبرالٹر اس علاقے کے عربی نام جبل الطارق کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اسپین کی سرزمین پر اترنے کے بعد طارق نے تمام کشتیوں کو جلادینے کا حکم دیا۔ تاکہ فوج فرار کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔
انہوں نے 7 ہزار کے مختصر لشکر کے ساتھ پیش قدمی شروع کی اور بعد ازاں 19 جولائی کو جنگ وادی لکہ میں وزیگوتھ حکمران لذریق کے ایک لاکھ کے لشکر کا سامنا کیا اور معرکے میں ایک ہی دن میں بدترین شکست دی۔ جنگ میں روڈرک مارا گیا۔
فتح کے بعد طارق نے بغیر کسی مزاحمت کے دارالحکومت طلیطلہ پر قبضہ کرلیا۔ طارق کو ہسپانیہ کا گورنر بنادیا گیا لیکن جلد انہیں دمشق طلب کیا گیا کیونکہ خلیفہ ولید اول سے ہسپانیہ پر چڑھائی کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
ج: طارق بن زیاد رح نے اپنے ساتھیوں سے کیا خطاب کیا؟
جواب:
طارق بن زیاد نے اس موقع پر ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ جس میں کہا’’ مسلمانو! خوب سمجھ لو کہ اب تمہارے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ۔ دشمن تمہارے آگے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔اب عزم وہمت کے سواکوئی چارہ نہیں۔ تم اپنی جانوں پر کھیل جاؤ تاکہ کامیابی تمہارے قدم چوم لے ۔تم اس علاقے میں اللہ تعالیٰ کے دین کو سر بلند کرنے کے لیے آئے ہو۔تم جو عزم کرو گے اللہ تعالیٰ اس میں تمہاری مدد کرے گا اور تمہارا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔اگر میں مارا جاؤں تو آپس میں جھگڑا مت کرنا ۔اگر تم دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے تو قتل کر دیے جاؤ گے یا گرفتار ہو کر برباد ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھو ۔جب میں حملہ کروں تو تم دشمن پر ٹوٹ پڑو اور اُس وقت تک دم نہیں لینا جب تک جزیرہ فتح نہ ہو جائے‘‘
د: طارق بن زیاد رحبطور سپہ سالار کیسےتھے؟ انھوں نے ساحل پر کشتیاں کیوں جلا دیں؟
جواب:
طارق بن زیاد رح بہت اعلیٰ درجے کے سپہ سالار تھے۔ آپ کے خطبے نے مسلمانوں کے دلوں کو گرما دیا اور اُن میں جوش و ولولے کی ایک نئی روح پھونک دی ۔
انھوں نے ساحل پر کشتیاں جلا دیں تاکہ مسلمان فوج اس جذبے سے لڑے کہ جنگ سے بھاگنے کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آئے۔
ہ: طارق بن زیاد رح کی زندگی سےہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:
طارق بن زیاد رح کی زندگی سےہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھیں پیچھے کبھی نہ دیکھیں۔ ہمیشہ پر امید رہیں۔
2: درست جواب پر √ لگائیں۔
جوابات: (1-ج)(2-ج)(3-ج)(4-ج)(5-الف)
3: خالی جگہ پر کریں۔
جوابات: (1-بر بر)(2-موسیٰ بن نصیر)(3-جولین)(4-ایک لاکھ)(5-موسیٰ بن نصیر)
4: درست جملوں کے سامنے اور غلط کے سامنے کا نشان لگائیں۔
جوابات: (الف۔غ)(ب۔غ)(ج-د)(د-غ)(ہ-د)
5: کالم الف کے جملوں کو کالم ب سے اس طرح ملائیں کہ مفہوم واضح ہوجائے۔
جوابات: (الف۔5)(ب۔4)(ج-2)(د-1)(ہ-3)
َََََََََ————————–تمت بالخیرََََََََََ————————-

2 comments

  • khan

    Great Efforts
    it will give you a special khair for your families

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.