نوٹس نفسیات 11 پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاھور پاکستان (

نوٹس نفسیات 11 پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاھور پاکستانباب4: حواس اور ادراک (

باب1: نفسیات کا تعارف ص:8-9

                                        مشق

حصہ معروضی:

-1ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر() کا نشان لگائیں۔

(ا iv-) (ا iii-) (د ii-) (بi- )

2- درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

(متحرک iv-) (غیر مرئی iii-) (پیش گوئی ii-) (ٹھوس i- )

3- مختصر جوابات دیجیے۔

1-نفسیات کا نفس مضمون (دائرہ کار) بیان کریں۔
ج: نفسیات کا دائرہ کار انسان کی روح اور دماغ کا مطالعہ کرناہے. یہ انسانی اقدامات اور خیالات کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ یہ تحقیقات کا ایک عمل ہے.
2- نفسیات کے چار مقاصد تحریرکریں۔
ج:   ہف مین اور ورنوئی کے مطابق نفسیات کے چار مقاصد یہ ہیں:

1-         بیان کرنا

2-          وضاحت کرنا

3-          پیش گوئی کرنا

4-          کردار یا صورتحال کو بدلنا3-تجرباتی   نفسیات بیان کریں۔ج:   تجرباتی نفسیات :

تجرباتی نفسیات رویے کا مطالعہ اور عمل کرنے کے لئے تجرباتی طریقوں کو لاگو کرنے کا نام ہے.
تجرباتی نفسیات کے ماہرین انسانوں اور حیوانوں کو بہت سے موضوعات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاََ احساس اور خیال، میموری، معرفت، سیکھنا، حوصلہ افزائی، جذبات، ترقیاتی عمل، سماجی نفسیات، اور عصبی ذیلی طبق وغیرہ .4- صنعتی   نفسیات کے بارے میں تحریر کریں۔ج: نفسیات صنعتی (Industrial Psychology)

اس شاخ کے تحت صنعتی اداروں اور صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد کے پیشہ ورانہ مسائل سے بحث کیجاتی ہے۔ اسکے تحت صنعتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی صلاحیت کا اندازہ لگا کر انکی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور اس پر تحقیقات کرنا اسکا ایک اہم موضوع ہے۔5- نفسیات کی بہترین تعریف کیا ہو سکتی ہے۔ج: نفسیات کی معیاری تعریف :

نفسیات کی معیاری تعریف مشہور ماہر   نفسیات جیرو((Josh R.Jeow1997 نے کی ۔ اس کے مطابق

“نفسیات کردار اور ذہنی اعمال کا علم ہے۔”

4- کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)
ہیجانی اور مطابقتی مسائل کا مطالعہ

تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مسائل کا مطالعہ

کرداریت

لپزگ یونیورسٹی

نفسیات کے چار مقاصد

انشائیہ حصہ:

س5: نفسیات کی بطور علم ِذہنی اعمال اور کردار کے علم کی وضاحت کریں۔
ج: نفسیات کی بطور علم ِذہنی اعمال اور کردار کا علم: Psychology-Science of Behaviour& Mental Processes

         نفسیات بطور کردار کا علم :

نفسیات ایسی سائنس ہے جو یہ پوچھتی ہے کہ لوگ کام کیوں کرتے ہیں۔ایف-ایل-رش(F.L.Ruch1993) مطابق بہت سے ماہرین     نفسیات کی اس تعریف پر متفق ہوں گے۔”   نفسیات   عضویہ کے کردار کا علم ہے”۔

یہاں کردار سے ان کی مراد وہ حرکات و سکنات اور اعمال ہیں جن کا معروضی مشاہدہ ممکن ہو۔ عضویہ یا نامیات کے عضلاتی،غدودی اور دیگر اعضاء کے الگ الگ ردِاعمال اور   وہ ردِ اعمال جو منظم اور مربوط   صورت میں عضویہ کی نمائیدگی کرتے ہیں۔   ماہرین نفسیات کردار میں فکری اور ہیجانی رد اعمال کو بھی کردار کی تشریح میں استعمال کرتے ہیں ۔ ان باطنی افعال کا مشاہدہ براہ راست تو نہیں کیا جاسکتا البتہ خارجی کردار کے مطالعہ سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔

نفسیات بطور علم ِذہنی اعمال :

                     اکثر ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ کردار کا مشاہدہ اور پیائش بہت اہم ہے لیکن   نفسیات کو محض ایک کرداری علم کہنا اس کے مطالعہ کو محدود کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ماہرین نفسیات کا خاص مقصد   یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ لوگ خاص انداز سے عمل کیوں کرتے ہیں اس لیے اندرونی افعال اورمحرکات کو جاننا بہت ضروری ہے۔

علم کردار اور ذہنی اعمال کا علم ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم:

                   مذکورہ بالا دونوں خیالات کو بغور جائزہ لینے سے ہم یہ   اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ “   نفسیات وہ علم ہے جو افراد اور دوسری نوع کے ارکان کے کرداری اور باطنی اعمال کا مطالعہ ان کے طرز عمل کی روشنی میں کرتی ہے۔ اسی طرح   ماہر نفسیات جیرو((Josh R.Jeow1997 نے بھی   نفسیات کی اسی طرح کی تعریف   کی ہے ۔ اس کے مطابق

“نفسیات کردار اور ذہنی اعمال کا علم ہے۔”س6: نفسیات کی معیاری تعریف پر تفصیلاََ بحث کریں۔ج: نفسیات (Psychology)

بنیادی طور پر رویے (behavior) اور عقلی زندگی کے سائنسی مطالعے (scientific study) کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ بات یہاں صرف عقل اور اسکے حیاتیاتی افعال انجام دینے کی نہیں بلکہ عقلی زندگی کی ہے یعنی جسمانی اور عقلی کا مجموعہ؛ اس لیے نفسیات کو یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ نفسیات دراصل نفس (soul) کے مطالعے کا نام ہے اور اسی لیےاسکو نفسیات کہا جاتا ہے یعنی نفس کا مطالعہ۔ انگریزی میں اسکو psychology کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ psych تو نفس کو کہتے ہیں اور logy مطالعہ کو اور یہ انکا کا مرکب لفط ہے۔

نفسیات ایک ایسا علم ہے جسکے تحت بنیادی طور پر انسان کی ذہنی اور دماغی زندگی اسکی ابتدا اور اسکے مختلف پہلوؤں سے بحث کیجاتی ہے۔ نفسیات کی تعریف مختلف مفکرین نے الگ الگ الفاظ میں کی ہے لیکن تمام مفکرین کے خیالات کو یکجا کر دیا جائے تو نفسیات کی تعریف یہی ہو گی کہ ایک ایسی سائنس(علم) جسکے تحت انسان کے دماغ، ذہن، خیالات، احساسات، کردار اور اس سے سرزد ہونے والے مختلف افعال پر بحث کیجاتی ہے۔س7: نفسیات کی مختلف شاخیں بیان کریں اور ان میں سے کسی دو کو تفصیل سے لکھیں۔ج: اب چونکہ علم نفسیات کے تحت انسان کی ذہنی زندگی کےمختلف پہلو زیر بحث آتے ہیں اسلیے انسان کے تعلق کی بنا پر مختلف شعبوں میں الگ الگ بحث اور تحقیق کی جانے لگی ہے اسطرح نفسیات کی مختلف شاخیں عالم وجود میں آ گئی ہیں جن میں سے چند جو اہم ہیں انکا یہاں الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔

تعلیمی (Educational Psychology)

حیوانی (Animal Psychology)

نفسیات صبیان (Child Psychology)

نفسیات صنعتی (Industrial Psychology)

تقابلی (Comparative Psychology)

سماجی (Social Psychology)

عضویاتی (Physiological Psychology)

نفسیات عمومی (General Psychology)

نفسیات غیر معمول (Abnormal Psychology)

نفسیات نسلی(Race Psychology)

نفسیات نشائی (Development Psychology)

نفسیات نظری (Theorotical Psychology

اطلاقی نفسیات (Applied Psychology)

تجرباتی نفسیات:

تجرباتی نفسیات ان لوگوں کے کام کی طرف دلالت کرتی ہے جو تجرباتی طریقوں کو کردار اور اس کے زیر اثر آنے والے عوامل کی سٹٹدی پر اطلاق کرتے ہیں۔ تجرباتی نفسیات رویے کا مطالعہ اور عمل کرنے کے لئے تجرباتی طریقوں کو لاگو کرنے کا نام ہے. تجرباتی نفسيات ، نفسيات کی شاخ جو نفسياتی مسائل کے حل کيلئے تجرباتی اسلوب کا اطلاق کرتی ہے ۔

ولہلیم وونٹ (Willhelm Wundt) نے پہلی بار تجرباتی نفسیاتی لیبارٹری 1879 ء میں لپزگ (Leipizig) یونیورسٹی جرمنی میں قائم کی۔ نفسیات کی اس شاخ میں کام کرنے والے چند ماہرین کے نام یہ ہیں: تھارن ڈائیک، سکنر،واٹسن، پف لاف، بارٹلٹ، ایبنگھاس،کوہلر کوفکا اور ہارٹ ہائمر.
تجرباتی نفسیات کے ماہرین انسانوں اور حیوانوں کو بہت سے موضوعات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاََ احساس اور خیال، میموری، معرفت، سیکھنا، حوصلہ افزائی، جذبات، ترقیاتی عمل، سماجی نفسیات، اور عصبی ذیلی طبق وغیرہ .

             تعلیمی (Educational Psychology)

آج کے دور میں نفسیات کی سب سے اہم شاخ ہے۔ اسکے ذریعہ طلباء کی نفسیات پر بحث کیجاتی ہے، انکی ذہنی کیفیت یعنی ذہانت، کند ذہنی، نااہلی اور اس سے متعلق موضوعات پر بحث کیجاتی ہے۔ طلباء کی ذہنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر نصاب کی تیاری اور نصابی کتابوں کی تیاری میں اس سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ متعدد پیمائشی آلات اور آزمائش کے مختلف طریقوں کی مدد سے تدریسی طریقوں پر تحقیقات کرتی ہے۔

تعلیمی نفسیات کو دیگر شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے سے سمجھا جا سکتا ہے عصبی سائنس اس کی وضاحت کرتی ہے۔. تعلیمی نفسیات انسٹرکشنل ڈیزائن ، تعلیمی ٹیکنالوجی ، نصاب کی ترقی ، تنظیمی سیکھنے ، خصوصی تعلیم اور کلاس روم کے انتظام سمیت تعلیمی مطالعہ ، کے اندر اندر خصوصیات کی ایک وسیع رینج کے بارے میں وضاحت کرتی ہے.  تعلیمی نفسیات کے میدان انسانوں میں عمل سیکھنے کے لئے نئی حکمت عملی conceptualizing ، میموری ، تصوراتی عمل ، اور انفرادی اختلافات کا مطالعہ شامل ہے .

تعلیمی نفسیات Operant conditioning, functionalism, structuralism, constructivism, humanistic psychology, Gesalt psychology, ، اور معلومات کی پروسیسنگ کے نظریات پر مبنی ہے۔س8:کلینیکل سائیکالوجی اور جرائم کی نفسیات پر تفصیل سے بحث کریں۔ج: طبی (Clinical Psychology)

طبی نفسیات کے تحت فرد کے ذہنی امراض اور مختلف ذہنی الجھاؤ کی تشخیص اور علاج سے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ آجکل سب سے زیادہ مفید اور کارآمد شاخ سمجھی جاتی ہے۔ اسکے تحت مختلف ذہنی امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور اسکے تحت علاج کے لیے تحلیل نفسی وغیرہ کے ذریعہ ذہنی امراض کا سبب معلوم کر کے معالجہ ہو جاتا ہے۔ اسکے لیے عمل تنویم کی مدد بھی لی جاتی ہے۔ آج کے گہما گہمی کے دور میں ذہنی امراض میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے انکے علاج کے لیے نئے نئے طریقوں کی تحقیق بھی اسی کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔

نفسیات جرائم (Criminal Psychology)

                 جرائم پیشہ افراد کی نفسیات کا مطالعہ بھی آجکل بہت اہم مانا جاتا ہے۔ جرائم کی نوعیت، انکے اسباب، اور انسداد جیسے اہم مسائل پر اسکے تحت بحث ہوتی ہے ساتھ ہی سزا یافتہ اور جرائم پیشہ افراد کا معاشرہ میں مقام جیسے مسائل زیر بحث آتے ہیں اور موجودہ دور میں اسطرف بھی زیادہ توجہ سی جا رہی ہے۔ اسکے تحت جرائم پیشہ افراد پر تجربات کے ذریعہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ ان لوگوں میں جرم کرنے کی رغبت کی کیا وجہ ہے۔س9:تجرباتی اور تعلیمی نفسیات واضح کریں۔ج:

تعلیمی نفسیات (Educational Psychology)

آج کے دور میں نفسیات کی سب سے اہم شاخ ہے۔ اسکے ذریعہ طلباء کی نفسیات پر بحث کیجاتی ہے، انکی ذہنی کیفیت یعنی ذہانت، کند ذہنی، نااہلی اور اس سے متعلق موضوعات پر بحث کیجاتی ہے۔ طلباء کی ذہنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر نصاب کی تیاری اور نصابی کتابوں کی تیاری میں اس سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ متعدد پیمائشی آلات اور آزمائش کے مختلف طریقوں کی مدد سے تدریسی طریقوں پر تحقیقات کرتی ہے۔

تعلیمی نفسیات کو دیگر شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے س سے سمجھا جا سکتا ہے عصبی سائنس اس کی وضاحت کرتی ہے۔

تعلیمی نفسیات انسٹرکشنل ڈیزائن ، تعلیمی ٹیکنالوجی ، نصاب کی ترقی ، تنظیمی سیکھنے ، خصوصی تعلیم اور کلاس روم کے انتظام سمیت تعلیمی مطالعہ ، کے اندر اندر خصوصیات کی ایک وسیع رینج کے بارے میں وضاحت کرتی ہے.  تعلیمی نفسیات کے میدان انسانوں میں عمل سیکھنے کے لئے نئی حکمت عملی conceptualizing ، میموری ، تصوراتی عمل ، اور انفرادی اختلافات کا مطالعہ شامل ہے .

تعلیمی نفسیات Operant conditioning, functionalism, structuralism, constructivism, humanistic psychology, Gesalt psychology, ، اور معلومات کی پروسیسنگ کے نظریات پر مبنی ہے۔

تجرباتی نفسیات:

تجرباتی نفسیات ان لوگوں کے کام کی طرف دلالت کرتی ہے جو تجرباتی طریقوں کو کردار اور اس کے زیر اثر آنے والے عوامل کی سٹٹدی پر اطلاق کرتے ہیں۔ تجرباتی نفسیات رویے کا مطالعہ اور عمل کرنے کے لئے تجرباتی طریقوں کو لاگو کرنے کا نام ہے. تجرباتی نفسيات ، نفسيات کی شاخ جو نفسياتی مسائل کے حل کيلئے تجرباتی اسلوب کا اطلاق کرتی ہے ۔
تجرباتی نفسیات کے ماہرین انسانوں اور حیوانوں کو بہت سے موضوعات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاََ احساس اور خیال، میموری، معرفت، سیکھنا، حوصلہ افزائی، جذبات، ترقیاتی عمل، سماجی نفسیات، اور عصبی ذیلی   طبق وغیرہ .س10:صنعتی اور کاروباری اور ماحولی نفسیات کی وضاحت کریں۔ج:

نفسیات صنعتی (Industrial Psychology)

اس شاخ کے تحت صنعتی اداروں اور صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد کے پیشہ ورانہ مسائل سے بحث کیجاتی ہے۔ اسکے تحت صنعتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی صلاحیت کا اندازہ لگا کر انکی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور اس پر تحقیقات کرنا اسکا ایک اہم موضوع ہے۔

ماحولی نفسیات(Environmental Psychology ):

ماحولیاتی نفسیات انسانوں اور ان کے ارد گرد کے ماحول کے درمیان انٹر پلے پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک بین انضباطی میدان ہے . یہ نفسیات قدرتی ماحول ، سماجی ماحول ، تعمیر ماحول ، سیکھنے کے ماحول ، اور معلوماتی ماحول کے احاطہ ، معلوماتی طور پر ماحول کی وضاحت کرتا ہے .س11: نفسیات کے بارے میں مختلف نظریات پر بحث کریں۔ج: نفسیات کے بارے میں مختلف نظریات:

1- Behavioral Theories /رویہ نفسیات/ (behaviorism) :

تمام رویے کنڈیشنگ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس خیال کی بنیاد پر تعلیم کا ایک نظریہ ہے.
مشہور نفسیات جان بی واٹسن اور BF سکنر جیسے ماہرین   نفسیات کا خیال ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی نصف حصے کے دوران نفسیات کے انہی نظریات کا غلبہ رہا ہے.
آج، بھی یہ تکنیک بڑے پیمانے پر گاہکوں کو نئے مہارت اور طرز عمل کو سیکھنے میں مدد کرنے کے لئے علاج کی ترتیبات میں استعمال کیجاتی ہے.

   2- ادراکی نظر یات :Cognitive Theories

نفسیات کے علمی نظریات اس طرح حوصلہ افزائی، مسائل کو حل کرنے، فیصلہ سازی، سوچ، اور توجہ کی اندرونی حا لتوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں.

ترقی کے نظریات(Developmental Theories  ):

ترقی کے نظریات انسانی ترقی، ترقی، اور سیکھنے کے بارے میں سوچ کے لئے ایک فریم ورک فراہم کرتے ہیں. اگر آپنے کبھی یہ سوچا ہو کہ انسانی سوچ اور رویے کو کون تحریک دیتاہے تو یہ نفسیات کے یہ نظریات آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

4۔ انسان نظریات( (Humanist Theories
انسانی نفسیات نظریات 1950s کے دوران مقبولیت میں اضافہ شروع کر دیا.
پہلے دور میں نظریات اکثر غیر معمولی طرز عمل اور نفسیاتی مسائل پر توجہ مرکوز کرتےتھے، اس دور میں انسان کے نظریات کی بجائے انسان کی بنیادی اچھائی پر زور دیاگیا ہے۔
انسان نظریہ کے حامی لوگوں میں سے کچھ بڑے   بڑے ناموں میں کارل راجرز اور ابراہیم Maslow شامل ہیں.س12: الف: نفسیات کے مقاصد   ب:   نفسیات کے موضوع مطالعہ پر مختصر نوٹ لکھیں۔ج: نفسیات کے مقاصد:

1-وضاحت کرنے کے لئے
انسانوں اور دوسرے جانوروں کے رویے کو بیان کے ذریعے ہم یہ سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

نفسیات کےمحققین قدرتی مشاہدے ، کیس اسٹڈیز ، correlational مطالعہ ، سروے ، اور خود رپورٹ کو وضاحت میں مدد کے لئے تحقیق کے لیےاستعمال کرتے ہیں .
ماہرین نفسیات بھی محض بیان کرنے کے علاوہ رویے کی وضاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں مثلاََ لوگ ایسا کیوں کام کرتے ہیں؟ کیا عوامل ترقی ، شخصیت ، سماجی رویے ، اور ذہنی صحت کے مسائل میں شراکت ؟ نفسیات کی پوری تاریخ میں ، بہت سے مختلف نظریات انسانی رویے کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت میں مدد کرنے کے لئے ابھر کر سامنے آئے۔
2-پیشن گوئی
نفسیات کا ایک مقصد یہ ہے کہ   اس بارے میں پیشن گوئی کرنا   کہ ہم کیا سوچتے ہیں اور کس طرح کا م کرتے ہیں۔ ہم سے ایسا ہوتا ہے اور یہ کیوں ہوتا ہے ، اور یہ کس طرح مستقبل میں دوبارہ ہو سکتا ہے کے بارے میں پیشن گوئی کرنے کے لئے اس کی معلومات کا استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے بارے میں مزید سمجھنے اور کامیابی کے ساتھ رویے کی پیشن گوئی کرنے کے لیے ہمارے اعمال کی بنیادی وجوہات کو سمجھنااور جاننا اس کے طریقوں میں سے ایک ہے .

ماہرین نفسیات کے مطابق   پیشن گوئی ضروری مظاہر بنیادی نظام کا مشاہدہ کیے بغیر انسانی رویے کے بارے میں اندازہ کرنے کے لئے اجازت دیتی ہے۔
3-تبدیل کرنے کے لئے

نفسیات لوگوں کی زندگیوں میں مثبت اور پائیدار تبدیلیاں کرنے کے لئے ترتیب میں ، اثر و رسوخ ، یا کنٹرول رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ محققین وہ ایک دلچسپ ٹیسٹ اور بھاگنے والے کی شرح پر سکور کے درمیان لنک کے بارے میں معلوم کرتے ہیں اور طالب علموں کے اسکول میں رہنے میں مدد کرنے کے لئے ڈیزائن کے پروگرام تیار کرنے کے لئے معلومات کا استعمال کر سکتے ہیں . انسانی رویے کو تبدیل کرنے ، انسانی بہبود میں اضافہ کرنے کے لئے ذہنی بیماری کے علاج میں نفسیات کی ایک بڑی توجہ مرکوز کرنا ہے

ب: نفسیات کا موضوع مطالعہ

اگر نفسیات   کی تعریف کو بغور دیکھا جاۓ تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ عقل (mind) (عقلی زندگی) سے متعلق ہونے کی وجہ سے اسکا دائرہ بے انتہاء وسیع اور ہمہ گیر ہے اور اس میں عقلی عملیت (mental processes) کے تمام پہلو مثلا ؛ قیاس (perception)، ادراک (cognition)، جذبات (emotion)، شخصیت، بین الاشخاصی روابط (interpersonal relationships) اور رویے بھی داخل مطالعہ ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ نفسیات کو طبی اور معاشرہ سے متعلق دیگر شعبہ جات میں ایک کلیاتی علم (academia) کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفاذی علم کا درجہ بھی حاصل ہے۔

باب2: اسالیب تحقیق   ص:19-20

                                        مشق

حصہ معروضی:

-4ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

2- درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

1- مختصر جواب سے مندرجہ ذیل بیان کو مکمل کریں۔

1-تحقیق سےمراد—————————————————————–ہے۔
1-تحقیق سےمراد ایک عمل ہے جو “کسی موضوع یا مسئلے کے بارے میں معلومات جمع اور تجزیہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ہماری معلومات میں اضافہ ہو۔
2-تحقیق کا بڑا مقصد——————————————————————ہے۔
ج: تحقیق کا بڑا مقصد کی منصوبہ بندی کی مدد کرنے اور ایک خاص موضوع پر معلومات جمع کرناہے۔
3- تحقیق کی اقسام—————————————————————-ہیں۔
ج: تحقیق کی اقسام خالص تحقیق اور اطلاقی ہیں۔
4-تابع متغیرہ وہ ہےجو ————————————————————ہے۔
ج: تابع متغیرہ وہ ہےجو آزاد متغیرات میں تبدیلی کے تحت نتیجتاََ   بدل سکتاہے۔
5- غیرتابع متغیرہ وہ   جو———————————————————— ہے۔
ج: غیرتابع متغیرہ وہ عنصر ہےجس کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

3- کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)

انشائیہ حصہ:

س5: آپ کے نزدیک تحقیق(Research)کیا ہے؟   نفسیات کے مضمون میں اس کی اہمیت بیان کریں۔
ج: تحقیق(Research):

“تحقیق ایک منظم بنیاد پر شروع کیا گیا کام ہےجو انسان، معاشرے اور ثقافت کے بارے میں تخلیقی علم پر مشتمل ہوتاہے۔”

نفسیاتی تحقیق کے ماہرین نفسیات کے تجربات اور افراد یا گروہوں کے طرز عمل، تحقیق اور تجزیہ کرنے کے لئے جوعمل اختیار کرتے ہیں اس کو تحقیق کہتے ہیں ہے ۔ ان کی تحقیق، تعلیمی پیشہ ورانہ، اور طبی اطلاق پر مبنی ہوسکتی ہے۔

تحقیق(Research) کی اہمیت: (Roggio, 2008).

1۔ ماہرین نفسیات کے لئے یہ ضروری ہےکہ وہ اپنے مریضوں کے تجربات اور تشخیص کے دوران سائنسی طریقہ کو ایک معیاری پر عمل طور پر استعمال کریں۔

2۔   یہ جھوٹے نتائج کے امکان کو محدود کرنے کے لئے اشد ضروری ہے جن کے حقیقت میں بہت زیادہ خطرناک نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔

3۔ سائنسی طریقہ نفسیات کی تمام سرگرمیوں کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

4۔ تحقیق نفسیات ایک سائنسی قیمت فراہم کرتی ہے اور نئے نظریات کے لیے دلیل دے کر نئ راہیں کھولتی ہے۔

5۔ تحقیق ہمیں چھوٹے پہلووں کے بارے میں سوال کرنے کے لئے کی اجازت دیتی ہے کیونکہ ہم خیالات میں یا اپنے خیالات یا تحریر اکٹھا کرنے میں غلطیاں کر سکتے ہیں۔س6: تحقیق(Research)کی اقسام کونسی ہیں؟ ریسرچ اور مشاہدہ دونوں کے لحاظ سے تقسیم بتائیے۔ج: تحقیق(Research) اقسام:

1۔مشاہداتی طریقہ: observational Method

مشاہدہ سے مراد جانداروں کے کردار کابغور جائزہ لینا اور نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کو قلمبند کرنا مشاہداتی طریقہ کہلاتاہے۔

مشاہدہ کی دو اقسام ہیں:

(1)                                         قدرتی مشاہدہ(natural observation)

(2)         منضبط مشاہدہ(controlled observation)

قدرتی مشاہدہ: قدرتی مشاہدہ مشاہدے کا وہ طریقہ ہے جس میں مشاہدہ کرنے والا قدرتی حالات و واقعات کے حقائق بالکل اسی طرح ریکارڈ کرتاہے جیسے وہ سرزد ہوتے ہیں۔ دراصل تحقیق کی یہ قسم وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں تحقیق کا موضوع مشاہدہ کرنے والے کے اختیار سے باہر ہو۔

قدرتی مشاہدہ میں دو طریقے استعمال ہوتے ہیں:

الف: معروضی مشاہداتی طریقہ

ب: باطنی مشاہداتی طریقہ

الف: معروضی مشاہداتی طریقہ:

معروضی مشاہداتی طریقہ میں ماحول میں پائے جانے والے قدرتی حالت کے زیر اثر واقعات کا مطالعہ کیا جاتاہے۔ معروضی مشاہداتی طریقہ میں صرف ان اشیا کا مشاہدہ کیا جاتاہے جو سامنے (معرض) موجود ہوں اور جیسی دکھائی دیتی ہوں اسی طرح غیر جانبداری سے مشاہدہ کرلیا جاتاہے اور مشاہدہ کرنےوالا اس میں اپنے احساسات کو شامل نہیں کرتا۔

ب: باطنی مشاہداتی طریقہ: باطنی مشاہداتی طریقہ ایک قدیم اور روایتی طریقہ ہے۔ اس میں فرد اپنی ذات یا اپنے ذہنی اعمال کا خود مطالعہ کرتاہے۔ کسی خاص صورت حال میں اپنے داخلی اور باطنی تجربات اور محسوسات کی رپورٹ دیتاہے۔

ولہیلم وونٹ(willhelm Wundt 1832-1920) کا ساختیت کا مکتب (structuralism)شعوری کیفیات کے تجزیہ کے لیے مشاہدہ باطن کے طریقہ پر زور دیتاہے۔

(2)منضبط مشاہدہ(controlled observation) زیادہ ترتحقیق تجرہ گاہ کی منضبط شرائط کے تحت کی جاتی ہے۔ تحقیق دو متغیرات کے درمیان علت و معلول کا تعلق دیکھنے کے لیے ہی کی جاتی ہے۔ ہم کسی ایک متغیرہ کو بطور سبب یاعلت کے لے کر اس کا اثر اور نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم ملٹی میڈیا کا استعمال کریں تو امتحانات میں طلباء کےنتائج پر کیا اثر پڑیگا؟

تجرباتی طریقہ: (Experimental Method) یہ تحقیق کا سب سے زیادہ قابل اعتبار ، ترقی یافتہ اور سائنسی طریقہ ہے۔تجرباتی طریقہ سے مشاہدہ کیے گئے حقائق کے بارے میں مفروضہ کی جانچ پرکھ اور پیش گوئی کی جاتی ہے۔ ماہر نفسیات ایک تجرباتی ڈیزائن بناتاہے جس میں وہ تجربہ کے مسائل کی تعریف کرتاہے، ان شرائط کوبیان کرتاہے جن کے مطابق مشاہدات کیے جاتے ہیں۔ ان تجرباتی آلات و سامان کاذکر کرتاہے جو تجربہ میں استعمال ہوں گے۔ اس طریق کار کو واضح کرتاہے جو نتائج کی تشریح میں استعمال ہوگا تاکہ تجربہ میں مفروضہ کو صحیح طور پر جانچ کر مفروضہ کی تائید یا تردید ثابت کرسکے۔س7: نفسیات میں استعمال ہونے والے تحقیقی اسالیب ضروری تفصیل کے ساتھ بیان کریں۔ج: 1۔مشاہداتی طریقہ: observational Method

مشاہدہ سے مراد جانداروں کے کردار کابغور جائزہ لینا اور نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کو قلمبند کرنا مشاہداتی طریقہ کہلاتاہے۔

مشاہدہ کی دو اقسام ہیں:

(1)                                         قدرتی مشاہدہ(natural observation)

(2)                                          منضبط مشاہدہ(controlled observation)

تجرباتی طریقہ: (Experimental Method) یہ تحقیق کا سب سے زیادہ قابل اعتبار ، ترقی یافتہ اور سائنسی طریقہ ہے۔تجرباتی طریقہ سے مشاہدہ کیے گئے حقائق کے بارے میں مفروضہ کی جانچ پرکھ اور پیش گوئی کی جاتی ہے۔ ماہر نفسیات ایک تجرباتی ڈیزائن بناتاہے جس میں وہ تجربہ کے مسائل کی تعریف کرتاہے، ان شرائط کوبیان کرتاہے جن کے مطابق مشاہدات کیے جاتے ہیں۔ ان تجرباتی آلات و سامان کاذکر کرتاہے جو تجربہ میں استعمال ہوں گے۔ اس طریق کار کو واضح کرتاہے جو نتائج کی تشریح میں استعمال ہوگا تاکہ تجربہ میں مفروضہ کو صحیح طور پر جانچ کر مفروضہ کی تائید یا تردید ثابت کرسکے۔

سروے کا طریقہ: ایک فیلڈ سروے کے طریقہ کار میں آبادی کی طرف سے انفرادی یونٹوں کے نمونے لینے اور منسلکہ سروے ڈیٹا جمع کرنے کی تکنیک کواستعمال کیا جاتا ہے۔ ان تکنیکس میں سوالنامے(Questionaire)اور سروے کے جوابات کی تعداد اور درستگی کو بہتر بنانے کے طریقے اور ان کا مطالع شامل ہیں۔

ایک سروے کم از کم ایک نمونہ کے لیے بنایا جاتا ہے۔ ایک سروے کے موضوعات مختلف اقسام پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں

جیسے

ترجیحات (جیسے، ایک صدارتی امیدوار کے لئے)،

رائے (مثال کے طور، اسقاط حمل کے قانونی ہونا چاہئے؟)،

رویے (تمباکو نوشی اور شراب کے استعمال کے)، یا

حقائق پر مبنی معلومات (جیسے، آمدنی)وغیرہ۔

کیس ہسٹری( مطالعہ احوال کاطریقہ):

Case history method کو clinical method بھی کہتے ہیں۔ یہ طریقہ اصل میں روزنامچہ (day book method)کا اضافی وضاحتی طریقہ ہے جو بچے کی نشونما کےمطالعے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بچے کے مطابقتی مسائل کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ہم اکثر اس کی گذشتہ اور موجودہ زندگی کے حالات کے بارے میں موجود معلومات کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہیں۔ مطالعہ احوال کے طریقہ میں تین پیشہ ور ماہرین کا اشتراک شامل ہوتا ہے؛

–     ماہر طب: جسمانی بیماریوں کی تشخیص کرتاہے۔

–     سوشل ورکر: گھریلو اور سماجی حالات کا مطالعہ کرتاہے۔

–     کلینکی اور نفسی پیمائش کاماہر:س8: تابع اور غیر تابع متغیرات کے درمیان نیز کنٹرول گروپ اور تجرباتی گروپ کے درمیان فرق واضح کریں۔ج: ایک تجربہ میں استعمال ہونے والےمتغیرات کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا.”تابع متغیر”، “آزاد متغیر”، یا دیگر۔

تابع متغیرات:

“انحصار متغیر” پیداوار یا اثر کی نمائندگی کرتا ہے، یا یہ وہ اثر ہے جسے دیکھنے کے لئے تجربہ کیا جاتا ہے.

وہ متغیرات ہیں جوآزاد متغیرات میں تبدیلی کے تحت نتیجتاََ بدل سکتے ہوں یا نہ بدل سکتے ہوں۔

آزاد متغیر:

“آزاد متغیر” input یا وجوہات کی نمائندگی کرتے ہیں۔یا وہ وجوہ ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں.

کنٹرول گروپ اور تجرباتی گروپ:

زیرتجربہ معمولوں کو دو گروپو ں میں بانٹ دیا جاتاہے۔ ان میں ایک گروپ کو کنٹرول(Control Group) گروپ اور دوسرا تجرباتی گروپ (Experimental Group)کہلاتاہے۔

دونوں گروپوں کا انتخاب یکسانیت کے معیار پر کیا جائے گا۔ وہ تمام معتلقہ متغیرات مثلاَ عمر، تعلیم ، جنس، ذہانت، اقتصادی ، سماجی ہر صورت میں ایک جیسے ہوں گے ماسوائے ایک کے جس کے اثر کا مطالعہ کرنا ہے وہ غیر تابع متغیر صرف تجرباتی گروہ پر لاگو ہوگا۔س9:ہم تحقیق(Research) کس طرح کرتے ہیں۔ واضح کریں تحقیقی عمل   میں کون سے مراحل پائے جاتے ہیں؟ج: ماہرین نفسیات موضوعات کی ایک وسیع رینج (بچوں میں زبان کی ترقی، رویے پر حسی محرومی کے اثرات وغیرہ) کا مطالعہ کرتے ہیں۔وہ تحقیق کے لئے Testable سائنسی ماڈل اور طریقوں کا استعمال کرتے ہیں.

تحقیق کے مراحل:

سائنسدان تحقیق کے بیان کرنے کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا استعمال کرتے ہیں:

متغیر: واقعات، خصوصیات، رویے، یا محققین کی پیمائش اور مطالعہ کے حالات.

موضوع یا شریک: ایک انفرادی شخص یا جانور ایک محقق کے مطالعہ کاموضوع ہوسکتاہے.

نمونہ مضامین: چونکہ محققین پوری آبادی کا مطالعہ نہیں کر سکتے اس لیےمحققین کے نمونے کا استعمال کرتے ہیں.

آبادی: لوگوں یا جانوروں کا وہ                   مجموعہ جس سے     محققین ایک نمونہ لیتے ہیں. محققین نمونہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے نتائج کا پوری آبادی پر اطلاق کرتے ہیں.

ماہرین نفسیات تحقیق کرنے کے لئے سائنسی طریقہ کا استعمال کرتے ہیں:.

سائنسی طریقہ: تحقیق کر کے اعداد و شمار جمع کرنا، نظریات کی تشکیل، پیشن گوئی کی جانچ، اور نتائج کی تشریح کے لیے ایک معیاری طریقہ اختیار کرنے کا نام سائنسی طریقہ ہے۔

محققین کے رویے کی وضاحت اور کی پیمائش کرنے کے لئے مشاہدہ کرنے کرتے ہیں. بار بار کچھ واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد محققین ایک نظریہ   پیش کرتاہے جو ان مشاہدات کی وضاحت کرتی ہے۔

نظریہ(Theory) :ایک نظریہ ایک وضاحت ہے جو متفرق معلومات کو ایک مربوط انداز میں منظم کرتی ہے۔

باب3: اعصابی نظام اور کردار ص:42-43

                                        مشق

حصہ معروضی:

-1ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

i-1,     ii-1,

2- درج ذیل میں کالم الف اور کالم ب میں درج الفاظ میں باہمی           تعلق معلوم کرکے کالم ج میں درج   کریں

1۔سوچ اور ذہانت کامرکز -2 – ارتباط (co-ordination) 3- اضطراری افعال کا مرکز 4-                                     5-Homeostasis۔

3- مختصر جوابات دیجیے۔

1-مہیجات کو دماغ یا نخاع تک کون لے جاتاہے؟
ج: مہیجات کو دماغ یا نخاع تک حسی نیوران عصابنیے ( SENSORY NEURONS)لے جاتے ہیں۔
2- دماغ یا نخاع   سے احکامات کو عضلات تک کون پہنچاتاہے؟
ج: دماغ یا نخاع سے احکامات کو عضلات تک حرکی نیوران عصبانیے ( MOTOR NEURONS)پہنچاتے ہیں۔
3- نخاع کے ذریعے انجام پانے والے ایک سادہ اضطراری عمل میں کتنے نیوران حصہ لیتے ہیں
ج:

 

4-سفید مادہ کسے کہتے ہیں؟ج: جو حصہ دماغ کے اندر کی جانب ہوتا ہے اور سفید رنگت کا نظر آتا ہے اسے سفید مادہ (white matter) کہتے ہیں۔5-سرِ حرام مغز کا دوسرا نام کیا ہے؟ج: سرِ حرام مغز کا دوسرا نام (BRAIN STEM,) دماغ کا تنا کہتےہیں۔

انشائیہ حصہ:

س1: نیوران(عصبیہ) کی شکل بناکر اسکے مختلف حصوں کے افعال   بتایے
ج:

اعصابی نظام میں خلیات کی دو اقسام ہیں گلیال (neuroglia )خلیات اور نیوران:.

(الف)، Glial خلیات، اعصابی نظام کی ساخت بنانے میں چار افعال انجام دیتے ہیں:

– نیوران کے لئے ساختی مدد فراہم کرتے ہیں

– الگ نیوران

– پرورش نیوران

– فضلے کی مصنوعات کو ہٹا دیں

(ب). نیوران ممکنہ افعال:

1) نیوران اعصابی نظام کے پیغام رساں کے طور پر کام کرتےہیں.

2)نیوران معلومات حاصل کرتے ہیں پھر اس معلومات کو یکجا / ضم کرتے ہیں اور اس کو منتقل کرتے ہیں.

3)وہ حسی اعضاء میں خلیات کے ساتھ ،ایک دوسرے کے ساتھ اور پٹھوں اور غدود کے ساتھ بات چیت بھی کرتے ہیں۔

نیوران کی ان کے افعال کی بنیاد پر درجہ بندی اس طرح کی جا سکتی ہے:

1 حسی نیوران (afferent نیوران): خود معلومات محسوس کرتے ہیں یا حسی رسیپٹرز کی طرف سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔

نیوران ,مرکزی اعصابی نظام (دماغ اور ریڑھ کی ہڈی ) (CNS= CENTRAL NEURON SYSTEM) کو حسی معلومات منتقل کرتے ہیں۔

معلومات کھوپڑی یا ریڑھ کی ہڈی کی اعصاب کے ذریعے حرکت کرتی ہے۔

2- موٹر نیوران (efferent نیوران)   : یہ حرکی نیوران مرکزی اعصابی نظام(CNS)سے معلومات لےکر کھوپڑی یا ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب کے ذریعے پٹھوں تک پہنچاتے ہیں۔

3- معاون اعصابی نظام کے موٹر نیوران: معاون اعصابی نظام کے موٹر نیوران سی این ایس سے معلومات لے غدود اور دوسرے اعضاء تک پہنچاتے ہیں.

انٹر نیوران مختصر عصبی ریشوں ہیں جو  دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے اندر اندر قریبی نیوران سے رابطہ قائم کرتے ہیںس2:ارتباطی نیوران(Associative Neoron) کیا ہے۔ تفصیل بیان کریں۔ج: تلازمی /ارتباطی نیوران(Associative Neoron):

ان کو ایسوسی ایشن نیوران یا بین نیوران بھی کہا جاتا ہے۔   یہ نیوران دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں پائے جاتے ہیں۔  (سے نیوران کے لئے) یہ ایک نیوران(afferent) سے دوسرے نیوران(efferent) درمیان کیمیائی بہاو کو یقینی بناتے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ارتباطی نیوران ہرجگہ موجود ہو۔ بعض جگہ حسی اور حرکی نیوران خود ہی مل کر براہ راست رشتہ قائم کرلیتے ہیں۔ درمیانی واسطے کی ضرورت نہیں رہتی ۔جیسا کہ ری فلیکس آرک(Reflex Arc) میں ہوتا ہے۔

 

س3: دماغ کے مختلف حصے بناکر ظاہر کریں۔

ج: دماغ :

       دماغ دراصل مرکزی عصبی نظام کا ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جسمیں عصبی نظام کے تمام اعلی مراکز پاۓ جاتے ہیں۔ اکثر جانداروں میں دماغ سر میں موجود ایک ہڈی کے صندوق میں محفوظ ہوتا ہے جسے کاسہ سر یا کھوپڑی کہتے ہیں اور چار بنیادی حسیں (بصارت، سماعت، ذائقہ اورسونگھنا) اسکے بالکل قرب و جوار میں ملتی ہیں۔

       دماغ ایک انتہائی پیچیدہ عضوہے، اس بات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دماغ میں تقریبا 100 ارب خلیات پائے جاتے ہیں اور پھر ان 100 ارب خلیات میں سے بھی ہر ایک ، عصبی تاروں یا ریشوں کے زریعے تقریبا 10000 دیگر خلیات کے ساتھ رابطے بناتا ہے۔

دماغ کو اگر کاٹ کر دیکھا جاۓ تو یہ اپنی ساخت میں دو الگ رنگوں میں نظر آنے والے حصوں کا مظاہرہ کرتا ہے،:

   خاکی مادے: (GRAY MATTER) یہ حصہ عام طور پر بیرونی جانب پایا جاتا ہے اور خاکی مادے (gray matter) پر مشتمل ہوتا ہے ۔ خاکی مادے میں عصبونات کے جسم(soma) پاۓ جاتے ہیں

سفید مادہ (WHITE MATTER) : یہ حصہ اندر کی جانب ہوتا ہے اور سفید رنگت کا نظر آتا ہے اسے سفید مادہ (white matter) کہتے ہیں۔سفید مادے میں عصبونات سے نکلنے والے تار نما ریشے ایکسون(axon) پاۓ جاتے ہیں۔

 

دماغ سے نکلنے والے اعصاب کودماغی اعصاب کہا جاتا ہے، جو کہ سراور ملحقہ علاقوں کا دماغ سے رابطہ کرنے کے لیے استعمال کیجاتے ہیں۔ جبکہ دماغ کے نچلے حصے سے ایک دم نما جسم منسلک ہوتا ہے جوریڑھ کی ہڈی میں اتر جاتا ہے اسکوحرام مغز کہتے ہیں، حرام مغز سے نکلنے والے اعصاب کو نخاعی اعصاب کہا جاتا ہے اور یہ تمام جسم کو اعصابی نظام سے منسلک کرتے ہیں۔

        صادر (EFFERENT) :وہ اعصابی ریشے جو کہ مرکزی عصبی نظام یعنی دماغ اور حرام مغز سے پیغامات کو جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچاتے ہیں انکو صادر (efferent) کہا جاتا ہے ۔

وارد (AFFERENT): وہ اعصابی ریشےجو کہ جسم کے مختلف حصوں سے اطلاعات اور حسوں کو دماغ اور حرام مغز میں لے کر آتے ہیں یا وارد ہوتے ہیں انکووارد (afferent) کہا جاتا ہے۔

دماغ ہی وہ مقام ہے جہاں سے معرفی ،حرکی اور دیگر اقسام کے تَعلّم یعنی learning کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

دماغ اپنے افعال کا ایک بڑا حصہ خودکار طور پر اور بلا جاندار کی شعوری آگاہی کہ انجام دیتا رہتا ہے ، مثال کے طور پر حسی نظام کے افعال جیسے ، حسی راہ کاری (sensory gating) اورمتعدد حسی اتحاد (multisensory integration) ، چلنا اور دیگر کئی استتبابی افعال مثلاسرعت قلب، فشار خون، سیالی توازن (fluid balance) اور جسمانی درجہ حرارت وغیرہ۔ یہ وہ چند افعال ہیں جو دماغ جاندار کو احساس ہوۓ بغیر انجام دیتا رہتا ہے۔

               ہم اہنگ فعالیت(COORDINATED ACTIVITY) :کئی افعال ، دماغ اور حرام مغز کی ہم اہنگ فعالیت(coordinated activity) کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔

حرام مغز : جانداروں کے کئی سادہ رویے (behaviors) مثلا reflexes اور بنیادی حرکات وغیرہ ایسے بھی ہیں جو کہ صرف حرام مغز کی سطح پر ہی نبٹا دیے جاتے ہیں اور انکے لیے عام طور پر دماغ کو مداخلت نہیں کرنا پڑتی۔

س4: درون افرازی غدود (Endocrine Glands) کیا کام کرتے ہیں۔ تفصیل بیان کریں۔ج: درون افرازی غدود (ENDOCRINE GLANDS (صمّاوی نظام (م پر تشدید و زبر))

 

اسکو انگریزی میں ؑEndocrine System کہتے ہیں ۔ انسان اور حیوانات کے جسم میں عضلات کے گولے نما عضو ہوتے ہیں جنہیں غدود کہتے ہیں۔

یہ ایسے غدودوں پر مشتمل نظام ہے کہ جنکی رطوبتیں خون میں شامل ہوکر تمام جسم میں پھیل جاتی ہیں اور جسم کے دور دراز (غدود سے) حصوں میں پہنچ کر ان میں نظم و ضبط کو قائم رکھتی ہیں ۔ ہر غدود ایک خاص قسم کی کیمیائی رطوبت خارج کرتا ہے جو ہمارے جسم میں مختلف افعال کے لیے ضروری اور معاون ہوتی ہے ان رطوبتوں کی کمی یا زیادتی کیوجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔  اور اسی مناسبت سے اس نظام کو داخلی غدودی نظام بھی کہ سکتے ہیں ۔

(دوسرا حصہ ٹیبل:1 درافرازی غدودوں کے نظا م کار صفحہ:39 پر دیکھیے )س5: محیطی اعصابی نظام پر ایک نوٹ لکھیں۔ج: محیطی اعصابی نظام/ جانبی عصبی نظام/PNS (PHERIPHERAL NERVOUS SYSTEM) :

یہ نظام دراصل عصبی نظام کا ایک ایسا حصہ ہے جو کہ مرکزی عصبی نظام سے نکل کر جسم کر جانبی اعضاء (مثال کے طور پر ہاتھ اور پاؤں) کی جانب پھیل جاتا ہے اسی وجہ سے اسکو محیطی عصبی نظام کا نام دیا گیا ہے۔

جیسا کہ مرکزی عصبی نظام میں دو اجسام ہوتے ہیں ، دماغ اور نخاغی طناب۔ دماغ سے اور نخاغی طناب ) اسپائنل کارڈ( سے نکلنے والے اعصاب یا nerves سے ہی ملکر جانبی عصبی نظام بنتا ہے.

دماغی اعصاب: (CRANIAL NERVES)وہ اعصاب جو کہ دماغ سے نکلتے ہیں تعداد میں 12 ہوتے ہیں اور انکو مجموعی طور پردماغی اعصاب (cranial nerves) کہا جاتا ہے .

نخاغی اعصاب (SPINAL NERVERS) :وہ اعصاب جو کہ اسپائنل کارڈ سے نکلتے ہیں انکو نخاغی اعصاب (spinal nervers) کہا جاتا ہے اور انکی تعداد 31 ہوتی ہے۔

جسدی عصبی نظام SOMATIC NERVOUS SYSTEM

جسدی عصبی نظام کو انگریزی میں somatic nervous system بھی کہا جاتا ہے۔ somatic کا مطلب ، جسم سے تعلق ، ہے اس لحاظ سے طب کی کتب میں اسکو جسدی کہا جاتا ہے، یعنی جسد سے متعلق کیونکہ جسد، جسم کو کہتے ہیں، آسان الفاظ میں اسکو جسمی عصبی نظام بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ نظام دماغ کے ان حصوں اور ان اعصاب پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو جسم کے عضلات(مسلز) اور دیگر جسمانی حصوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جبکہ وہ عصبی نظام جو کہ جسم کےاعضاء (مثلا آنتیں ، گردے اور معدہ وغیرہ) کو کنٹرول کرتا ہے اسکو آٹونومک عصبی نظام کہا جاتا ہے۔

خود کار اعصابی نظام AUTONOMIC NERVOUS SYSTEM

خود کار نظام ,محیطی عصبی نظام کا حصہ ہے جو کہ مغلوب جسم کے افعال(خون کے بہاؤ، دل کی دھڑکن، عمل انہضام اور سانس لینے) کی ریگولیٹری کا ذمہ دار ہے.

یہ نظام مزید دو شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1 – ہمدرد نظام فلائٹ یا فائٹ کے responses کو باقاعدہ بناتاہے۔

2- parasympathetic نظام عام جسم کے افعال کو برقرار رکھنے اور جسمانی وسائل کو محفوظ میں مدد دیتا ہے

SENSES& PERCEPTION)ص:75-76

مشق

حصہ معروضی:

1- مختصر جوابات دیجیے۔

1-نابینا شخص ذیل کی چیزوں کو پہچاننے میں کن حواس کا استعمال کرتاہے؟(شیشہ- لکڑی- کپڑا- کاغذ وغیرہ)
ج: نابینا شخص شیشہ- لکڑی- کپڑا- کاغذ وغیرہ کو پہچاننے میں حواس خمسہ میں سے زیادہ تر لمس کا استعمال کرتاہے۔
2-اگر آپ موٹر کار میں ہیں تو کون سی حس آپکو بتاتی ہے کہ آپ حرکت میں ہیں یا ساکت۔
ج: اگر ہم موٹر کار میں ہوں تو سماعت کی حس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم حرکت کر رہے ہیں یا ساکن ہیں۔
3- کیا ہمارے حواس ہمیشہ صحیح رہنمائی کرتےہیں؟
ج: نہیں ہمارے حواس ہمیشہ صحیح رہنمائی نہیں کرتے بعض اوقات دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔
5-              دماغ رنگوں کی پہچان کن خلیوں کے ذریعے کرتاہے؟
ج: دماغ رنگوں کی پہچان مخروطے/کون (Cone Cells) کے ذریعے سےکرتاہے۔
5-بصارت کے لیے فوویا کی سب سے زیادہ اہمیت کیوں ہے؟
ج:

فوویا (FOVEA / YELLOW SPOT):

فوویا ،ریٹینا پر ایک مقام کا نام ہے ۔یہ مقام مرکز کے قریب پایاجاتاہے جہاں سو فی صد (100%)مخروطے (CONES)پائے جاتے ہیں اسے فوویا یا مقعر زرد نقطہ کہا جاتا ہے۔

2 -ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر() کا نشان لگائیں۔

1-ج 2- 3-ج 4- الف 5- ب

3– درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

1- جالدار پردہ 2-     رنگوں 3 -محدب 4-ادراک 5-بھینگا پن

4– کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)
1-              قاقلیہ

2-              بصری عصب

3-              عصب شامہ

4-              ذائقہ کے مآخذےآنکھ

ناک

کان

جلد/ (زبان)کان

آنکھ

ناک

(زبان)

 

انشائیہ حصہ:

س1: ریٹنا (Retina)تک پہنچنے کےلیے روشنی آنکھ کے کن حصوں سے گزرتی ہے۔شکل بنایے۔

ج:

اندرونی بناوٹ

آنکھ تین تہوں پر مشتمل ہوتی ہے جو یہ ہیں صلبہ (Sclera)  سب سے اوپر والی تہ، مشیمیہ (Choroid) درمیانی تہ، شبکیہ (Retina)اندورنی تہ۔ ریٹنا (Retina)تک پہنچنے کےلیے روشنی آنکھ کےانہی حصوں سے گزرتی ہے۔

صلبہ /سفید پردہ (Sclera)

یہ سب سے بیرونی تہ ہوتی ہے اور رنگت میں سفید اور کچھ سخت ہوتی ہے جبکہ با لکل سامنے ابھرتی ہے۔ یہی وہ غلاف ہے جو آنکھ کے بالکل سامنے والے حصے میں بالکل شفاف ہوجاتا ہے جسےکارنیا /قرنیہ (Cornia) کہتے ہیں۔ آنکھ کے سامنے اس کا شفاف ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ روشنی بغیر کسی رکاوٹ کے آنکھ میں داخل ہوسکے۔

مشیمیہ /عروقی پردہ (Choroid)

یہ درمیانی تہ ہوتی ہے اور یہ مایہ اور رگیں ہوتی ہیں یہ قرنیہ سے پہلے مڑ جاتی ہیں اور اسی موڑ کو معلقی ربط (Iris) کہتے ہیں جو کہ عدسے (Lense) سے جڑی ہوتی ہے اسی معلقی ربط کے سوراخ کو پتلی کہتے ہیں۔اور پتلی کے اس سوراخ کو چھوٹا یا بڑا اسی معلقی ربط سے کرتے ہیں۔

ریٹینا پر ایک مقام کا نام فوویا ہے ۔یہ   مقام مرکز کے قریب پایاجاتاہے جہاں سو فی صد (100%)مخروطے (CONES)پائے جاتے ہیں اسے فوویا یا مقعر زرد نقطہ کہا جاتا ہے۔

اس حصے میں براؤن رنگ کے مادے کے خلیے (pigment Cell) پائے جاتے ہیں جو روشنی کی فالتو شعاعوں کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اور عکس کو دھندلا ہونے سے بچاتے ہیں۔

جالدار پردہ (RETINA):

یہ آنکھ کا اندرونی حصہ ہے ۔ یہ آنکھ کا سب سے حساس حصہ ہے۔ آنکھ کے اس پردے میں دو طرح کے خلیے ہوتے ہیں جنہیں مستقیمے (rods)اور دوسرے مخروطے (cones)کہتے ہیں۔
آپ کی آنکھ میں خلیے مختلف شکل میں ہوتے ہیں راڈ کی شکل کے خلیے آپ کو شیپ یا شکلیں دیکھنے میں مدد دیتے ہیں اور تکون کی شکل کے خلیے آپ کو رنگ دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ان میں روشنی کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ اتنے حساس ہوتے ہیں کہ کم روشنی کا بھی اثر قبول کرلیتے ہیں اور ان کے ذریعے ہم اشیا کو کم روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔ انسانی آنکھ میں ان کی تعداد کروڑوںمیں ہوتی ہے(130000000)

س2:قریب النظری اور بعید النظری کیاہیں اور ان کی اصلاح کیونکر ممکن ہے۔
ج:

الف-قریب النظری : MYOPIA

قریب النظری یونانی لفظ (myein) سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں “بند کرنا”۔ یہ ایک بصری عیب ہے . اس میں دور کی اشیاء (چیزوں) کی تصاویر اس پر بننے کی بجائے ریٹنا کے سامنے بنتی ہیں اور اس کی وجہ سے دور کی چیزیں دھندلی ظاہر ہوتی ہیں۔ نظر کی کمزوری کی یہ وہ قسم ہے جس میں آنکھ کے کُرّے کا سائز نارمل کی نسبت لمبا ہوتا ہے۔ جس سے آنکھ کا فوکس کرنے کا نظام شبیہ پردہ بصارت پر نہیں بنا پاتا۔ اِس کی وجہ سے دور کی چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔ اِن مریضوں کو منفی نمبر کی عینک لگتی ہے۔ اِس نقص کو سمجھنے کے لئے ذیل کی تصویر ملاحظہ کریں:

قریب النظری کی اصلاح:

1-              اس نقص کی اصلاح شیشے ، کانٹیکٹ لینس یا (refractive) سرجری کے ساتھ درست کیا جا سکتا ہے۔

2-              قریب النظری کی ڈگری کی بنیاد پر ، آپ کو آپ کے شیشے یا کانٹیکٹ لینس ہر وقت یا صرف ڈرائیونگ کرتے وقت، وہائٹ بورڈ کو دیکھنے کے لیے ایک ٹی وی یا ایسی کو سکرین دیکھتے ہوئے پہننے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

3-              refractive سرجری شیشہ استعمال کرنے کی ضرورت کو کم یا ختم کرسکتی ہے۔. سب سے زیادہ عام طریقہ کار ایک excimer لیزر کے ساتھ اس کا علاج کیا جاتاہے جس کے کافی امید افزاء نتائج برآمد ہورہے ہیں. ایک کارنیا کی سطح ایک (cornial tissue) پیدا ہوتا ہے جسے لیزر کی مدد سے ہٹادیا جاتاہے۔

4-              Orthokeratology اور ایک متعلقہ جی پی کانٹیکٹ لینس کے ساتھ ایک تھراپی استعمال ہوتی ہے جسے corneal refractive therapy (CRT) کہتے ہیں۔ یہ تھراپی بھی اس نقص کو دور کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

 

ب- HYPERMETROPIA یا بعیدنظری

نظر کی کمزوری کی یہ وہ قسم ہے جس میں آنکھ کے کُرّے کا سائز نارمل کی نسبت چھوٹا ہوتا ہے۔ جس سے آنکھ کا فوکس کرنے کا نظام شبیہ پردہ بصارت پر نہیں بنا پاتا۔ اِن مریضوں کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ہے۔ اِس کی وجہ سے دور اور نزدیک تمام چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔ تاہم دھندلاپن نزدیک کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے زیادہ محسوس ہوتا ہے جیسا کہ اِس تصویر میں دور کا منظر تو کافی حد تک صاف ہے لیکن قریب کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا۔

بعید النظری کی اصلاح:

           عینک اور کنٹیکٹ لینز کی مدد سے شعاعوں کو پھیلا کر پیچھے لے جایا جاتا ہے جس سے واضح اور صاف شبیہ پردے کے اوپر بننا شروع ہو جاتی ہے اور آدمی کو نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جونہی عینک کو اُتارا جاتا ہے نظر پھر دھندلی ہو جاتی ہے۔ یہ چیز آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔س3: گہرائی کے ادراک کے یک نظری اشاروں کی مثالوں سے وضاحت کریں۔ج: گہرائی کا ادراک:

گہرائی کا ادراک ،دنیا کوتین اطراف (ابعاد ثلاثہ) (D 3) میں دیکھنے کی بصری صلاحیت کا نام ہے۔

Ceuعلم نفسیات کی ایک اصطلاح ہے۔ اشارہ ماحول میں موجود کسی مہیج کو کہتے ہیں جو فاصلہ اور گہرائی سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

ہم سڑک پر چل رہے ہوں یا گاڑی چلارہے ہوں یا کھیل رہے ہوں ہمیں آس پاس کے ماحول سے ایسے اشارے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا رہتاہے کہ کون سی چیز ہم سے کتنے فاصلے پر اور کتنی بلندی یا گہرائی میں ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہم ہر وقت ایک دوسرے سے ٹکراتے رہیں۔ ان اشاروں میں بعض کا تعلق ہماری آنکھ سے ہوتا ہے اور بعض کا دونوں آنکھوں سے۔ اسی اعتبار سے انہیں یک نظری یا دو نظری اشارے کہتے ہیں۔

گہرائی سے متعلق یک نظری اشارے:

1-                                    جسامت(SIZE):

جو چیزیں ہمارے قریب ہوتی ہیں ان کا عکس ہماری ریٹینا پر قدرے بڑا بنتاہے اس لیے قریب کی چیزیں دور کے مقابلے میں بڑی نظر آتی ہیں جب کوئی گیند ہماری طرف آتاہے تو ہر قدم پر اس کا بدلتا ہوا عکس ہمارے پردہ چشم پر بنتاہے دور سے نزدیک آتے ہوئے عکس کی تبدیلی سے ہمیں گیند کی رفتار اور فاصلے کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔

2-             حرکی اختلاف نظر(MOTION PARALLAX):

                 اگر ہم حرکت میں ہوں اور پاس اور دور کی دو چیزوں کو ایک سیدھ میں دیکھیں تو پاس والی چیز نظر سے جلدی غائب ہو جائے   جاتی ہے اور دور کی چیز کا عکس دیر تک برقرار رہتا ہے۔ ریل گاڑی میں سفر کرتے وقت یہ کیفیت ہر وقت ہمارے سامنے آتی ہے۔ پاس والے درخت اور کھمبے بھاگتے اور پیچھے کی طرف تیزی سے جاتے محسوس ہوتے ہیں لیکن دور کے درخت نگاہ میں دیر تک رہتے ہیں۔

3-            جزوی انطباق (جزوی طور پر ڈھکا ہوا: PARTIAL OVERLAP):

         پتھروں کے ڈھیر میں کچھ پتھر دوسرے پتھروں کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ڈھانپنے والے پتھر قریب نظر آتے ہیں اور ڈھکے ہوئے پتھر قدرے دور نظر آتے ہیں۔

4-             سطح کی دھاریوں اور نقطوں کی تفصیل (TEXTURE GRADIENT):

         یہ بھی ایک یک نظری اشارہ ہے ۔ جب کسی سطح کی بناوٹ نقطوں یا دھاریوں کی تفصیل واضح ہوں تو وہ چیز قریب نظر آتی ہے اس کے مقابلے میں سطح کی غیر واضح تفصیلات اس کے دور ہونے کا اشارہ دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دور کی اشیاء کی تفصیل کم واضح اور نزدیک کی چیزوں کی تفصیلات زیادہ واضح ہوتی ہیں۔

5-            خطی تناظر (LINEAR PERSPECTIVE):

متوازی خطوط جیسے جیسے دور ہوتے جاتے ہیں سمٹتے   محسوس ہوتے ہیں۔ اس طرح متوازی خطوط کا میلان دوری اور فاصلے کا اشارہ بن جاتاہے۔

6-             فضائی تناظر(ATMOSPHERIC PERSPECTIVE):

         اشیاء کی تفصیل بڑھتے ہوئے فاصلے کے ساتھ غائب ہو تی جاتی ہیں اور آخر میں منظر بالکل دھندلا ہوجاتا ہے۔ دھند، دھواں، گردوغبار اس دھندلاہٹ میں اضافہ کرتے ہیں۔س4: توجہ کیا ہے ۔ توجہ کے عناصر بیان کریں۔

 

ج:

توجہ (ATTENTION)( لاطینی لفظ ATTENTIO) (مشاہدہ/ پس منظر)

1-   کسی چیز پر ذہنی طاقتوں کے ارتکاز، ایک احتیاط سے کیا گیا مشاہدہ یا (غور سے) سننے کانام توجہ ہے.

2. ذہنی طور پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت یا طاقت کا نام توجہ کہلاتی ہے.

3۔ذہن کو کی کام پر لگانے کی حالت یا عمل کا نام توجہ ہے۔ webster

توجہ کے عناصر:

مندرجہ ذیل عوامل توجہ کا سبب بنتے ہیں:

1-            بینائی کا دائرہ (RANGE OF VISION)

بینائی کےدائرے میں آنے والی چیزیں ہماری عام توجہ حاصل کرتی   ہیں۔مخصوص توجہ کسی ایک شے یا نقطے پر مرکوز کی جاتی ہے۔ ہم یہ نہیں کرسکتے کہ آنکھوں کے سامنے کھلے ہوئے پورے صفحے پر یکساں توجہ مرکوز کرسکیں۔ ہماری توجہ ایک شے سے دوسری شے ، ایک لفظ سے سے دوسرے لفظ یاایک نقطے سے دوسرے نقطے پر منتقل ہوتی ہے۔

اسی طرح سماعت کے معاملے میں بھی سماعت کا ایک دائرہ ہوتا ہے۔ خفیف آوازیں ہماری سماعت کے دائرے میں نہیں آتیں اس لیے اگر کوئی آواز سرگوشی کے لہجے سے بھی خفیف انداز میں کی جائے تو وہ ہم سن سکتے ہیں نہ اس پر توجہ دے سکتے ہیں۔

2-            دلچسپی(INTEREST):

توجہ کا تعلق ہماری اپنی دلچسپی سے بھی ہوتا ہے۔ جن چیزوں کے دیکھنے ، سننے ، چکھنے ، سونگھنے اور چھونے میں ہمیں دلچسپی نہ ہو ان پر ہم اپنی توجہ صرف نہیں کرتے ۔ ہماری توجہ دلچسپ مناظر ، دلچسپ آوازوں اور جاذب نظر اشتہارات اور تصویروں   پر مرکوز ہوجاتی ہے۔

3-            شدت (INTENSITY):

غیرمعمولی شدت کی آوازیں ، روشنیاں اور خوشبوئیں وغیرہ ہماری توجہ طلب کرتی ہیں مثلا سڑک کا شور ہمیں ایک دم سے پانی طرف متوجہ کرتاہے.

4-            نیا پن(NOVELTY):

حسین رنگین خوشگوار چیزیں بھی ہماری توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔

5-            محرک(MOTIVATION):

کمرۃ امتحان میں ہماری ترغیب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت ہم امتحان سے متعلق ہر چیز پر خاص توجہ دیتےہیں۔ خواہ وہ امتحان پڑھنے لکھنے سمجھنے اور مشاہدے کاہو ترغیب کی وجہ   سےہم پوری توجہ صرف کرتے ہیں۔ جو طالب علم امتحان کے نتیجے سے بے پرواہ ہو ہو اس کی توجہ قائم نہیں رہتی اور وہ ہوا میں گھورتا رہتاہے۔

6-             حرکت(MOVEMENT):

ساکن شے کے مقابلے میں متحرک شے ہماری توجہ کو اپنی طرف زیادہ کھینچتی ہے، جلتی بجھتی روشنیاں اپنی حرکت کے باعث توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔

7-             رد و انتخاب (ELIMINATION& SELECTION):

انسان ناپسندیدہ چیزوں کو رد کرتاہے اور پسندیدہ چیزوں کا انتخاب کرتاہے خواہ وہ کوئی شے ہو یا قدرتی منظر (دھنک ، کوئی جملہ یا کوئی لفظ) جب ہم اپنی توجہ کسی ایک چیز یا نقطے پر مرکوز کرتے ہیں تو اس کے آس پاس کو علیحدہ کردیتے ہیں اس کے ماحول پر پوری توجہ نہیں دیتے۔

8-            تازگی(FRESHNESS)

9-            تجسس(CURIOSITY)

10-      توقع یا ذہنی تیاری(EXPECTANCY OR MENTAL READINESS)

11-     ہیجان (EMOTION):

12-      رویہ (ATTITUDE):

13-         زمانیت (DURATION):س5:کان کی ساخت اور اس کے افعال بتایں۔

 

ج:

کان (EARS)

اللہ تعالی نے جو خاص حسیں انسان کو عطا کی ہیں ان میں سننے کی حس کی بھی بڑی اہمیت ہے اور سننے کا کام سب جانتے ہیں کہ ہم کان سے لیتے ہیں،واضع رہے کہ ہمارے دماغ کو ملنے والے تمام پیغامات کا تقریبا تیئس فیصد حصہ کانوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔

کان (ear) کو علم طب و حکمت اور عربی میں اذن (جمع: اذان) کہا جاتا ہے ۔

یہ جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا ایک حسی عضو ہے جو کہ سننے کا کام کرتا ہے یعنی یہ آواز کے لیے ایک وصولہ (receiver) کے طور پر کام کرتا ہے اور آواز کے ارتعاش کو دماغ تک پہنچانے کا زریعہ بن کر سماعت کا احساس اجاگر کرتا ہے۔

آواز کے لیے حسی عضو کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ، کان توازن اور وضع (posture)برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علم تشریح میں کان کو سماعتی نظام کے اعضاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کان ایک حسی عضو ہے جو آواز کھوجتا ہے اور یہ نہ صرف آواز کو سنتا ہے بلکہ جسم کو متوازن اور حرکت صحیح حالت میں رکھنے میں بھی بڑا کام سرانجام دیتا ہے۔

جانوروں میں دو کان ہوتے ہیں. ایک کان سر کے ایک طرف اور دُوسرا سر کے دوسری طرف. اِس سے آواز کے مآخذ کا پتہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔

کان کی ساخت اور افعال: (STRUCTURE& FUNCTION OF EAR):

کان، بیرونی وسطی، اور اندرونی حصے پر مشتمل ہوتا ہے.

1-              بیرونی کان pinna کہا جاتا ہے. یہ ابھرواں کارٹلیج کا بنا ہوتا ہے. جس پرجلد کی ہوتی ہے.

2-              آواز pinna ذریعے بیرونی سمعی کینال میں داخل ہوتی ہے.یہ ایک مختصر ٹیوب ہے یہ ear drum (tympanic جھلی) پر ختم ہو جاتی ہے۔

3-              آواز ear drum اور کان کے درمیان حصے میں مربوط ہڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے اس طرح ان میں ارتعاش(viberations) پیداہوتا ہے۔ cochlea پر منعقد کئے جاتے ہیں.

4-              یہ ارتعاش(viberations) cochlea پر منعقد ہوتے ہیں.

5-              سپائر ل سائز cochlea اندرونی کان کا ایک حصہ ہے، آواز کو اعصابی impulses میں تبدیل کرتاہے.

6-              سیال سے بھرا semicircular کینال (بھولبلییا labyrinth) اندرونی کان میں cochlea اور اعصاب سے منسلک ہوتا ہے.  جو دماغ کو توازن اور سر کی پوزیشن کے بارے میں معلومات بھیجتے ہیں.

7-              (سمعی نالی Eustachian) ناک کے پیچھے گلے (حلق) میں وسط کان سے سیال مادہ پہنچاتی ہے.

سب سے پہلے آواز کی لہریں کان کے بیرونی حصہ میں داخل ہو کر اس حصے کی نالی سے گزر کر پردہ سے ٹکراتی ہیں پھر یہ کان میں وسطی حصے میں موجود تین مہین نازک مگر اپنے وجود کے اعتبار سے مضبوط ہڈیوں سے باری باری ٹکراتی ہیں پھر یہ ایک اور پردے سے ٹکراتی ہیں۔

کان کے وسطی حصے کے پردے سے لمف نالیوں کا محلول مس ہوتا ہے۔آواز کی لہریں اس سے ہوتی ہوئی سماعت کے عصب کی گانٹھوں یا گرہ سے ٹکراتی ہوئی دماغ تک پہنچتی ہیں۔وہاں دماغ انہیں ڈی کوڈ کرتے ہوئے ایک “مطلب اور شکل“ دیتا ہے۔جب بھی کان کے بیرونی ،وسطی یا اندورنی کان کے کسی حصے میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے تو مختلف درجے کا بہرہ پن جنم لیتا ہے۔

باب5: آموزش اور یاد (LEARNING& MEMORY)ص:97-99

مشق

حصہ معروضی:

1- مختصر جوابات دیجیے۔

1-معاشرتی آموزش کی تعریف کریں۔(پانچ جملوں میں)
ج:

معاشرتی آموزش:

آموزش فارسی زبان کے لفظ آموختن سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سیکھنا۔ مختلف ماہرین نفسیات نے آموزش کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔

رش کے مطابق آموزش وہ عمل ہے جو ماحول سے تعلق قائم کرنے کے بعد فرد کے ادراک اور جوابی افعال میں تبدیلی پیدا کرتاہے۔

فرنالڈ & فرنالڈ(FERNOL& FERNOLD) کا کہنا ہے ” فرد کے کردار میں کم و بیش مستقل اصلاح پذیری کا نام آموزش ہے جو سابقہ سرگرمی ،خصوصی تربیت یا مشاہدے کے وجہ سے رونما ہوتی ہے۔

الغرض تعلم(Learning) علم ، رویے ، قابلیت ، اقدار ، ترجیحات یا معلومات اگر پہلے سے موجود ہوں تو ان میں تبدیلی یا اگر موجود نا ہوں تو ان کا نیا حصول ہی معاشرتی آموزش ہے۔2-قلیل المیعاد حافظہ کی تعریف کریں۔(پانچ جملوں میں)ج:

               قلیل المیعاد حافظہ :

اس کو بنیادی یا فعال میموری کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

یہ وہ معلومات ہے جس کے بارے میں ہم فی الوقت اگاہ ہوتے ہیں یا علم حاصل کرتے ہیں۔

فرائڈ نفسیات ( Freudian Pschycology )میں، اس میموری کو دماغ کے ہوش( conscious of mind) طور پر جانا جاتا ہے۔

قلیل المیعاد حافظہ میں پائی جانے والی معلومات اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم حسی یادوں پر توجہ دیتے ہیں۔

ملر (1956) کے مطابق قلیل المیعاد حافظے کی وسعت بہت مختصر ہے جو 5 تا 9Bits/ chunks تک محدود ہے۔3- واقعاتی تسلسل کے حافظہ کی تعریف کریں۔(پانچ جملوں میں)ج:

واقعاتی تسلسل کا حافظہ:

یہ طویل مدت میموری کی ایک قسم ہے۔

واقعاتی تسلسل کا حافظہ (Episodic Memory   ) میں مخصوص واقعات، حالات اور تجربات کی میموری شامل ہے۔

اسکول کا پہلا دن، ایک دوست کی سالگرہ پارٹی اور اپنے بھائی کی گریجویشن میں شرکت وغیرہ واقعاتی تسلسل کے حافظہ کی مثالیں ہیں۔

آپ کی مجموعی میموری کے علاوہ، اس میں اس مقام اور وقت کی میموری بھی شامل ہے جس میں یہ واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ میموری ویڈیو کیمرے کی مانند عمل کرتاہے۔4- تفصیلی ریہرسل کی تعریف کریں۔(پانچ جملوں میں)ج:

تفصیلی ریہرسل(Elaborative Rehearsal ):

یہ ایک میموری ٹیکنالوجی ہے۔وہ اصطلاح جس کو یاد رکھنا ہو اس کےمعنی کے بارے میں معلومات سمیت کئی دوسری باتیں شامل ہیں۔ یہ اپنے کو لفظ صرف بار بار دہرانے کے     بالکل برعکس ہے۔

مثال کے طور پر، آپ ایک اصطلاح “نیوران” یاد کرنا چاہتے ہیں۔

آپ مستقل طور پراس اصطلاح کو اپنی یاداشت کا حصہ بنانے کے لئے؛

1- اس کا مطلب جاننے کی کوشش کرتے ہیں (یہ ایک عصبی سیل ہے)،

2- اس کا مقصد تلاش کرتے ہیں (مرکزی اعصابی نظام کی طرف یا سے معلومات منتقل کرنا)

3- اس کی تصویر کو دیکھتے اور اس کے حصوں کا مطالعہ کرتے ہیں،

4- اس کئی بار (مشق) کرتے ہیں، تو آپ کو مدت کو یاد کرنے کا امکان زیادہ ہو جائے گا.1-              ماڈل کی تعریف اور رول بیان کریں۔(دس جملوں میں)ج:

ماڈل(MODEL):

ماڈل سے مراد ایسا کردار جس کی کسی سطح پر پذیرائی ہو اور دوسرے لوگ اس کی طرح بننے کی خواہش کریں اور حتی المقدور کوشش کریں۔

ماڈل کا رول(ROLE OF MODEL):

معاشرتی آموزش میں ماڈل کا رول بڑا نمایاں، اہم اور موثر ہوتاہے۔ ہم شعوری اور لاشعوری طور پر ایسے ماڈل کے کردار کو سیکھ لیتے ہیں۔

والدین، اساتذہ، ہم جولی، سوشل ورکرز، فلمی ہیروز وغیرہ ماڈل کا روپ دھارتے ہیں۔

مثال:ایک ماں اپنی بیٹی کو اس لیے پیٹتی ہے کہ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو مارا ہے۔ یہاں ماں نے ایک جارح ماڈل کا رول کیا ہے۔ اگرچہ ماں کی اس سزا نے (جارحانہ عمل) نے بچی کے جارحانہ عمل کو وقتی طور پر دبا دیا ہے لیکن درحقیقت ماں کا” بطور ماڈل” کردار بچے کو جارحانہ کردار سیکھنے میں مدد دے گا۔ اگر ماں حالات کو اچھے انداز میں سلجھاتی اور جارحانہ کردار ادا نہ کرتی تو بچی اس مثبت ماڈل کے طور پر مشاہدہ میں لاتی اور وہی طرز عمل اختیار کرتی جس کی اس کی ماں اس سے توقع رکھتی تھی۔

ماڈل مثبت اور منفی دونوں طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ماڈل بچوں کے کردار پر خلاف معاشرہ اثرات ڈالنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مثلاً جارحیت پسند والدین کے بچے جارحیت پسند ہوتے ہیں۔ مجرم والدین کی اولاد بھی جرائم پسند ہوتی ہے۔

2– درج ذیل غلط فقرات کے سامنے غ پر (X) اور درست فقرے کےسامنے ص پر () کانشان لگائیں:

1-درست 2-درست 3-غلط 4-درست 5-درست

3 -ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر() کا نشان لگائیں۔

1-ج 2-ب 3-د 4-ج 5-ج

4– کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)
1-فراموشی-بھولنا

2-              قبل رجعی مداخلت – سابقہ آموزش کا نئی آموزش میں روکاوٹ ڈالنا۔

3-              شناخت-حافظہ کی پیمائش کا طریقہ

4-              عاملانہ مشروطیت- سکنر

5-              مشاہداتی تعلیم-بنڈورا

6-              قانون مشق-کرادار میں کم و بیش مستقل نوعیت کی تبدیلی

7-              آموزش- قانون مشق

انشائیہ حصہ:

س1: آموزش کی تعریف کریں ۔ آموزش کی وضاحت روزمرہ زندگی کی مثالوں سے کریں؟
ج:

آموزش:

         فرنالڈ & فرنالڈ(FERNOL& FERNOLD) کا کہنا ہے ” فرد کے کردار میں کم و بیش مستقل اصلاح پذیری کا نام آموزش ہے جو سابقہ سرگرمی ،خصوصی تربیت یا مشاہدے کے وجہ سے رونما ہوتی ہے۔

             تعلم(Learning) علم ، رویے ، قابلیت ، اقدار ، ترجیحات یا معلومات اگر پہلے سے موجود ہوں تو ان میں تبدیلی یا اگر موجود نا ہوں تو ان کا نیا حصول ہے۔

آموزش (سیکھنا) نئے علم کوحاصل کرنے، یا موجودہ علم ،رویوں ، مہارت ، اقدار ، یا ترجیحات میں تبدیلی پیدا کرنے اور انھیں مضبوط بنانےاور مختلف اقسام کی معلومات کو (synthesizing) کو یکجا کرنے کانام ہے۔

سیکھنے کی صلاحیت انسانوں، جانوروں اور کچھ مشینوں میں موجود ہوتی ہے . وقت کے ساتھ ساتھ سیکھنے کے منحنی خطوط   میں ترقی ہوتی رہتی ہے. مکمل سیکھنا لازمی نہیں ہے، یہ سب ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے اور نہ ہی سب ایک بار میں ہوجاتاہے۔ بلکہ اس کی تشکیل اس علم پر ہوتی ہے جوہم پہلے سے جانتے ہوتے ہیں۔پس سیکھنے کو حقائق اور بتدریج علم کے ایک مجموعہ کی بجائے، ایک عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آموزش اور روزمرہ زندگی:

1-              انسانی آموزش ،تعلیم ، ذاتی ترقی ، تعلیم، یا تربیت  کے ایک حصے کی صورت میں وقوع ہو سکتی ہے۔یہ مقصد پر مبنی بھی ہوسکتی ہے اور تحریک کی مدد سے بھی۔

2-              “آموزش کس طرح ہوتی ہے” اس بات کا مطالعہ حوصلہ افزائی . سیکھنے کے اس وقت ہوتی ہے ،neuropsychology  ، تعلیمی نفسیات ، سیکھنے کے اصول ، اور درس کا حصہ ہے ۔

3-               آموزش،habituation یا کلاسیکی کنڈیشنگ( جو کہ بہت سے جانور وںمیں دیکھی جاتی ہے

4-              آموزش زیادہ پیچیدہ قسم ی سرگرمیوں مثلاً کھیل( جو نسبتا ذہین جانوروں میں ہوتی ہے) وغیرہ کے نتیجہ کے طور پر وقوع پذیرہو سکتی ہے ۔

5-              آموزش، شعوری یا لا شعوری طور پر بھی ہوسکتی ہے ۔اس ایونٹ سے گریز کیا جاسکتا ہےاور نہ ہی فرار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کوسیکھی ہوئی لاچاری کو کہا جاتا ہے.

6-               انسانی رویے وراثتی (prenatally) طور پرسیکھنے کے ثبوت بھی ملتے ہیں۔  جس میں،habituation کا   ابتدائی 32 ہفتوں تک مشاہدہ کیا گیا ۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ مرکزی اعصابی نظام کافی حد تک ترقی کر چکاہوتاہے  جو اس بات کا  اشارہ ہے کہ وہ بہت جلد سیکھے اور یاد رکھے جانے والے   علم کے لئے تیار ہے۔

7-              کھیلیں سیکھنے کی پہلی شکل کے طور پر کئی ماہرین نے عندیہ دیا ہے ۔ بچے، اصول وقواعد سیکھنے ،دنیا کے ساتھ تجربات و معاملات کرنےکے علاوہ بہت کچھ کھیل کے ذریعے ہی سیکھتے ہیں۔

Vygotsky Lev اتفاق کرتا ہے کہ کھیل بچوں کی ترقی کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ وہ ان کے ذریعے کے ماحول کو با معنی بناتے ہیں اور 85 فیصد بچے دماغ کی ترقی زندگی کے پہلے پانچ سالوں کے دوران مکمل کرتے ہیں۔س2: مشاہداتی آموزش کی تعریف کریں۔ بنڈورا کا تجربہ بیان کریں؟ج:

مشاہداتی آموزش/ آموزش بذریعہ تقلید(   LEARNING BY MODELING /OBSERVING):

مشاہداتی آموزش سے مراد کسی کوکام کرتے دیکھ کر سیکھنا ہے۔ شعوری یا لا شعوری طور پر دوسروں کے کردار کو اپنانا تقلید کہلاتا ہے۔

روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے انسانوں میں نقل کا فطری رجحان پایاجاتا ہے۔ اسی لیے اس آموزش کو مشاہدے   کی آموزش کہتے ہیں۔

میکڈوگل(McDougall) کے نزدیک : تقلید ایک جبلی عمل ہے اور فطری طور پر ہر شخص تقلید کا رجحان رکھتاہے۔

والٹر بیگ ھاٹ(Walter Begghot) نے 1904ء میں پہلی بار تقلید کے باے میں واضح تصور پیش کیا ۔ اس کا کہنا ہے کہ سماجی مہارت حاصل کرنے کے لیے تقلید کی جاتی ہے۔ بچہ اپنے والدین، احباب اور ثقافت کی تقلید کرتاہے۔

بنڈورا کا تجربہ:

البرٹ بنڈورا(ALBERT BANDURA) نے بچوں میں مشاہدے سے سیکھنے اور صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک تجربہ کیا۔

1-              اس نے چند بچوں کے دو گروپ بنائے۔

2-              اس نے پہلے گروپ کو کھیل کے ایک کمرے میں آنے کی دعوت دی اور انہیں کمرے میں موجود ایک شخص (جو کہ کھلونوں کے ساتھ جارحانہ کردار ادا کررہا تھا) کو دیکھنے کا موقع دیا۔

3-              دوسرے گروپ کے بچوں نے اس جارحیت پسند کردار کو نہ دیکھا۔

4-              پھر اس نے دونوں گروپوں کو اکٹھا کردیا اور اسی کھیل کے کمرے میں کھیلنے کا موقع دیا۔

نتیجہ:

     پہلا گروپ (جس نے کھیل کے کمرےمیں آدمی کو کھلونوں کے ساتھ جارحانہ کردار ادا کرتے دیکھا تھا ) دوسرے گروپ(جس نے کھیل کے کمرےمیں آدمی کو کھلونوں کے ساتھ جارحانہ کردار ادا کرتے نہیں دیکھا تھا) کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ تھا۔

پس پہلے گروپ کے بچوں نے ایک مخصوص ماحول میں مخصوص فرد کے کردار کا مشاہد ہ کرکے اس کا کردار سیکھ لیا۔س3: کلاسیکی مشروطیت کی تعریف کریں۔ پاؤلو اور واٹسن کے تجربات کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں؟ج:

کلاسیکی مشروطیت(CLASSICAL CONDITIONING):

کلاسیکی مشروطیت ایک ایسا عمل ہے جس میں مہیج ایک ایسا ردعمل کرے جو کسی فطری مہیج کے جواب میں پیدا ہوتاہے۔

دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مشروطیت ایک ایسی آموزش ہے جس میں غیر فطری مہیج کو ایک فطری مہیج کے ساتھ ملا کر کسی فرد کے سامنے اس طرح پیش کیا جاتا ہے   جس سے مہیج کے جواب میں وہی رد عمل پیدا ہوتاہے۔ یہ ردعمل اضطراری طور پر مہیج کے جواب میں پیدا ہوتاہے۔

پاؤلو (IVAN PAVLOV) کے تجربات:

پاؤلو(روسی ماہر علم الابدان) کتے کے لعاب کے اخراج پر تجربہ کررہا تھا ۔ اس مقصک کے لیے اس نے کتے کے گال سے نالی کا سرا جوڑ کر اس کاد وسرا سرا ایک بوتل میں رکھ دیاتھا۔ جس کی وجہ سے لعاب دہن کے اخراج کی مقدار کا پتہ چل جاتاتھا۔

پاؤلو نے دیکھا کہ جو لعاب دہن کھانے کے دوران خارج ہونا چاہیے تھا وہ کھانے کو دیکھ کر ہی خارج ہونا شروع ہوگیا۔

پاؤلو نے جب مشروطیت کو آگے بڑھایا تو یہی لعاب اس ملازم کی آمد پر خارج ہونے لگا جو کھانا سامنے لے کر آتا تھا۔

پاؤلو نے اس تلازم کا دلچسپی سے مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ اس نے ملازم کو بلانے کے لیے گھنٹی بجانا شروع کردی ۔چندمرتبہ یہ عمل دہرانے کے بعد ایک نیا تلازم قائم ہوگیا یعنی لعاب کھانے کے دوران خارج ہونا تھا وہ کھانے کو دیکھ کر پھر ملازم کو دیکھ کر اور پھر گھنٹی کی آواز پر بھی خارج ہونے لگا۔

کتے نے گھنٹی کا تعلق کھانے سے جوڑ لیا ۔ اس کو پاؤلو نے مشروطیت کا نام دیا۔ وہی لعاب دہن جب فطری مہیج کی بجائے اضافی یا مشروط مہیج سے پیدا ہوگا ، مشروط ردعمل کہلائے گا۔ یہ نیا تعلق ہی مشروطیت ہے۔

واٹسن (JOHN B. WATSON 1920) کے تجربات :

واٹسن نے اپنے تجربے میں البرٹ( ایک گیارہ ماہ کابچہ) سے سامنے ایک زندہ خرگوش اور چند کھلونے رکھے۔ وہ کھلونوں کے ساتھ دلچسپی لینے لگا۔ لیکن جب وہ خرگوش کے ساتھ کھیلنے لگا عین اسی وقت اس کے معاون نے ایک ہتھوڑے کو لوہے کی سلاخ کے ساتھ ٹکرایا جس سے بلند آواز پیدا ہوئی۔ البرٹ اچانک ٹھٹک گیا،۔

تھوڑی دیر کے لیے وہ کھیلنے سے باز رہا۔ پھر کھلونوں سے کھیلنے لگا، کھلونوں کے ساتھ   کھیلتے کھیلتے خرگوش کو دوبارہ پکڑنے کے لیے اس کی طرف لپکا ۔ دوبارہ اسی طرح کی آواز پیدا کی گئی اور البرٹ نے پھر خوف کا اظہار کیا۔

یہ عمل باربار دہرایا گیا۔ بچےنے ہر دومہیجات خرگوش اور بلند آواز کے درمیان ایک تلازم قائم کرلیا۔ جس کی وجہ سے جب بھی خرگوش اس کے سامنے لایا جاتا وہ بہت خوف کھانے لگتا۔ اس نے ہر بار اسے دیکھ کر چیخنا چلانا اور کانپناشروع کردیا۔

واٹسن اس کے برعکس خوف دور کرنے کے لیے بھی تجربات کیے جسے باز مشروطیت (Reconditioning) کا نام دیا گیا۔س4:عاملانہ مشروطیت کی تعریف کریں۔ سکنر کے تجربات کی مدد سے عاملانہ مشروطیت بیان کریں؟ج:

آلاتی/عاملانہ مشروطیت(OPERANT CONDITIONING):

سکنر (B.F.Skinner) مطابق عاملانہ مشروطیت” آموزش کا ایک ایساطریقہ ہے جو کردار کی رفتار کو ایسے نتائج کی بنا پر تبدیل کرتاہے جو رد عمل کی بنیادپر ہوں۔”

سکنر (B.F.SKINNER)کے تجربات:

سکنر(ایک امریکی ماہر نفسیات) نے چوہوں ،بلیوں اور کبوتروں پر مختلف تجربات کیے۔ سکنر نے ایک مخصوص پنجرہ کبوتروں کےلیےبنوایا جسے بعد میں سکنر باکس(skinner Box) کا نام دیا گیا۔

اس باکس میں کبوتروں کی حرکات کامشاہدہ کرنے کے لیے ایک شیشہ لگایا گیا تھا۔ اور اس کے ایک طرف لیور لگا ہواتھا جس کو دبانے سے خوراک پنجرے کے اندر کبوتر کے سامنے آجاتی تھی۔

جب کبوتر ( یا کسی بھی پرندے) کو پہلے پہل پنجرے میں بند کیا جائے گا تو وہ ادھر ادھر گھومے گا، پنجوں سے فرش کو رگڑے گا، پر پھڑپھڑ ائے گا، چونچیں ادھر ادھر مارے گا۔

اب اس کے کسی بھی کردار کو مثلاًبلب پر چونچ مارنے کو، پر پھڑپھڑ انے کو، چونچیں ادھر ادھر مارنے کویا   پنجوں سے فرش کو رگڑنے کو مشروط کرنا   مقصود ہو تو جب معمول مطلوبہ کردار ادا کرے تو اسے تقویت(کھانا) دی جائے ۔

تکرار سے اسے پختہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی ہر بار جب معمول کردار پیش کرے اسے تقویت ضرور دی جائے ۔ بار بارکے اس عمل سے     جو تقویت میکانکی ہو جائے     عاملانہ / آلاتی مشروطیت کہتے ہیں۔

اس میں فرد کے کسی بھی کردار کو مشروط کیا جا سکتاہے۔ کوئی بھی کردار جو فرد کے لیے سکون کا باعث ہو فرد اس دہراتا ہے جس سے مشروطیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں فرد کا کردار چونکہ فعال (Operant/ Active) ہوتا ہے اس لیے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔

سکنر کی یہ مشروطیت، تقویت پر قائم ہوتی ہے۔ جس رد عمل پر تقویت دی جائے گی وہ پختہ ہوجاتاہے۔

اس کے برعکس جس رد عمل پر تقویت نہ دی جائے   یا منفی تقویت دی جائے وہ ردعمل ختم ہو جائے   گا۔

 

س5: سزا کی تعریف کریں ۔ عاملانہ مشروطیت میں سزا کا رول بیان کریں۔ سزا موثر بنانے کے اقدام زیر بحث لائیں؟ج:

سزا(PUNISHMENT):

سزا ایک ایسا مہیج   ہے جو بعد میں آنے والے رد اعمال کی رفتار کو کم کردیتاہے۔ کسی   اکتسابی کردار (ردعمل) پر ملنے والی سزا   عام طور پر تکلیف دہ اور ناخوشگوار تصور کی جاتی ہے۔ سزا پانےوالےفرد کو ایسے محسوس ہوسکتاہے کہ ایسے تکلیف دہ مہیجات کے اختتام پر نتائج تقویت کا باعث ہوں گے۔

سزا بعض اوقات کردار کی اصلاح کےلیے موثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

عاملانہ مشروطیت میں سزا کا رول:

سزا ایک اصطلاح ہے جو عاملانہ مشروطیت   میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ اس رویے کے بعد ہونے والی کسی بھی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جو مستقبل میں دوبارہ اس غلطی کے ہونےکے امکان کم کرتا ہے۔

سکنر (Burrhus Frederic Skinner 1938    )نے اپنی کتاب Behaviorism میں اسکے بارے میں وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ” “سزا کے رویے، تادیبی نتائج واپس لے لینے کے بعد اس عمل کے دوبارہ ظاہر ہونے کا امکان ہے”. اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا سے حا صل ہونے والی کسی بھی رویے کی تبدیلی اکثر عارضی ہوتی ہے.

بی ایف سکنر(Behaviorist بی ایف سکنر، ماہر نفسیات)،

سزا کو کمک(reinforcement) کے مخالف کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کیونکہ یہ response کمزور یا ختم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرنے کے لئے دی جاتی ہے.

کمک کی طرح، سزا براہ راست ایک ناخوشگوار محرک کے اطلاق سے کام کر سکتی ہے. مثلاً ایک جواب(response) کے بعد ایک جھٹکا دینا، ایک ممکنہ طور پر فائدہ مند محرک ہٹا لینا(ناپسندیدہ رویے پر سزا دینے کے لئے کسی کی جیب خرچ کی کٹوتی کرنا وغیرہ.)

سزا موثر بنانے کے اقدام:

درج ذیل اقدامات سزا کو موثر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں:

1-              سزا بعد میں آنے والے رد عمل کے واقع ہونے کے فوراً دی جائے ۔ اگر ردعمل کے وقوع پذیر ہونے اور سزا دینے کے درمیان زیادہ وقفہ ہوگا تو ایسی سزا موثر نہ ہوگی۔

2-              سزا دینے کے عمل میں پختہ تسلسل قائم رکھنا چاہیے۔ یعنی   ایک ناپسندیدہ رد عمل پر اگر سشا دی جائے تو اس کے بعد اس قسم کے ردعمل پر سزا دینے کا عمل برقرار رہنا چاہیے، اگر ناپسندیدہ عمل کبھی سزا دی جائے   اور کبھی نہ دی جائے تو سزا کا اثر ختم ہو جائے   گااور سزا دینے والے پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

3-              ایک مخصوص ردعمل پر سزا اس مخصوص رد عمل کے علاوہ بحیثیت مجموعی ہر طرح کے منفی کردار کو ختم کردے گی۔

4-              کسی ناپسندیدہ کردار پر سز ا دینے سے پہلے اس کا متبادل یعنی پسندیدہ کردار ضرور سوچ لینا چاہیے تاکہ افراد میں وہ کردار پختہ کیا جا سکے۔س6:حافظے کی تعریف کریں ۔ حافظہ کی تین منازل کا تفصیلی ذکر کریں؟ج:

حافظہ/ یاد/یاداشت(RETENTION/MEMORY):

حافظہ سے مراد وہ ذہنی صلاحیت ہے جس کی بدولت ہم روزمرہ کے تجربات ، مشاہدات اور آموزشی مواد کو ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کو دہراسکتے ہیں۔

           ہلگرڈ(Hilgard) کے مطابق ” یاد رکھنے کا مطلب ہے گذشتہ سیکھے ہوئے مواد کو دہرانا”۔

         ووڈورتھ (Woodworth) کے بقول ” حافظے سے مراد ماضی میں سیکھی ہوئی شئے یا فعل کو یاد رکھنا ہے”۔

حافظہ کی منازل/ اقسام(STAGES OF MEMORY):

حافظہ کی تین منازل ہیں (1- حسی حافظہ)(2-قلیل المیعاد حافظہ)(3- طویل المیعاد حافظہ)

1-            حسی حافظہ(SENSORY MEMORY):

ہمارے ارد گرد سے آنے والے مہیجات (بصری اشیا،آواز اور بو ) ہمارے RECEPTORS پر متواتر بمباری کرتے رہتے ہیں ۔ ان RECEPTORS کے ذریعے   معلومات یا یاداشت کے سٹور میں داخل ہوتی ہیں ۔ ان کے ہم حواس کہتے ہیں ۔حسی میموری ,میموری کی پہلی سطح ہے. حسی میموری ،حسی محرک کا ایک مختصر تاثر برقرار رکھتی ہے۔

مثال کے طور پر :آپ کسی چیز کو دیکھتے ہیں.اس چیز   کے غائب ہونے کے بعد بھی آپ کی یاد میں موجود رہتی ہے ۔

خصوصیات(CHARACTERISTICS):

حسی میموری کے بارے میں مختلف مخصوص خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1-              سب سے پہلے  یہ بصری (مواد)اعداد و شمار کی میموری رجسٹریشن کے ایک اعلی صلاحیت شکل ہے .

2-              دوسرا ،حسی میموری میں معلومات غیر تشریح شدہ ہے .

3-               تیسری ، حسی میموری مختصر ہے، مثلاً بصری معلومات ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مٹ جاتی ہے۔

4-              چوتھی ،حسی حافظہ کی گنجائش زیادہ ہے مگر مدت بہت مختصر۔

2-قلیل المیعاد حافظہ(SHORT TERM MEMORY) (STM ):

معلومات حسی حافظہ میں داخل ہونے کے بعد یا ضائع ہوجاتی ہے یا قلیل المیعاد حافظہ کی طرف دھکیل دی جاتی ہے۔

قلیل المیعاد حافظہ ،حافظہ کی ایسی قسم ہے جس کی وسعت قلیل ہوتی ہے اور گنجائش بھی کم۔ اس کو working memoryبھی کہاجاتا ہے۔ اس کو بنیادی یا فعال میموری کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔اور فرائڈ نفسیات ( Freudian Pschycology )میں، اس میموری کو دماغ کے ہوش( conscious of mind) طور پر جانا جاتا ہے۔

یہ وہ معلومات ہے جس کے بارے میں ہم فی الوقت اگاہ ہوتے ہیں یا علم حاصل کرتے ہیں۔     قلیل المیعاد حافظہ میں پائی جانے والی معلومات اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم حسی یادوں پر توجہ دیتے ہیں۔

ماہر نفسیات جارج ملر (1956George Miller)کے مطابق لوگ ،مختصر مدت میموری میں پانچ سے نو اشیاء کے درمیان محفوظ کر سکتے ہیں۔   یعنی اسکے مطابق قلیل المیعاد حافظے کی وسعت بہت مختصر ہے جو 5 تا 9Bits/ chunks تک محدود ہے۔

مختصر مدت میموری ،اکثر working میموری کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے مگر ان کو الگ الگ استعمال کیا جانا چاہئے۔ working میموری سے مراد وہ عوامل ہیں جن کا تعلق عارضی طور پر معلومات کو ذخیرہ ،منظم اور اس کے جوڑتوڑ سے ہے۔ جبکہ مختصر مدت میموری ،دوسری طرف،میموری میں معلومات کی عارضی اسٹوریج سے تعلق رکھتی ہے .

3-طویل المیعاد حافظہ/(ثانوی حافظہ)(LONG TERM MEMORY) (LTM):

طویل المیعاد حافظہ دراصل وہی حافظہ ہے جس کو ہم بالعموم حافظہ سمجھتے ہیں۔ یہ اس حافظے کا نام ہے جس میں بہت زیادہ مواد کافی عرصہ تک رہتاہے۔ہم اپنے حافظے میں کافی مواد اور معلومات کافی عرصہ تک محفوظ رکھتے ہیں۔ اور اس کی فوری بازیافت پر حیران ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں اس نعمت سے سرفرازکیا۔

طویل المیعاد حافظہ ( LTM ) ،( 1968) Shiffrin& Atkinson کے تجویز کردہ دوہری میموری ماڈل کا آخری مرحلہ ہے جس میں مواد طویل مدت کے لئے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے.

بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا حافظہ اتنا اچھا ہے کہ وہ اپنے ماضی بعید کےواقعات کی بازیافت پورے یقین (VALIDITY) کے ساتھ کرلیتے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اپنے ماضی کی یاد کی صحت کے بارے میں ایسا نہیں کہاجاسکتا ۔ دراصل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسا ن اپنےماضی کے واقعات کی جزیات بھول جاتا ہے لیکن بازیافت کرتے وقت اپنے بھولے ہوئے واقعات کو زیب داستان کے طور پر اپنی طرف سے شامل کرتا ہے۔

سادہ دہرائی اور تفصیلی دہرائی:

سادہ دہرائی( MAINTENANCE REHEARSAL) معلومات کو قلیل المیعاد حافظے میں محفوظ رکھنے اور پھر طویل المیعاد حافظے کی طرف دکھیلنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے لیکن تفصیلی دہرائی(ELABORATIVE REHEARSAL) اس کے برعکس معلومات کو طویل المیعاد حافظے میں محفوظ کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

طویل مدتی میموری عام طور پر دو میموری پرمشتمل ہوتا ہے:

الف:واضح میموری ( اعلانیہ ): (episodic+ semantic + autobiographical)

ب:ضمنی میموری ( عمل کی میموری): س7: حافظے کی اقسام اور پیمائش کے طریقے واضح کریں؟ج:

حافظے کی اقسام (TYPES OF MEMORY):

حافظے کی تین اقسام ہیں ۔(1- پروسیجرل)(2-لفظی)(3-واقعاتی تسلسل کا حافظہ)

1-            پروسیجرل حافظہ: (PROCEDURAL MEMORY):

پروسیجرل میموری مختلف اقدامات اور مہارتوں کو انجام دینے کے لئے میموری کی ایک قسم ہے۔ بنیادی طور پر، یہ میموری مختلف کا م کرنے کے لئے ہوتی ہےمثلاً موٹر سائیکل چلانا، اپنے جوتے باندھنا اور آملیٹ کھانا پکانا۔

پروسیجرل میموری اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب آپ بات کرنا، کھانا کھانا اور کھیلنا سیکھنا شروع کرتے ہیں۔ یہ میموریز اتنی یقین ہو جاتی ہیں کہ وہ تقریبا خود کار طریقے سے کر رہی ہوتی ہیں۔ اس بات کی وضاحت کرنا آپ نے ان کو کس طرح اور کہاں سیکھا بہت مشکل ہوتا ہے.

2-لفظی حافظہ(SEMANTIC MEMORY):

اس حافظے میں ذخیرہ الفاظ، سادہ تعقلات اور قوانین وقواعد (زبان دانی میں استعمال ہونے والے اصول وغیرہ) محفوظ کیے جاتے ہیں۔

ہم اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے میں اپنے تعقلات اور علم سٹور کرتے ہیں۔یہاں اہم اور معمولی ہر دو قسم کے حقائق جمع کیے جاتے ہیں۔

3-واقعاتی تسلسل کا حافظہ(EPISODIC MEMORY):

واقعاتی تسلسل کا حافظ ،میموری کی وہ قسم ہے جس میں مخصوص واقعات، حالات اور تجربات کی یاداشتیں محفوظ ہوتی ہیں۔

اسکول کا پہلا دن، ایک دوست کی سالگرہ پارٹی اور اپنے بھائی کی گریجویشن میں شرکت وغیرہ واقعاتی تسلسل کے حافظہ کی مثالیں ہیں۔

آپ کی مجموعی میموری کے علاوہ، اس میں اس مقام اور وقت کی میموری بھی شامل ہے جس میں یہ واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ میموری ویڈیو کیمرے کی مانند عمل کرتاہے۔

پیمائش کے طریقے: (WAYS OF MEASUREMENT)

حافظے کی پیمائش کے کئی طریقے رائج ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں؛

(1-بازیافت )(2-شناخت)(3-مکرر آموزش)(4- دوبارہ ترتیب دینا)

1-بازیافت کا طریقہ( RECALL METHOD):

میموری کی جانچ یا پیمائش کے لیے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے والا طریقہ کار ہے۔ بازیافت کا مطلب ہے سیکھے ہوئے مواد کی دوبارہ     پیداوار۔

آپ کسی فرد کو کچھ مواد یاد کرنے کے لیے دیتے ہیں ۔جب وہ یاد کرلیتاہے تو کچھ عرصے کے بعد اسے محفوظ شدہ مواد کو دوبارہ ذہن میں واپس لانے کے لیے کہتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ بے معنی الفاظ کی فہرست ہے تو آپ اس کی بازیافت کردہ الفاظ کو گنتی کر کے اس کی بازیافت اور یاداشت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔

فری بازیافت(FREE RECALL) ( Pr. Ebbinghaus): فری بازیافت کا مطلب ہے کہ بازیافت سے حاصل ہونے والا مواد ترتیب سے وصول نہیں ہوا ۔مثلاً بے معنی الفاظ کی فہرست کے بازیافت کردہ الفاظ بے ترتیب   بازیافت کیے گئے۔

سیریل بازیافت(SERIAL RECALL):   سیریل بازیافت کا مطلب ہے کہ بازیافت سے حاصل ہونے والا مواد ترتیب سے وصول ہوا ۔مثلاً بے معنی الفاظ کی فہرست کے بازیافت کردہ الفاظ با ترتیب بازیافت کیے گئے۔

2-شناخت کا طریقہ(METHOD OF RECOGNITION) ( پروفیسر من Munn)

شناخت کا طریقہ پیمائش کا ایک حساس طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔یہ ایک فعال عمل ہے جہاں عناصر کی شناخت ہوتی ہے۔ شناخت کا یہ طریقہ ایک عام تجربہ ہے۔

آپ کسی فرد کو کچھ مواد یاد کرنے کے لیے دیتے ہیں ۔جب وہ یاد کرلیتاہے تو اس میں کچھ اور مواد شامل کر دیاجاتا ہے۔ اب اس سے کہا جاتا ہے کہ اس میں سے پہلے سے یاد کیا ہوا مواد شناخت کریں ۔یوں خازنیت کی پیمائش بذریعہ شناخت   کی جاتی ہے۔

R – W/ K-1 x 100/n = فارمولہ

R Total number of items correctly recognized.
W Total number of items incorrectly recognized.
K Total number of alternatives given for recognition (old + new).
n Number of items originally presented for learning.

3-مکرر آموزش کا طریقہ (RELEARNING METHOD)( method of ‘saving’, ):

یہ میموری کے مقداری پہلو کی پیمائش کے لئے Ebbinghaus 1885)) نے پیش کیا تھا۔

اس طریقہ میں ، مواد کی ایک فہرست پوری طرح یاد کرنے / سیکھنے کے لئے فرد کو دی جاتی ہے اور ایک وقفے کے بعد ، اسی فہرست کو دوبارہ یاد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے . experimenter اس دوران فرد کی کوششوں اور وقت کی تعداد کو ریکارڈ کرتاہے ۔

فارمولہ:

 

OLT-RLT / OCT X 10

OLT = Original learning trials
RLT = Relearning trials

س8: فراموشی کی تعریف کریں ۔ فراموشی کے اسباب پر بحث کریں؟ج:

فراموشی (FORGETFULNESS):

یاد کیے ہوئے مواد کو دہرانے میں ناکامی کو فراموشی کہتے ہیں۔ فراموشی حافظے کا الٹ ہے۔ آموزشی مواد، واقعات اور تجربات کو اگر ہم دہرالیں تو حافظہ کہلاتاہے۔ اگر دہرانے میں ناکام رہیں تو فراموشی ہوگی۔

حافظے کے نظام کے تینوں عوامل(رمز نگاری، ذخیرہ، اعادہ) میں سے کسی میں بھی خلل پیدا ہو جائے تو فراموشی واقع ہو جائے گی۔ جس قدد حافظے میں کمی پیدا ہو تی جائے گی اتنا ہی فراموشی میں اضافہ ہوگا۔

ولیم جیمز(William James1980)اپنی نفسیات کی پہلی کتاب میں لکھتا ہے:” اگر ہم ہر چیز یاد رکھتے تو ہم بعض مواقع پر اتنے بیمار ہوجاتے کہ ہمیں کچھ بھی یاد نہ رہتا۔”

ہمارے حافظے کاپیمانہ محدود ہےاگر ہم یاداشت کے سٹور میں مطلوبہ مقدار داخل کریں تو لا محالہ اس میں سے کچھ مواد نکالنا ہوگا۔ لیکن فراموشی تکلیف دہ اس وقت بنتی ہے جب ہمیں کسی مواد کو یاد رکھنے کی ضرورت ہو اور ہم اسے بھول جائیں۔

فراموشی کے اسباب 🙁 CAUSES OF FORGETFULNESS )

فراموشی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:

1-            مداخلت(INTERFERENCE):

مداخلت سے مراد وہ دخل اندازی یا رکاوٹ ہے جو موا د کو ذہن میں محفوظ کرنے اور اس کی بازیافت میں پیش آتی ہے۔

مداخلت مطابق فراموشی سے مراد صرف وقت کا گزرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کی بازیافت میں دوسری یادیں بھی مداخلت پیدا کرتی ہیں۔ پرانی اور نئی یادوں میں مشابہت جس قدر زیادہ ہوگی مداخلت زیادہ ہوگی اور بازیافت مشکل ہو جائے گی۔

مداخلت کی دو قسمیں ہیں۔

الف: قبل رجعی مداخلت(proactive Inhibition)

ب: رجعی مداخلت(Retroactive Interference):

2-            بے معنی مواد(MEANINGLESS MATERIAL):

بامعنی مواد کی نسبت بے معنی مواد یاد کرنے میں دیر لگتی ہے لیکن فرد جلدی بھول جاتا ہے۔ ایسے بے معنی اور غیر متعلق مواد کا چونکہ ہماری زندگی کے تجربات اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لیے بےمعنی ہوتے ہیں۔

ایبنگھاس(Ebbinghasus) نے ایک تجربہ کرکے ثابت کیا کہ بامعنی الفاظ زیادہ دیر تک یاد رہتے ہیں لیکن بے معنی الفاظ جلدی بھول جاتے ہیں۔

3-            پوری مشق نہ کرنا(INCOMPLETE PRACTICE):

فراموشی کاایک سبب یہ بھی ہے کہ مواد کو یاد کرتے وقت پوری مشق نہیں کی جاتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان جلدی بھول جاتا ہے۔مثلاً آپ کو علامہ اقبال کی نظم “ایک آرزو ” یاد کرنے کے لیے بیس (20) بار دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ اس سے کم بار دہراتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں تو مشق پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کے جلد بھول جانے کے امکان ہوتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی فرد اتنی بار دہراتا ہے کہ صرف عمومی تصور اس کے ذہن میں قائم ہوسکے تو وہ بھی اس مواد کو جلد بھول جائے گا۔

4-            بہت زیادہ مواد(EXCESSIVE MATERIAL):

چونکہ یاد کا پیمانہ بہت محدود ہوتا ہے لٰہذا بہت زیادہ مواد یاد کرنے کی صورت میں بہت سا مواد بھول جاتا ہے ۔ بہت زیادہ مواد یاد کرنے سے ذہن   کباڑ خانہ بن جاتا ہے جس میں سے بوقت ضرورت کو ئی مطلوبہ چیز دستیاب نہیں ہوتی۔ بہت مواد یاد کرنے سے انسا ن تھکان اور بوریت محسوس کرتا ہے۔

5-            مواد میں بے ترتیبی(UNORGANIZED MATERIAL):

یاداشت کو بہتر بنانے کے لیے مواد کو موزوں انداز سے حفظ کرنے   کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے ترتیبی سے یاد کرنا فراموشی کا سبب بنتا ہے۔ اگر کوئی فرد مواد کے مابین تعلق قائم کرکے اسے یاد   نہیں کرتا ہے تو نئے مواد سے تلازم نہیں بن پاتا ۔

اسی طرح بے ہنگم طریقے سے مختلف قسم کا مواد یاد کرتا جاتا ہے اور درمیان میں وقفہ نہیں رکھتا۔ مواد ذہن میں بے ترتیب   ڈھیر کی صورت اختیار کرلیتا ہے ایسے مواد کے مابین بھی تلازم قائم نہیں ہوسکتا لہٰذا ایسے مواد کی بازیافت مشکل ہوتی ہے۔ امتحان کےقریب اس طرح کی یاد مناسب نتائج برآمد نہیں کرتی۔

6-            وقت گزران(LAPSE OF TIME):

یاد کرنے کے بعد جوں جوں وقت گذرتا جاتا ہے یاد کیا گیا مواد ہمیں بھولتا جاتا ہے۔ اگر اسے دوبارہ دہرایا نہ جا ئے تو تفصیلات آہستہ آہستہ بھولتی جاتی ہیں اور ایک مدہم سا خاکہ باقی رہ جاتا ہے۔

ایبگھاس کےمطابق فرد مواد کو یاد کرنے کے بیس منٹ بعد 47٪، ایک دن بعد 66٪ ، دو دن بعد 72٪ ، چھ دن بعد75٪ اور 31 دن کے بعد 79٪ بھول جاتاہے۔

7-            سر پر چوٹ لگنا(HEAD INJURY):

اگر کسی وقت کسی وجہ سے کسی فرد کے سر پر شدید چوٹ لگے تو وہ بعض اوقات اپنی یاد اشت کھو بیٹھتا ہے۔ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنا نام تک بھول جاتا ہے۔ اس کا ذہنی طور پر اپنے سے رابطہ کٹ جاتا ہے۔ اگر اس پر چوٹ کسی حادثے کی وجہ سے لگی ہو تو اسے حادثہ کا واقعہ اور حادثہ کی وجہ تک یاد نہیں رہتے۔

8-            مشابہت(SIMILARITY):

مشابہت بھی فراموشی پیدا کرتی ہے۔ کئی اشعار اور واقعات   باہمی طور مشابہ ہوتے ہیں جن سے اشعار اور واقعات آپس میں خلط ملط ہوجاتے ہیں۔ بعض واقعات کی تاریخ اور مقام میں مشاہبت کی وجہ سے ہمیں ان کے مقام اور تاریخ یاد کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔س9: آموزش کی تعریف بیان کرتے ہوئے آموزش کے بنیادی اصول بیان کریں؟ج:

آموزش(LEARNING):

         فرنالڈ & فرنالڈ(FERNOL& FERNOLD) کا کہنا ہے ” فرد کے کردار میں کم و بیش مستقل اصلاح پذیری کا نام آموزش ہے جو سابقہ سرگرمی ،خصوصی تربیت یا مشاہدے کے وجہ سے رونما ہوتی ہے۔

             تعلم(Learning) علم ، رویے ، قابلیت ، اقدار ، ترجیحات یا معلومات اگر پہلے سے موجود ہوں تو ان میں تبدیلی یا اگر موجود نا ہوں تو ان کا نیا حصول ہے۔

آموزش (سیکھنا) نئے علم کوحاصل کرنے، یا موجودہ علم ،رویوں ، مہارت ، اقدار ، یا ترجیحات میں تبدیلی پیدا کرنے اور انھیں مضبوط بنانےاور مختلف اقسام کی معلومات کو (synthesizing) کو یکجا کرنے کانام ہے۔

سیکھنے کی صلاحیت انسانوں، جانوروں اور کچھ مشینوں میں موجود ہوتی ہے . وقت کے ساتھ ساتھ سیکھنے کے منحنی خطوط میں ترقی   ہوتی رہتی ہے. مکمل سیکھنا لازمی نہیں ہے، یہ سب ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے اور نہ ہی سب ایک بار میں ہوجاتاہے۔ بلکہ اس کی تشکیل اس علم پر ہوتی ہے جوہم پہلے سے جانتے ہوتے ہیں۔پس سیکھنے کو حقائق اور بتدریج علم کے ایک مجموعہ کی بجائے، ایک عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آموزش کے بنیادی اصول: (Basic Principles of Learning)

پروفیسر تھارن ڈائیک(Thorndike) نے آموزش کے تین اصول وضع کیے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

1-                                         قانونِ مشق(Law of Exercise)

2-                                         قانونِ تاثر(Law of Effect)

3-                                         قانونِ آمادگی (law of Readiness)

1-             قانونِ مشق/ قانون تکرار(LAW OF EXERCISE):

           یہ قانون اس اصول کی حمایت کرتا ہے کہ مشق یا تکرار، مہیج اور ردعمل کے مابین تعلق پیدا کرتاہے اور آموزش کی افزائش کا سبب بنتاہے۔ مشق کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی ،مہیج اور ردعمل کے درمیان تعلق اتنق ہی پختہ اور پائدار ہوگا۔ اس کے برعکس   مشق کی کمی مہیج اور ردعمل کے درمیان تعلق کو کمزور کردے گی اور آموزش بھی کم ہوگی۔

جتنی زیادہ کسی کام کے لیے مشق ہوگی اتنا ہی جلد وہ کام سیکھ لیا جائے گا۔ زیادہ کوشش کرنے سے آموزش بہتر ہوگی۔ یعنی کسی کام کو بار بار دہرانے سے آموزش بہتر ہوجاتی ہے۔ مثلاً

الف: طالب علم کو مواد یاد کرنے کے لیے بار بار مشق کرناپڑے گی۔

ب: بائیسکل چلانا سیکھنا

ج: ٹائپ کرنے کی مہارت پیدا کرنا وغیرہ

2-            قانونِ تاثر/ اصول تقویت (LAW OF EFFECT):

ہر جاندار کا یہ خاصہ ہے کہ جس کام کے کرنے سے اسے تسکین ملے وہ اسے پھر بار بار کرتا ہے جس کام میں اسے ناکامی اور تکلیف ہو وہ اس سے دور بھاگتاہے۔ پس وہ اعمال جن پر تقویت ملے غیر تقویتی رداعمال سے فرق کرلےجاتے ہیں اور تقویتی اعمال کو منتخب کرکے بار بار دہرایاجاتا ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصول تقویت یا قانون تاثر کو فعل کے انتخاب میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

قانون تاثر اس بنیادی فلسفہ پر مبنی ہے کہ جو اعمال راحت ، خوشی اور اطمینان لاتے ہیں ا ن کو دہرائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس سے مہیج اور رد عمل کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہےاور کردار میں تبدیلی آئے گی۔

تھارن ڈائیک (E.L. Thorndike )   کے تجربے میں بھوکی بلی کےلیے بٹن دبا کر پنجرے کا دروازہ کھولنا اور (تقویت) گوشت کے ٹکڑے کھانا ایک راحت افزاء عمل ہے بلی نے اسے باربار دہرایا اور پنجرے کے دروازے کو کھولنے اوربٹن دبا کر باہر نکلنا سیکھ لیا۔ جبکہ پنجرے   کے اندر چکر لگانا اور سلاخوں کو کاٹنا   چھوڑ دیا۔

3-            قانونِ آمادگی (LAW OF READINESS):

            جب کوئی فرد سیکھنے کے لیے آمادہ ہوتو اس کے لیے سیکھنا آسان ہوگا اور اس کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ اس کے برعکس اگر وہ سیکھنے کے لیے اگر وہ سیکھنے کے لیے آمادہ نہ ہو تو اس کے لیے سیکھنا مشکل ہوگا اور اس کی کارکردگی واجبی ہوگی۔

ای۔ایل۔ تھارن ڈائیک(E.L.THORNDIKE) کے خیال میں اگر کوئی فرد کام کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو تو کام نہ کرنا اس کے کام نہ کرنا باعث اطمینان ہوگا اور کام کرنا اس کے لیے باعث تکلیف۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آمادگی آموزش میں اہم رول ادا کرتی ہے۔

مثال :

   اگر کوئی طالبعلم سیکھنے کے لیے آمادہ ہوگا تو اس کے اندر تحریک پیدا ہوگی اور وہ زیادہ ذوق و شوق سے محنت کرے گا۔ ایسے طالب علم کی کارکرگی اس طالبعلم سے کہیں زیادہ ہوگی جو کام کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار نہیں کرتا۔

کسی فرد میں   آمادگی   پیدا کرنے کے لیے ترغیباب دی جاسکتی ہیں ۔ آمادگی آموزش کے لیے ایک قسم کی رضامندی اور چاہت ہے جواسے سیکھنے کے لیے متحرک کرسکتی ہے۔ تھارن ڈائیک کےتجربے میں بھوکی بلی کے لیے پنجرے سے باہر نکلنے کے لیے گوشت کے ٹکڑے ترغیبات کی مثالیں ہیں۔س10: کلاسیکی مشروطیت کی انسانی زندگی میں اہمیت واضح کریں؟ج:

کلاسیکی مشروطیت(CLASSICAL CONDITIONING):

کلاسیکی مشروطیت ایک ایسا عمل ہے جس میں مہیج ایک ایسا ردعمل کرے جو کسی فطری مہیج کے جواب میں پیدا ہوتاہے۔

دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مشروطیت ایک ایسی آموزش ہے جس میں غیر فطری مہیج کو ایک فطری مہیج کے ساتھ ملا کر کسی فرد کے سامنے اس طرح پیش کیا جاتا ہے   جس سے مہیج کے جواب میں وہی رد عمل پیدا ہوتاہے۔ یہ ردعمل اضطراری طور پر مہیج کے جواب میں پیدا ہوتاہے۔

مشروطیت کا نظریہ سب سے پہلے ٹویٹمیر (Twitmyr) نے پیش کیا تھا اور اسکے بعد کئی مفکریں نے اسکو آزمایا۔ اسکا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی فعل کسی گیر فطری مہیج سے وابستہ ہو جاتا ہے تو اسکو مشروطیت کہتے ہیں۔

بیولوف جو ایک روسی ڈاکٹر(ماہر عضویات) تھا۔ اس نے کتوں پر تجربات کر کے مشروطیت کے نظریہ کو ثابت کیا تھا۔ بیولوف نے دیکھا کہ کتے کھانا دیکھتے ہی اپنے منہ سے لعاب خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نے کچھ دنوں تک کتوں کو غذا دینے سے پہلے گھنٹی بجا کر اشارہ دینا شروع کیا۔ یعنی پہلے گھنٹی بجاتا تھا پھر کتوں کو غذا دیتا تھا۔ کچھ دنوں بعد اس نے دیکھا کہ کتوں کے منہ سے لعاب خارج ہونے کا عمل گھنٹی کی آواز سنتے ہی شروع ہو جاتا تھا چاہے کھانا سامنے آئے یا نہ آئے۔ اسطرح اس نے ثابت کیا کہ کتوں کے منہ سے لعاب خارج ہونے کا عمل گھنٹی کی آواز سے وابستہ ہو گیا ہے۔ جبکہ گھنٹی کی آواز اس فعل کے لیے ایک غیر فطری مہیج ہے۔ اس طرح اس نے مشروطیت کو ثابت کیا اور اسکے کچھ اصول بنائے مثلاً

(الف)غیر فطری مہیج فطری سے وابستہ ہونے کے بعد ہی مشروطیت کو قائم رکھ سکتا ہے اور جب ان میں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو مشروطیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

(ب) اگر مشروط اور غیر مشروط مہیج کے ساتھ ساتھ تکرار کیجائے تو ان میں مضبوط تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔

(ج) مشروطیت میں جب مہیجات کو استعمال کیا جاتا ہے اگر اسکے علاوہ کوئی نیا مہیج وہاں پر ہو تو مشروطی جوابی فعل پر اثر پڑتا ہے۔

کلاسیکی مشروطیت اور انسانی زندگی:

کنڈیشنگ کی کے بارے میں بہت باتوں میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد اسے دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں کلاسیکی کنڈیشنگ کی کچھ مثالیں پیش ہیں:

1-            مشروط خوف اور بے چینی:

بہت سے phobias جو لوگ برداشت کرتے ہیں کنڈیشنگ کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر – “پل کا خوف” جو مختلف ذرائع سے ترقی کر سکتا ہے ۔

مثال کے طور پر، ایک بچے کو ایک خستہ حال پل پر ایک گاڑی میں سواری کرتے ہوئے اس کا والد ٹوٹ پل کے بارے میں مذاق کرتا ہے اور ہم سب دریا میں گر جائیں گے۔ وہ جب بھی پل پار کرتے ہیں تو والدیہ مذاق کرتا ہے۔ کئی سالوں کے بعد،اب بچہ بڑا ہو گیا ہے۔ اور اب کسی بھی پل پر ڈرائیو کرنے سے ڈر رتاہے۔ اس صورت میں، ایک پل کا خوف تمام پلوں پر gerneralizeہوگیا۔

2-               ایڈورٹائزنگ:

جدید ایڈورٹائزنگ کی حکمت عملی ،کنڈیشنگ کی پیداوار ہے جس کو جان واٹسن نے استعمال کیا ۔ یہ نقطہ نظر ایک پرکشش لنک بناتا ہے تاکہ صارفین کی مصنوعات کی طرف مثبت پیش رفت کریں.

attractive person –> car –> pleasant emotional response

ہے۔http://www.alleydog.com/101notes/conditi…
http://psychologyfacts.com/2006..

باب6: محرکاتی کردار ص:109-110

                                        مشق

حصہ معروضی:

-1ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

1-د 2-غ 3-غ 4-غ 5-غ

2- درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

1- دو 2-آغاز 3-بقا 4- 5-ابتدائی محرک

3- مندرجہ ذیل بیانات میں سے درست جوابات پر(√) کانشان لگائیں۔

1-محرك كا تعلق صرف ماحولی قوت كے ساتھ ہے۔ غلط
2-محرك كا تعلق فردكى بقا كى ساتھ ہے۔ درست
3-محرك كا تعلق مقصد كى ساتھ ہے۔ غلط
4-ثانوى محرك كا تعلق نچلے در جے كے جانداروں كے ساتھ ہے۔ غلط
5-محركاتى قوت كم ہو نے سے زندگى پراثر نہیں پڑتا۔ غلط

4- کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)
i-                محرک

ii-             بھوک کا محرک

iii-          تحصیل کا محرک

iv-           پیاس کا محرک

v-              طاقت کا محرک

vi-           تناؤ کامحرک

vii-        جارحیت کامحرک

viii-     جنس کا محرک

ix-           محرک کے اندرونی عناصر

x-              محرک کے بیرونی عناصر i-               محرک- مقصدی سرگرمی

ii-            بھوک کا محرک –ابتدائ محرک

iii-        تحصیل کا محرک- مسابقت/گروہی اثر

iv-          پیاس کا محرک- ابتدائی محرک

v-             طاقت کا محرک-ثانوی محرک

vi-          تناؤ کامحرک- ثانوی محرک

vii-      جارحیت کامحرک- غیر اکتسابی محرک

viii-   جنس کا محرک- ذاتی محرک

ix-          محرک کے اندرونی عناصر- اکتسابی محرک

x-              محرک کے بیرونی عناصر- نفسیاتی تدابیر اور علاج

انشائیہ حصہ:

س1: محرك كيا ہے؟اس كى مختلف تعريفيں تحرير كريں؟
ج:

محرك(MOTIVES):

انسان کا ہر فعل کسی نہ کسی تحریک کا باعث ہوتا ہے اسلیے کسی بھی ذہنی، جسمانی، اور معاشرتی فعل پر آمادہ کرنے والی قوت کو محرک کہتے ہیں۔

محرک کردار کی وجہ ہے۔ محرک کی وجہ سے ہی ایک واقعہ یا صورت حال ایک شخص کے لیے اہم جبکہ دوسرے شخص کے لیے غیر اہم ہوتی ہے۔

نفسیات کی رو سے فرد کے کردار کی وجہ اس کا محرک ہے تما م انسانی عوامل کے پس پرد ہ بھی مختلف محرکات ہیں جن کی تشکیل کے لیے فرد مختلف کردار اپناتاہے ۔

محرکات کا مطالعہ دراصل کردار کی وجوہات کا مطالعہ ہے۔ عضویہ کی کسی کام کے لیے آمادگی محرک (Motive) کہلاتی ہے جو ضروریات اور ترغیبات کے باعث ہوتی ہے۔

تحریک (Motivation)ایسا عمل ہے جس میں فرد کے اندر سے خواہش ابھرتی ہے۔ اس خواہش کی تسکین کے لیے مقصد اور طریقہ کا تعین کیا جاتاہے اور یہ خواہش اپنی تسکین تک فرد کو سرگرم عمل رکھتی ہے۔ تحریک کا تعلق اس بات سے ہے کہ فرد کے مقصد کی اہمیت کتنی ہے۔ ایک بار تحریک پیدا ہونے پر عضویہ   اس وقت تک سرگرم عمل رہتاہے جب تک   مقصد پورا نہیں ہوتا۔ تحریک اپنا مقصد محرک کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔

اب ہم مختلف تعریفوں کا جائزہ لیتے ہیں:

مختلف تعريفيں:

1-                                                                                                     ہاکونسن(Hakanson-J 1909):

“ایسی چیز جو کسی سرگرمی کےلیے آمادہ کرتی ہے چاہے وہ سرگرمی اندرونی ہو یا بیرونی۔”

2-جانسن(Johnson 1972):

“تحریک فرد کی وہ کیفیت ہے جو اسے کسی خاص رویے کی طرف رواں کرتی ہے اور کسی خاص مقصد کی تلاش کراتی ہے۔”

3-ورڈورتھ(Words worth1968):

           “   تحریک کسی فرد میں توانائی کی تبدیلی کا نام ہے جس کی خصوصیت موثر پروان چڑھنا مقاصد کی پیشن گوئی کے تعلق کو قائم کرنا ہے”

4-کورمان اے۔آر۔(Korman A.R 1974):

       ” ایک محرک خاص اندرونی قسم کا عنصر یا حالت ہے جو فعل کی ابتداء کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا کام سرانجام دیتی ہے۔”

5-رش(Rush):

     “محرک عغویہ کی ایسی اندورنی کیفیت ہے جواسے مقصد حاصل کرنے پر اکساتی ہے۔”

6-ڈالرڈ اینڈ ملر(Dollard& Miller):

         ” وہ طاقتور مہیجات جو فرد کو سرگرمی پر اکساتے ہیں تحریک کہلاتے ہیںَ”

7-وٹیکر(Whittakaer):

   ” محرک میں فرد کے وہ اعمال شامل ہیں جو ہو مختلف قسم کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کرتاہے۔”

8-کوفر(Coffer):

         ” محرک وہ داخلی کیفیت ہے جو عضویہ میں ترغیب اور مقصدی سرگرمی پیدا کرتی ہے ۔ ایسے وظائف کو تقویت دیتی ہے جو   مقصد کی طرف لے جاتے ہیں اور ان وظائف کو ختم کرتی ہے یا کم کرتی ہے جو مقصد سے دور لے جاتے ہیں۔”س2:ابتدائ اور ثانوی محركات كى تفصيل بيان كريں؟ج:

محركات(MOTIVES) :

انسان کا ہر فعل کسی نہ کسی تحریک کا باعث ہوتا ہے اسلیے کسی بھی ذہنی، جسمانی، اور معاشرتی فعل پر آمادہ کرنے والی قوت کو محرک کہتےہیں۔

محرک کی بنیاد ضرورت میں پوشیدہ ہے۔ اس ضرورت کو حاصل کرنے کے لیے کاوش کی جاتی ہے اور آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

محرکات، ضرورت، خواہشات اور مقاصد کا تعین کرتے ہیں اور ان کو پورا کرنے میں ادراک، آموزش اور توجہ سب ہی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

محرکات کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے۔

(الف:ابتدائ محرکات)(ب- ثانوی محرکات)

)الف) ابتدائ /حیاتیاتی محرکات (Primary/Organic Motives)

یہ وہ محرکات ہیں جو عضویات کی بقا میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ عضویہ ان محرکات کے ذریعہ اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھوک، پیاس، نیند  ابتدائی یا حیاتیاتی محرکات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ب- ثانوی محرکات(SECONDARY MOTIVES )

ہنگامی (Emergency Motives)

یہ محرکات اس وقت کام آتے ہیں جب کسی فرد کو ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہو۔

)ج) خارجی (Objective Motives)

حالات سے نمٹنے کے لیے انسان کو خارجی محرکات کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ ان میں تجسس، کھیل، برتری، کمتری وغیرہ چند محرکات ہیں۔

(د)معاشرتی (Social Motives)

معاشرتی محرکات وہ ہوتے ہیں جو ہماری سماجی زندگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔

س3:تحصيلی محرك كيا ہے؟روزمره زندگی سےاس كی مثاليں لے كر واضح كريں؟ج:

تحصيل کا محرك( MOTIVE OF ACHIEVEMENT):

تحصیل کا محرک کسی چیز یا مقصد کو حاصل کرنے کا محرک ہے۔ کسی چیز کو مثبت انداز میں قبول کرناا ور ناگوار چیز سے پیچھا چھڑانا اس میں شامل ہے۔ وہ مقصد جو وراثتی رجحان اور آموزش کی بنا ء پر فرد کی نفسیاتی ضرورت بن جاتاہے اور اس   کے حصول تک فرد کوشش میں لگا رہتا ہے تحصیل کامحرک کہلاتاہے۔

حصول کا محرک مختلف افراد میں مختلف نوعیت اور شدت کا ہوسکتاہے۔ کچھ افراد اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تمام دینی ، اخلاقی ، قانونی اور سماجی پابندیاں پھلانگ جاتے ہیں اور کچھ ان کے اندر رہ کر ان کو پور اکرتے ہیں۔

تحصیلی محرک کے مندرجہ ذیل اسباب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

1-                                      ماحول

2-                                      شعوری بیداری

3-                                      مقابلہ بازی

4-                                      ستائش

5-                                      ذاتی قابلیت

6-                                      خود مختاری

7-                                      صنفی اثر

8-                                      جسمانی کمزوری

تحصيل کا محرك اور روزمره زندگی:

ہم روزمرہ زندگی میں بہت سارے عوامل کےسے اثر پذیر ہوتے ہیں جن میں سرفہرست   تحصیل کے محرکات ہیں۔

1-              سبقت لے جانے کی ضرورت کا محرک کا وجود ہمارے ابتدائی بچپن سے ہی پایا جاتاہے ۔ بہن بھائیوں میں مسابقت اور رشک تحصیل کے محرک کی غمازی کرتے ہیں۔

2-              وراثتی ،سماجی اور ذاتی اسباب کسی بھی شخصیت کی تشکیل کرنے کے لیے اہم ہوتے ہیں اس طرح شخصیات میں تحصیل کا محرک مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے کچھ افراد اعلیٰ تحصیل کے محرک کے حامل ہوتے ہیں   جب کہ کچھ افراد کم تحصیل کے محرک کے حامل ہوتے ہیں ۔

3-              وہ بچے جن کے والدین سخت کوش ، منظم، خود مختار اور نصب العین کے حامل ہوتے ہیں وہ اعلیٰ تحصیل کے محرک رکھنے والوں کے لیے رہنما ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے والدین ہمیشہ اپنے بچوں کی تحصیل پر مثبت رویوں   کا اظہار کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کو فیصلہ کرنے میں ،مشکلات کو حل کرنے میں اور زندگی میں مقاصد کا تعین کرنے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ افراد جو زندگی میں خطرات مول نہیں لیتے وہ اعلیٰ تحصیل کے محرک کے حامل نہیں ہوتے۔

4-              مردانہ حاکمیت کے معاشرے میں خواتین کا تحصیل کی ضرورت کا درجہ کم ہوتا ہے۔ خودمختاری اور اعلیٰ تحصیل کے محرک رکھنے والے ہمیشہ اعلیٰ کامیابی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ وہ زندگی میں کبھی ہارنے کا نہیں سوچتے بلکہ خطرات سے کھیلنا پسند کرتے ہیں۔س4:محركات كو متعين كر نىےوا لےداخلى اور خارجى عناصر بيان كريں؟ج:

محركات كو متعين كر نىےوا لے عناصر:

بنیادی طور پر محرکاتی کردار کو متعین کرنے میں دو عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

(1-اندرونی عناصر)     (2- بیرونی عناصر)

الف:اندرونی عناصر(INTRINSIC FACTORS):

فرد کا محرکاتی کردار اندرونی قوتوں کی وجہ سے مل کر بنتاہے ۔فرد وراثتی طور پر اور سماجیانے( socialization) کے عمل کے دوران ان عناصر کو اپنا لیتا ہے اور اپنی تمام زندگی ان کے تحت گزارتاہےکیوں کہ ان چیزوں سے اس کی عضویاتی اور نفسیاتی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

ان اندرونی قوتوں میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

1-                         ذاتی پسند نا پسند(PESONAL LIKES & DISLIKES ):

فرد کو جو چیز پسند ہو اسے پانے کے لیے محرکاتی کردار سرگرم عمل ہوتاہے مثلاً اگر کسی کو وکالت یا ڈاکٹری پسند ہے تو وہ اس کے لیے خاص تعلیم حاصل کرنے میں پرجوش ہوتا ہے اور جو چیز ناپسند ہو اس سے بچنے کی کوشش کرتاہے۔

فرد کے یہ دونوں قسم کے کردار رسائی اور فرار کے عمل کے تحت بیان کیے جاسکتے ہیں۔ ذاتی پسند اور ناپسند انسانی کردار میں انفرادی اختلاف کا باعث ہوتے ہیں۔

2-                         مقاصد(PURPOSES):

مقصد یا نصب العین محرک میں سب سے اہم ہے۔ انسان اپنے مقصد کو جب تک حاصل نہیں کرلیتا اس کی سرگرمی جاری رہتی ہے اور مقصد کے حصول کے بعد نتیجہ خوشگوار ہوتو مزید سرگرم عمل رہنے پر آگے کوشش کرتا رہتاہے۔

3-                          دلچسپی(INTEREST):

دلچسپی دو قسم کی ہوتی ہے۔ پیدائشی اور اکتسابی۔

اولاً پیدائشی دلچسپی فطری ہوتی ہے جیسے ماں کی بچے میں دلچسپی اس تمام عمر بچے سے محبت نگہداشت اور سرپرستی کے عمل میں محرک بنتی ہے۔

ثانیاً اکتسابی دلچسپی تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں محرکاتی عنصر بنتی ہے جیسے نفسیات کے مضمون   میں مہارت حاصل کرنے کے لیے محنت کرنا اکتسابی محرک ہے۔

4-                         ذاتی ضروریات( PERSONAL NEEDS):

فرد کی ذاتی ضروریات اس کے محرکاتی   کردار کو متعین کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فرد کی ذاتی ضروریات اس کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ فرد کی زندگی کا چکر ان ضروریات کے گرد گھومتاہے اور فرد اس کی تکمیل کے لیے زندگی بھر کوشاں رہتاہے۔

بیرونی عناصر(EXTRINCSIC FACTORS):

فرد کا کردار معاشرتی تعریف اور توصیف سے بنتاہے اسے جس فعل پر اپنے معاشرے سے تعریف حاصل ہو اور اس کے اس کردار کو پختہ بنانے میں مدد کرے سماجی تقویت کہلاتا ہے۔

فرد پر سماجی قوتیں سماجیانے کے تحت عمل میں آتی ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی ان قوتوں کے زیر اثر آجاتا ہے اور یہ سلسلہ تا عمر جاری رہتاہے۔ فرد مندرجہ ذیل عوامل کے تحت محرکاتی کردار سر انجام دیتا ہے:

الف- گروہی اثر

ب- تعریف و توصیف

ج – سماجی ایما ،

د-سماجی مطابقت ،

ہ- سماجی تحصیل،

و-قیادت،

ی-تنظیم سازیج:

جارحيت كا محرك(MOTIVE OF AGRESSION)

ایک ہیجانی کیفیت جس میں کوئی فرد جارحانہ رویہ کا مظاہرہ کرے اور کسی شے کو مٹانے یا اس کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی حرکت کرے۔ اس کا یہ کردار نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خود اپنے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

ایڈلر کے خیال میں یہ کیفیت دوسروں پر اپنا رعب جمانے یا ان کوکنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی ہو سکتی ہے جب کہ فرائڈ کے خیال میں یہ جبلتِ ممات کی آسودگی کی طرف ایک قدم ہوتی ہے۔

کسی فرد میں جب اندرونی توانائی کا دباؤ یا تناؤ اس وقت کم ہوجاتا ہے جب وہ تباہی مچادےیا کسی کو نقصان پہنچا کر اور زخمی کر کے آسودگی حاصل کرے۔ اس قسم کی کیفیت میں کسی فرد کو قتل کرنے کی یا خودکشی کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

فرائڈ نے اس کیفیت کو Mortido کا نام دیا ہے اور Libido کی ضد قرار دیا ہے۔ چونکہ وہ لبیڈو کو جبلتِ حیات کہتا ہے اس لیے اس تعلق سے اس کو جبلت ممات کا نام دے دیا ہے لیکن مختلف مصنفین نے اردو کے لیے اسکے مختلف متبادل نام وضع کیے ہیں۔

نفسیات میں جوش (Passion)کو تشدد آمیز جذبات اور غصہ سے بھری ہوئی کیفیت کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔    اس کیفیت میں فرد پر ایک ایسی ہیجانی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر فعل میں شدت دکھاتا ہے۔ ابتدا میں کچھ مصنفین  اس اصطلاح کو صرف ایک جذبہ کے لیے استعمال کرتے تھے۔س6:تناؤ كيا ہے؟تناؤ سے بچنے كى مختلف تكنيكيں(Techniques   )بيان كريں؟ج:

تناؤ(TENSION/STRESSQ)

عام طور پر یہ اصطلاح کچھ لوگ عصبی تناؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اسکا مطلب اس تناؤ سے ہے جب فرد آنے والے خطرات یا ناموافق حالات کے ڈر سے اس میں مبتلا ہوتا ہے۔

” تناؤ ایسی قوت ہے جو جسمانی اور ذہنی طور پر کسی فرد میں کھچاؤ پیدا کرتی ہے جس سے فرد عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔” (C.L. Coopess)

ڈاکٹر پیٹر ہین سن دعویٰ کرتے ہیں کہ اکثر مریضوں میں مشترک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو صحیح طور پر منظم نہیں کرپاتے ۔اس ناکامی کے پیچھے عموما ذہنی تناؤ کا ہاتھ ہوتا ہے۔

تناؤ ایک انفرادی ردعمل: تناؤ ایک انفرادی ردعمل ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی ایک واقعہ کسی شخص کے لیے مثبت تناؤ کا سبب بن جائے اور اس پر منفی تناؤ نازل کردے ۔ تناؤ اچھا ہوسکتا ہے اور خطرناک بھی ۔ اس کا انحصار خود آپ کی شخصیت پر ہے ۔ ڈاکٹر ہین سن کا مشورہ یہ ہے کہ آپ تناؤ کے خطرات کا احساس کریں اور اس سے فائدے حاصل کرنے کی کوشش کیا کریں ۔

مثبت پہلو کی ایک عام سی مثال یہ بیان کی جاسکتی ہے کہ جب کسی طالب علم پر امتحا ن کا دباؤ ہو تو عموما اس کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے ۔ تاہم ضروری بات یہ ہے کہ دباؤ ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے پائے۔

تناؤ سے بچنے كى مختلف تكنيكيں(Techniques):

اب ہم ان مفید طریقوںکا ذکر کریں گے جن کے ذریعے سے ذہنی تناؤ کا مقابلہ کیاجاسکتا ہے ۔

1حس مزاح 

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ قہقہہ سے جسم میں انڈروفنز کا لیول بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے ذریعے آپ تکلیف کو ختم کرسکتے ہیں اور مرض کا مقابلہ کرنے والی قوت کو بڑھا سکتے ہیں ۔یہی نہیں، بلکہ قہقہہ کے ذریعے ہم اپنے مسائل کا تناظر بدل سکتے ہیں

2-مناسب خوراک

اچھی خوراک انسان کو چاک وچوبند رکھتی ہے ۔ جسمانی صحت عطا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے ۔ یہ دونوں خوبیاں حاصل ہوجائیں ،یعنی آپ جسمانی طورپر صحت مند اور ذہنی لحاظ سے بیدار ہوں تو پھر آپ دباؤ کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہوں گے ۔ آپ اس کو خاطر میںنہ لائیں گے اور بھرپور انداز میں اس کی مزاحمت کریں گے ۔

3-نئی سرگرمیاں

ذہنی تناؤ سے نجات پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی ایسی سرگرمی اختیار کی جائے جو خود بھی کسی قدر تناؤ پیدا کرنے والی ہو ۔ یہ متبادل سرگرمی ایسی ہونی چاہئے جو آ پ کی مکمل توجہ جذب کرسکے ۔ مثال کے طورپر ٹینس کے شوقین ذہنی کھچاؤ سے نجات پانے کے لیے سٹاک مارکیٹ کے امور میں دلچسپی شروع کرسکتا ہے۔ دوسری طرف مالیاتی امور کا پیشہ ور ماہر ٹینس میںدلچسپی لے کر اپنی کھچاؤ پیدا کرنے والی روٹین کو توڑ سکتا ہے۔

4-حقیقت پسندانہ مقاصد

زندگی میں ہمیں ایسے مقاصد اپنانے چاہئے جو واضح ہونے کے علاوہ حقیقت پسندانہ بھی ہوں ۔ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے خود آگاہی بہت ضروری ہے ۔ یعنی آپ کو اپنی خوبیوں ، خامیوں ، صلاحیتوں ، کمزوریوں اور پسند وناپسند کا بخوبی علم ہونا چاہئے ۔ اگر آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطوں اور میل ملاپ کا رحجان رکھتے ہیں تو پھر کوئی ایسا کام آپ کو پسند نہیں ہو گا جو بند کمرے میںبیٹھنے کا تقاضا کرتا ہو۔

اپنے میلان کے خلاف کوئی کام منتخب کرنے سے آپ خوشیوں سے دور ہوجائیں گے ۔خوش باش زندگی کے لیے حقیقت پسندانہ مالی اہداف کا تعین بھی ضروری ہے ۔ اس امر کا جائزہ لیجئے کہ سال یا پانچ سال بعد آپ کو کہاںہونا چاہئے ۔ یوں اپنے اہداف حاصل کرنے کا ٹائم ٹیبل بنائیے ۔

5-سکون حاصل کرنے کی تدابیر

کیا آپ ذہنی کھچاؤ کے عالم میں آرام کرسکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب ’ ’نہ‘‘ میں ہے تو کوئی ایسی تدبیر سیکھئے جو ذہنی کھچاؤ کی حالت میں آپ کو سکون عطا کرسکے ۔

نیند ایسی ہی ایک تدبیر ہے ۔ وہ مشکل اور حوصلہ شکن حالات سے ہمیں وقتی نجات دلاتی ہے ۔ یوں ہم اپنی صلاحیتیں دوبارہ سمیٹ سکتے ہیں اور نئے ولولے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔

6-مناسب ملازمت

آپ کی ملازمت آپ کے میلان اور صلاحیتوں کے مطابق ہے تو کو خوش نصیبی ہے۔
اس قسم کی ملازمت ہمیں اپنی صلاحیتیں اور مہارتیں بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے مواقع مہیا کرتی ہے ۔ اس طرح ناصرف ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے بلکہ اس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

7-مستحکم گھرانا

اگر آپ توجہ ، محنت اور وقت صرف کرکے خوش باش گھرانا بنا لیتے ہیں اور دوستوں کا ایک حلقہ پیدا کرلیتے ہیں تو پھر ذہنی تناؤ کے مقابلے کے لیے موثر ہتھیار آپ کے ہاتھ لگ جاتا ہے ۔ تناؤ کی شدت بہت کم رہ جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کام اور زندگی کی بھاگ دوڑ کے دباؤ سے نجات ڈھونڈ لی ہے ۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ ہر سال تفریح کی غرض سے چھٹیاں منانے دوردراز کے مقامات پر چلے جائیں ۔

باب7: شخصیت (PERSONALITY)ص:128-129

                                        مشق

حصہ معروضی:

1- مناسب الفاظ سے خالی جگہ پر کریں۔

(v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

2- مندرجہ ذیل بیانات کی نمبر 1 سے 6 تک مطابقت تلاش کریں۔ ان بیانات کے سامنے مناسب نمبر درج کریں۔

3-مندرجہ ذیل بیانات پر درست کےلیے (√) اور غلط بیانات کے لیے (X) کا نشان لگایں۔

4-ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

انشائیہ حصہ:

س1: ایک عام آدمی شخصیت کے باے میں کیا سوچتا ہے؟ آپ نفسیات کی زبان میں شخصیت کی تعریف کیسے کریں گے؟
ج:

شخصیت(Personality):

شخصیت کی نفسیاتی تعریف میں بھی کئی مکاتب فکر اور ماہرین نفسیات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر نفسیات میں اسکی تشریح اسطرح کیجا سکتی ہے کہ شخصیت وہ خصوصیت ہے جو فرد کی پوری زندگی پر مسلط ہوتی ہے اور اسکے تمام ظاہری اعمال اور باطنی کیفیت کا مجموعہ ہوتی ہے۔

کچھ ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ شخصیت وہ ہے جو دوسروں کو نظر آئے لیکن یہ نظریہ باطنی پہلو کو چھپائے رکھتا ہے۔خارجی کردار میں ہم صرف یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ دوسرے ہمیں کس طرح دیکھتے ہیں وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور ہم سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

” شخصیت کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انسانی شخصیت مختلف النوع کرداری، تحریکی، جبلی، فعلی اور امکانی عناصر کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ہمہ وقت تغیر پذیر اور نمو پذیر ہوتے ہوئے ایک مسلسل اور مربوط اکائی کی حیثیت کا حامل ہے۔ شخصیت کی بہت سی عمومی خصوصیات ہیں لیکن آخری تجزیے میں اس کی حیثیت قطعاْ منفرد ہے۔ انسانی شخصیت میں متعدد متضاد پہلوؤں کی کشاکش، تصادم،عمل و رد عمل اور ربط باہمی کا ایک ناگزیر سلسلہ جاری رہتا ہے۔

شخصیت کے تعینات داخلی اور خارجی دونوں قسم کے ہوتے ہیں بلکہ بیشتر صورتوں میں دونوں کے اشتراک سے پیدا شدہ تجربہ شخصیت کے ارتقا اور نشوونما کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس ضمن میں جن خارجی اثرات کا رول بے حد اہم ہے وہ سماجی، تہذیبی، تعلیمی، خاندانی، حادثاتی اور تاریخی تعینات ہیں۔ فرد کی جبلتیں، داخلی تحریکات، خداداد صلاحیتیں، لاشعوری خواہشات، شعور، مقاصد، اظہارات کے کیا راستے تلاش کرتے ہیں اور کیا تجرباتی شکل اختیار کرتے ہیں اس کا انحصار بڑی حد تک اس امر پر ہے کہ ان تمام خارجی اثرات کی طرف ان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اور یہ تمام خارجی عناصر اور داخلی صلاحیتوں باہمد گر کس طرح پیوست ہوتی ہیں۔

مختلف مفکرین نے شخصیت کے بارے میں کیا کہا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔

(1)ووڈرتھ کے خیال میں شخصیت ہمارے اوصاف کا مجموعہ ہے۔

(2) فرائڈ کی نظر میں شخصیت کی بنیاد حس اور شعور و لاشعور پر ہے۔

(3) واٹسن کا خیال ہے کہ شخصیت ہمارے عادتی نظام کا نتیجہ ہے اور اسکا تعلق کردار سے ہے۔

(4)اسپارٹ کے نزدیک شخصیت فرد کی عادات، اطوار اور اوصاف کا وہ نمونہ ہے جو ماحول سے مطابقت کا تعین کرتا ہے۔

        فرائڈ Freud نے انسانی شخصیت کے جامد تصور کی جگہ ایک حرکی تصور پیش کیا۔ اس کے تجزیے کی رو سے انسانی شخصیت تین تنظیموں پر مشتمل ہے۔ اڈ Id یعنی جبلی عمل کا سرچشمہ جس کا بنیادی مقصد جبلی تحریک کی تسکین کے ذریعے حصول لذت و مسرت ہے۔ انا Ego جو حقیقت پسندی کے اصول پر عمل پیرا ہے اور فوق اناSuper Ego جو اخلاقی اصول اور سماجی رسومات و توجیہات پر عمل پیرا ہے۔ چونکہ ان تینوں تنظیموں کا رجحان جداگانہ ہے اور تینوں اپنی اپنی جگہ عامل ہیں۔ اس لیے فرائڈ کے نظریے کے مطابق شخصیت میں حرکت و عمل کا سلسلہ ان تینوں کی باہمی کشمکش اور ارتباط کی دین ہے۔

ینگ نے انسانی شخصیت کو دو بنیادی ٹائپ یعنی درون سمتی شخصیت اور بیرون سمتی شخصیت میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی افعال کے درمیان ایک دوسرے پر فوقیت کے اعتبار سے انسانی شخصیت کو چار بنیادی گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ یعنی فکر، احساس، وجدان اور حواس۔ اس نظریے کے مطابق انسانی شخصیات کا تمام تر تنوع اور اس کی انفرادیت ان ہی چار امتیازی نفسی افعال اور برون سمتی اور درون سمتی رجحانوں پر مبنی ہے۔

          ریڈلک Redlich کے نظریے کے مطابق قوت حیات اور رجحان موت کے عوض آرزوئے برتری اور آرزوئے فوقیت بنیادی جبلتوں کی حیثیت کی حامل ہیں۔ انسان کسی نہ کسی اعتبار سے بنیادی طور پر احساس کمتری کا شکار ہے۔ اور وہ تمام عمر علم، اکتساب، تخلیق، تنقید، شہرت، قوت، مہارت، ظلم، جبر، حکومت اور دوسرے فوقیت کے طریقوں سے اپنے احساس کمتری پر رجحان برتری کی صورت میں غالب آنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور یہی شخصیت کے ارتقا اور نمو کا راز ہے۔ یہی حرکت و عمل کی بنیاد ہے۔

            ابرک فروم E. Fromm کے نظریے کے مطابق بنیادی حیثیت ذات، آزادی اور فرار کے مثلث کی ہے۔ موجودہ سماج میں عصبی اختلال Neurosis، ذات کی آزادی سے فرار کے عام رجحان کا نتیجہ ہے۔ آزادی ذات کا مطلب ذات کی ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ لہذا آزادی ذات کے رجحان کی پذیرائی سے اکتسابی تحفظ اور سلامتی ذات کی پرسکون فضا منتشر ہوتی ہے۔ اس تنویش سے بچنے کے لیے تحفظ کی خواہش کا رجحان ذات سے فرار کے رجحان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔س2: ظاہری اوصاف اور بنیادی اوصاف کے درمیان فرق کی وضاحت کریں؟ج:س3: شخصیت کی پیمائش سے متعلق علم قیافہ اور علم کاسہ سر کے درمیان فرق کی وضاحت کریں؟ج: شخصیت کی پیمائش(MEASUREMENT OF PERSONALITY)

شخصیت کی پیمائش کے لیے بہت سے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں جو مختلف مفکرین کی کوششوں کا نتیجہ ہیں اور شخصیت کے مطالعہ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ شخصیت کے خصائص کا پتہ لگانے کے لیے مختلف آزمائشیں بھی وضع کی گئی ہیں اور وہ بھی استعمال کیجاتی ہیں۔ عام طور پر سماجی نفسیات میں اس موضوع پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور اسی شعبہ کے تحت شخصیت کے تعلق سے بہترمعلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

علم کاسہ سر کی تقسیم کا نظریہ شخصیت

(PHRENOLOGY THEORY OF PERSANALITY-):

فرانز جوزف پت نامی ایک جرمن ڈاکٹر نے1700ء کے آخر میں Phrenology کا نظریہ پیش کیا۔س4:شخصیت کے بارے میں آلپورٹ کے نظریہ کی وضاحت کریں؟ج:

آلپورٹ کا شخصی میلانات   یا خود مختار اوصاف کا نظریہ:

(PERSONAL DISPOSITIONS OR AUTONOMOUS TRAITS THEORY OF ALLPORT)

گارڈن ڈبلیو الپورٹ( GORDON W. ALLPORT1961) Allport نے شخصیت کے حرکی پہلو کے ساتھ ساتھ شخصیت کے مختلف عناصر پر بھی زور دیا ہے۔ ساختی اعتبار سے شخصیت کے مختلف عناصر مثلاْ عادات، صفات، رجحانات، میلان طبع اور طرز حیات کا یہ لحاظ وسعت و پیچیدگی اور جامعیت کا ایک تدریجی سلسلہ سا قائم ہوجاتا ہے۔ عادت مفرد اور جامد اکائی ہے۔ صفات کسی حد تک حرکی اور مرکب ہوتی ہیں۔ ان کے برخلاف رجحانات اور میلان حرکی اور مرکب ہوتی ہیں۔ ان کے برخلاف رجحانات اور میلان طبع بڑی حد تک حرکی پیچیدہ اور جامع تر تصورات ہیں۔ طرز حیات ایک مجموعی تصور ہے اور فرد کی اہم صفات، نمایاں رجحانات، کردار اور مقاصد اور مخصوص میلان طبع کا عملی، جذباتی اور فکری سطحوں پر مرکب اور مربوط اظہار ہے۔ یعنی طرز حیات فرد کی ذات کا مظہر ہے اور فلسفہ حیات اس کا تصوراتی رخ ہے۔ چنانچہ ذات یا خودی تمام انسانی شخصیت کا مرکز ہے۔

فرد کی شخصیت بچپن سے تصور ذات، ادراک ذات اور اظہار ذات کے مرحلوں سے گزرتی ہوئی اثبات ذات کی منزل تک پہنچتی ہے۔ اثبات ذات درحقیقت کوئی مقررہ منزل نہیں بلکہ ایک متحرک اور نمو پذیر سلسلہ ہے جو ہمہ وقت جاری و ساری ہے اور جس کے بے حد متنوع اظہارات ہوسکتے ہیں۔ میسلو نے اثبات ذات کو شخصیت کی بنیادی قدر اور اثبات ذات کے عمل کو انسانی شخصیت کا فطری عمل قرار دیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ انسانی فطری طور پر ہمیشہ اپنے ذاتی امکانات اور پوشیدہ صلاحیتوں کی شعوری دریافت کرتا ہے۔ یا ان کا لاشعوری طور پر ادراک کرتا ہے اور ان کے اثبات کی طرف گامزن رہتا ہے۔

آلپورٹ کے مطابق شخصیت کی صحت مند اور فطری نشوونما کا سفر امکان سے وجود کی طرف حرکت ہے۔ لہذا اس عمل پر خارجی پابندیاں اور داخلی دباؤ دونوں ہی شخصیت کی مریضانہ اشکال کو جنم دیتے ہیں۔ شخصیت کے تعینات داخلی اور خارجی دونوں قسم کے ہوتے ہیں بلکہ بیشتر صورتوں میں دونوں کے اشتراک سے پیدا شدہ تجربہ شخصیت کے ارتقا اور نشوونما کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس ضمن میں جن خارجی اثرات کا رول بے حد اہم ہے وہ سماجی، تہذیبی، تعلیمی، خاندانی، حادثاتی اور تاریخی تعینات ہیں۔

فرد کی جبلتیں، داخلی تحریکات، خداداد صلاحیتیں، لاشعوری خواہشات، شعور، مقاصد، اظہارات کے کیا راستے تلاش کرتے ہیں اور کیا تجرباتی شکل اختیار کرتے ہیں اس کا انحصار بڑی حد تک اس امر پر ہے کہ ان تمام خارجی اثرات کی طرف ان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اور یہ تمام خارجی عناصر اور داخلی صلاحیتوں باہمد گر کس طرح پیوست ہوتی ہیں۔س5:شخصیت کی معروضی اور تظلیلی آزمائشوں کے درمیان فرق کی وضاحت کریں؟ج:

باب8: ہیجانی کردار ص:140-142

                                        مشق

حصہ معروضی:

-1ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

2- درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

3- مختصر جوابات دیجیے۔

1-
ج:
2-
ج:
3-
ج:
4-
ج:
5-
ج:

4- کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)

انشائیہ حصہ:

س5 (i): جیمز لینگ اور کینن بارڈ نظریات پر بحث کریں اور دونوں کا موازنہ کریں؟
ج:
س5 (ii):ہیجان میں جسمانی تبدیلیوں کی تفصیل بیان کریں؟
ج: یہ اصطلاح ایسے جوابی افعال کے لیے استعمال کیجاتی ہے جو ہیجان سے متاثر ہوں۔ ایسے افعال شدید غیر معمولی اور غیر منظم ہوتے ہیں۔

 

Pathalogical Condition of Emotion

[ترمیم]تشریح

کسی بیماری کی صورت میں ہیجانی ردعمل پر اثر پڑتا ہے۔ عرشہ مین پھوڑا ہونے کیوجہ سے بےتحاشا ہنسنے اور رونے کے دورے پڑتے ہیں۔ قشر کے کسی حصہ میں نقص آ جانے کیوجہ سے ہیجانات پر بھی اثر پڑتا ہے۔ بعض غدود میں نقص ہو جانے کیوجہ سے ہیجانات متاثرہوتے ہیں مثلاً ورقیہ غدود میں خرابی آ جانے کیوجہ سے مریض میں تشویش اور خوف پیدا ہوتا ہے۔ [1]

 

 

Emotion

[ترمیم]تشریح

جیسا کہ اس لفظ سے واضح ہے یہ اصطلاح شدید اضطراری حالت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔جب ہم ہیجان کا ذکر کرتے ہیں تو اسکامطلب ایک اضطراری کیفیت سے ہوتا ہے جو عضویات سے تعلق رکھتی ہے اور جسم میں مختلف تغیریات کا باعث ہوتی ہے۔ یہ تغیریات، نظام تنفس میں ہو سکتے ہیں، نبض کی رفتار میں ہو سکتے ہیں یا مختلف غدود کے افعال میں جبکہ وہ رطوبت میں زیادہ خارج کریں یا کم خارج کریں۔ اسی طرح دوسرے عضو بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ذہنی طور پر فرد میں ایک اشتعال انگریزی محسوس کی جاتی ہے یا ایسیتحریک جو کسی خاص فعل کیطرف اکسائے۔ اگر ہیجان شدید قسم کا ہے تو عقلی کردار میں بھی فرق آ سکتا ہے فرد کے رحجان میں ہیجان کی نوعیت کے لحاظ سے تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ہیجان نفسیاتی مطالعہ میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ فرد کے بہت سے کردار اسکا نتیجہہوتے ہیں۔

ہیجانی کیفیات جو فرد میں عام طور سے نظر آتی ہیں ان میں رونا، ہنسنا، غصہ ہونا، غمزدہ ہونا، خوفزدہ ہونا، محبت یا نفرت کا غلبہ ہونا وغیرہ۔

مختلف مفکرین نے ہیجان کی مندرجہ ذیل تقسیم تجویز کی ہے۔

(1) ایغوعی (Egoistic Emotion)

یعنی وہ ہیجانات جو فرد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے فرد خود متاثر ہوتا ہے۔

(2) غیر ذاتی ہیجانات

(altruistic Emotion)

یہ ہیجانات دوسروں سے متعلق ہوتے ہیں ہم انکا صرف مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً دوسروں کو خوش دیکھ کر ہم بھی خوشی محسوس کرتے ہیں۔

(3)عقلی (Intellectual Emotion)

یہ ہیجانات عقل، علم و ادب اور دوسرے حقائق کی دریافت سے تعلق رکھتے ہیں۔

(4)اخلاقی ہیجانات

(Moral Emotion)

یہ ہیجانات فرد کی اخلاقی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور اخلاقی احساسات کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔

(5) جمالیاتی (Asthetic Emotion)

یہ ہیجانات ہمارے جمالیاتی ذوق سے متعلق ہوتے ہیں۔ حسن و خوبصورتی اور فنون لطیفہ سے متعلق ہیجانات اس میں شامل ہیں۔

(6)مذہبی (Religious Emotion)

یہ ہیجانات فرد کے مذہنی عقائد اور مذہبی رسومات وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

 

 

Emotional

[ترمیم]تشریح

یہ اس عمل کے لیے استعمال کیجاتی ہے جو کسی ارادہ کے بغیر صرف حالات کے تقاضہ پر کیا جائے چاہے یہ حالت ادراکی ہو یا خیالی

 

 

Emotional Disoder

[ترمیم]تشریح

ہیجانی بدنظمی کسی عضویاتی خرابی، نظام عصبی کی خرابی یا کسی غدود میں کوئی نقص ہو جانے کیوجہ سے اسکے صحیح وظیفہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے

Emotional Habits

[ترمیم]تشریح

کچھ مصنفین نے اسکو محرکات رویہ (Motivational Attitudes) بھی کہا ہے۔ جب دو شخصیتوں میں فرق قائم کیا جاتا ہے تو ان میںہیجان اور محرکاتی عادات کا بھی دخل ہوتا ہے۔ مسیبت، غم، خوشی، مسرت تجربات کو مختلف افراد مختلف انداز میں برداشت کرتے ہیں یہی خصوصیات ان میں فرق پیدا کرتی ہیں۔ اسکے لیے یہ اصطلاح استعمال کیجاتی ہے۔

س5 (iii):ہیجان میں آموزش اور ماحول کا رول بیان کریں؟ج:س5 (iv):ہیجانی اظہار اور کلچر کے درمیان کیا تعلق ہے؟ برصغیر اور ایشیا کے کلچر سے مثالیں دے کر واضح کریں؟ج:س5 (v):ہم زندگی میں مہارتیں یا مشینی آلات کا استعمال کیسے سیکھتے ہیں؟ج:

باب9: اعلیٰ وقوفی اعمال ص:160-161

                                        مشق

حصہ معروضی:

-1ہر سوال کے نیچے چار ممکنہ جوابات دیے گئے ہیں۔درست پر(√) کا نشان لگائیں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

2- درج ذیل فقرات میں خالی جگہ موزوں الفاظ سے پر کریں۔

(vi-) (v-) (iv-) (iii-) (ii-) (i- )

3- مختصر جوابات دیجیے۔

1-ذهانت مين كونسى مختلف عناصر كام كرتى هى؟
ج:
2-ديودو   ويسلر كي مطابق ذهانت كيا هى؟
ج:
3-ليوس تر من نى ذهانت كى تعريف كيا بيش كى؟
ج:
4-جان كيرل ذهانت كى تعريف كر تى هو نى كيا كهتا هى؟
ج:
5-جارلس بستر مين كادو عنصرى نظريه كيا هى؟
ج:

4- کالم (الف) کے الفاظ کے مطابقتی کالم (ب) میں تلاش کرکے کالم(ج) میں لکھیے۔

کالم (الف) کالم (ب) کالم(ج)

انشائیہ حصہ:

س5:مسائل كى حل مين اعلى وقوفي اعمال كى وضاحت كرين؟
ج:
س:ذهانت كى تعريف كيجى نيز بستر مين نظريه ذهانت كى وضاحت كرين؟
ج:
س:ويكسلر كى ذهانتي سكيل كى وضاحت كيجى ؟
ج:
س:زبان كى تشكيل كى مختلف مدارج بيان كرين؟
ج:
س:بينى كا ذهني عمر كا نظريه اور مقياس ذهانت كى وضاحت كرين؟
ج: Intelligence Quotient

(نفسیات کی بہت سی کتابوں میں اسکے لیے”مقیاس ذہانت” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے لیکن ترقی اردو بورڈ کی کتاب میں اسکو قدرذہانت کا نام دیا ہے) بینے(Binet) اور سائمن (Simon) نے مل کر زہانت کی پیمائش کا طریقہ ایجاد کیا جس سے کسی فرد کی ذہانت کی پیمائش کی جا سکے۔ اسکے لیے انہوں نے سب سے پہلے ذہنی عمر کا تصور پیش کیا۔ ذہنی عمر معلوم کرنے کے لیے انہوں نے ہر عمر کے لیے معیاری آزمائش وضع کی جسکے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا تھا کہ وہ کس عمر کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ ذہنی عمر معلوم ہونے کے بعدمندرجہ ذیل فارمولے سے قدر ذہانت معلوم کیا جاتا ہے۔

قدر ذہانت = ذہنی عمر

________     100X                       طبعی عمر

اردو میں قدر ذہانت کا مخفف(ق ذ) انگریزی I . Q کے متبادل کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک اوسط فرد کا ق ذ100 ہونا چاہیے۔ یعنی اگر ایک دس سال کے لڑکے کی ذہنی عمر بھی دس سال ہے تو اسکا قدر ذہانت (ق ذ یعنی I . Q ) سو(100) ہو گا۔ اسطرح قدر ذہانت کا 100 سے زیادہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اوسط ذہین سے زیادہ ذہین ہے۔ اسطرح قدر ذہانت کا 100 سے کم ہونا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ فرد اوسط درجہ کے ذہین سے کم ذہین ہے۔

قدر ذہانت (ق۔ ذ۔) یعنی (I . Q ) کو استعمال کر کے ذہانت کے مختلف معیار کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ استعمال کیا جاتا ہے:

(1)فطین

(Genius)

یہ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنکا I . Q (ایک سو چالیس) 140 سے زیادہ ہو۔

(2)ذہین اعلی

(Intelligent)

یہ وہ لوگ ہیں جن کا قدر ذہانت 140 سے کم لیکن 120 سے زیادہ ہوتا ہے۔

(3)ذہین

(Intelligent)

انکو کہتے ہیں جنکا قدر ذہانت 110 سے 120 تک ہو۔

(4)اوسط ذہین

(Average)

یعنی ہ لوگ جنکا قدر ذہانت 90 سے 110 تک ہو۔

(5)کند ذہن

(Dull)

یہ وہ لوگ کہلاتے ہیں جنکا قدر ذہانت 80 اور 90 کے درمیان ہوتا ہے۔

(6) احمق

(Border Line)

ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنکا قدر ذہانت 70 سے 80 تک ہو۔

(7) ضعیف العقل

(Bordle Minded)

جن لوگوں کا قدر ذہانت 50 اور 70 کے درمیان ہوتا ہے۔

(8)ناقص العقل

(Imbecile)

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکا قدر ذہانت 25 اور 50 کے درمیان ہوتا ہے۔

(9)مخبوط العقل

(Idiot)

یعنی وہ لوگ جنکا قدر ذہانت 25 سے کم ہو۔ (اسے ماؤف العقل بھی کہا جاتا ہے)

معیار ذہانت کو ناپنے کے لیے یہ پیمانہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے اور دنیا کے ہر حصہ میں قدر ذہانت کے لحاظ سے اسی طرحتقسیم کیجاتی ہے۔ [1]

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.