کہانی/ KAHNAI:​ قصّہ ایک بھیڑیے کا/ آزادی بڑی نعمت ہے۔/ کتا اور بھیڑیا

 

قصّہ ایک بھیڑیے کا/ آزادی بڑی نعمت ہے۔/ کتا اور بھیڑیا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چاندنی رات میں ایک دبلے پتلے، سوکھے مارے بھوکے بھیڑیے کی ایک خوب کھائے پیئے، موٹے تازے کتّے سے ملاقات ہوئی۔ بھیڑیے نے اس سے پوچھا، “اے دوست! تُو تو خوب تر و تازہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا کیا راز ہے؟ کتّے نے جواب دیا، “تو بھی میری طرح رات کو گھر کی چوکیداری کر اور چوروں کو گھر میں نہ گھسنے دے۔ اچانک بھیڑیے کی نظر کتّے کے گلے پر پڑے ہوئے اس نشان پر پڑی جو گلے کے پٹّے سے پڑ گیا تھا۔ بھیڑیے نے پوچھا، “اے دوست! تیرے گلے کے چاروں طرف یہ کیا نشان ہے؟” کتّے نے کہا، دن کو میرے گلے میں پٹّا ڈال کر وہ باندھ دیتے ہیں تاکہ میں سو رہوں اور کسی کو نہ کاٹوں” یہ سن کر بھیڑیے نے کہا، “اے دوست! مجھے تو بس معاف کرو۔ یہ خوشی اور آرام تجھے ہی مبارک ہوں۔ میرے لیے تو آزادی ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔یہ کہہ کر بھیڑیا پلٹا اور جنگل کی طرف چل دیا۔

اخلاقی سبق:

آزادی بڑی نعمت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.