کہانی ہاتھی اور درزی برائے جماعت چہارم / جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInPrint this pageEmail this to someone
image_pdf

کہانی ہاتھی اور درزی برائے جماعت چہارم / جیسا کرو گے ویسا بھرو گے 

                                      ایک دفعہ کا ذکر ہے  ایک راجا کا ہاتھی پانی پینے کے لئے روزانہ صبح تالاب پر لے جایا جاتا تھا۔راستہ میں ایک درزی کی دوکان پڑتی تھی۔ ہاتھی روزانہ اس کی دوکان میں اپنی سونڈ بڑھا دیتا اور درزی اسے کیلا یا کھانے کی کوئی اور چیز دے دیتا تھا۔ یہ دوستی کچھ دن ایسے ہی چلتی رہی۔ ایک دن دَرزی کے بجائے اس کا لڑکا دوکان پر بیٹھا تھا۔ ہاتھی نے ہمیشہ کی طرح جب دوکان میں سونڈ بڑھائی تو لڑکے نے شرارت سے کیلا دینے کے بجائے اس میں سوئی چبھو دی۔ ہاتھی تالا ب سے لوٹا تو اپنی سونڈ میں بہت سا پانی بھر لایا اور دوکان میں سونڈ ڈال کر درزی کے لڑکے پر زور سے دھار مارکر اسے شرابور کر دیا۔اس طرح جیسااس لڑکے نے کیا تھا ویساہی اس کے ساتھ ہوا۔

اخلاقی سبق:

جیسے کو تیسا

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInPrint this pageEmail this to someone
Loading Facebook Comments ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *