نوٹس / مشقی سوالات کا حل :اسلامیات3 پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور پاکستان

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInPrint this pageEmail this to someone
image_pdf

image_pdf

نوٹس / مشقی سوالات کا حل :اسلامیات3  پنجاب  ٹیکسٹ  بک  بورڈ  لاہور   پاکستان

1- القرآن ص:2-4

سورۃ القریش

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾

قریش کے مانوس کرنے کی بنا پر۔

اٖلٰفِہِمۡ رِحۡلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿۲﴾

یعنی انکو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کی بنا پر۔

فَلۡیَعۡبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الۡبَیۡتِ ۙ﴿۳﴾

انہیں چاہیے کہ اس نعمت کے شکر میں اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔

الَّذِیۡۤ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ ٪﴿۴﴾

جس نے انکو بھوک میں کھانا کھلایا۔ اور خوف سے امن بخشا۔

سورۃ الکوثر

(108) سورۃ الکوثر (مکی، آیات 3)

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

اِنَّـآ اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) بے شک ہم نے آپ کو کوثر دی۔

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2) پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَـرُ (3) بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔

سورۃ الماعون

(107) سورۃ الماعون (مکی، آیات 7)

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

اَرَاَيْتَ الَّـذِىْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ (1) کیا آپ نے اس کو دیکھا جو روزِ جزا کو جھٹلاتا ہے۔

فَذٰلِكَ الَّـذِىْ يَدُعُّ الْيَتِـيْمَ (2) پس وہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔

وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ (3) اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ (4) پس ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔

اَلَّـذِيْنَ هُـمْ عَنْ صَلَاتِـهِـمْ سَاهُوْنَ (5) جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔

اَلَّـذِيْنَ هُـمْ يُرَآءُوْنَ (6) جو دکھلاوا کرتے ہیں۔

وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (7) اور برتنے کی چیز تک روکتے ہیں۔

سورۃ العصر

(103) سورۃ العصر (مکی، آیات 3)

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

وَالْعَصْرِ (1) زمانہ کی قسم ہے۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِىْ خُسْرٍ (2) بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔

اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3) مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔

ماشاءاللہ انشاءاللہ
الحمدللہ سبحان اللہ
استغفراللہ جزاک اللہ

2- ایمان ص: 5-7

3- قرآن مجید ص:8-10

4- نماز ص:11-13

5- ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ (حصہ اول) ص:14-16

6- ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ (حصہ دوم) ص:17-18

7-خانہ کعبہ اور غار حرا  ص:19-21

8-حسن سلوک ص: 22-24

9-گفتگو کے آداب ص: 25-26

10- جھوٹ ص: 27

11-غیبت ص:29- 30

12- چوری ص: 31- 32

 

2- ایمان ص: 5-7

سوال 1: ایمان کا کیا مطلب ہے؟

جواب: ایمان کا مطلب ہے کسی چیز پر پورا یقین رکھنا اور بلا شک وشبہ   سچ ماننا۔

سوال2:ایک مسلمان کن باتوں پر یقین رکھتا ہے؟

جواب: ایک مسلمان ان باتوں پر یقین رکھتا ہے ۔

 1- اللہ کی وحدانیت

 2- اللہ کے فرشتے

  3- اللہ کے رسول

  4- اللہ کی کتابیں

 5-  روز قیامت

سوال3: اللہ کی وحدانیت  پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:  اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ ایک ہے۔

اس کا کوئی شریک نہیں۔

اسکے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں

نہ وہ کسی سے پیدا ہوا   نہ نہی اس سے کوئی  پیدا ہوا۔

سوال4: فرشتوں   پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟

جواب: اس بات پر ایمان لانا کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں جو ہر وقت اس کی عبادت اور ذکر کرتے رہتے ہیں۔

سوال5: پیغمبروں اور رسولوں پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب:  اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ نے انسانوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لیے  کےپیغمبروں اور رسولوں  کو بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں۔

سوال6: اللہ کی کتابوں پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب: اس با ت پر ایمان لانا کہ اللہ نے انسانیت کی بھلائی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں جن میں زندگی گزارنےکے آداب اور احکامات موجود ہیں۔

سوال7:روز قیامت پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب: اس با ت پر ایمان لانا کہ ایک دن یہ دنیا فنا ہوجائے گی اور اللہ کے حکم سے مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ قیامت کے روز دنیا میں نیک کام کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور برے کام کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔

سوال8: روزقیامت کو اور کیا کہتے ہیں؟

جواب: روزقیامت کو  روز حشر اور روز حساب بھی کہتے ہیں ۔

سوال9: قیامت  کے روز کیا کچھ کام آئے گا؟

جواب: قیامت  کے روز اچھے اعمال اور نیکیاں  ہی ہمارے  کام آئیں  گی ۔

سوال10: روز قیامت  پر ایمان لانے سے کیا خوبیاں پیدا ہوتی ہیں؟

جواب: جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کے اچھے اعمال کے بدلے اسے جنت ملے گی اور برے اعمال کے بدلے دوزخ کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ یقینا جنت کے حصول کی کوشش کرے گا اور دنیا میں نیک اعمال کرے گا۔

مشق

1-درست فقرات  پر کا نشان  اور غلط  پر  کا نشان لگائیں۔

1-   ایمان کا مطلب ہے کسی چیز پر پورا یقین رکھنا اور بلا شک وشبہ سچ ماننا۔

2-   ایک مسلمان اللہ کی وحدا نیت  پر یقین رکھتا ہے۔

3-   ایک مسلمان روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتا ۔

4-   روزقیامت کو  روز حشر اور روز حساب بھی کہتے ہیں

5-   قیامت کے روز دنیا میں نیک کام کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور برے کام کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔

جوابات: (1- /)(2-/ )(3-X )(4-/ ) (5- /)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

1- —————-کا مطلب ہے کسی چیز پر پورا یقین رکھنا اور بلاشک وشبہ سچ ماننا۔

2- فرشتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں جو ہر وقت اس کی —————کرتے رہتے ہیں۔

3- اللہ تعالیٰ  نے انسانوں کی بھلائی اور ——————کے لیے پیغمبروں اور رسولوں کو بھیجا۔

4- قیامت کے روز اچھے ————- اور نیکیاں ہی ہمارے کام آئیں گی۔

عبادت

اعمال

ایمان

راہنمائی

جوابات: (1- جھوٹ)(2-اعتبار )(3-مذاق )(4-عزت )

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

  • ایمان کا کیا مطلب ہے؟
  • اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟
  • اللہ کی کتابوں پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟
  • روز قیامت پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟
  • روز قیامت پر ایمان لانے سے کیا خوبیاں پیدا ہوتی ہیں؟

3- قرآن مجید ص:8-10

سوال 1: قرآن کے  کیا معنی ہیں؟

جواب: ۔ قرآن  عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں بار بار پڑھی جانے والی کتاب۔

سوال2: قرآن مجید کب اور کس پر نازل ہوا؟

جواب: ۔ قرآن مجید 27 رمضان المبارک کو ہمارے  پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔

سوال3: قرآن مجید کےچند اہم نکات بیان کریں؟

جواب: ۔

1- قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب ہے۔

2- یہ 23 سال کی مدت میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔

3- اس کو حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے۔

4- قرآن مجید میں کل 30 پارے ہیں۔۔

5- اس میں 114 سورتیں ہیں۔

سوال4: قرآن مجید  کا موضوع کیا ہے؟

جواب: ۔ قرآن مجید  کا موضوع  انسان  ہے۔ قرآن تمام انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔

سوال5: ضابطہ حیات کا کیا مطلب ہے؟

جواب: ضابطہ حیات کا مطلب ہے زندگی گزارنے کے بارے میں ایسے احکامات جوسادہ ، آسان ، سچے اور مکمل ہوں۔ زندگی کا کوئی معاملہ ایسانہیں جس کے بارےمیں قرآن مجید میں کوئی حکم  نہ ہو۔

سوال 6: حضرت محمد ﷺ نے قرآن مجید  کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

جواب: حضرت محمد ﷺ نے قرآن مجید  کے بارے میں فرمایا ۔

       “تم میں سے بہترین وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔”

سوال7: قرآن مجید  کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟

جواب:ارشاد الہی ہے۔

1- اسے (قرآن کو) پاک صاف لوگوں کے سوا کوئی نہ چھوئے۔

2- قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔

3- اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

سوال8: تلاوت قرآن مجید  کے آداب بیان کریں؟

جواب: 1- قرآن  پڑھنے کے لیے صاف یعنی باوضو ہونا بہت ضروری ہے۔

2- جس جگہ قرآن پڑھا جائے وہ جگہ بھی پاک صاف ہو۔

3- قرآن مجید شروع کرنے سے پہلے “تعوذ ” یعنی اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم اور تسمیہ یعنی ﷽ پڑھنا چاہیے۔

4- قرآن پڑھتے وقت ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔

5- قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔

سوال9: قرآن مجید  کی پہلی سورت کون سی ہے؟

جواب:سورۃ  الفاتحہ  قرآن مجید  کی پہلی سورت ہے ۔

سوال10: قرآن مجید  کی آخری سورت کون سی ہے؟

جواب: سورۃ  الناس  قرآن مجید  کی آخری  سورت ہے ۔

مشق

1- درست جواب پر  (  ) کا نشان لگائیں۔

الف: قرآن مجید کب نازل ہوا؟

(1۔27 محرم )(2۔27 جمادی الاول )(3۔27 رمضان )(4۔27 ذی الحج )

ب: قرآن مجید کتنی مدت میں نازل ہوا؟

(1۔13 سال )(2۔18 سال )(3۔ 23 سال )(4۔ 27 سال)

ج: قرآن مجید کا موضوع کیا ہے؟

(1۔انسان )(2۔حیوان )(3۔فرشتے)(4۔جن)

جوابات: (1- 3)(2- 3)(3- 1)

 (2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

1- قرآن  عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ———–پڑھی جانے والی کتاب۔

2- قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ————–کتاب ہے۔

3۔ جب قرآن  پڑھا جائے تو ————- سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو۔

4۔قرآن پڑھنے کے لیے پاک صاف یعنی ————— ہونا بہت ضروری ہے۔

5۔ قرآن تمام ——————– کےلیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔

با وضو

آخری

بار بار

توجہ

انسانیت

 

جوابات: (1- با ر بار)(2- آخری)(3- توجہ)(4-باوضو ) (5- انسانیت)

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

الف ۔قرآن مجید کب اور کس پر نازل ہوا؟

ب۔ قرآن مجید کےچند اہم نکات بیان کریں؟

ج۔ حضرت محمد ﷺ نے قرآن مجید  کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

د۔ تلاوت قرآن مجید  کے آداب بیان کریں؟

ہ۔قرآن مجید  کی پہلی  اور آخری سورت کون سی ہے؟

4- نماز ص:11-13

سوال 1:  نماز کیا ہے؟

جواب:1- نماز دین اسلام کا دوسرا اور اہم ستون ہے۔

2-نماز  اللہ تعالیٰ کی عبادت اور شکر ادا کرنےکا ذریعہ ہے ۔

3- نماز کے ذریعے ہم  اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی فرمانبرادری کا اظہار کرتے ہیں۔

4-قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا ۔

سوال2: ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟

جواب: نماز  پڑھتے وقت ہم  اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں سیدھے رستے پر چلا اور ہم پر اپنی مہربانیاں نازل فرما۔ باقاعدگی سے نماز پڑھنے سے ہم یہ  ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ہر وقت  اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ نماز ہمیں  اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتی ہے۔

سوال3:  مسلمان دن میں کتنی بارنماز پڑھتے ہیں ؟

جواب: مسلمان دن میں پانچ بارنماز پڑھتے ہیں ۔

سوال4: پانچوں نمازوں کے نام ترتیب وار بتائیں؟

جواب:

فجر ۔

 ظہر۔

عصر۔

 مغرب۔

 عشاء۔

سوال5: نمازوں کے اوقات بتائیں؟

جواب: نمازوں کے اوقات ۔

1۔ نماز فجر کا وقت صبح صادق سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ہوتا ہے۔

2۔ نماز ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے لے کر سہ پہر تک ہوتا ہے۔

3۔نماز عصر  کا وقت سہ پہر سے لے کر سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے تک ہوتاہے۔

4۔ نماز مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے لے کر شفق (آسمان پر سرخی) ختم ہونے تک ہوتا ہے۔

5۔ نماز عشا ء کا وقت شفق ختم ہونے سے لے کر فجر تک رہتا ہے۔

سوال 6: نماز پڑھنے کے آداب کیاہیں؟

جواب: نماز پڑھنے کے آداب ۔

  • وضو کرنا
  • کپڑوں کا پاک صاف ہونا۔
  • جگہ کا پاک صاف ہونا
  • نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا
  • قبلہ کی طرف رخ کرنا

جواب: نماز پڑھنے کے آداب ۔

  • نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرنا بہت ضروری ہے۔
  • نماز پڑھنے کے لیے کپڑوں کا پاک صاف ہونا ضروری ہے۔
  • جس جگہ نماز پڑھی جائے اس جگہ کا پاک صاف ہونا ضرور ی ہے۔
  • نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا چاہیے۔
  • نماز پڑھتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے۔

سوال7:قبلہ کسے کہتے ہیں؟

جواب:  مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ کی سمت کو قبلہ کہتےہیں۔ یعنی نماز پڑھتے وقت رخ خانہ کعبہ کی طرف ہو۔ دنیا کے تمام مسلمان خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز  پڑھتے ہیں۔

سوال8: حضرت محمد ﷺ نے نماز کے بارے میں کیا  فرمایا؟

جواب: حضرت محمد ﷺ نے  فرمایا ۔

“نماز میری آنکھوں کی ڈھنڈک ہے”

سوال9: نماز کے ارکان کون کون سے ہیں؟

جواب: مکمل نماز ادا کرنے کے لیے نماز کے ارکان  کو پورا کرنا ضروری ہے۔ جن میں قیام۔ رکوع۔ سجدہ۔ جلسہ۔ اور آخری قعدہ شامل ہیں ۔

مشق

(1)درست جواب پر  (  ) کا نشان لگائیں۔

الف: نماز دین اسلام کا کون سا اہم ستون ہے؟

(1-پہلا )(2- دوسرا)(3-تیسرا)(4-چوتھا)

ب: قیامت کے دن سب سے پہلا سوال کس کے بارے میں ہوگا ۔

(1-نماز )(2-روزہ )(3- حج)(4-زکوٰۃ)

ج: مسلمان دن میں کتنی بارنماز پڑھتے ہیں

(1- تین)(2-چار )(3-پانچ)(4-چھے)

(الف:دوسرا)(ب:نماز)(ج:پانچ)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

1- نماز  اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ——ادا کرنےکا ذریعہ ہے ۔

2-نماز  پڑھتے وقت ہم  اللہ تعالیٰ کے سامنے ——-ہوجاتے ہیں۔

3- مسلمان دن میں ——–بارنماز پڑھتے ہیں ۔

4- نماز پڑھنے سے پہلے ——-کرنا بہت ضروری ہے ۔

5- دنیا کے تمام مسلمان خانہ کعبہ کی طرف ——–کرکے نماز  پڑھتے ہیں۔

کھڑے

شکر

پانچ

رخ

وضو

جوابات: (1- شکر)(2-کھڑے )(3-پانچ )(4- وضو ) (5- رخ)

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

الف: نماز کیا ہے؟

ب: پانچوں نمازوں کے نام ترتیب وار بتائیں؟

ج: نماز پڑھنے کے آداب کیاہیں؟

د: حضرت محمد ﷺ نے نماز کے بارے میں کیا  فرمایا؟

ہ: نماز کے ارکان کون کون سے ہیں؟

5- ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ (حصہ اول) ص:14-16

سوال 1: حضرت محمد ﷺ  کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

جواب: حضرت محمد ﷺ 12 ربیع الاول 571ء کو عرب کے مشہور شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔

سوال2: حضرت محمد ﷺ  کے والد اور والدہ کا کیا نام ہے؟

جواب: حضرت محمد ﷺ کے والد  کا  نام  حضرت عبداللہ اور والدہ کا م  حضرت ہے ۔

سوال3: حضرت محمد ﷺ کے بچپن پر نوٹ لکھیں؟

جواب:حضرت محمد ﷺ کے والد آپﷺ کی ولادت سے چند ماہ  پہلےانتقال کرچکے تھے۔ اس وقت عرب میں راج تھا کہ بچوں کو دائیاں دوھ پلایا کرتی تھیں اس لیے آپ ﷺ کو دائی حلیمہ کسے سپرد کردیا گیا ۔ جب آپ چھے سال کے ہوئے تو آپﷺ کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کی پرورش کی۔ جب آپ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے دادا کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے آپ کی پرورش کی۔ حضرت ابو طالب آپ سے بہت پیار رکرتے تھے۔ انھوں نے آپ کی پرورش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔آپ بچپن سے ہی دوسرے بچوں سے مختلف تھے۔آپ آوارہ بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے تھے۔ جب آپٌ ذرا بڑے ہوئے تو آپ نے بھیڑ بکریاں چرانی شروع کردیں۔ بھیڑ بکریاں چرانا ایک مشقت آمیز کام تھا  جس نے  آپ کی  زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ آپ اس تجربہ کو کہ صحرا اور چراگاہوں میں آپ کو حاصل ہوا آئندہ زندگی میں بڑے فخر سے بیا ن فرماتے کہ ایک پیغمبر کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس نے چرواہے کی زندگی بھی بسر کی ہو۔ آپ ہر وقت مکہ کےلوگوں کے ظالمانہ رویوں اور ناانصافیوں کے بارے میں سوچتے اور ان کی بری عادتوں پر افسوس کرتے۔

سوال4: حضرت محمد ﷺ  کے سفر شام کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب: جب حضرت محمد ﷺ  بارہ سال کے ہوئے تو حضرت ابو طالب ایک تجارتی قافلہ لے کر ملک شام کی طرف جانے لگے۔ حضرت محمد ﷺ نے بھی آپ کے ساتھ جانے کی ضد کی مگر آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لے جانے سے انکار کردیا۔ وہ سفر کی مشکلات کی وجہ سے آپ کو ساتھ نہ لے جانا چاہتے تھے۔ مگر حضور ﷺ اپنے چچا سے لپٹ گئے اور ساتھ جانے پر اصرار کیا۔ آخر کار حضڑت ابو طالب آپ کو ساتھ لے جانے پر راضی ہوگئے۔ جب یہ قافلہ بصرہ پہنچا تو بحیرہ نامی ایک عیسائی راہب نے آپ کو دیکھا اور آپ کے چچا سے کہا”ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبی کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔” بحیرہ نے حضرت ابو طالب کو مشورہ دیا کہ آپ انھیں شام نہ لے جائیں کیونکہ یہودیوں نے انہیں   اگر دیکھ لیا تو انھیں نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو طالب نے اپنا سامان وہیں فروخت کردیا اور آپ کو لے کر واپس مکہ چلے آئے۔

سوال5: حلف الفضول کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

جواب: حضرت محمد ﷺنے  پندرہ سال کی عمر میں اہل قریش کے ایک معاہدے(  حلف الفضول)میں شرکت فرمائی۔ اس معاہدہ کو حلف الفضول اس لیے بھی کہتے ہیں کہ اس میں شامل زیادہ تر لوگوں کے نام کے ساتھ “فضل” آتا تھا۔

مقاصد:

  • امن لانا ،
  • کمزور ، غریب اور مسافروں کی حفاظت کرناتھا۔

مشق

(1) درست فقرات پر    کا نشان اور غلط پر    کا نشان لگائیں۔

  • حضرت محمد ﷺ 12 ربیع الاول کو مکہ میں پیدا ہوئے۔
  • حضرت محمد ﷺ کے والد کا  نام  حضرت عبداللہ ہے ۔
  • حضرت محمد ﷺ کے والد آپﷺ کی ولادت سے چند ماہ بعد انتقال کرگئے۔
  • جب آپ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے دادا کا بھی انتقال ہوگیا۔
  • حضرت محمد ﷺ نے بارہ سال کی عمر میں ملک شام کا سفر کیا۔
 جوابات: (1- د )(2- د )(3- غ(4- د) (5-غ)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

1-  حضرت محمد ﷺ کی والدہ کا نام حضرت  ——————-ہے۔

2- حضرت محمد ﷺ کے والد آپﷺ کی پیدائش کے چند ماہ پہلے ——————-کرگئے۔

3-                بحیرہ نے حضرت ابو طالب کو ——————–دیا کہ آپ انہیں ﷺ شام نہ لے جائیں۔

4-                جب حضرت محمد ﷺ ——————–سال کے ہوئے تو قریش اور مکہ کے دوسرے قبائل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

انتقال

مشورہ

پندرہ

آمنہ

جوابات: (1- آمنہ)(2-انتقال )(3-مشورہ )(4-پندرہ )

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

  • حضرت محمد ﷺ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
  • حضرت محمد ﷺ کے بچپن پر نوٹ لکھیں؟
  • حضرت محمد ﷺ کے سفر شام کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
  • حلف الفضول کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

6- ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ (حصہ دوم) ص:17-18

سوال 1: حضرت محمد ﷺ  کی شادی مبارک کب ہوئی؟

جواب: حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک 25 سال کی عمر میں ہوئی ۔

سوال2: حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک کس  کے ساتھ ہوئی؟

جواب: حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک حضرت خدیجہ    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئی ۔

سوال3: حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کون تھیں؟

جواب: حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا مکہ کی ایک مالدار تاجر خاتون تھیں ۔ آپ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا اپنا مال تجارت فروخت کےلیےکاروباری مرد حضرات کے ذریعے ملک شام بھیجا کرتی تھیں۔

سوال4: حضرت محمد ﷺ کی حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  کے ساتھ شادی کے اسباب بیان کریں؟

جواب:  جب حضرت محمد ﷺ کی عمر 25 برس ہوئی تو آپ ﷺ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مکہ میں مشہور ہوچکے تھے۔ لوگ آپ ﷺ کو امین اور صادق کہہ کر پکارتے تھے۔ آپﷺ بہت دیانت دار ،سچے اور بڑے اچھے اخلاق و آداب کے مالک تھے۔ حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا نے بھی  حضرت محمد ﷺ کی دیانت داری کے بارے میں سن رکھا تھا۔ ایک دن حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا نے حضرت محمد ﷺ کو گھر بلایا اور ان سے شام جاکر اپنا مال تجارت فروخت کرنے کی درخواست کی۔ انھوں نے آپﷺ کو اس کے عوض دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ معاوضہ دینے کا وعدہ کیا۔ حضرت محمد ﷺ راضی ہوگئے۔حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  نے آپﷺ کی مدد کے لیے اپنا ایک غلام میسرہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ روانہ  کیا۔ حضرت محمد ﷺ کی دیانت دار اور  سوجھ بوجھ کی وجہ سے  حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کے مال  پر بڑا فائد ہ ہوا۔ مکہ واپس  آکر میسرہ نے تما م حالات حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کو  بتائے اور حضرت محمد ﷺ کی دیانت داری اور سمجھ بوجھ کی بہت  تعریف کی۔ حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ آپ نے حضرت محمد ﷺ کو شادی کی پیشکش کردی۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کے مشورے سے اس پیشکش کو قبول کرلیا اور حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  سے شادی کرلی۔ شادی کے وقت آپ ﷺ کی عمر 25 سال تھی جب کہ حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  کی عمر 40 سال تھی۔

مشق

(1)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
1.      حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک

2.      حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا مکہ کی ایک مالدار

3.      لوگ آپ ﷺ کو امین اور صادق

4.      حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  نے آپﷺ کی مدد کے لیے اپنا ایک غلام

5.      حضرت محمد ﷺ کی دیانت دار اور  سوجھ بوجھ کی وجہ سے

01    کہہ کر پکارتے تھے۔

02    تاجر خاتون تھیں ۔

03    حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کے مال  پر بڑا فائد ہ ہوا۔

04    25 سال کی عمر میں ہوئی ۔

05    میسرہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ روانہ  کیا۔

 

جوابات: (1- 4)(2-2 )(3-1 )(4-5 ) (5-3)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

الف  :حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک حضرت ———کے ساتھ ہوئی ۔

ب: حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا مکہ کی ایک مالدار ——خاتون تھیں ۔

ج: ایک دن حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا نے حضرت محمد ﷺ کو گھر بلایا اور ان سے ——-جاکر اپنا مال تجارت فروخت کرنے کی درخواست کی۔

د: شادی کے وقت آپ ﷺ کی عمر ——سال تھی جب کہ حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  کی عمر 40 سال تھی۔

25

خدیجہ

شام

تاجر

جوابات: (1- خدیجہ   )(2-تاجر)(3- شام)(4- 25)

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

سوال 1: حضرت محمد ﷺ  کی شادی مبارک کب ہوئی؟

سوال 2: حضرت محمد ﷺ کی شادی مبارک کس  کے ساتھ ہوئی؟

سوال3: حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کون تھیں؟

7-خانہ کعبہ اور غار حرا  ص:19-21

سوال 1: خانہ کعبہ کسے کہتے ہیں؟

جواب:  سعودی عرب  کے شہر مکہ میں ایک متبرک کمرہ نما عمارت ہے جسے خانہ کعبہ کہتے ہیں۔ خانہ کعبہ کو اللہ کا گھر بھی کہتے ہیں۔

سوال2: خانہ کعبہ  مسلمانوں کے لیے کیوں متبرک ہے؟

جواب: خانہ کعبہ   مسلمانوں کے لیے اس لیے متبرک ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان خانہ کعبہ   کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور ہر سال حج ادا کرنے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔

سوال3: خانہ کعبہ  کی تعمیر کس نے کی؟

جواب:   اللہ تعالیٰ کے حکم سے خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی۔ بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ اسلام نے اسے از سر نو تعمیر کیا۔ بعد میں بھی بوقت ضرورت اس کی تعمیر ہوتی رہی۔

سوال4: کیا حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھی خانہ کعبہ  کی تعمیر ہوئی؟

جواب:  جی ہاں! جب حضرت محمد ﷺ کی عمر پینتیس 35 برس تھی اس وقت خانہ کعبہ کی عمارت بہت پرانی اور خستہ ہوچکی تھی۔ نشیب میں ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی سیلابی شکل میں اس سے ٹکراتا رہا تھا اور کعبہ کی عمارت تقریبا تباہ ہوگئی تھی۔ لہٰذا قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ کیا۔

سوال5: خانہ کعبہ  کی تعمیر کے دوران کیا خاص واقعہ پیش آیا؟

جواب:  قریش کے تمام قبائل کعبہ کی تعمیر کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔ لہٰذا سب نے کام کو  آپس بانٹ لیا اور کعبہ کو گراکر نئے سرے سے تعمیر شروع کردی۔ جب دیواریں کھڑی ہوگئیں تو حجر اسود کو نصب کرنے کے  مسئلہ  پر اختلاف پیدا ہوگیا۔ ہرقبیلہ یہ چاہتا تھا کہ اس پتھر کو نصب کرنے کی سعادت اسے نصیب ہو۔ قریب تھا کہ تلواریں چل جاتیں اور خون خرابہ ہوجاتا۔ کچھ بوڑھوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ کل جو شخص سب سے پہلے باب الصفا کے راستے حرم میں داخل ہوگا وہی حجر اسود کی تنصیب کا فیصلہ کرے گا۔ اگلے روز سب سےپہلے حضرت محمد ﷺ باب الصفا  کے راستے حرم میں داخل ہوئے۔ سب لوگ آپﷺ کو دیکھ کر خوش ہوگئے کیونکہ آپﷺ  پہلے ہی پورے مکہ میں صادق اور امین  کے لقب سے مشہور تھے۔ اسلیے لوگوں کو یقین تھا کہ آپ ﷺ جو بھی فیصلہ کریں گے ایمانداری سے کریں گے۔ آپﷺ نے ایک چادر منگوائی اور اسے زمین پر بچھا دیا اور حجر اسود کو اٹھا کر چادر پر رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے  ہر قبیلے کے سردار کو حکم دیا کہ چادر کے کنارے پکڑ لیں اور اس مقام تک لے جائیں جہاں حجر اسود نصب  کرنا ہے۔ جب حجر اسود اس جگہ پہنچ گیا تو آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اسے اٹھا کر دیوار میں لگا دیا۔ اس طرح حضرت محمد ﷺ کی عقل مندی اور معاملہ فہمی سے ایک بہت بڑا خون خرابہ ہونے سے بچ  گیا۔

سوال 6: غار حرا کے بارے میں آپ کیا جانتے  ہیں؟

جواب: مکہ کے چاروں طرف پہاڑی علاقہ ہے۔ اسی میں ایک  حرا  نامی پہاڑ ہے۔ حرا کو جبل نور  یا روشنی کا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔ اس پہاڑ میں ایک غار ہے جسے غار حرا کہتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اکثر اس غار میں غور فکر میں اپنا وقت گزارتے۔ غار حرا میں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

مشق

(1)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
1.      ہرقبیلہ یہ چاہتا تھا کہ اس پتھر کو نصب کرنے کی

2.      مکہ میں ایک متبرک کمرہ نما عمارت ہے

3.      خانہ کعبہ کو

4.      تمام دنیا کے مسلمان

5.      مکہ کے چاروں طرف پہاڑی علاقہ ہے

6.      حضرت محمد ﷺ اکثر اس غار میں

1.      غور فکر میں اپنا وقت گزارتے۔

2.      اسی میں ایک  حرا  نامی پہاڑ ہے۔

3.      خانہ کعبہ   کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں

4.      اللہ کا گھر بھی کہتے ہیں۔

5.      سعادت اسے نصیب ہو۔

6.      جسے خانہ کعبہ کہتے ہیں۔

جوابات: (1-5 )(2-6 )(3- 4)(4-3 ) (5-2)(6-1)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

خانہ کعبہ کو اللہ کا گھر بھی کہتے ہیں۔

قریش کے تمام قبائل کعبہ کی تعمیر کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔

آپﷺ  پہلے ہی   صادق اور امین  کے لقب سے مشہور تھے۔

مکہ کے چاروں طرف پہاڑی علاقہ ہے۔

 
جوابات: (1- گھر)(2-آدم )(3-سعادت )(4-لقب ) (5-پہاڑی)
  • سوالو ں کے جواب دیں۔

سوال1: خانہ کعبہ  مسلمانوں کے لیے کیوں متبرک ہے؟

خانہ کعبہ  کی تعمیر کے دوران کیا خاص واقعہ پیش آیا؟

غار حرا کے بارے میں آپ کیا جانتے  ہیں؟

خانہ کعبہ  کی تعمیر کس نے کی؟

8-حسن سلوک ص: 22-24

سوال 1:حسن سلوک  سےکیا مراد ہے؟

جواب: حسن سلوک سے مراد ہے دوسروں کے لیے اچھا رویہ اپنانا   خواہ وہ اجنبی ہوں یا قریبی رشتہ دار۔

سوال2: حضرت محمد ﷺ نے حسن سلوک  کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب:  حضرت محمد ﷺ نے حسن سلوک  کے بارے میں فرمایا ۔ “تمہار ی  خدمت اور حسن سلوک کی سب سے پہلی حق دار تمھار ی ماں ہے اس کے بعد تمھارا  باپ اور پھر درجہ بدرجہ دوسرے رشتہ دار”

سوال3: رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک  کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟

جواب:  اللہ تعالیٰ  نے قرآن مجید میں تقریبا بارہ (12) جگہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلو ک کی تاکید فرمائی ہے۔

سورہ بقرۃ میں ارشاد الہٰی ہے: وہ اللہ کی محبت کے لیے مال و دولت اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیتے ہیں”۔

سوال4: رشتہ داروں سے حسن سلوک  کی کیا صورتیں ہیں؟

جواب: رشتہ داروں سے حسن سلوک  کی  چند صورتیں یہ ہیں ۔

  • آدمی اپنی کمائی سے رشتہ داروں کی مالی امداد  کرے۔
  • آدمی اپنے وقت اور زندگی کا کچھ حصہ ان کے کاموں پر صرف کرے۔
  • رشتہ داروں سے صرف اس بنا ء پر اچھا سلوک نہ کرے کہ وہ بھی ہم سے اچھا سلوک کریں گے۔

سوال5: والدین اور رشتہ داروں کے علاوہ کس کے ساتھ حسن سلوک  کا حکم ہے؟

جواب: والدین اور رشتہ داروں کے علاوہ ہمیں ان ساتھیوں    کے ساتھ بھی حسن سلوک  کرنا چاہیے جو ہمارے  ساتھ مختلف کام سر انجام دیتے ہیں یا جن کے ساتھ  ہم دن کا کچھ حصہ گزارتے ہیں جیسے ہمارے سکول کے ساتھی۔

سوال 6: ہم سکول کے ساتھیوں کے ساتھ کیسے حسن سلوک  کرسکتے ہیں؟

جواب: ہم سکول کے ساتھیوں کے ساتھ ایسے حسن سلوک  کرسکتے ہیں کہ ۔

  • کھیل کے دوران اپنے ساتھی کی باری  کا انتظار کریں۔
  • جھوٹی شکایت لگا کر ساتھی کو پھنسانے کی کوشش نہ کریں۔
  • ساتھی کی غیر موجودگی میں اس کا اچھے الفاظ میں ذکر کریں۔
  • ساتھی کی پڑھائی میں اس کی مدد کریں۔

سوال7:کیا ہمیں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک  کرنا چاہیے؟

جواب:  جی ہاں ! ہمیں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک  کرنا چاہیے ۔   حضرت محمد ﷺ  نے فرمایا :”وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کے شر سے اس کے ہمسائے محفوظ نہ رہ سکیں۔”

سوال8: ہم اپنے ہمسائے کے ساتھ کیسے حسن سلوک  کرسکتے ہیں؟

جواب: ہم اپنے ہمسائے کے ساتھ ایسے حسن سلوک  کرسکتے ہیں کہ ۔

1۔ ہمسایہ جب بھی کوئی مدد طلب کرے تو اس کی مدد  کریں۔

2۔ اگر ہمسایہ بیمار ہوتو اس کی تیمار داری کریں۔

 3۔ اگر ہمسایہ مصیبت میں ہو تو اس کو صبر کی  تلقین کریں اور اس کی دلجوئی کریں۔

4۔ خوشی کے موقع پر ہمسایہ کو مبارک باد دیں۔

5۔ اگر ہمسایہ  گھر میں موجود نہ تو اس کے گھر کی حفاظت  کریں۔

مشق

درست فقرات  پر     (  ) کا نشان اور غلط پر  ( ) کانشان لگائیں۔

  • حسن سلوک سے مراد ہے دوسروں کے لیے اچھارویہ اپنانا۔
  • ہمیں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے ۔
  • آدمی اپنی کمائی سے رشتہ داروں کی مالی امداد  نہ کرے۔
  • ساتھی کی غیر موجودگی میں اس کا اچھے الفاظ میں ذکر نہ کریں۔
  • ہمسایہ جب بھی کوئی مدد طلب کرے تو اس کی مدد کریں۔
جوابات: (1-د )(2- د)(3- غ)(4- غ) (5-د)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

(1)  حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “تمھارے حسن سلوک کی پہلی حق دار تمھاری——— ہے”۔

(2)  ارشاد الہٰی ہے: وہ اللہ کی محبت کے لیے —————اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیتے ہیں”۔

(3)  والدین اور رشتہ داروں کے علاوہ ہمیں ان ساتھیوں    کے ساتھ بھی ——————–کرنا چاہیے۔

(4)  اگر ہمسایہ ———–ہوتو اس کی تیمار داری کریں۔

(5)  خوشی کے موقع پر ہمسایہ کو ———-دیں۔

حسن سلوک  مال و دولت

ماں

مبارک باد

بیمار

جوابات: (1- ماں)(2- مال و دولت )(3- حسن سلوک )(4- بیمار )(5۔ مبارک باد)

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

  • حسن سلوک سےکیا مراد ہے؟
  • حضرت محمد ﷺ نے حسن سلوک کے بارے میں کیا فرمایا؟
  • رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟
  • رشتہ داروں سے حسن سلوک کی کیا صورتیں ہیں؟
  • ہم سکول کے ساتھیوں کے ساتھ کیسے حسن سلوک کرسکتے ہیں؟

9-گفتگو کے آداب ص: 25-26

سوال 1: گفتگو کرتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

جواب:گفتگو کرتے وقت زبان کوقابو میں رکھنا چاہیے۔ ایسانہ ہو کہ  جو منہ میں آئے وہ کہہ دیا جائے۔ بات ہمیشہ نرمی سے کرنی چاہیے۔ اگر زبان کی حفاظت کی جائے تو دنیا اور آخرت میں سکون اور عزت ہوتی ہے ۔

سوال2:چیخ کر بولنے والے کے لیے قرآن  میں کیا حکم ہے؟

جواب: قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے۔

اپنی آواز کو دھیما رکھو آوازوں میں سب سے بری  آواز گدھے کی ہے۔” اس لیے ہمیں چیخ کرنہیں بولنا چاہیے۔ بے موقع اور زور زور سے بولنا نا سمجھی کی بات ہے۔

سوال3: وہ کون سی باتیں ہیں جو گفتگو  کےآداب میں شامل ہیں؟

جواب:ہمیشہ  سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے

آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرنی چاہیے

ضرورت سے زیادہ نہیں بولنا چاہیے

بڑوں کو ادب سے مخاطب کرنا چاہیے

والدین اور استاتذہ سے غیر ضروری بحث نہیں کرنی چاہیے ۔

سوال4: حضرت محمد ﷺ نے  آداب گفتگو  کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا

اپنی زبان کو روک کر رکھو ۔ اسے بے ہودہ گفتگو اور گالی گلوچ نہ کرنے دو۔ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کو چھپائے گا۔

مشق

(1)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
1.      گفتگو کرتے وقت

2.      اگر زبان کی حفاظت کی جائے تو

3.      آوازوں میں سب سے بری  آواز

4.      والدین اور استاتذہ سے بلا ضرورت

5.      جو اپنی زبان کی حفاظت کرے گا

        i.            دنیا اور آخرت میں سکون اور عزت ہوتی ہے ۔

ii.             گدھے کی ہے۔

iii.            زبان کوقابو میں رکھنا چاہیے۔

iv.            اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کو چھپائے گا۔

v.            بحث نہیں کرنی چاہیے ۔

جوابات: (1-iii )(2-i )(3-ii )(4-v ) (iv-5)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

گفتگو کرتے وقت زبان کو —————–میں رکھنا چاہیے۔

بات ہمیشہ —————-سے کرنی چاہیے۔

بڑوں کو —————-سے مخاطب کرنا چاہیے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ! اپنی زبان کو —————کر رکھو ۔

جو اپنی زبان کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ———-کو چھپائے گا۔

ادب

نرمی

قابو

روک

عیبوں

جوابات: (1-قابو )(2-نرمی )(3- ادب)(4-روک ) (5-عیبوں )

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

گفتگو کرتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

چیخ کر بولنے والے کے لیے قرآن  میں کیا حکم ہے؟

وہ کون سی باتیں ہیں جو گفتگو  کےآداب میں شامل ہیں؟

حضرت محمد ﷺ نے  آداب گفتگو  کے بارے میں کیا فرمایا؟

10- جھوٹ ص: 27

سوال 1: جھوٹ سے کیا مراد ہے؟

جواب:اپنے مفاد اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے سچ بات کو چھپانا اور اپنے مطلب کی بات کرنا جھوٹ کہلاتا ہے ۔

سوال2: جھوٹ  کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟

جواب: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

سوال3: جھوٹ کے بارے میں  حضرت محمد ﷺ نے کیا فرمایا؟

جواب: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ۔

تم ہمیشہ جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف۔

حضرت محمد ﷺ نے  اپنی زندگی میں کبھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا۔

سوال4: جھوٹ بولنے کا کیا نقصان ہے؟

جواب:

1۔ جھوٹ بولنا گناہ ہے۔

2۔ جھوٹا شخص چونکہ ہر ایک سے جھوٹ بولتاہے اس لیے کوئی بھی اس پر اعتبار نہیں کرتا۔

3۔ جھوٹے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی۔

سوال5:  جھوٹے شخص کا اعتبا ر کیوں کر ختم ہوجاتا ہے؟

جواب: جھوٹا چونکہ ہر ایک سے جھوٹ بولتا  اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے اس لیے کبھی نہ کبھی اس کا جھوٹ ظاہر ہوجاتا ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی کا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو لوگ اس کی سچ بات کا بھی اعتبار نہیں کرتے۔

مشق

(1)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
1.      جھوٹےپر

2.      جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور

3.      حضرت محمد ﷺ نے  اپنی زندگی میں کبھی

4.      جھوٹ بولنا

5.      جھوٹے کی معاشرے میں

1)     برائی دوزخ کی طرف۔

2)     مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا

3)     اللہ کی لعنت ہے

4)     کوئی عزت نہیں ہوتی۔

5)     گناہ ہے۔

جوابات: (1- 3)(2- 1)(3-2 )(4- 5) (5-4)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ۔تم ہمیشہ —————-سے بچتے رہو۔

جھوٹا چونکہ ہر ایک سے جھوٹ بولتا ہے اس لیے کوئی بھی اس پر ——————–نہیں کرتا۔

حضرت محمد ﷺ نے  اپنی زندگی میں کبھی ————–میں بھی جھوٹ نہیں بولا۔

۔ اگر ایک دفعہ کسی کا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو لوگ اس کی سچ بات کا بھی ——————–نہیں کرتے۔

جھوٹے کی معاشرے میں کوئی ————-نہیں ہوتی۔

اعتبار

جھوٹ

عزت

مذاق

اعتبار

جوابات: (1- جھوٹ)(2- اعتبار)(3-مذاق )(4- اعتبار) (5-عزت)

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

الف: جھوٹ سے کیا مراد ہے؟

ب: جھوٹ  کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟

ج: جھوٹ کے بارے میں  حضرت محمد ﷺ نے کیا فرمایا؟

د: جھوٹ بولنے کا کیا نقصان ہے؟

11-غیبت ص:29- 30

سوال 1: غیبت سے کیا مراد ہے؟

جواب: غیبت سے مراد ہے کسی کی غیر موجودگی میں اس کی ایسے برائی کرنا جس سے اسے حقیر یا مجرم سجمھا جائے۔

سوال2: غیبت کے بارےمیں  اللہ تعالیٰ نے کیا فر مایا؟

جواب: ۔اللہ تعالیٰ نے غیبت کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے” غیبت کرنابالکل ایسے ہے جیسے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے”

سوال3: غیبت  کے کیا نقصانات ہیں؟

جواب: ۔1-کسی غیبت کرنا گناہ ہے۔

2-اس سے معاشرے میں برائی پھیلتی ہے۔

3- آپس میں نفرت اور دشمنی بڑھتی ہے۔

سوال4: زبان کے علاوہ اور کس طرح غیبت  ہوتی ہے؟

جواب: ۔کسی کی نقل  اتارنا تاکہ اس کی توہین ہو۔ کسی اندھے یا لنگڑے کی نقل کرنا بھی غیبت میں شامل ہے۔

سوال5: ہم غیبت  سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

جواب: ۔ اگر ہم غیبت کے  بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو ذہن میں رکھیں تو ہم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت  کھانا پسند نہیں کرے گا۔ لہٰذا غیبت سے بچا رہے گا۔ اگر کسی میں کوئی برائی نظر آئے تو بجائے غیبت کرنے کے اس کو اس شخص پر ظاہر کردینا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہو اور اپنی برائی دور کرلے۔ اس طرح ہم غیبت سے بچ سکتے ہیں۔

مشق

سوال 1 درست فقرات پر      کا نشان  اور غلط  پر     کا نشان لگائیں۔

جوابات: (1- د)(2-د )(3-غ )(4-د )

(2)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
   
جوابات: (1- )(2- )(3- )(4- )

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

   
جوابات: (1- ناپسند)(2-گناہ )(3-نقل )(4-بھائی )

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

سوال 1: غیبت سے کیا مراد ہے؟

سوال2: غیبت کے بارےمیں  اللہ تعالیٰ نے کیا فر مایا؟

سوال3: غیبت  کے کیا نقصانات ہیں؟

 سوال4: زبان کے علاوہ اور کس طرح غیبت  ہوتی ہے؟

سوال5: ہم غیبت  سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

12- چوری ص: 31-32

سوال 1: چوری کسے کہتے ہیں؟

جواب: وہ چیز جو کسی دوسرے کی ملکیت ہو اسے اس کی اجازت کے بغیر لے لیا جائے یا کسی محفوظ جگہ رکھی ہوئی چیز کو مالک کی اجازت کے بغیر لے لیا جائے چوری کہلاتی ہے۔

سوال2: اللہ تعالیٰ نے چوری  کرنے والے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟

جواب:  قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! “اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو”۔

سوال3: حضرت محمد ﷺ نے چوری  کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

جواب: حضرت محمد ﷺ  نے فرمایا !”چور جب چور ی کرتا ہے تو اس کا ایمان نہیں رہتا”۔

سوال4: چور کا ایمان نہ رہنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب: چور جب چوری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حاضر ناظر ہونے پر یقین نہیں رکھتا اور وہ سمجھتا ہے کہ چوری کرتے وقت جب لوگ اسے نہیں دیکھ رہے تو خدا بھی نہیں دیکھ رہا۔ اسی وجہ سے اس کا ایمان نہیں رہتا۔

سوال5: ہمیں چوری  سے کیوں بچنا چاہیے؟

جواب: شروع شروع میں بچہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی چوری کرتا ہے جیسے پنسل ، کاپی ،کتاب وغیرہ اور بغیر اجازت کے والدین کے پیسے اٹھالیتا ہے ۔ آہستہ آہستہ اس کی چوری کی عادت پختہ ہوجاتی ہے اور آگے چل کر یہی بچہ بڑا  ڈاکو بن جاتا ہےا ور اپنے خاندان اور ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔

مشق

(1)کالم (الف) کے فقرات کو کالم (ب) کے فقرات سے تیر کے نشا ن سے ملائیں:

الف ب
1.      چور مرد اور چور عورت

2.      چور جب چوری کرتا ہے تو

3.      چور جب چوری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے

1)     اس کا ایمان نہیں رہتا

2)     حاضر ناظر ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔

3)     دونوں کے ہاتھ کاٹ دو

جوابات: (1- 3)(2- 1)(3- 2)

(2) دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے          خالی جگہ پر کریں:

کسی محفوظ جگہ رکھی ہوئی چیز کو مالک کی —————–کے بغیر لے لیا جائے چوری کہلاتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! “اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے —————–کاٹ دو”۔

حضرت محمد ﷺ  نے فرمایا !”چور جب چور ی کرتا ہے تو اس کا ————–نہیں رہتا”۔

آہستہ آہستہ اس کی چوری کی عادت —————–ہوجاتی ہے

ایمان

ہاتھ

اجازت

پختہ

جوابات: (1- اجازت)(2-ہاتھ )(3- ایمان)(4-پختہ )

3- سوالو ں کے جواب دیں۔

سوال 1: چوری کسے کہتے ہیں؟

سوال2: اللہ تعالیٰ نے چوری  کرنے والے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟

سوال3:حضرت محمد ﷺ نے چوری  کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

حح ح سوال4: چور کا ایمان نہ رہنے کا کیا مطلب ہے؟

سوال5: ہمیں چوری  سے کیوں بچنا چاہیے؟

—————————تمت بالخیر————————–

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInPrint this pageEmail this to someone
Loading Facebook Comments ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *