8th نوٹس :-مشقی سوالات کلاس ہشتم ہوم اکنامکس :پی –ٹی-بی لاہورپاکستان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم     

نوٹس :-مشقی سوالات کلاس ہشتم ہوم اکنامکس :پی –ٹی-بی لاہورپاکستان

باب -1 :کھانا پکانا قورمہ:ص01-03

سوال1:قورمہ کی غذائی اہمیت بیان کریں –

جواب:غذائی اہمیت :قورمہ ہر ایک کا من پسند سالن ہے –اسے روٹٰی کے علاوہ چاولوں کے ساتھ بھی کھایا جاتاہے –قورمہ غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے کیونکہ اس میں گوشت ،گھی اور مصالحہ جات کا استعما ل ہوتا  ہے جو ہمیں درج ذیل غذائی اجزا فراہم کرتے ہیں –

1-گوشت  میں وافر مقدار میں پروٹین موجود ہوتی ہے جو ہما رے جسم کی نشوونما میں اہم کردار اداکرتی ہے اس کے علاوہ گوشت میں موجود چکنائی  ہما رے جسم میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور جسم کو حرارت و توانائی فراہم کرتی ہے –

2-گھی جسم کو چکنائی فراہم کرتاہے-

3-مصالحہ جات غذا کا ذائقہ بڑھاتے ہیں  اور اس کے جلد ہضم ہونے مین مدد دیتے ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال صحت کیلئے مضر ہے –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)گوشت میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی-()

(2)گوشت میں چکنائی موجود ہوتی ہے –(/)

(3) قورمہ ہر ایک کا مر غوب ودل پسند نہیں –()

(4)مصالحۃ جات غذاکا ذائقہ بڑھاتے ہیں –(/)

(5) چکنائی ہمارے جسم میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے –(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)قورمہ ہر ایک کا مر غوب ودل پسند سالن ہے –

(2)قورمہ میں  گوشت ،گھی ،اور مصالحہ جات کا استعمال ہوتا ہے –

(3)پروٹین ہمارے جسم کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے –

(4)مصالحہ جات کا زیادہ استعمال صحت کے لیے مضر ہے –

(5) گوشت میں  موجود چکنائی ہمارے جسم میں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے –

 باب  پلاؤ:ص:04-07

سوال1:پلاؤ میں موجود غذائی اجزاء کی اہمیت بیان کریں  –

جواب:غذائی اہمیت :

(1)چاول نرم اور زود ہضم غذاہے –

(2) ان میں نشاستہ وافر مقدار میں ہوتا ہے –

(3) ان میں حیاتین ب،کیلشیم اور فاسفورس کی بھی کچھ مقدار ہوتی ہے-

(4)پلاؤ مقبول اور لذیذ کھانا ہے-

(5) غذائیت کے لحاظ سے اعلیٰ اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ سبزیاں اور گوشت شامل کرنے سے اس کی غذائی اہمیت   بڑھ جاتی ہے جو جسمانی نشوونما کیلئے بے حد ضروری ہیں –

(6) پلاؤ میں مصالحہ جات اسے زود ہضم بناتے ہیں مگر ان کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)پلاؤ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول و مر غوب ہے -(/)

(2) چاول زود ہضم نہیں ہوتے –()

(3) گوشت میں پروٹین موجود ہوتی ہے  –(/)

(4)کاربو ہائیڈریٹ حرارت و قوت فراہم کرتے ہیں –(/)

(5) گھی میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی –()

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1) پلاؤ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول اور مر غوب ہے  –

(2)چاولوں میں کار بو ہائیڈریٹ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں  –

(3)گوشت جسم کو حرارت وتوانائی فراہم کرتاہے –

(4) پلاؤ میں سبزیوں کی موجودگی سے اس کے ذائقہ اور دلکشی میں اضافہ ہوتا ہے  –

(5) پلاؤ کے لیے پرانے باسمتی چاول بہترین ہیں  –

باب -3:شامی کباب:ص:08-11

سوال1:شامی کباب کی غذائی اہمیت پر نوٹ لکھیں  –

جواب: غذائی اہمیت :شامی کباب میں شامل تمام اجزاء مثلا گوشت ،انڈے ،گھی ،دال ،قیمہ اور گرم مصالحہ جات ہمارے جسم کی قوت بحال کرنے کے لیے بے حد اہم ہیں –مثلا گوشت اور انڈے میں وٹامن بی اور آئرن کی خا صی مقد ار  ہوتی ہے –اس کے علاوہ پروٹین بھی پائی جاتی ہے جو ہمارے جسمانی اعضاء کی تعمیر میں معاون ثابت ہوتی ہے –گھی میں تلنے کے سبب اس میں کچھ چکنائی  بھی شامل ہوجاتی ہے گرم مصالحوں کے استعما ل سے شامی کباب بے حد ذائقہ دار اور خوشبو دار ہو جاتے ہیں –یوں شامی کباب ہر شخص کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)شامی کباب میں مکمل پروٹین موجود ہوتی ہے -(/)

(2)شامی کباب قیمہ اور مسور کی دال سے بنائے جاتے ہیں –()

(3) شامی کباب فرائی پین میں تلے جاتے ہیں –(/)

(4)مصالحہ جات بھوک کی اشتہا بڑھاتے ہیں –(/)

(5) قیمہ کو زیادہ دھونا چاہیے -()

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)شامی کباب میں چنے کی دال استعمال ہوتی ہے  –

(2)گھی میں چکنائی کے علاوہ وٹامن اے اور ڈی بھی موجود ہوتے ہیں  –

(3)شامی کباب تلنے کے لیے درمیانہ مقدار میں گھی استعمال کرنا چاہیے –

(4)کباب  پیش کرنے کے لیے ڈش میں ٹشو پیپر بچھا لینے سے کباب  نیچے سے خراب نہیں ہوتے  –

(5) شامی کباب ٹماٹر یا پودینے کی چٹنی کے ہمراہ پیش کریں –

باب -04 سوجی کا حلوہ :ص12-14

سوال 1-سوجی کے حلوے کی غذائی اہمیت بیان کریں ؟

جواب:غذائی اہمیت:سوجی کا حلوہ چھوٹے بڑے سبھی کی پسندیدہ اور مر غوب غذا ہے یہ نہ صرف لذیذ اور خوذ ذائقہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہمارے جسم کی توانائی کی تعمیر کرتا ہے سوجی میں کاربویائیڈریٹ پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم کو حرارت و توانائی مہیا کرتے ہیں –گھی میں موجود وٹامن اے اور ڈی ہماری صحت کے علاوہ ہڈیوں جلد اور بینائی کے لیےبے حد اہم ہیں چینی اور میوہ جات نہ صرف لذت بخشتے ہیں بلکہ جسم میں قوت پیداکرتے ہیں –

سوال 2-مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں-

1-سوجی کا حلوہ ہمارے یہاں کے لوگوں کی مرغوب اور پسندیدہ غذا ہے –

2-سوجی کے حلوے میں چینی گھی اور میوہ جات استعمال ہوتے ہیں –

3-سوجی میں کاربو ہا ئیڈریٹ پائے جاتے ہیں –

4-غذا سے حاصل شدہ حرارے انسانی جسم کی اولین ضرورت ہیں –

5-چینی کی موجودگی سے لذت پیدا ہوتی ہے –

سوال 3-درج ذیل بیانا ت میں اے درست بیان پر (/)کا نشان لگائیں –

1-سوجی کا حلوہ ہمارے یہاں کےلوگوںکی پسندیدہ غذا ہے –(/)

2-سوجی کا حلوہ توانائی اے بھر پور  سےہوتا ہے –(/)

3-سوجی کے حلوے میں چینی استعما ل نہیں ہوتی –()

4-وٹامن اے اور ڈی ہماری صحت کے لیے ضروری ہیں-(/)

5-گھی میں حرارے موجود نہیں ہوتے –()

پھلوں کا جام :ص:15-17

سوال1:پھلوں کے جام کی غذائی اہمیت بیان کریں –

جواب:غذائی اہمیت :پھلوں کا جام نہایت غذائیت بخش ہوتا ہے –اس میں  وٹامن ،معدنی نمکیات اور کاربو ہایڈریٹ وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جس سے جسم کو قوت و توانائی حاصل ہوتی ہے –نیز یہ تمام اجزاء جسمانی نظام کی درستی اور تندرستی کے ضامن ہوتے ہیں –

سوال 2:جام کیلئے استعما ل ہونے والے چند پھلوں کے نا م لکھیں –

جواب:جام تیا ر کرنے کے لیے موزوں پھلوں کے نام یہ ہیں –

ناشپاتی ،آلوچہ ،آم ،خوبانی ،آڑو ،سیب ،آلو بخارا،انگور،امرود ،انجیر اور گاجر وغیرہ-

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)پھلوں میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی -()

(2)جام مختلف پھلوں کا بنایا جا سکتاہے –(/)

(3) جام بنانے کیلئے سب سے موزوں پکے ہوئے پھل ہیں  –()

(4)رس دار پھلوں میں پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی –(/)

(5)  جام کو بوتل میں احتیاط سے ڈالیں تاکہ بوتل میں ہوا کا کوئی بلبلہ نہ رہ جائے (/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)پھلوں کا جام نہایت لذیذ اور غذائیت  بخش ہوتا ہے  –

(2)جام بنانے کیلئے پھل موسمی ،تازہ اور بے داغ ہونا چاہہیے  –

(3)جام میں پھل کے مطابق تر شی اور چینی استعما ل کرنی چاہیے  –

(4)جام بنانے سے پہلے بوتل کو جراثیم سے پاک کر لیں –

(5) جام کو خشک اور ہوادار جگہ پر محفوظ  کر لیں  –

سبزیوں کا اچار :ص:19-21

سوال 1-سبزیوں کے اچار کی غذائی اہمیت بیان کریں –

جواب:غذائی اہمیت :ہمارے ملک میں اچار بڑے شوق سے کھا یا جاتا ہے یہ کھانوں کی لذت کو دوبا لا کرتاہے سبزیوں میں معدنی نمکیات اور وٹامن وافر مقدار میں پائےجاتے ہیں ان میں توانائی فرہم کرنے کی اہلیت کم ہوتی ہےلیکن اچار میں تیل کی وجہ سے تھوڑی بہت غذائیت پیدا ہوجاتی ہے –یہ جسم میں ہضم نہ ہونے والا کھردرامادہ  وٹامن اور معدنی نمکیات  فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ انہیں محافظ غذائیں ()کہا جاتا ہے-

سوال 2-سبزیوں کا اچار بناتے وقت کن ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے ؟

جواب:سبزیوں کا اچار تیار کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا  چاہیے –

1-سبزیا ں تازہ او رنرم ہوں –

2-انکی رنگت صحیح ہو اور مناسب شکل میں کا ٹی گئی ہوں –

3-ان میں مصالحے کا تناسب درست ہو-

4-تیل میں اچھی طرح ڈبوئی گئی ہوں –

سوال3-بطور اچار استعمال کی جانے والی چند سبزیوں کے نام تحریر کریں –

جواب:مندرجہ ذیل سبزیاں بطور اچار استعما ل کی جاتی ہیں –

آلو ،مٹر ،گاجر ،کریلہ ،شلجم ،پھول گوبھی وغیرہ-

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)اچار کھانے کے لطف کو دوبالا کرتاہے -(/)

(2)سبزیاں مناسب ٹکڑوں میں نہیں کاٹنی چاہییں –(2)

(3) اچار والا برتن ململ کے کپڑے سے ڈھانپ کررکھنا چاہیے –(/)

(4)اچار میں سرکہ تیل اور مصالحہ جات استعمال ہوتے ہیں –(/)

(5)سبزیاں ہماری خوراک کا اہم جز نہیں ہیں  –()

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)سبزیاں ہماری غذا کا اہم جزہیں –

(2)اچار بنا نے کیلے لیموں قدرے پکے ہوئے ہونے چاہیے  –

(3)سبزیوں کو اچار کی صورت میں محفوظ کر لینے سے پیسے کی بچت ہوتی ہے  –

(4)اچار ڈالے کیلئے ہمیشہ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنے چاہیئں  –

5-اچار نکالنےکے لیے ہمیشہ لکڑی کی ڈوئی استعمال کرنی چاہیے –

باب -07:کریلے اور شلجم خشک کرنا :ص22-24

سوال1:سبزیوں کو خشک کر کے محفوظ کرنے کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب:سبزیوں   اور پھلوں کو خشک کرنے کا رواج بہت زیادہ افادیت کا حامل ہے –پاکستان میں وسیع پیمانے پر سبزیا ں اور پھل کاشت کیے جاتے ہیں جو اپنے موسم میں وافر مقدار میں تازہ اور سستے داموں  میں دستیاب ہوتی ہیں –ان کو خشک کر کے  محفوظ کرنے سے کافی فائدہ اٹھایا جا سکتاہے اس سے پیسے کی بچت بھی ہوتی ہے نیز ان کو بے موسم پکا کر کھانوں میں تنوع  بھی پیدا کیا جا سکتا ہے –

سوال 2-کریلے اورشلجم کی غذائی اہمیت  بیان کریں –

 جواب :کریلے میں آئرن ،کیلشم فاسفورس ،پروٹین وٹامن بی اور سی پائے جاتے ہیں اس کو منفرد طور پر بھی اور قیمہ  وغیرہ کے ہمراہ بھی پکایا جاتا ہے –شلجم میں فاسفورس ،پروٹین ،کاربو ہائیڈریٹس ،کیلشیم ،آئرن اور وٹامن سی پائے جاتے ہیں –یہ اجزاء ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہیں – 

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)سبزیا ں خشک کر کے محفوظ کی جاتی ہیں  -(/)

(2)کوئی پھل یا سبزی جتنی جلد خشک ہو وہ اتنا ہی اچھا ہے –(/)

(3) خشک کی ہوئی سبزی کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا  –()

(4) شلجم کو قتلوں کی صورت میں کا ٹ کر خشک کیا جاتا ہے –(/)

(5) نمی کی صورت میں پھپھوندی پیدانہیں ہوتی–()

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)سبزیوں کو خشک کرنے کا رواج زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے  –

(2) شلجم چھیل کر باریک قتلوں میں کا ٹ لیں  –

(3)کریلوں کو نمک لگاکر دس منٹ کے لیے دھوپ میں رکھ دیں  –

(4)ابلتے پانی سے نکا ل کر سبزیوں کو پو ٹا شیم میٹا بائی سلفائیٹ کے محلول میں تیس منٹ تک بھگوئیں –

(5) خشک ہونے پر کریلے اور شلجم علیحدہ علیحدہ محفوظ کر لیں  –

آم کی چٹنی:ص:25-27

سوال1:آم کی چٹنی کی غذائی اہمیت بیان کریں  –

جواب:پھلوں اور سبزیوں سے تیا ر کردہ چٹنی غذائیت سے بھر پور ہوتی ہے اس میں معدنی نمکیات کاربوہا ئیڈریٹ اور وٹامن وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسمانی نشونما کےلیے نہایت ضروری ہیں –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)پھلوں کی چٹنی اشتہا انگیز اور غذائیت بخش ہوتی ہے -(/)

(2)چٹنی کے لیے درمیانہ پکے ہوئے اور اچھی قسم کے پھل استعمال کرنے چاہییں –(/)

(3) چٹنی بناتے وقت آنچ دھیمی ہونی چاہیے  –(/)

(4)گرم مصالحہ جات ململ کے کپڑے میں نہیں ڈالنے چاہیئں –()

(5)چٹنی کو خشک جگہ پر محفوظ کرنا چاہیے –(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)پھلوں کی چٹنی اشتہا انگیز اور   لذیذ ہوتی ہے –

(2)چٹنی کے لیے پھل اور سبزیاں درمیانہ پکے ہوئے اور اچھی قسم کےہونے چاہیئں  –

(3)آم پھلوں  کا بادشاہ کہلاتا ہے  –

(4)چٹنی بناتے وقت آگ مناسب ہونی چاہیے  –

(5)چٹنی پکانے کے لیے دھات کے برتن استعمال نہیں کرنے چاہیئں –

حصہ دوم  باب 1:حفظان صحت کے اصول :ص28-31

سوال1: –صحت سے کیا مراد ہے ؟

جواب:صحت سے مراد ذہنی اور جسمانی تندرستی ہے –اگر جسم کے تمام اعضاءدرست طور پر کام کر رہے  ہوں ،غیر ضروری تھکان نہ ہو ،انسان ہشاش بشاش ہو حوصلہ ،ہمت ،اور ذہنی بیداری موجود ہو تو ایسے انسان کو صحت مند قرار دیا جاتاہے –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)لباس  معاشرے  میں ہماری شخصیت کو اجاگر کرتاہے -(/)

(2) دانت انسان کے چہرے پر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں  –(/)

(3) آنکھیں انسان کی شخصٰت کی آئینہ دار نہیں ہوتیں –()

(4)صحت و تندرستی کیلئے مناسب گھنٹوں کی نیند ضروری ہے –(/)

(5) ہمیں ہمیشہ صاف ستھرا لباس پہننا چاہیے  –(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1) اچھی صحت زندگی کی متاع عزیزہے –

(2)زندگی کا صحیح لطف اٹھانے اور اس سے مستفید ہونے کے لیے انسانکی صحت کا  بر قرار رہنا ضروری ہے  –

(3)جسمانی صفائی میں آنکھ ،ناک ،منہ، کان اور بالوں وغیرہ کی صفائی شامل ہے  –

(4)ناخنوں کو ہر روز صا ف کرنا ضروری ہے  –

(5) آنکھوں کے لیے مناسب نیند بہت ضروری ہے –

رفو ،کاج اور بٹن:ص:32-41

سوال 1-رفو اور پیوند سے کیا مراد ہے ؟

جواب:کپڑے کیڑا لگنے کمزور سے خانہ ٹوٹنے زیادہ استعمال یا پھٹ جانے کی وجہ ناقابل استعمال ہو جاتے ہیں چنانچہ انہیں قابل استعمال بنانے کے لیے رفو یاپیوند لگایا جاتا ہے-کم پھٹے ہوئے کپڑے رفو کر کے اور زیادہ پھٹے ہوئے کپڑے پیوند کے بعد قابل استعمال ہو جاتے ہیں-

سوال 2-کاج کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب:کاج کی مندرجہ ذیل دو قسمیں ہیں :

(1)عمودی کاج(2)افقی کاج

1-عمودی کاج:عمودی رخ کے کاج میں دونوں طرف دھاگے کا بار بنتاہے –

2-افقی کاج:افقی رخ کے کاج کے ایک سرے پر دھاگے کا بار اور دوسری طرف کے سرے کو پنکھے کی شکل میں بنایا جاتا ہے-

سوال 3-بنیادی بٹن میں کون کون سے بٹن شامل ہیں ؟نام لکھیں-

جواب:اس میں مندرجہ ذیل تین قسم کے بٹن ہوتے ہیں :1-ٹچ بٹن 2-سیپ بٹن 3-لنک بٹن-

سوال 4-مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں-

(1)کم پھٹے ہوئے کپڑوں کو رفو کیا جاتاہے –

2-زیادہ پھٹے ہوئے حصوں کو پیوند لگایا جاتاہے-

3-رفو کےلیے دھاگہ ہمیشہ اکہرا استعمال کرنا چاہیے –

4-عمودی رخ کےکاج میں دونوں سروں پر دھاگے کا بار بنتاہے-

5-ٹچ بٹن دو حصوں پر مشمتل ہوتا ہے-

سوال 5-درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/)کا نشان لگائیں-

1-رفو کرنے سے قیمتی سے قیمتی لباس کو قابل استعمال بنایا جا سکتاہے –(/)

2-کاج اکہری پٹی پر بنائے جاتے ہیں-()

3-ٹچ بٹن کا گول ابھراہوا حصہ اوپر کی پٹی پر لگایا جاتاہے –(/)

4-بٹن کو اچھی طرح پکا کر کے دھاگا توڑدیں-(/)

5-سجاوٹی بٹن سادہ ہوتے ہیں-()

چنٹ پلیٹ اور چپٹی سلائی:ص:42-46

سوال 1-چنٹ لباس کو خو بصورت بنانے میں کیونکر اہم ہے؟

جواب:کپڑے کی لمبائی یا چوڑائی کو بڑھایا یا کم کیا جاسکتاہے-

2-اس سے لباس میں آسائش اور آرائش پیداہوتی ہے-

3-چنٹ ہاتھ سے بھی ڈالی جاتی ہے اور مشین سے بھی-

سوال 2-پلیٹ کتنے طریقوں سے ڈالے جاسکتے ہیں ؟

جواب:پلیٹ مختلف طریقوں سے ڈالے جاسکتے ہیں اور ان کی تین اقسام ہیں-

1-باکس پلیٹ 2-سائیڈ پلیٹ 3-الٹے رخ کے پلیٹ-

سوال3-چپٹی سلائی سے کیا مراد ہے ؟

جواب:چپٹی سلائی سے مراد ایسی سلائی ہے جودونوں طرف سے ایک سی ہوتی ہے یعنی اس کا الٹا سیدھا نہیں ہوتا یہ مضبوط سلائی ہوتی ہے-

سوال4-مناسب لفظ لگاکر خالی جگہوں کو پر کریں-

1-چنٹ کا بنیادی مقصد لباس میں آسائش پیدا کرنا ہے –

2-چنٹ ہاتھ سے بھی ڈالی جاتی ہے اور مشین سے بھی-

3-لباس کو خوبصورت بنانے میں پلیٹ نہایت اہمیت کے حامل ہیں-

باب:04 جسم کا ناپ لینا:ص47-50

سوال1:ناپ دیتے وقت کن کن باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے ؟

جواب:ناپ دیتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے –

1-لباس موٹا اور زیادہ ڈھیلا ڈھالا نہ ہو-

2-دوپٹہ اتارلیں ،بالوںکو باندھ لیں اور جسم کو آرام دہ حالت میں رکھیں –

3-کاپی پنسل پاس رکھیں اور نا پ ساتھ ساتھ لکھتی رہیں –

پیمائش قدرے ڈھیلی کریں –

5-تمام ناپ داہنے حصے کے ہوں –

6-صحیح فٹنگ کےلیے جسم کے مختلف حصوں کا ناپ دیں  –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)اپنا ناپ خود لیا جا سکتا ہے -()

(2)ناپ دیتے وقت ڈھیلا ڈھالا اور موٹا لباس نہیں پہننا چاہیے  –(/)

(3) تمام ناپ جسم کے داہنے حصے کے ہونے چاہیئں –(/)

(4)صحیح ناپ نہ لینے سے فٹنگ متاثر نہیں ہوتی –()

(5) چھاتی کا ناپ چھاتی کے ابھار پر سے لیا جاتا ہے -(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)عمدہ لباس کی سلائی کا انحصار لباس کی کٹائی پر ہوتا ہے –

(2)ناپ دیتے وقت سر کے بالوں کو اوپر کی طرف  باندھ دیں  –

(3)تمام پیمائش قدرے ڈھیلی کریں  –

(4)فیتے کو کمر کے گرد لائیں  –

(5) کو لہے کا نا پ کمر سے 20 سم نیچے لیا جاتاہے –

کرتا ڈرافٹ ،کٹائی اور سلائی:ص51-58

سوال1-کرتے کا ڈرافٹ بنانے کے لیے کون کون سے ناپ لیے جاتے ہیں ؟

جواب:کرتے کا ڈرافت بنانےکےلیے  مندرجہ ذیل ناپ ضروری ہیں :

1-تیرہ ایک کندھے سے دوسرے کندھے تک-

2-چھاتی ابھارپر –

3-کولہے ابھار پر –

4-کولہےکی گہرائی کندھے سےکولہے تک-

5-کل لمبائی –

6-آستین کی لمبائی –

سوال2-کرتے کا ڈرافٹ کتنے حصوں میں تیار ہوتا ہے ؟

جواب:کرتے کا ڈرافٹ چار حصوں میں تیا ر ہوتا ہے یعنی کرتے کا درمیانی حصہ کلی ،بغلی اور بازو-

سوال 3-کرتےکی کٹائی کیونکر کی جاتی ہے ؟

جواب:کرتے کا خالہ کپڑے پر رکھ کر کاٹتے وقت ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا دچاہیے –

1-اگر کپڑے میں آڑھ ہو تو  اسے کرتے کی کٹائی سے پہلے نکال دینا چاہیے –

2-کاغذ کے خاکے کو کپڑے پپر اس طرح پن کرنا چاہیے کہ کرتے کی لمبائی کپڑے کی لمبائی کے متوازی ہو –یہ حالت لمبائی کے  گرین کے متوازی کہلاتی ہے –

3-اسی طرح آستین کو بھی لمبائی کے گرین کے متوازی رکھ کر پن کرنا چاہیے –

4-خاکہ س طرح رکھ کر دیکھنا چاہیے کہ کرتے کی تیاری میں کم سے کم کپڑا استعمال ہو-

5-کرتے کے گلے اور آستین وغیرہ کے لیے مغذی کپڑے کو 45 ڈگری کے زاویے پر رکھ کر کاٹنے سے حاصل ہو گی-

سوال 4-کرتے کی سلائی کرنے کا طریقہ لکھیں –

جواب:1-کندھے کی سلائی سب سے پہلے جوڑیں –

2-اگلی جانب کے دونوں مونڈھوں کے نیچے کی ڈاٹ سینا-

3-ترچھی پٹی کاٹ کر جوڑٰیں اور اس کو سیدھی طرف رکھ کر گلے کے گرد جوڑیں –

4-پٹی کی الٹی تر پائی کریں –

5-اگلی اور پچھلی کمر کی ڈارٹ ڈالیے –

6-پھر دونوں رخ موڑلیجئے –

7-بائیں طرف کا رخ مونڈھے سے ذرا نیچے اور کمر سے ذرا اوپر تک کھلارہنے دیں –

8-بٹن یا زپ لگانا-

9-موندھے پر چڑھا کر سینے سے پہلے آستین تیار کرنے سے فائدہ رہتاہے –

10-چاک دامن اور آستین  کی تر پائی کیجئے–

11-بٹن  لگا کراستری کیجئے –

سوال5-درست لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

جواب:1-کرتا ایک ڈھیلا ڈھالالباس ہے-

2-کرتے میں تمام سلائیاں سیدھی ہوتی ہیں –

3-کرتے کا ڈارفٹ عمومانہیں بنایا جاتا-

4-کرتے کا ڈرافٹ چار حصوں میں تیار کیا جاتا ہے-

5-کرتے کے اگلے اور پچھلے حصے کا ڈرافٹ ایک جیسا ہوتا ہے –

6-سلائی سیکھنے کے لیے سوتی کپڑا سب سے بہتر رہناہے-

شلوار ،ڈرافٹ کٹائی اور سلائی:ص:59-64

سوال 1-سادہ شلوار کا خاکہ کتنے حصوں میں تیار ہوتاہے ؟

جواب:سادہ شلوار کا خاکہ دو حصوں میں تیار ہوتا ہے یعنی پائنچے اور کندے-

سوال2-کندے کی چوڑائی کیونکر رکھی جاتی ہے ؟

جواب:کندے کی چوڑائی رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل فارمولا استعمال کیا جاتا ہے –

اوپر سے کندے کی چوڑائی -1/2 تیار لمبائی –مثلا اگر شلوار کی کل لمبائی 100 سم ہو تو کندےکی چوڑائی 100-2-50سم

نیچے سے کندےکی چوڑائی 7سے 5سم رکھی جاتی ہے –

سوال 3-شلوار کے لیےکون کون سے ناپ لیے جاتے ہیں ؟

شلوارکی تیاری کےلیے پائنچے اور کندے کا ناپ یوں لیا جاتا ہے :پائنچے کی لمبائی –شلوار کی کل لمبائی -5 سم نیفے کیلیے –

پائنچے کی چوڑائی –پائنچے کی  درکار چوڑائی -5-سم جو کندےکی چوڑائی ہے

کندے کی لمبائی –پائنچہ کی لمبائی –میانی -5-سم کندے کا وہ حصہ جو پائنچے میں آتاہے –

 کندے کی چوڑائی –پائنچے کی کل چوڑائی سے 7،5 سم بڑی-

سوال 4-درج زیل بیانات میں سے درست بیان پر (/)کا نشان لگائیں –

جواب:1-سادہ شلوار کا ڈرافٹ دو حصوں میں تیار ہوتا ہے –(/)

2-شلوار کی کل لمبائی میں کندے کی لمبائی جمع کی جاتی ہے ()

3-نیچے سے کندےکی چوڑائی 5سے 7سم رکھی جاتی ہے –(/)

4-سادہ شلوار کی سلائی بہت مشکل ہے –()

5-پائنچے بنانےسے پہلے پہلوؤں کی سلائی کرنی چاہیے –()

سوال 5-مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

جواب-1-شلوار دو طریقوں سے بنائی جاتی ہے –

2-سادہ شلوار میں پائنچہ اور کندے کل لمبائی کے  برابر ہوتے ہیں –

3-سادہ شلوار کا ڈرافٹ دو حصوں میں تیار ہوتا ہے –

4-سادہ شلوار کی سلائی بہت آسان ہے –

5-پائنچے بنانے کے لیے حسب مرضی بخیے لگالیں –

باب -1:خاندان میں رہنا سہنا:کپڑوں کے داغ دھبے دور کرنا:ص:65-71

سوال 1:کپڑوں   کے داغ دھبے دور کرتے وقت کن کن اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے؟

جواب:کپڑوں کے داغ دھبوں کو دور کرنے کیلئے مندرجہ ذیل اصول ہیں –

1-جس قسم کا دھبہ ہو اسی قسم کا صحیح رنگ  کاٹ استعمال کیا جائے –

2-دھبےکو انگلی سے نہیں دبانا چاہیئے   ورنہ کپڑے کی بناوٹ خراب ہو جائے  گی-

3-اگر کسی کپڑے پر  کوئی رقیق شے گر جائے تو اس کے جذب ہونے سے پہلے روشنائی چوس یا چاک سے دور کیا جا سکتاہے –

4-دھبے دور کرنے کے لیے جو چیز استعمال کی جائے اسے پہلے اسی قسم کے کپڑے پر آزما لینا چاہیے –

5-بعض کپڑوں (ٹینفٹا  وغیرہ )کے دھبے دور کرتے وقت پانی کا استعما ل نہیں کرنا چاہیے –

6-کپڑوں  پر سے رگڑکر دھبے  دور کرنے کے لیے  دانتوں کا برش استعمال کیا جاتا ہے –

سوال 2:داغ دھبے دور کرنے کے لیے کون کون سے طریقے استعما ل ہوتے ہیں ؟

جواب:داغ دھبے دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل تین طریقے ہیں –

1-جذب کرنےکا طریقہ: اگر  کوئی رقیق چیز کپڑے پر گر جائے تو اسے جذب ہونے سے پہلے دور کر لینا چاہیے –جذب کرنے کےلیے سیاہی چوس یا چاک استعمال کیا جا سکتاہے –

2-بھاپ دینے کا طریقہ:اگر کپڑے رنگدار ،اونی یا ریشمی ہوں  تو ان کے داغ دھبے اتارنے کے لیے بھاپ دی جاتی ہے –

3-ٹپکانے  کا طریقہ:اس طریقے سے دھبوں پر ڈراپر کے ذریعے سے کیمیائی اسویات ٹپکائی جاتی ہیں –

سوال 3-دھبے صاف کرنے والی کیمیائی ادویات کے نام لکھیں –

جواب:کپڑوں سے داغ دھبے دور کرنے کے لیے جو کیمیائی ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں :

امونیا:اس کو غیر چکنے دھبے پر استعمال  کیا جاتا ہے اس کا صابن جیسا عمل ہوتا ہے –امونیا استعمال کرنے کے بعد فورا دھو دینا چاہیے –

ایمل ایسی ٹیٹ:اس سے ناخن پالش کا دھبہ اور  دوسرے رنگوں کے دھبے دور کیے جا سکتے ہیں –مصنوعی طور پر بنا یا گیا دھاگہ اس میں  گھل جاتاہے –

3-کا ربن ٹیڑا کلورائیڈ:یہ ایک بہت ہی بے ضرر ایجنٹ ہے لیکن وہ تمام دھبے جو چکناہٹ  پر مشمتل ہوں اس ایجنٹ کے استعمال سے دور   ہو جاتے ہیں –

4-ھائیڈ روجن پر آکسائیڈ:اس کو زیادہ دیر تک کپڑے پر نہیں لگانا چاہیے کیونکہ یہ یہ کپڑوں کے رنگ اڑا دیتی ہے اس لیے اسے استعمال کرنے کے فورا بعد دھو دینا چاہیے –

5-کلیسرین:پکی ہوئی سبزیوں اور پھلوں کے دھبوں کو کہیسرین لگانے سے دور کیا جا سکتا ہے اس کو بھی دھونا ن بھولیے –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)دھبے سے قیمتی سے قیمتی لباس بھی بد نما لگنے لگتا ہے -(/)

(2)جذب کرنے کیلے سیاہی چوس استعمال نہیں کرنا چاہیے –()

(3) کا ربن ٹیڑا کلو رائیڈ سے چلنائی کے دھبے دور نہیں ہوتے –()

(4) کلیسرین پھلوں اور سبزیوں کے داغ دھبے اتارنے کے کام آتی ہے –(/)

(5) پانی معتدل قسم کا محلل ہے -(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)بعض اوقات ذراسی بے احتیاطی سے کپڑے پر کوئی نہ کوئی دھبہ لگ جا تا ہے –

(2)حیوانی دھبے صاف کرنےکے لیے گرم پانی استعمال نہیں کرنا  چاہئے  –

(3)نباتاتی دھبوں کی خاصیت تیزابی ہوتی ہے  –

(4)رنگدار اونی اور ریشمی کپڑوں کے داغ دور کرنے کے لیے انہیں بھاپ دی جاتی ہے  –

(5) پانی معتدل قسم کا محلل ہے-

کپڑوں کی دھلائی  :ص:72-75

سوال1:صاف ستھرے کپڑے پہننا کیوں ضروری ہے ؟

جواب:صاف ستھرا لباس پہننے سے انسان کی نفاست اور خوش ذوقی کا اظہار ہوتا ہے اور شخصیت نکھرتی  ہے –

سوال 2- شلوار قمیص کی دھلائی کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟

جواب:1-چھوٹا ٹب یاپرات 2-صابن 3-نیل 4-میدے کا کلف

سوال 3-سویڑ کی دھلائی کا طریقہ کا تحریر کریں –

جواب :سویڑ کی  گرد جھاڑ  کر اور کاغذ پر پھیلا کر پہلے اس کا خاکہ تیار کریں- نیم گرم پانی میں تین چمچ واشنگ پا ؤڈر کا جھاگ تیا ر کر کے اس میں سویڑ ڈال کر نرم ہا تھوں سے مل لیں سویڑ کو   اور خوب  کھنگال کر صابن کا جھاگ اچھی طرح دور کر لیں اب سایہ دار ہموار سطح میں سکھالیں استری کی ضرورت محسوس کریں تو اوپر ململ کا ٹکڑا بچھا کر ہلکی  استری کر لیں بردار  اون کے  سویڑپر ہلکا سا برش پھیرنے سے اون کی پر بردور ہو جاتی ہے –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1) صاف  ستھرا لباس ہماری شخصیت کو نکھارنے میں معاون ثابت نہیں ہوتا-()

(2)گندہ لباس شخصیت کو چار چاند لگا دیتاہے  –()

(3) قمیص کے گلے اور دامن کو اچھی طرح رگڑ کر صاف کریں  –(/)

(4)نیل لگانے سے سفید کپڑے اجلے نظر آتے ہیں –(/)

(5) استری کرنے سے کپڑوں میں آب و تاب نہیں آتی  –()

باب :باورچی خانے کی صفائی:ص:77-79

سوال1:باورچی خانے کی صفائی کیوں ضروری ہے ؟

جواب:باورچی خانے کی صفائی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تر تیب اور انتظام بہتر ہو استعمال کی سب چیزیں قرینے سے رکھی گئی ہوں اور مختلف کاموں کی سر انجام دہی کےلیے الگل الگ جگہ مخصو ص ہو- مندرجہ ذیل  نکات کے مطابق باورچی خانے کو صاف ستھرا رکھا جا سکتاہے –

1-باورچی خانہ کشادہ اور ہوادار ہو-

2-مکھیوں اور چوہوں کا اس میں گز ر نہ ہو –

3-روزانہ صفائی اور ہفتہ وار جھاڑ پونجھ کی جائے –

4-کھانا پکا نے سے پہلے اشیاء کی تیاری کے مر کز میں ساما ن کی تیاری میں استعما ل والی چیزیں مثلا چھری ،چاقو ،کدو کش وغیرہ ایک ساتھ رہنی چاہیں تا کہ تر کاری چھیلنے ،مصالحہ پیسنے اور چاول وغیرہ دھونے میں آسانی ہو-

5-سامان ترتیب سے رکھا ہونا چاہیے اور استعمال کے  بعد بھی سامان کو اسی تر تیب سے رکھنا چاہیے چولہوں کی بلندی مناسب ہونی چاہیے –

6-برتن صاف کرنے والی جگہ میں  استعمال ہونے والی چیزیں  مثلا وم ،سوڈا ،راکھ وغیرہ رکھی گئی ہوں –برتن دھونےکے لیے کا فی جگہ ہو-گند ے پانی کے نکاس کا موثر انتظام ہو کھانا کھانے کے بعد برتن اٹھا کر اس جگہ جمع کرتے رہنا چاہیے –

7-اس بات کا بھی ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ باورچی خانہ میں عام اور زیادہ استعمال کی چیزیں زیادہ قریب یا کم بلندی پر رکھی جا ئیں اور اس سے کم بلندی میں آنے والی چیزوں کو اوپر زیادہ بلندی پر رکھنا چاہیے-

سوال 2-باورچی خانہ صاف ستھر ا رکھنے کے لیے کن باتوں پر عمل کرنا چاہیے ؟

جواب:باورچی  خانے میں رکھا جانے والا کوڑے والا برتن خالی کر کے اور صاف کر کے رکھنا چاہیے تاکہ بد بو پیدا نہ ہو-

2-فرش کی صفائی کام ختم ہونےکے بعد فورا کرنی چاہیے –

3-باورچی خانے میں سامان کی ترتیب مناسب جگہوں   پر ہونی چاہیے –

4-چولہے کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے –

5-ساما ن اور برتنوں کے استعمال کے بعد صاف اور خشک کر کے اپنی   اپنی جگہوں پر رکھنا چاہیے –

6-باورچی خانے کی صفائی یا دھلائی کے بعد اسے کچھ دیر کے لیے کھلا رکھنا چاہیے تاکہ تازہ ہوا اور دھوپ اندر آتی رہے  اور جراثیم پیدانہ ہوں –

7-ہفتہ وار مکمل صفائی باقاعدگی  سے کرنی چاہیے –

سوال 3-سوئی گیس کے چولہے کی صفائی کرنےکا طریقہ تحریر کریں –

جواب:کام سے فراغت کے بعد گیس کے چولہے کو روزانہ صابن یا نرم کپڑے اور نیم گرم پانی سے صاف کرنا چاہیے لیکن چولہے کی صحیح کارکردگی کے لیے ہفتہ یا دس دن میں اس کی مکمل صفائی  ضروری ہے –

چولھے کی صفائی کا طریقہ:

1-گیس سوئچ بند کر دیں چو لہے کے ساتھ ربڑ کا  پائپ لگا ہو تو اسے بھی الگ کردیں –

2-چولیے کا بر نر اور سٹینڈ اتارلیں پھر خشک کپڑے سے چو لہے کی مکمل صفائی کریں  کسی چھوٹے برش سے بر نر کے سوراخوں کو اچھی طرح صاف کریں سوراخوں کا میل کچیل نکا ل کر سٹینڈ کو بھی گرم پانی سے دھو کر دھوپ میں خشک کر لیں –

3-کپڑے کی ایک گدی بنائیں اس پر وم لگا کر چولہے کے تمام داغ دھبے اچھی طرح صاف کریں اب کپڑے کو نیم گرم پانی  سے بھگو کر چولہے کی صفائی کریں اب ایک دفعہ اسے خشک کپڑے سے صاف کر لیں –

4-نیم گرم پانی میں بھگوئے ہوئے کپڑے سے بر نر بھی صاف کریں اور خشک کر کے اسے چولہے پر رکھ دیں سٹینڈ بھی چولہے میں فٹ کر دیں چولہے میں ربڑ کا پائپ فٹ کر کے  گیس کا مین سوئچ کھول دیں –

سوال 2:درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)افراد خانہ کی صحت کا دارومدار باورچی  خانے میں پکنے والے کھانوں اور برتنوں کی صفائی پر ہوتا ہے -(/)

(2)باورچی خانےکو صاف ستھرا رکھنا ضروری نہیں  –()

(3) باورچی خانےکے فرش کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے  –(/)

(4)چولہے کو ہر روز صاف کرنا ضروری نہیں –()

(5) چولہا صاف کرنے سے پہلے گیس کے کنکشن کو بند کر دیں (/)

باب 4-بجٹ بنانا:ص:80-82

سوال1:بجٹ سے کیا  مراد ہے ؟بجٹ بنانے کے لیے کن اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ؟

جواب:آمد نی اور خرچ کا اندازہ لگانا بجٹ کہلاتا ہے –

بجٹ بنانے کے اصول:

1-ضروریات زندگی کو آسائشی  ضروریا ت پر تر جیح ہونی چاہیے تاکہ آمد نی کم لونے کی صورت میں خرچ ضروریات زندگی تک محدود رکھاجاسکے –

2-کسی چیز کی خرید کرتے وقت سستی ہونے کا خیال نہ کریں بلکہ اپنی ضرورت کے پیش نظر خرید کریں –

3-اگر اخراجات کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اسے کسی اور مد میں خرچ کیا جا سکتاہے لیکن ذاتی تفریح یا آسائش پر خرچ کرنے کے بجائے اس رقم کو پورے گھر کی آرائش و زیبائش پر صرف ہونا چاہیے –

4-گھر کے بجٹ کی بنیاد اس سنہری صول پر قائم کریں “جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلائیں –

5-اگر آپ ماہانہ بجٹ بنا رہی ہوں تو گزشتہ ماہ کا اور اگر سالانہ بجٹ بنا رہی ہوں تو گزشتہ سال کا بجٹ سامنے رکھیں –

سوال 2-گھریلو بجٹ بنانے کے طریقے تحریر کریں –

جواب:1-گھر کے تمام افراد کی ضروریات کی فہرست تیار کر کے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے –(الف ) اشد ضروری(ب)ایسی ضروریات جن میں کمی بیشی ممکن ہو-(ج)ایسی ضروریات جو ملتوی کی جاسکتی ہوں-

2-اشیائے صر ف کی قیمتوں کا علم ہونا چاہیے –

3-مختلف بازاروں کے بھاؤ کا علم ہونا چاہیے –

4-روز مرہ  اخراجات کا حساب کتاب رکھا جائے تاکہ مہینے کے اختتام پر زائد اور غیر ضروری اخراجات کا اندازہ ہو سکے –

5-بجٹ میں لچک ہونی چاہیے تاکہ ناگہانی خرچ کی گنجائش نکل سکے –

6-بلا ضرورت چیزیں خریدنے سے پر ہیز کرنا چاہیے –

7-ممکن حد تک اخراجات کو کم کرنا چاہیے –

8-آسائشات پر کم خرچ کرنا چاہیے –

9-تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا علم ہونا چاہیے –

10-ملازم رکھنےکے بجائے گھر کا کام کاج خود کرنا چاہیے تاکہ بچت ہو سکے-

سوال 3-آپ گھر یلو آمدنی میں کیونکر بچت کرسکتی ہیں ؟

جواب:غیر ضروری اخراجات کو ملتوی کر دیا جائے –

2-گھر میں سبزیوں ،مرغیوں اور انڈوں وغیرہ کی سہولت موجود ہو تو بجٹ میں شامل کر کے بچت کی جاسکتی ہے –

3-گھر کا کام خود کر کے ملازم کی تنخواہ بچائی جا سکتی ہے –

4-آسائشات پر کم خرچ کر کے بھی رقم بچائی جا سکتی ہے –

5-بچت صرف بچت کی خاطر نہیں ہونی چاہیے بلکہ مستقبل کے مقاصد کو  پورا کرنے کے لیے ہونی چاہیے –

بچت کے اصول اور طریقے :1-بچت کے لیے ایک خاص  رقم مخصوص کر لینی چاہیے اور اس پر قائم رہنا چاہیے –

2-بچت کی ر قم منافع بخش سکیموں میں لگانی چاہیے –

3-گھر کے تمام افراد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آمدنی میں اضافہ کرنا چاہیے –

4-ہر کام خود کرنا چاہیے تاکہ ملازم کی تنخواہ بچ سکے –

5-آسائشات اور غیر ضروری اخراجات پر کم خرچ کیا جائے –

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)خاندان کی معیشت کے دو پہلو ہوتے ہیں –

(2)ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلے پیسہ درکار ہوتاہے – –

(3)ضروریات زندگی کو آسائشی ضروریات پر تر جیح دینی چاہیے  –

(4)بجٹ بناتے وقت آمدنی و خرچ میں توازن ہو–

(5)بجٹ کی بنیاد اس سنہری اصول پر ہونی چاہیے کہ جتنی چادر ہو اتنے پاؤں پھیلانے چاہیں –

باب کاغذ کے پھول: ص:83-88

سوال1:کاغذ کے پھول بنانا کیوں اہم ہے ؟

جواب:یہ گھر کی آسائش کے لیے ضروری ہیں –

2-یہ بنانا آسان اور سستا ہے –

3-ذوق و شوق کو تقویت ملتی ہے –

4-پھولوں اور پتوں کا مشاہدہ بڑھتا ہے –

5-جمالیاتی ذوق ابھرتا ہے –

سوال 2-پھول بنانے کے لیے کن کن اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ؟

جواب:پھول بنانے کے لیے مندجہ ذیل سامان کی ضرورت ہوتی ہے :

1-کریپ کا غذ  2-تاریں  3-گوند -4-ٹیپ  5-قینچی  6-پلاس  7-پنسل

سوال :درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (/) کا نشان  لگائیں –

(1)پھول بنانے سے ہمارے شوق کو تقویت ملتی ہے -(/)

(2) پھول بنانے کیلے کریپ کاغذ استعمال نہیں ہوتا –()

3-کریپ کا غذ مختلف رنگوں میں دستیاب ہے –(/)

(4)پھول نبانے کے لیے پتلی تار استعمال ہوتی ہے  –()

(5) پلاس تاروں کو کاٹنے کے لیے استعمال ہوتا ہے  –(/)

سوال 3:مناسب لفظ لگا کر خالی جگہوں کو پر کریں –

(1)کریپ پیپر مختلف رنگوں میں دستیاب ہے –

(2)ٹہنیاں بنانے کے لیے سبز ٹیپ استعمال ہوتی ہے  –

(3)سویٹ پیز کا ایک پھول بنانےکے لیے دو پتیاں درکا ر ہوں گی –

(4)سبز کریپ پپتر کی ایک سینٹی میٹر چوڑی پٹی کاٹ لیں  –

(5)گلاب کا ایک پھول بنانےکے لیے سات پتیاں درکا ر ہوں گی –

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.