کہانی دو چوہے/ آدھی چھوڑ ساری کو جائے ،ساری ملے نہ آدھی پائے/ اپنا گھر / وطن اپنی جنت ۔ کہانی۔

دو چوہے/ آدھی چھوڑ ساری کو جائے ،ساری ملے نہ آدھی پائے/ اپنا گھر / وطن اپنی جنت

کہانی:

​                   ایک دفعہ کہ ذکر ہے گاؤں کے چوہے نے اپنے دوست شہری چوہے کی دعوت ۔گاؤں کا چوہے نے کھانے میں مٹر، گوشت کے ٹکڑے، آٹا اور پنیر اور سیب کے تازہ ٹکڑے رکھے۔ شہری چوہا کھاتا رہا ۔جب شہری چوہا کھانا کھا چکا تو اس نے کہا، ، “تم ایسے خراب اور گندے بل میں کیوں رہتے ہو؟ تم کیوں نہ شہر میں چل کر رہو۔ وہاں بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ کھانے کے لیے طرح طرح کی چیزیں ہیں۔

                 گاؤں کے چوہے کو اپنے دوست کی باتیں اچھی لگیں اور وہ شہر چلنے پر راضی ہو گیا۔ دونوں دوست آدھی رات کے قریب شہر کی اس حویلی میں جا پہنچے ۔ حویلی میں ایک ہی دن پہلے بڑی دعوت ہوئی تھی ۔ شہری چوہے نے اپنے دوست، گاؤں کے چوہے کو قالین پر بٹھایا اور کھڑکیوں کے پیچھے چھپے ہوئے کھانوں میں سے طرح طرح کے کھانے اس کے سامنے لا کر رکھے۔ مہمان چوہا کھاتا جاتا اور خوش ہو کر کہتا جاتا، “واہ یار! کیا مزیدار کھانے ہیں۔

                     ابھی وہ دونوں قالین پر بیٹھے کھانے کے مزے لوٹ ہی رہے تھے کہ یکایک کسی نے دروازہ کھولا۔ اتنے میں دو کتے بھی زور زور سے بھونکنے لگے۔ یہ آواز سن کر گاؤں کا چوہا ایسا گھبرایا کہ اس کے ہوش و حواس اڑ گئے۔ ابھی وہ دونوں ایک کونے میں دبکے ہوئے تھے کہ بلیوں کے غرانے کی آواز سنائی دی۔ گاؤں کے چوہے نے گھبرا کر اپنے دوست شہری چوہے سے کہا، “اے بھائی! اگر شہر میں ایسا مزہ اور یہ زندگی ہے تو یہ تم کو مبارک ہو۔ میں تو باز آیا۔ ایسی خوشی سے تو مجھے اپنا گاؤں ہی خوب ہے۔

اخلاقی سبق:

آدھی چھوڑ ساری کو جائے ،ساری ملے نہ آدھی پائے / اپنا (گھر ) وطن اپنی جنت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.