NOTES & WORKSHEETS (چہارم)اسلامیات4) PTB (URDU MEDIUM)

[bws_pdfprint]پہلا باب : القرآن ص: 2 تا 4

الف: ناظرہ قرآن پاک ص:2

ب: حفظ قرآن پاک ص: 2

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ  مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ  سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ  وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ  فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ   وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا  فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ  إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿١﴾ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٣﴾ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٥﴾ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾

ج: حفظ و ترجمہ ص: 3

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ  اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ  وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ

سُبْحَانَ رَبِّىَ الْعَظِيْمِ

 سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه

رَبَّنَـا لَكَ الْحَمْدُ

سُبْحَانَ رَبِّىَ الأَ عْلَى

دوسرا باب : ایمانیات و عبادات ص:5 تا 22

ایمان کے اجزا ص:5

ارکان اسلام ص:8

نماز ص:10

مسجد کا احترام ص:13

اللہ تعالیٰ کے حقوق ص:16

بندوں کے حقوق ص:19

تیسرا باب :اسوہ حسنہ ص:   23 تا  48

نزول وحی ص:23

اسلام کی دعوت ص:26

ثابت قدمی ص:29

چوتھا باب :اخلاق و آداب ص: 49 تا 64

ہجرت حبشہ ص:32

شعب ابی طالب ص:35

طائف کاسفر ص:39

معراج النبی ﷺ ص:42

ہجرت مدینہ ص:46

ایمان داری ص:49

خدمت خلق ص:51

سادگی ص:54

وقت کی پابندی ص:57

آداب مجلس ص:60

وطن کی محبت ص:63

دوسرا باب : ایمانیات و عبادات ص: 5  تا 22 (صفحات کی تصحیح کریں)

ایمان کے اجزا ص:5

(حصہ انشائیہ)

سوال:1ایمان کسے کہتے ہیں؟
جواب :  کسی بھی اچھی اور معقول بات کو صدق دل سے تسلیم کر لینا اس پر پورا یقین رکھنا اور زبان سے اسے کااقرار کرنا ایمان کہلاتا ہے۔
سوال:2ایمان کے اجزاء کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب : اسلام قبول   کرنے یا مسلمان ہونے کیلیے چند باتوں پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ یہ ضروری  باتیں ایمان کے اجزا کہلاتی ہیں:

1-                 اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا

2-                فرشتوں پر ایمان لانا

3-                 الہامی کتابوں پر ایمان لانا

4-                انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا

5-                آخرت پر ایمان لانا

سوال:3 اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟
جواب :  اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان سچے  دل سے یہ بات مانے کہ اللہ ایک ہےوہ بے نیاز ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ ہر شے کا اصل مالک  اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر شے  اسی نے  پیدا کی ہے۔ اسے کسی نے پیدا  نہیں کیا۔وہ ہمیشہ رہے گا ۔زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ بڑ امہربان اور انتہائی رحم والا ہے۔
سوال:4فرشتوں کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے چار مقرب فرشتوں کے نام لکھیں؟
جواب :فرشتوں  کو  اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا ہے۔ انہیں کھانے پینے اور سونے کی قطعاََ حاجت نہیں ہوتی۔ فرشتے  ہروقت اللہ کی عبادت میں اور اسکے حکم کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں۔

1-                حضرت جبرائیل علیہ السلام

2-                حضرت اسرافیل  علیہ السلام

3-                حضرت میکائیل  علیہ السلام

4-                حضرت عزرائیل  علیہ السلام

سوال: 5چار مشور الہامی کتب اور ان انبیاء کے نام لکھیے جن پر نازل ہوئیں؟
جواب :

1-                تورات – حضرت موسیٰ علیہ السلام

2-                زبور- حضرت داؤد  علیہ السلام

3-                انجیل – حضرت عیسیٰ علیہ السلام

4-                قرآن مجید – حضرت محمد ﷺ

سوال:6 کونسی کتاب ہدایت کا واحد ذریعہ ہے؟
جواب :

قر آن مجید ہدایت کا واحد   ذریعہ ہے جو کہ  اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ یہ ہر لحاظ  سے  مکمل  اور محفوظ ہے۔  اللہ تعالیٰ  نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔

سوال:7 اللہ تعالیٰ نے نبی کیوں بھیجے؟ آخرت میں نجات کیسےمل سکتی ہے؟
جواب : انسان کو سیدھے راستے پر چلانے اور ہدایت کے لیے  اللہ تعالیٰ نے وقتا فوقتا بہت سے انبیاء بھیجے ۔ ہر نبی کے ذمے اپنے زمانے کے لوگوں تک  اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تھا اور اللہ کے حکم  کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ سکھانا تھا۔سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری  نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے آپﷺ کی زندگی ہی بہترین نمونہ ہے۔ صرف آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے ہی آخرت میں نجات مل سکتی ہے۔
سوال:8 آخرت سے کیا مراد ہے؟
جواب : سوائے  اللہ تعالیٰ کی ذات کے باقی ہرچیز جو دنیامیں بلکہ پوری کائنات میں ہے ایک دن فنا ہوجائےگی۔ یہی  قیامت کا دن ہوگا۔ اس دن تمام انسا  ن اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ پھر ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائےگا۔ جن کے نیک اعمال زیادہ ہونگے انہیں جنت ملے گی اور جن کے برے اعمال زیادہ ہو نگے انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اس دن کو  یوم حساب یا آخرت کہتے ہیں۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

1۔  مسلمان ہونے کے لیے صرف اللہ پر ایمان لانا کافی ہے۔

2۔ مشہور الہامی کتابیں چھ ہیں۔

3۔  قرآن مجید کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہے۔

4۔ زندگی اور موت انسان کے ہاتھ میں ہے۔

5۔ مسلمان ہونے کے لیے صرف الہامی کتابوں  پر ایمان لانا کافی ہے۔

6۔فرشتے ہر وقت  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔

7۔ انجیل پر بھی ایمان لانا مسلمانوں پر فرض ہے۔

جوابات: (1-x)(2-x)(3-x)(4-x)(5-x)(6-/)(7-/)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • قیامت کے دن انسانوں سے ان کے ——————————–کا حساب لیاجائے گا۔
  • فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی —————— میں لگے رہتے ہیں۔
  • حضرت——————– اللہ کے آخری نبی ہیں۔
  • زندگی اور موت ———————کے ہاتھ میں ہے۔
  • قرآن مجید کی ———————— کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔
  • کسی بھی اچھی اور معقول بات کو صدق دل سے تسلیم کرلینا اور زبان سے اس کا قرار رکرنا —————— کہلاتا ہے۔
  • جن کے نیک اعمال زیادہ ہونگے انہیں ————————ملے گی۔

جوابات: (1-اعمال)(2-تعمیل)(3-محمدﷺ)(4-اللہ)(5-حفاظت )(6-ایمان)(7-جنت)

ارکان اسلام ص:8

(حصہ انشائیہ)

سوال:1ہمارا دین کیا ہے؟
جواب : ہمارا دین اسلام ہے۔ اسلام ایک سچا دین ہے۔ یہ دنیا وآخرت میں کامیابی کیلیے ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔
سوال:2 ارکان اسلام سے کیا مراد ہے؟
جواب : ارکان رکن کی جمع ہے اور رکن کے منعی ہیں ستون ۔ ایک  مضبوط عمارت مضبوط ستونوں پر ہی کھڑی ہوسکتی ہے۔ اسلام ایک عمارت کی طرح ہے۔ اسلام کی عمارت بھی جن ستونوں پر کھڑی ہے انھیں ارکان اسلام کہتے ہیں۔
سوال:3ارکان اسلام کتنے اور کون کون سے ہیں؟
جواب : ارکان اسلام  پانچ ہیں:

1-                توحید و رسالت کی گواہی دینا

2-                پانچ وقت کی نماز ادا کرنا

3-                رمضان المبارک کے روزے رکھنا

4-                زکوٰۃ ادا کرنا

5-                حج کرنا

سوال:4 توحید کسے کہتے ہیں؟
جواب : سچے دل سے  اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور زبان سے اس کا اقرار کرنا صرف اور صرف اسے ہی عبادت کے لائق سمجھنا اسکے ساتھ کسی کو شریک    نہ ٹھہرانا توحید کہلاتا ہے۔
سوال:5 رسالت سے کیا مراد ہے؟
جواب : رسالت سے مراد یہ ہے کہ  حضرت محمد  ﷺ  اللہ کے بندے اور اس کے آخری نبی ہیں۔
سوال:6 ارکان اسلام کی اہمیت بیان کریں؟
جواب  :اسلام کے پانچوں ارکان بہت اہم ہیں اور یہی اسلام کی بنیاد ہیں۔ ان پر عمل کیے بغیر کوئی انسان مسلمان نہیں ہوسکتا۔لہٰذا مسلان ہونےکی حیثیت سے ہمارا فرض ہےکہ ہم  ارکان اسلام کی دل وجان سے پانبدی کریں تاکہ دنیا اورآخرت میں کامیابی  حاصل  کر سکیں۔  اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔

(حصہ معروضی)

1- خالی جگہ پر کریں۔

  • ————————-ایک سچا دین ہے۔
  • پانچ وقت کی نماز ادا کرنا اسلام کا ایک —————————-ہے۔
  • ارکان———————————-کی جمع ہے۔
  • رمضان کے ——————————– رکھنا اسلام کا ایک رکن ہے۔
  • اللہ تعالیٰ کا ——————————- ہے کہ ہم مسلمان۔
  • —————– سے مراد یہ ہے کہ حضرت حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے آخری نبی ہیں۔
  • اسلام کے پانچوں ارکان بہت ————————-ہیں۔

جوابات: (1- اسلام)(2-ستون)(3-رکن)(4-روزے)(5-شکر)(6-رسالت)(7-اہم)

2- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1.      رسالت سے مراد یہ ہے کہ  حضرت محمد  ﷺ

2.      سچے دل سے  اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور زبان سے اس کا اقرار کرنا صرف اور

3.      اسلام کے پانچوں ارکان

4.      ارکان رکن کی جمع ہے اور

5.      اسلام ایک سچا

        I.            صرف اسے ہی عبادت کے لائق سمجھنا اسکے ساتھ کسی کو شریک    نہ ٹھہرانا توحید کہلاتا ہے۔

II.            دین ہے۔

III.            رکن کے معنی ہیں ستون ۔

IV.            اللہ کے بندے اور اس کے آخری نبی ہیں۔

V.            بہت اہم ہیں

جوابات: (1-iv)(2-i)(3-v)(4-iii)(5-ii)

نماز ص:10

(حصہ انشائیہ)

سوال:1انسانوں اور جنوں کو کیوں پیدا کیا گیا ہے
جواب :  اللہ تعالیٰ نے جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
سوال:2 عبادت کی مختلف صورتیں بیان کریں- سب سے اہم عبادت  کون سی ہے؟
جواب : نماز روزہ زکوٰۃ اور حج سبھی  اللہ تعالیٰ کی عبادت  کی مختلف صورتیں ہیں مگر ان میں نماز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا فرض ہے۔
سوال:3 صلوٰۃ کے معنی کیا ہیں؟    قرآن مجید میں اس سے کیا مراد ہے؟
جواب : صلوٰۃ کے معنی ہیں رحمت یا دعا۔ قرآن مجید  میں اسے مراد نماز ہے۔
سوال:4قیامت کے روز سب سے پہلے کس چیز کا حساب لیا جائے گا؟
جواب : قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
سوال:5نماز ادا کرنے کے لیے کیا کرنا ضروی ہے؟
جواب : نماز ادا کرنے کے لیے بدن کو پاک کرنا ، وضو کرنا اور پاک کپڑے پہننا ضروی ہے۔
سوال:6 نماز کی اہمیت کیا ہے؟
جواب : نماز پڑھنے والے سے  اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ہرمسلمان  پردن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنا فرض ھے-قیامت کے روز سب  سے پہلے نماز کا  حساب لیا جاۓ گا-چنانچہ اس کے ذریعےآخرت میں کامیابی حاصل ھوگی-آپﷺ نے فرمایا: نماز دین کا ستون ہے-
سوال:7عاجزی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟
جواب : اللہ تعالیٰ کو عاجزی بہت پسند ہے-اورنماز  اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی کی صورت ہے-نماز میں  اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب سےکھڑے ہو کر اور نماز دل لگا کر اچھے  طریقے سے ادا کرنے  سے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے-جب ہم رکوع  میں  جھکتے  ہیں تو اس کے  سامنے عاجزی کرتے ہیں-سجدے کی حالت میں انسان  اللہ تعالیٰ سے بہت قریب ہو جاتا ہے-عاجزی اختیار کرنے سے  اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خوش ہوتا ہے اور ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے-نماز میں عاجزی  ہمیں غرور اور تکبر سے روکتی ہے،اچھا انسان بناتی ہے-جو لوگ پھر بھی برا ئیوں سے باز نہیں آتے وہ گویا نماز کا حق ادا نہیں کرتے-
سوال:8 نماز کے چند فوائد بیان کریں؟
جواب :نماز پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

1-                نماز بڑی برکت اور فائدے والی چیز ہے-

2-                نماز پڑھنے سے انسان پاک اور صاف رہتا ہے-

3-                نماز سےوقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے-

4-                نماز برائ اور بے حیائی سے روکتی ہے-

5-                نماز سے دل کو سکون ملتا ہے-

6-                نماز میں صف بندی اور امام کی پیروی کرنے کسے نظم و ضبط کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

7-                نماز سے جماعت سے ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے۔

8-                نمازسے اتفاق و اتحاد ہوتاہے ۔ باجماعت نماز مساوات اور اتحاد  کی علامت ہوتی ہے۔

9-                نماز پڑھنے والوں میں ہمدردی اور محبت پیدا ہوتی ہے۔

10-            نماز سے  اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

(حصہ معروضی)

1–  درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔

  • نماز کے ذریعے ہی آخرت میں کیا چیز حاصل ہوگی؟

(ا-قربانی)(ب- فتح)(ج- نجات)(د- کامیابی)

  • جب ہم رکوع میں جھکتے ہیں تو اللہ کے سامنے کیا ظاہر کرتے ہیں۔

(ا-ادب)(ب- احترام)(ج- عاجزی)(د- پاک)

  • جہاں نماز پڑھی جائے وہ جگہ کیسی ہونی چاہیے؟

(ا-مناسب)(ب- باپردہ)(ج- اپنی)(د- پاک)

جوابات: (1-د)(2-ج)(3-د)

2– درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • نماز سے وقت کی پابندی کا کوئی تعلق نہیں۔
  • نماز سے دل کو سکون ملتاہے۔
  • نماز جماعت سے ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی نہیں ہوتی۔
  • جو لوگ برائیوں سے باز نہیں آتے وہ گویا نماز کا حق ادا نہیں کرتے۔
  • نماز کے لیے ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب سے کھڑے ہوں۔

جوابات: (1-X)(2-/)(3-X)(4-/)(5-/)

3- خالی جگہ پر کریں۔

  • نماز دین کا —————————ہے۔
  • ہر مسلمان پر دن میں ————————- نماز پڑھنا فرض ہے۔
  • سجدے کی حالت میں انسان اللہ سے بہت ———————– ہے۔
  • نماز کےلیے بدن کپڑے اور جگہ کا ————————- ہونا ضروری ہے۔
  • قیامت کے روز سب سے پہلے ————————-کا حساب لیا جائے گا۔

جوابات: (1-ستون)(2-پانچ)(3-قریب)(4-پاک)(5-نماز)

مسجد کا احترام ص:13

(حصہ انشائیہ)

سوال:1مسجد کسے کہتے ہیں؟
جواب :   ‏‪وہ جگہ  جہاں مسلمان اکٹھے ہوکر باجماعت ادا کرتے ہیں مسجد کہلاتی ہے۔ کسی بھی جگہ پر رہنے کے لیے مسلمان سب سے پہلے وہاں مسجد بناتے ہیں۔ مسجد عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں سجدہ کرنے کی جگہ۔
سوال:2 حضورﷺ نے سب سے پہلی مسجد کہاں تعمیر کروائی؟ اس کا  کیانام ہے؟
جواب : آ پ ﷺ نے سب سے پہلی مسجد مد ینہ کے قریب “قبا “کے مقام پر تعمیر کروائ –
سوال: 3 حضور ﷺ نے مدینہ منورہ میں کون سی مسجد تعمیر کروائی؟
جواب :آپﷺ نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی تعمیر کروائ-
سوال:4 قبلہ کسے کہتے ہیں؟ ہم کس طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں؟
جواب :مسجد حرام مسلمانوں کی سب سے ز یادہ محترم مسجد ہے جو کہ مکہ مکرمہ میں ہے –اسی میں کعبہ شریف ہے جسے بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر کہتے ہیں –یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے –اسی قبلے کی طرف منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں –
سوال: 5 مسجد تعمیر کرنے پر  اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا انعام ملتاہے؟
جواب : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے اللہ کو خوش کرنے کی نیت سےمسجد بنائی  اللہ تعالیٰ اس لیے جنت ایک گھر بنائے گا۔
سوال6:  مسجد کا احترام کیوں ضروری ہے؟
جواب : قرآن مجید کے مطابق مسجدیں اللہ ہی کےلیے ہیں۔ لہٰذا ان کو پاک صاف رکھنا اور ان کا احترام کرنا مسلمانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
سوال:7 مسجد کے آداب بیان کریں؟
جواب :

1.      مسجد میں باوضو رہیں تو بہتر  ہے –

2.      کپڑے پاک صاف رکھیں  اگر ہو سکے تو خو شبو بھی لگانی چاہیے –

3.      مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اندر رکھیں –

4.      مسجد میں قیام کے دوران الہ کا ذکر کرتے رہیں اور درود شریف کثرت سے پڑھیں –

5.      مسجد میں شور کرنا اور سونا منع ہے –

6.      کوۓبد بو دار چیز مثلا کچا لہسن ،پیاز ،مو لی وغیرہ کھا کر مسجد میں نہ آیں-

7.      پہلے سے بیٹھے ہوے لوگوں کو پھلانگ کر آگے مت جا یں-

8.      مسجد سے باہر نکلتے وقت پہلے بایا ں پا وں باہررکھیں-

سوال:8 مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟
اللہم افتح لی ابواب رحمتک –

اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے

سوال:9 مسجد سے نکلتے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟
جواب :اللہم انی اسلک من فضلک

اے اللہ میں تجھ سے تیرا فضل ما نگتا ہوں –

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • اسلام کی سب سے پہلی قبا میں تعمیر کی گئی۔
  • مسجد حرام مدینہ منورہ میں واقع ہے۔
  • مسجد میں داخل ہوتے ہوئے کہیں : اللہ ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہے۔
  • اگر ہوسکے تو مسجد میں خوشبو لگا کر جائیں۔
  • کعبہ شریف مکہ مکرمہ میں ہے۔
  • کعبہ شریف کو بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر کہتے ہیں۔
  • مسجد نبوی مکہ میں ہے۔
  • ہم بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔

جوابات: (1-/)(2-X)(3-X)(4-/)(5-/)(6-/)(7-X)(8-/)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • اسلام کی سب سے پہلی مسجد کا نام————–ہے۔
  • کعبہ شریف مسجد ——————میں واقع ہے۔
  • نبی کریمﷺ نے —————– میں مسجد نبوی تعمیر کروائی۔
  • مسلمانوں کا قبلہ ————————– ہے۔
  • مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے ——————- پاؤں اندر رکھیں –
  • مسجد معنی ہیں: ———————۔
  • مسجد سے نکلتے  وقت پہلے ——————- پاؤں باہر رکھیں –
  • قرآن مجید کے مطابق مسجدیں —————————– ہی  کے لیے ہیں۔
  • مسجدوں کو پاک صاف رکھنا اور ان کا احترام کرنا ——————- کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

جوابات: (1-مسجد قبا)(2-حرام)(3-مدینہ منورہ)(4-کعبہ شریف)(5-دایاں)(6-سجدہ کرنے کی جگہ)(7-بایاں)(8-اللہ)(9-مسلمانوں)

اللہ تعالیٰ کے حقوق ص:16

(حصہ انشائیہ)

سوال:1اللہ تعالیٰ کے ہم پر کون کون سے احسانات ہیں؟
جواب :اللہ تعالی نے ہمیں پیدا کیا ہم کو مسلمان بنایا ہمارے زندہ رہنے کے لیے انتہاۓ ضروری اشیاء یعنی ہوا اور پانی پیدا کیے ہمیں محبت کرنے والے   ما ں باپ ،بہن بھاۓ دوست ،رشتہ دار سب اللہ کی مہربانی سے ملے ہیں سورج ،چاند ،ستارے ،موسم ،نظارے ،الغرض لا تعداد نعمتیں اور قسم قسم کے کھانے ،پھل اور ڈھیروں سہولیات عطا کیں قرآن مجید میں ارشاد ہے اور ہم نے تمہارے لیے ہے پیدا کیا ہے جو کچھ زمین میں ہے لہزا ہم ہر جھلک  ہے ہمیں چاہیے  کہ اللہ تعالی کے احسانات کا بدلہ کوۓ نہیں دے سکتا –
سوال:2ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کیوں نہیں کرسکتے؟
جواب : اللہ تعالی نے زمین پر سب کچھ ہما رے لیے پیدا کیا ہے دراصل اس میں موجود ہر چیز اس کی نعمت ہے چونکہ ہم ان ساری نعمتموں سے مکمل طور پر واقف ہی نہیں اس لیے ہمارے لیے ممکن نہیں کہ سب کا شمار کر سکیں –
سوال:3  اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جائے؟
جواب :اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ ذوق و شو ق سے اس کی عبادت کرنا ہے –
سوال:4کائنات کی نعمتیں کس کے لیے پیدا کی گئی ہیں؟
جواب :اللہ تعالی اس کا ئنات کا خالق ہے یہ تمام نعمتیں ہم انسانوں کیلۓ پیدا کی گۓ ہیں  ہمیں چاہیۓ کہ ان احسانا ت یعنی نعمتوں کا جائز اور بہترین استعما ل کریں –
سوال:5 بندوں پر  اللہ تعالیٰ کے حقوق کیا ہیں؟
جواب :بندوں پر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ کہ بندے اس کی ذات واحد پر صدق دل سے ایمان لائں اسے اپنا خالق و ما لک تسلیم کریں اس با ت پر ایما ن لا ئیں کہ اللہ ایک ہے یہ بھی اقرار کریں کہ کسی بھی حیثیت میں اس کا کوئ شریک نہیں  صرف وہی عبادت کے لائق ہے اس کی یاد کے لیے دن رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ نماز ادا کریں  صرف اور صرف اس کی عبادت کریں اور ما ہ رمضان کے روزے رکھیں اگر استطاعت ہو تو زندگی میں ایک بار بیت اللہ کا حج ضرور کریں سب سے بڑھ کر اس سے محبت کریں اور اس کا شکر ادا کریں زندگی کے سارے کا موں میں اس کے پیارے محبوب حضر ت محمدﷺکے بتائے ہویے طریقو ں پر عمل کریں
سوال:6 کیا حج کرنا سب مسلمانو ں پر فرض ہے؟
جواب :جی نہیں جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں ان پر زندگی میں کم از کم ایک بار حج کرنا فرض ہے –
سوال:7 حلال و حرام چیزوں کے بارے میں  اللہ تعالیٰ  کا کیاحکم ہے؟
جواب :اللہ تعالی نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ہم ان کو حلال جانیں اور جن چیزوں لو حرام قرار دیا ہے ان کو  ہم حرام جا نیں –
سوال:8ہم  اللہ تعالیٰ کے حقوق کیسے ادا کرسکتے ہیں؟
جواب :اگر ہم زندگی کے سارے کاموں میں اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کر نے کا پکا عہد  لے لیں  تو ہم اللہ تعالی کے حقوق اداکر سکتے ہیں –

(حصہ معروضی)

1–  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • اللہ کی نعمتیں شمار نہیں ہوسکتی ہیں۔
  • ہم اللہ کی ساری نعمتوں سے مکمل طور پر واقف ہیں۔
  • جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں ان پر زندگی میں کئی بار حج کرنا فرض ہے۔
  • اللہ نے اپنی ساری نعمتیں ہم انسانوں کے لیے پیدا کی ہیں۔
  • اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ روزہ رکھنا ہے۔

جوابات: (1-X)(2-X)(3-X)(4-/)(5-X)

2– خالی جگہ پر کریں۔

  • اللہ تعالیٰ اس——————– کا خالق ہے۔
  • اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ ذوق و شوق سے اس کی —————- کرنا ہے۔
  • اس کی یاد کے لیے دن رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ ——————— اداکریں۔
  • جو لوگ ——————- رکھتے ہوں ان پر زندگی میں کم از کم ایک بار حج کرنا فرض ہے۔
  • ہمارے ماں باپ ہمیں اللہ کی ————————— سے ملے ہیں۔

جوابات: (1-کائنات)(2-عبادت)(3-نماز)(4-استطاعت)(5-مہربانی)

3– کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
        I.            ہمیں ماں باپ بہن بھائی دوست رشتہ دار

II.            اللہ تعالیٰ نے زمین پر سب کچھ

III.            اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ

IV.            بندوں پر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ

V.            ہم اقرار کریں کہ

1-    ذوق و شوق سے اسکی عبادت کرنا ہے۔

2-    بندے اسکی ذات واحد پر ایمان لائیں۔

3-    کسی بھی حیثیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔

4-    سب اللہ کی مہربانی سے ملے ہیں۔

5-    ہمارے لیے پیدا کیا ہے۔

جوابات: (1-4)(2-5)(3-1)(4-2)(5-3)

بندوں کے حقوق ص:19

(حصہ انشائیہ)

سوال:1 اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کے  میں کیا  کہا گیا ہے؟
جواب :اللہ تعالی اپنے حقوق تو اپنے جن بندوں کیلے چاہیں گے معاف فر ما دیں گے مگر بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہ ہوں جب تک بندے خود معاف نہ کریں گے
سوال:2 بندوں کے حقوق میں کس کس کے حقوق شامل ہیں؟
جواب :  بندوں   کے حقوق میں مندرجہ ذیل حقوق شامل ہیں:

1-      والدین کے حقوق اولاد کے حقوق

2-     رشتہ داروں کے حقوق

3-     یتیموں کے حقوق

4-     غریبوں کے حقوق

5-     پڑوسیوں کے حقوق

6-    قر یبی دوستوں کے حقوق

7-    مسافروں کے حقوق او ر

8-     ماتحت لوگوں کے حقوق شامل ہیں۔

سوال:3 والدین اور دوستوں کے حقوق بیان کریں؟
جواب :اللہ تعالی نے والدین کے حقوق کا خاص طور پر ذکر کیا ہے والدین کا حق یہ کہ ہم ان کی خدمت کریں ان کا کہا مانیں بڑھاپے میں خاص کر ان کی ضروریات کا خیا ل رکھیں ان کی کسی بات پر اف تک نہ کہیں اور نہ ہی انیہں کسی بات پر جھڑکیں

دوستوں کا حق یہ ہے کہ ہم دل سے ان کے  خیر خواہ ہوں ضرورت کے وقت ان کے کا م آئں  اور ان کی اجازت کے بغیر ان کی کوی چیز استعمال نہ کریں –

سوال:4 مختلف بندوں کے حقوق بیان کریں؟
جواب :او لاد کا حق یہ کہ بیٹا ہو یا بیٹی دونو ں کو ہم اللہ کا عطیہ سمجھیں ان کی تعلیم و تربیت  اور دیکھ بھال میں کسی قسم کا فرق رو ا نہ رکھیں –

رشۃداروں کا حق یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ بہترین سلوک کریں –

یتیموں کا حق یہ ہے کہ ان پر شفقت کی جاۓ ان کی امانتوں کی حفاظے کریں اور بالغ ہونے پر ان کی امانتیں ان کے حوالے کر دیں –

پڑوسیوں کا حق یہ ہے کہ ہم ان کے دکھ درد بانٹیں اور مصیبت میں ان کے کا م آئیں  ان کو کسی بھی صورت تنگ اور ناراض نہ کریں

مسافروں کا حق یہ ہے کہ ان کی مہمان نوازی کی جاۓ اور ان کی ضرورت کو پورا کیا جاۓ

ما تحت لوگوں کا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جاۓ اور ان کا جا ے اور ان کا جائز حق انہیں دیا جائے –

سوال:5صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کے نزدیک مفلس کون ہے؟
جواب :صحابہ کرام    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں –
سوال:6  رسول اللہ ﷺ نے کسے امت کا مفلس قراردیا؟
جواب : نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے اور زکوۃ کے ساتھ اس حا ل میں آےگا کہ اس نے کسی کا مال کھایا ہو گا کسی کو گالی دی ہو گی کسی کا نا حق خون بہایا ہو گا یا کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہو گا-
سوال:7قیامت کے دن امت کے مفلس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
جواب :ایسے شخص کی ساری نیکیا ں ان لوگوں میں بانٹ دی جائیں جن کی اس نے حق تلفی کی ہو گی اگر متاثر لوگوں کے کچھ حقوق پھر بھی اس کےذمے ہو نگ تو حق داروں کے گنا ہ اس مفلس کے کھاتے میں یعنی اعمال نامے میں ڈال دئیے جائیں گے نتیجتا اس کے اعمال نامے میں گناہوں کا ڈھیر لگ جائے گا تب فرشتے اللہ کے حکم سے اسے جہنم میں ڈال دیں گے-
سوال:8امت کے مفلس شخص کے انجام سے ہمیں کیا سبق ملتاہے؟
جواب :امت کے مفلس شخص کے انجام کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے واضح ارشاد سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آخرت میں نجات کیلے صرف عبادات یعنی نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج وغیرہ ہی کا فی نہیں بلکہ بندوں کے حقوق ادا کرنا اور بندوں کو دکھ دینے سے بچنا بھی ضروری ہے –
سوال:9 اپنے مومن بھائی کے بارے میں  حضور ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب :آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ” مومن اپنے بھائ کیلے وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لی پسند کرتا ہے “
سوال:10اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی کیا کیا چیزیں پسند ہیں؟
جواب :بیمار کی عیادت کرنا ،مسلما ن کے جنازے میں شرکت کرنا ،مصیبت میں بھائ کی مد دکرنا ،ضرورت من کی ضرورت پوری کرنا ،اچھے طریقے سے سلام کا جواب دینا وغیرہ ،اللہ کو بہت پسند ہے –

(حصہ معروضی)

  • درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔

1- رشتہ داروں کا حق یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ

(الف: برا سلوک کریں)(ب:)بہترین سلوک کریں(ج:دھوکہ دہی کریں)(د: رابطہ نہ رکھیں)

2-صحابہ کے نزدیک امت کا مفلس وہ ہے جس کے پاس :

(الف: سواری نہ ہو)(ب:گھر  نہ ہو)(ج: درہم دینار نہ ہوں)(د:باغ نہ ہو)

3-یتیموں کا حق یہ ہے کہ ان  پر :

(الف:بوجھ نہ ڈالیں)(ب:شفقت کریں)(ج:الزام لگائیں)(د:فخر کریں)

جوابات: (1-ب)(2-ج)(3-ب)

2–  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • مومن اپنے بھائی کےلیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتاہے۔
  • آخرت میں نجات کےلیے صرف عبادات یعنی نماز روزہ زکوٰۃ حج کافی ہیں۔
  • بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہ ہوں گے جب تک بندے خود معاف نہ کریں گے۔
  • یتیموں کا حق یہ ہے کہ ہم ان کا ادب کریں۔
  • کسی شخص کا بیماری کی عیادت کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔

جوابات: (1-/)(2-X)(3-/)(4-X)(5-/)

3- خالی جگہ پر کریں۔

  • صحابہ کرام رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کے نزدیک ————- وہ شخص ہے جس کے پاس درہم ودینار نہ ہوں۔
  • اللہ تعالیٰ نے —————— کے حقوق کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
  • رشتہ داروں کا حق یہ ہے کہ ہم ان سے بہترین ——————— کریں۔
  • ——————- کا حق یہ ہے کہ ہم ان پر شفقت کریں۔
  • آخرت میں نجات کیلیے صرف عبادات یعنی——————— وغیرہ ہی کافی نہیں

جوابات: (1-مفلس)(2-بندوں)(3-بہترین سلوک)(4-یتیموں)(5-نماز ،روزہ ،زکوٰۃ، حج)

4- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-     اللہ تعالیٰ تعالیٰ اپنے حقوق اپنے جن بندوں کیلیے چاہیں گے

2-    اسلام میں بندوں کے حقوق ادا کرنے پر

3-     اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق کا

4-    اولاد کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی

5-    ماتحت لوگوں کا حق یہ کہ

6-    دوستوں کا حق یہ کہ

1-    خاص طور ذکر کیا ہے۔

2-    ہم دل سے ان کے خیر خواہ ہوں۔

3-    دونوں کہ ہم اللہ کا عطیہ سمجھیں۔

4-    بڑا زور دیا گیاہے۔

5-    معاف فرما دیں گے۔

6-    ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

جوابات: (1-5)(2-4)(3-1)(4-3)(5-6)(6-2)

تیسرا باب : اسوہ حسنہ ص:    23  تا   48 

نزول وحی ص:23

(حصہ انشائیہ)

سوال:1حضرت  محمد ﷺ پر پہلی وحی کب اور کہاں نازل ہوئی ؟
جواب :اعلان نبوت سے پہلےحضرت محمد ﷺ مکہ سے کچھ فاصلے پر غا ر حرا میں اللہ کی عبادت کےلیے تشریف لے جاتے آپ ﷺ پر پہلی وحی چالیس بر س کی عمر میں ما ہ رمضان میں  غار  حرا میں دوران عبادت نازل ہوئ-
سوال:2 پہلی وحی کے وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے ساتھ کس طرح پیش  آئے؟
جواب :حضرت جبرائیل علیہ السلام قرآن مجید کی چند آیات پہلی وحی کی صورت میں لے کر غار حرا میں آپﷺ کے پاس آے اور کہا “پڑھو “آپﷺنے فرمایا :میں پڑھنے والا نہیں ہوں  جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو سینے سے لگا کر بھینچا اور کہا “پڑھو “آپﷺ نے دوبارہ وہی بات دہرائ کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے تیسری دفعہ آپﷺ سے کہا “پڑھو “اور آپﷺ نے پھر جواب دیا :میں پڑھنے والا نہیں ہوں “حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو پھر سینے سے لگا کر دبایا اور آپﷺ سے سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیا ت قرآنی پڑھوائیں –
سوال:3 پہلی وحی کی پہلی آیت مع ترجمہ لکھیں؟
جواب :اقر ا با سم ربک الذی خلق

پڑھو اپنے پروردگار کے نا م سے جس نے پید اکیا –

سوال:4 پہلی وحی کی مکمل آیات کا ترجمہ لکھیں؟
جواب :پہلی وحی کی مکمل آیا ت کا ترجمہ یہ ہے “پڑھو”اپنے پروردگار کے نا م سے جس نے پیدا کیا ،جس نے انسان کو جمے ہوے خون سے پیدا کیا پڑھو اور تیرا رب کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا انسان کو وہ کچھ سکھا یا ،جو وہ نہیں جانتا تھا –
سوال: 5 پہلی وحی کا آپﷺ پر اپنی امت کی تعلیم کا بڑا بوجھ ڈال دیا گیا۔ آپﷺ کا دل اس بوجھ کے ڈر سےکانپ گیا۔
جواب :پہلی وحی کا آنا تھا کہ آپﷺ پر اپنی امت کی تعلیم کا بڑا بوجھ ڈال دیا گیا آپﷺ کا دل اس بوجھ کے ڈر سے کا نپ گیا –
سوال:6گھر آکر آپ ﷺ نے اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی  اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا کہا؟
جواب :آپﷺ نے فرمایا  :مجھے چادر  اورڑھا دو اور اس کے غار میں پیش آنے والا واقعہ سنایا-
سوال:7 پہلی وحی کے  موقع پر حضرت خدیجہ رضی  اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب : حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بیان فرمایا:  آپﷺ اپنے رشتداروں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ حاجت مندوں  کی حاجت پوری کرتے ہیں۔ مہمانوں  کی مہمان نوازی کرتےہیں۔ دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ آپﷺ کو بےیارو مدد گار نہیں چھوڑے گا۔
سوال:8غار حرا کا واقعہ سن کر حضرت خدیجہ رضی  اللہ تعالیٰ عنہا پر کیا اثر ہوا؟
جواب :حضرت خد یجہ رضی اللہ عنہا  سمجھ گئیں   حضور ﷺ  اللہ  کے نبی ہیں۔ چنانچہ وہ فورا آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں  اور آپﷺ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل  کے پاس لےگئیں۔
سوال:9 ورقہ بن نوفل نے غار حرا کاواقعہ سن کر کیا کہا؟
جواب : ورقہ بن نوفل تورات  اور انجیل  کے ایک بڑے عالم تھے اور عبرانی جانتے تھے و ہ اس  بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے۔ انھوں نے غار حرا کا واقعہ سن کر کہا : یہ تو وہی ناموس (فرشتہ) ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا۔ کاش ! میں اس وقت طاقتور اور تندرست ہوتا جب آپ ﷺ کی قوم آپﷺ کو شہر مکہ سے نکال دے گی۔
سوال:10ورقہ بن نوفل کی بات سن کر آپ ﷺ نے کیا پوچھا اور ورقہ نے کیا جواب دیا؟
جواب : ورقہ بن نوفل کی بات سن کر آپﷺ نے پوچھا : کیا ایسا ہوگا؟ (یعنی میری قوم مجھے شہر مکہ سے نکال دے گی؟) ورقہ نے کیا جواب دیا؟ جو پیغام لے کر آپﷺ تشریف لائے ہیں اس کو لے کر جو( نبی) بھی آپﷺ سے پہلے آیا  اس کی قوم نے اس کے ساتھ  ایسا  ہی سلوک کیا۔ پہلی وحی کے نزول کے کچھ روز بعد ورقہ بن نوفل انتقال کرگئے۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • پہلی وحی رمضان کے مہینے میں غار حرا میں دوران عبادت نازل کی گئی۔
  • ورق بن نوفل آپﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔
  • ورقہ بن نوفل تورات اور انجیل کے عالم تھے اور فارسی جانتے تھے۔
  • حضرت خدیجہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  کچھ عرصہ بعد آپﷺ پر ایمان لائیں۔
  • آپﷺ نے گھر آکر اپنی بیوی خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا سے کہا: مجھے لحاف اوڑھا دو۔
  • پہلی وحی کے نزول کے واقعہ کے کچھ ہی سال بعد ورقہ بن نوفل کرگئے۔

جوابات: (1-/)(2-X)(3-X)(4-X)(5-/)(6-X)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • پہلی وحی غار———————– میں نازل ہوئی۔
  • پہلی وحی کے وقت آپﷺ کی عمر ——————– سال تھی۔
  • ورقہ بن نوفل —————–اور انجیل کے عالم تھے۔
  • اللہ تعالیٰ نے انسان کو ——————–ہوئے خون سے پیدا کیا۔
  • پہلی وحی کا آنا تھا کہ آپﷺ پر اپنی امت کی تعلیم کا بڑا —————– ڈال دیا گیا۔
  • پہلی وحی میں سورۃ ———————- کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں۔
  • جبرائیل علیہ السلام کو آپﷺ نے فرمایا میں————— ہوا نہیں ہوں۔

جوابات: (1-حرا)(2-چالیس)(3-تورات)(4-جمے)(5-بوجھ)(6-اقراء)(7-پڑھا)

اسلام کی دعوت ص:26

(حصہ انشائیہ)

سوال:1  حضور ﷺ پر سب سے پہلے کون کون ایمان لائے؟
جواب :اعلان نبوت کے بعد آنحضرت ﷺکی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سبکسے پہلے آپﷺ پر ایما ن لائیں بچوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے آپﷺ کی نبوت پر ایما ن لائے حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام زید   بن  حارثہ رضی اللہ عنھما اور گھر کے لوگوں سے باہر آپﷺ کے دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی نبوت پر ایمان لانے میں پہل کی –
سوال:2 آپﷺ کی نبوت پر فوری ایمان لانے والے کس بنیاد پر ایمان لائے؟
جواب :یہ سب خوش نصیب لوگ آپﷺ کی عادات و اخلاق سے بخوبی واقف تھے  انھیں یقین تھا کہ حضورﷺ جو کچھ بھی فرماتے ہیں وہ سچ ہے اور یقینا اللہ تعالی نے حضو ر ﷺ کو نبوت کے بلند مرتبے پر فائز کیا ہے  اسی وجہ سے انھوں نے ایمان لانے میں ذرا بھی دیر نہ کی –
سوال:3 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ ان کی کوششوں سے کن کن لوگوں نے اسلام قبول کیا؟
جواب :حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے انتہائ قریبی دوست تھے آپ ﷺ کا پیشہ تجارت تھا اخلاق شرافت ،علم ،عقلمندی اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے لوگ انھیں پسند کرتے تھے اور ان پر پورا اعتماد بھی کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے حسن اخلاق اور کو ششوں سے کئ اہم شخصیتو ں نے اسلام قبو ل کر لیا جن میں حضرت عثمان بن عفان ،حضرت زبیر ،حضرت عبد الرحمان بن عوف ،حضرت سعد بن ابی وقا ص اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
سوال:4 اہل خاندان کو تبلیغ کرنے کا حکم آپ ﷺ کو کب ملا؟
جواب :کچھ عرصہ تک تو تبلیغ کا کا م نہا یت راز داری اور احتیاط کے ساتھ کیا جاتا رہا  آخر نبوت کے تین سال بعد وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو اپنے  خاندان کو تبلیغ کرنے کا حکم ملا-
سوال:5عورتوں میں سب سے پہلے کس ہستی نے شرف ایمان حاصل کیا اور مردوں میں سب سے پہلے کس ہستی نے اسلام قبول کیا؟
جواب :عورتو ں میں سب سے پہلے ایمان لانے والی آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ اور مردوں میں یہ شرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دس برس کی عمر میں حا صل ہوا-
سوال:6 حضرت محمد ﷺ نے اپنے اہل خاندان کو تبلیغ کی دعوت  پر بلاکر ان  سے کیا پوچھا اور حضرت علی   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے کیا جواب دیا؟
جواب :جب اللہ تعالی کی طرف سے آپ ﷺ کو قریبی رشۃداروں کو اللہ کی نافرمانی کے برے انجام سے ڈرانے کا حکم نازل ہواتو آپ ﷺ نے خاندان کے پینتالیس  افراد کو دعوت میں جمع کیا اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچایا  پھر آپ ﷺ نے حا ضرین سے پو چھا کہ دین کے سلسلے میں میرا ساتھ کون دے گا ؟سب لو گ  خاموش رہے  مگر حضر ت علی رضی اللہ  عنہ جو کہ صرف دس سال کے تھے ،کھڑے ہو کر بولے “اگر چہ میں سب سے چھوٹا ہوں ،پھر بھی اس نیک کام میں آپﷺ کا ہمیشہ ساتھ دوں گا”نبی کریمﷺ نے خوشی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگا لیا-
سوال:7صفا کی پہاڑی پر  حضور ﷺ نے کفار سے کیا پوچھا اور انھوں نے کیا جواب دیا؟
جواب :عام لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دینے کا حکم ملنے پر آپﷺ نے مکہ کے رواج کے مطابق کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز میں قریش کو جمع ہونے کیلے کہا جب وہ جمع ہو گے تو آپﷺ نے فرمایا :اگر میں تم لوگوں کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ  کرنے والا ہے تو کیا تم میری با ت کا یقین کر لو گے ؟سب نے بیک زبان جواب دیا :ہاں  ہم ضرور یقین کر لیں گے کیوں کہ آپ ﷺ ہمیشہ سچ بولتے ہیں –
سوال:8کوہ صفا پر کھڑے  ہوکر جب آپﷺ نے اسلام کی دعوت دی  تو کفار کا کیا ردعمل تھا؟
جواب :جب آپ ﷺ نے مجمع سے کہا “لا الہ الااللہ “کہو ،کامیاب ہو جاؤ گے –ابو لہب یہ سن کر آپﷺ کو برا بھلا کہنے لگا  سب لو گ وہا ں سے چلے گے-
سوال:9 کفار مکہ نے آپﷺ کی مخالفت کیوں شروع کردی؟
جواب :جب آپ ﷺ نے کھلم کھلا اسلام کی تبلیغ شروع کر دی تو کفار کو بہت برا لگا آپﷺ مکے کے گرد لگنے والے میلوں اور  منڈیوں وغیروں میں جاتے مقامی اور پورے عرب سے آنے والے تاجروں اور حج و زیارت کے لیے آنے والے لوگوں کو اسلام کی طرف  بلاتے  کفار چو نکہ بتوں کی پو جا کرتے تھے اس لیے انھیں حضو ر ﷺ کی باتیں اچھی نہ لگیں اور نہ صرف آپ ﷺ کے مخالف ہو گے بلکہ اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و تشدد پر اتر آۓ –

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • گھر کے مردوں میں سب سے پہلے آپﷺ پر ایمان لانے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ  تعالیٰ عنہ تھے۔
  • حضرت خدیجہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہا حضرت علی    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے بعد آپﷺ پر ایمان لائیں۔
  • تقریبا پانچ سال تک تبلیغ کا کام نہایت رازداری اور احتیاط کے ساتھ کیا جاتا رہا۔
  • آپﷺ نے اپنے خاندان کے پینتالیس 45 افراد کو دعوت میں جمع کیا۔
  • جب حضرت علی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے آپﷺ  کا ساتھ دینے کا اعلان فرمایا تو اس وقت ان کی عمر صرف دس برس تھی۔
  • اسلام کی دعوت ملنے پر کوہ صفا پر موجود سب لوگ آپﷺ سے بہت خوش ہوئے۔

جوابات: (1-X)(2-X)(3-X)(4-/)(5-/)(6-X)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت —————————– نے اسلام قبول کیا۔
  • حضرت زید رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بن حارثہ آپﷺ کے آزاد کردہ ——————–تھے۔
  • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کا پیشہ —————– تھا۔
  • آپﷺ کی دعوت میں آپﷺ کے خاندان کے————————– افراد شامل ہوئے۔
  • تین سال تک ————————— کاکام نہایت رازداری اور احیتاط کے ساتھ جاری رہا۔
  • آپﷺ نے کہا: ————————–کہو کامیاب ہوجاؤگے۔

جوابات: (1-خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا)(2-غلام)(3-تجارت)(4-45)(5-تبلیغ)(6-لا الہ الااللہ)

ثابت قدمی ص:29

(حصہ انشائیہ)

سوال:1کفار مکہ  رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کیوں کررہے تھے؟
جواب :نبی کریم ﷺ نے جب لوگوں کو صرف ایک اللہ کی عبادت کے لیے بلانا شروع کیا اور بت پرستی او ر شرک کی برائ بیان فرمائ تو مکہ کے کا فر و مشرک آپ ﷺ کے مخالف ہو گے –
سوال:2 تبلیغ سے روکنے کے لیے کفار  حضور ﷺ سے کیا سلوک کرتے تھے؟
جواب :جو لو گ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے وہ بھی آپ ﷺ کی تبلیغ اور اعلان نبوت پر آپ ﷺ کے شدید دشمن ہو گے آپ ﷺکے ساتھ بد زبانے کرتے ،آپﷺکو شاعر اور دیوانہ کہتے آپ ﷺ قرآن سناتے تو شور کرتے تاکہ لوگ سن نہ سکیں وہ لوگ آپ ﷺ کی راہ میں کا نٹے بچھاتے ،آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکتے اور طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچاتے تا کہ آپ ﷺ توحید کی دعوت دینا چھوڑ دیں لیکن آپ ﷺ نے ثابت قد می کے ساتھ ان مصیبتوں کا مقابلہ کیا اور دین اسلام کی دعوت کا کام جاری رکھا –
سوال:3 تبلیغ کے حوالے سے اللہ کے  رسول ﷺ  نے اپنے چچا ابو طالب کو کیا جواب دیا؟
جواب :جب کفار مکہ نے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب پر  دباؤ ڈالا کہ آپ کو اسلام کی تبلیغ سے روکیں تو آپﷺ نے اپنے چچا محترم کو صا ف صاف لفظوں میں فرما دیا :اللہ کی قسم  اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہا تھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنا کام جاری رکھوں گا”-
سوال:4کفار نے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر ظلم ڈھائےان میں سے کسی دو کاحال بیان کریں؟
جواب :حضرت بلال رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے  امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر آوارہ لڑکون کو دیتا  تاکہ وہ انہیں گھسیٹتے پھریں پھر امیہ انہیں گرم ریت پر لٹا تا ،بھوکا پیا سا رکھتا اور کئ دوسری  تکلیفیں پہنچاتا لیکن  حضر ت بلال ثابت  قد م رہے ان کی زبان سے احد  احد  اللہ   ایک ہے ، اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے  کے سوا اور کوئی  بات نہ نکلتی آخر کا ر حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ نے انہیں خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کر دیا ۔
سوال:5حضرت مصعب بن   عمیر رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی کے بارے آپ کیا جانتےہیں؟
جواب : حضرت مصعب بن   عمیر رضی اللہ عنہ بڑے ناز و نعمت میں پلے بڑھے تھے۔ ان کی والدہ کو جب پتہ چلا کہ وہ اسلام لاچکے ہیں تو ان کو گھر سے نکال دیا لیکن انھوں نے استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔
سوال:6حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے ماں باپ نے جب اسلام قبول کیا تو انھیں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ابو جہل انھیں گرم پتھریلی زمین پر لٹا کر سزا دیتا۔ حضرت یاسر  رضی اللہ عنہ ابو جہل کے اسی ظلم کی وجہ سے شہید ہوگئے ۔ ان کی اہلیہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا کو ابو جہل نے نیزہ مارکر شہید کردیا۔ رسول اکرم ﷺ نے ان کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا: اے آل یاسر! صبر کرنا تمھارے لیے جنت ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ راہ اسلام میں والدین کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی تمام سختیوں کے باوجود ثابت قدم رہے۔
سوال:7حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
جواب : مشرکین حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو انگاروں پر لٹا دیتے پھر کوئی شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ دیتا۔ان کی چربی پگھلتی اور ان انگاروں  کو بجھا دیتی یہاں تک کہ جلنے  سے ان کی پیٹھ داغ داغ ہوگئی
سوال:8کفار کے ظلم و تشدد کے باوجود ثابت رہنے والے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کے نام لکھیں؟
جواب :

1-                حضرت بلال   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ

2-                حضرت معصب بن عمیر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ

3-                حضرت خباب بن ارت   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ

4-                حضرت عثمان   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ

5-                حضرت یاسر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  اور ان کی  اہلیہ

6-                حضرت سمیہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا

کفار مکہ نے اگرچہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام پر ظلم وستم کی حد کردی اس کے باوجود آپﷺ اور صحابہ کرام   رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کی ثابت قدمی میں لغزش نہ آئی۔

(حصہ معروضی)

1-  خالی جگہ پر کریں۔

  • حضرت بلال   رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت——————  رضی اللہ تعالیٰ  نے آزاد کیا۔
  • حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ———————-نے نیزہ مار کر شہید کردیا۔
  • حضرت یاسر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت   عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ———————–تھے۔
  • رسول اللہ ﷺ کفار کو ————————روکتے تھے۔
  • حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ————————نہایت معزز اور مالدار شخص تھے۔
  • حضرت ——————– رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومشرکین دہکتے انگاروں پر لٹا دیتے ۔

جوابات: (1-ابوبکرصدیق)(2-ابوجہل)(3-والد)(4-شرک)(5-مکے کے )(6-خباب)

2- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1.      حضرت  سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو

2.      حضور ﷺ نے فرمایا: اے آل یاسر!

3.      حضرت   بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ

4.      حضرت   عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کے

5.      مشرکین حضر ت خباب بن ارت   رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو

A.     صبر کرنا تمہارے لیے جنت ہے۔

B.     نہایت معزز اور مالدار شخص تھے۔

C.     ابو جہل نے نیزہ مار کر شہید کیا۔

D.     انگاروں پر لٹا دیتے ۔

E.     امیہ بن خلف کے غلام تھے۔

جوابات: (1-c)(2-a)(3-e)(4-b)(5-d)

چوتھا باب :اخلاق و آداب ص: 49 تا 64

ہجرت حبشہ ص:32

(حصہ انشائیہ)

سوال:1مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کیوں کی؟
جواب : جب مشرکین مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو نبوت کے پانچویں سال نبی کریم ﷺ کی ہدایت پر کچھ مسلمان حبشہ چلے گئے کیونکہ وہاں کا بادشاہ نجاشی انصاف پسند تھا اور وہ پرامن جگہ  تھی۔ تاہم چند ماہ بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ قریش مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر مسلمان مہاجریں واپس آگئے مگر کفار کی طرف سے پھر وہی ظلم و ستم شروع  کردیا گیا۔ لہٰذا نبوت کے چھٹے سال دوبارہ ہجرت عمل میں آئی۔
سوال:2 حبشہ کی طرف پہلی ہجرت میں کتنے مرد اور کتنی عورتیں شامل تھیں؟
جواب : حبشہ کی طرف پہلی ہجرت میں گیارہ (11) مرد اور چار (4) عورتیں شامل تھیں۔
سوال:3حبشہ کی طرف دوسری ہجرت میں کتنے مرد اور کتنی عورتیں شامل تھیں؟
جواب : حبشہ کی طرف دوسری ہجرت میں اسی (80) مرد اور انیس (19) عورتیں شامل تھیں
سوال:4قریش مکہ نے کیا چال چلی؟ یہ ناکام کیوں ہوئی؟
جواب : قریش کے سرداروں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ او رعمرو بن عاص کو قیمتی تحائف دے کر حبشہ بھیجا  تاکہ نجاشی کو ان مہاجرین کے واپس کرنے پر آمادہ کریں۔ انھوں  نے وہاں کے درباریوں کو بھی ساتھ ملانے کے لیے بطور رشوت تحائف دیے اور مسلمان مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ کیا مگر ان کی یہ چال اس لیے ناکام ہوگئی کہ اسلام کے  حقائق اور سچائی جاننے کے بعد نجاشی مسلمانوں کے موقف سے متفق ہوگیا اور قریش کے سفیروں کو واپس بھیج دیا۔
سوال:5نجاشی کے دربار میں مسلمان مہاجرین کی طرف سےکس نے گفتگو کی اور کیا کہا؟
جواب : نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے  حضرت جعفر طیار   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ تھے۔ انھوں نے انتہائی موثر انداز میں مسلمانوں کا موقف واضح کیا اور اسلام کی سچائی بیان کی۔

حضرت جعفر طیار   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے کہا: اے بادشاہ ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے بتوں کی پوجا کرتے تھے حرام کھاتے تھے بدکار تھے بھائی بھائی کا دشمن تھا تب ہم میں سے ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس کی شرافت صداقت اور دیانت میں ہمیں  کوئی شک نہ تھا۔ جب اس شخص نے ہمیں  اسلام کی دعوت دی ایک اللہ کی عبادت کی تلقین کی اور بتوں کی پوجا نہ کرنے جھوٹ سے بچنے یتیموں کا مال ہڑپ نہ  کرنے  ہمسائیوں کے حقوق  ادا کرنے  نماز و روزے  کا اہتمام کرنے پر مائل  کیا تو ہم  اس نیک ہستی پر ایمان لے آئے اب ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی ہےا ور ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم پھر اسی گمراہی کو اختیار کرلیں۔ چنانچہ ہم گھر بار چھوڑ کر آپ کی پناہ میں آئے ہیں اس امید پر کہ ہم پر یہاں ظلم نہیں ہوگا۔

سوال:6 حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے بیان پر نجاشی کا کیا رد عمل تھا؟
جواب :نجاشی نے جعفر طیار   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی باتیں  نہایت  توجہ سےسنیں۔ پھر کہا: تمھارے نبی ﷺ پر  اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا ہے وہ مجھے سناؤ۔ حضرت جعفر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے شاہی دربار میں سورہ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ نجاشی کلام الٰہی سن  کر بہت متاثر ہوا روتے روتے اس  کی ڈاڑھی  بھیگ گئی ۔ یہی حال دربار کے پادریوں اور دوسرے لوگوں کا بھی تھا۔

نجاشی نے کہا: یقینا یہ کلام بھی اسی ذات کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے  حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی تھی۔ اس نے قریش کے سفیروں سے کہا: میں انھیں ہرگز تمھارے حوالے نہ کروں گا۔ چنانچہ اس نے کفار کے سفیروں کو ان کے تحائف واپس کردیے۔

سوال:7حبشہ میں قیام کے دوران مسلمانوں کی وجہ سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا؟
جواب :مسلمانوں کی تبلیغ اور ان کے ذاتی کردار کا اثر اہل حبشہ پر بھی پڑا ۔وہاں سے  قریبا بیس (20) افراد مکے میں آئے اور مسجد حرام میں حضرت محمد ﷺ سے ملاقات کی۔

آپ ﷺ نے  انھیں کلام الٰہی سنایا جس کا ان کا    پر اتنا اثر  کہ  ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا ۔ واپس روانگی پر ابو جہل نے حبشہ سے آنے والوں کو سخت ملامت کی مگر وہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • نجاشی نے قریش کے سفیروں سے کہا: میں بہت جلد انہیں تمھارے حوالے کردوں گا۔
  • اہل حبشہ میں سے بیس 20 افراد مکہ آکر مسلمان ہوگئے۔
  • پہلی ہجرت نبوت کے پانچویں برس ہوئی جس میں کل پندرہ 15 افراد تھے۔
  • دوسری ہجرت نبوت کے چھٹے  برس ہوئی جس میں تقریبا ننانوے 99 افراد تھے۔
  • حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ہماری قوم ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم پھر اسی گمراہی کو اختیار کرلیں۔
  • حضرت جعفر طیار   رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شاہی دربار میں سورۃ الاحزاب کا آخری حصہ تلاوت فرمایا۔

جوابات: (1-X)(2-/)(3-/)(4-/)(5-/)(6-X)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • حبشہ کے بیس آدمیوں نے———————قبول کرلیا۔
  • پہلی ہجرت میں ——————— مرد اور —————– عورتیں تھیں۔
  • دوسری ہجرت میں ——————– مرد اور قریبا ————عورتیں تھیں۔
  • دوسری ہجرت حبشہ نبوت کے ————–سال عمل میں آئی۔
  • نجاشی کے دربار میں حضرت  ——————-نے مسلمانوں کی نمائیدگی کی۔
  • حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ہماری قوم ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم پھر اسی—————- کو اختیار کرلیں۔
  • نجاشی نے قریش کے سفیروں سے کہا: میں انھیں ہرگز تمھارے——————–نہ کروں گا۔
  • حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی کے دربار میں——————– کا ابتدائی حصہ  سنایا۔

جوابات: (1-اسلام)(2-11،4)(3-80،  19)(4- چھٹے)(5- جعفر  طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ)(6-گمراہی)(7- حوالے)(8-سورۃ مریم)

شعب ابی طالب ص:35

(حصہ انشائیہ)

سوال:1نبوت  کے چھٹے برس کون سے واقعات مشرکین مکہ کے لیے باعث پریشانی بنے؟
جواب : نبوت کے چھٹے برس کئی واقعات مشرکین مکہ کے لیے باعث پر یشانی بنے۔

حضرت حمزہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نبی کریم ﷺ کے حقیقی چچا تھے اور انتہائی مخلص دوست بھی تھے۔ آپ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بڑے بہادر تھے اور مکے میں آپ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا بڑا مقام تھا۔ انھوں نے فوری طور پر اسلام قبول کرلیا جس سے قریش کو بڑا دھچکا لگا۔ اسی دوران حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھی  اسلام میں داخل ہوگئے ۔ آپ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھی انتہائی بہادر اور مکہ کی ایک محترم ہستی تھے۔ فی الواقعہ حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا اسلام قبول کرنا اسلام کے لیے باعث تقویت تھا۔ ان  واقعات سے قریش بھڑک اٹھے۔

سوال:2حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کے ایمان لانے سے مسلمانوں کے حالات میں کیا تبدیلی آئی؟
جواب : نبی کریم ﷺ کی خصوصی دعاؤں سے حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  آپ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ معاشرے میں انتہائی محترم اور بہادر تھے۔ ان کا مسلمان ہوجانا اسلام کے لیے ایک نعمت اور قوت تھی جس سے عام مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے اب وہ کھلم کھلا بیت اللہ  شریف میں نماز ادا کرنے لگے اور تبلیغ کا کام تیز  سے تیز تر ہوگیا۔
سوال:3 حضرت حمزہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کس سال ایمان لائے؟
جواب : حضرت حمزہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نبوت کے چھٹے  سال ایمان لائے۔
سوال:4 قریش نے بائیکاٹ یا مقاطعہ ( معاشرتی قطع  تعلق) کی تحریر کیوں تیار کی اور اس میں کیا عہد کیا گیا تھا؟
جواب :قریش مسلمانوں کی کھلم کھلا تبلیغ اسلام سے بھڑک  اٹھے تھے اور انھوں نے اسلام کے خلاف  سخت کاروائی کا فیصلہ کرلیا ۔قریش نے مل کر ایک تحریر مقاطعہ تیار کی۔ اس میں انھوں نے آپس میں قسم اٹھا کر عہد کیا کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو مطلب  حضرت محمد ﷺ  کی حمایت ختم نہیں کریں گے اس وقت تک ان کے ساتھ  کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس دوران ان کے ساتھ ہر طرح کا میل جول شادی بیاہ اور خرید و فروخت بند رہے گی۔ اس تحریر کو خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ یہ کام نبوت کے ساتویں سال یکم محرم کو کیا گیا۔
سوال:5 شعب ابی طالب سے کیا مراد ہے؟
جواب : مقاطعہ کے فیصلے کے بعد بنو ہاشم اور بنو مطلب کے مسلم اور غیر مسلم لوگ جناب ابوطالب کے مشورے کے مطابق ایک گھاٹی میں جمع ہوگئے جسے شعب ابی طالب کہتے ہیں۔
سوال:6 مقاطعہ میں ابو لہب کا کردار کیا تھا؟
جواب : بنو ہاشم  میں سے ابو لہب ایک ایسا بدبخت شخص تھا جس نے اپنے خاندان کی بجائے مقاطعہ  یا بائیکاٹ کرنے والے مشرکین کا ساتھ دیا۔
سوال:7بنو ہاشم اور بنو مطلب کو شعب ابی طالب میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب : بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لوگ کو شعب ابی طالب میں محصور کردیے گئے۔ تین سال تک قریش نے بڑی سختی سے یہ محاصرہ جاری رکھا۔ اتنی سخت ناکہ بندی کی گئی کہ کھانے پینے کی کوئی چیز ان تک پہنچنے نہ دی جاتی۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کو درختوں کے پتے کھانے پڑ ے بلکہ بعض اوقات چمڑے کے خشک ٹکڑوں کو ابال کر بھوک مٹانے کی کوشش کی جاتی۔ بھوکے  بچوں کے رونے چلانے  کی آوازیں گھاٹی سے باہر پہنچتی تھیں تو ظالموں کو رحم نہ آتا تھا تاہم قریش کے بعض رحم دل لوگوں کو مقاطعہ  کی یہ صورت دل سے ناپسند تھی اور اکثر یت اسے ختم کرانے کی کوشش میں تھی۔
سوال:8مقاطعہ میں جناب حکیم بن حزام کا کردار کیا تھا؟
جواب : جناب حکیم بن حزام حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے اور کھبی کبھار خفیہ طور پر کچھ غلہ محصورین کو شعب ابی طالب میں بھجوادیا کرتےتھے۔
سوال:9 تائید غیبی کیا تھی؟ شعب ابی طالب کا محاصرہ کس طرح ختم ہوا؟
جواب : قریش کے اکثر لوگ اس بائیکاٹ کو ظلم سمجھتے ہوئے اسے ختم کرانے  کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی (تائید)امداد  آئی۔  اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو وحی کے ذریعہ خبر دی کہ مقاطعہ کی تحریر  میں لفظ اللہ  کے سوا تمام  تحریر دیمک  چاٹ گئی ہے۔ چنانچہ  آپﷺ نے اپنے چچا  ابو طالب کو یہ بات  بتائی  جنھوں نے  حرم شریف پہنچ کر بائیکاٹ کرنے والے سرداروں کو آپ ﷺ کی بتائی ہوئی خبر سے آگاہ کیا اور کہا: اب تم وہ تحریر منگواکر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی بات سچ ثابت ہوئی تو بائیکاٹ ختم کردو۔ اگر اس کی بات جھوٹی ثابت ہوئی تو میں اسے تمھارے حوالے کردوں گا۔ چنانچہ تحریر منگوا کر دیکھی گئی تو  آپﷺ کی اطلاع سچ ثابت ہوئی ۔ اس پر قریش سخت شرمندہ ہوئے اور مجبورا محاصرہ ختم کردیا۔
سوال:10عام الحزن سے کیا مراد ہے؟
جواب : عام الحزن  سےمراد ہے غم کا سال ۔ شعب ابی طالب کے واقعہ کے صرف چھے ماہ بعد آپﷺ کے چچا ابو طالب انتقال کرگئے۔ انھی دنوں آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا بھی وفات پاگئیں۔ان پے درپے مصائب کی بنا پر  رسول اللہ ﷺ نے اس سال کو عام الحزن رکھا۔ چنانچہ تاریخ میں یہ سال اسی نام سے مشہور ہوگیا۔

(حصہ معروضی)

1-  درست جواب کے گرد دائرہ   لگائیں۔

1-حضرت   حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا  رسول اللہ ﷺ سے کیا رشتہ تھا؟

(الف:خالو )(ب: پھوپھا)(ج: چچا)(د: ماموں)

2-تحریر مقاطعہ کو کہاں لٹکایا گیا؟

(الف: مسجد نبوی میں )(ب: مسجد حرام میں)(ج:خانہ کعبہ میں)(د: مسجد قبا)

3-عام الحزن کا کیا مطلب ہے؟

(الف:افسوس کا سال )(ب: مصیبتوں کا سال)(ج: مقاطعہ کا سال)(د: غم کا سال)

جوابات: (1-ج)(2-ج)(3-د)

2-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • قریش کی اکثریت نے اس بایئکاٹ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
  • عام الحزن کا مطلب ہے محاصرے کا سال
  • شعب ابی طالب ایک گھاٹی کا نام ہے۔
  • حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کے حقیقی چچا تھے۔
  • حکیم بن حزام حضرت  خدیجہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے تھے۔
  • تین سال تک قریش نے بڑی سختی سے محاصرہ جاری رکھا۔

جوابات: (1-X)(2-X)(3-/)(4-/)(5-/)(6-/)

3- خالی جگہ پر کریں۔

  • بنو ہاشم میں سے——————- ایک ایسا بدخت شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کا ساتھ نہ دیا۔
  • حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت محمد ﷺ  کے حقیقی——————–تھے۔
  • حکیم بن حزام حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے —————تھے۔
  • بنو ہاشم اور بنو مطلب کے تما م لوگ جناب ————- کےمشورے کے مطابق ————-میں جمع ہوگئے۔
  • مقاطعہ کے تحریر میں لفظ——————- کے سوا باقی تمام الفاظ دیمک چاٹ گئی۔
  • مقاطعہ کی تحریر کو——————— میں لٹکایا گیا تھا۔

جوابات: (1-ابو لہب)(2-چچا)(3-بھتیجے)(4- ابو طالب)(5-اللہ)(6-خانہ کعبہ)

طائف کاسفر ص:39

(حصہ انشائیہ)

سوال:1  رسول اللہ ﷺ نے طائف کا سفر کس مقصد کے لیےکیا؟
جواب :  دس برس مسلسل تبلیغ کے بعد بھی مکہ کی اکثریت نے اسلام قبول نہ کیا تو آپﷺ نے مکہ سے باہر اسلام کی تبلیغ  کا ارادہ فرمایا ۔ اس مقصد کے لیے آپﷺ نے نبوت کے دسویں سال زید    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بن حارثہ کے ساتھ مکہ سے جنوب کی طرف 112 کلومیٹر دور واقع شہر طائف کا سفر پیدل طے کیا۔
سوال:2 طائف کے لوگوں نے  رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جواب : طائف میں نبی اکرمﷺ نے دس دن قیام فرمایا اور یہاں کے سرداروں  اور عام لوگوں کو اسلام کی دعوت  دی لیکن  کسی نے اسلام قبول نہ کیا ۔ آپﷺ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو شرارتی اور  اوباش لوگ اکٹھے ہوگئے  ۔ وہ گالیاں دینے تالیاں بجانے اور شور مچانے لگے۔ حتیٰ کہ پتھر  بھی مارنے شروع کردیے۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت زید   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ شدید زخمی ہوگئے یہاں تک  کہ آپﷺ کےجوتے خون میں تر ہوگئے۔
سوال:3 طائف سے واپسی پر  رسول اللہ ﷺ کہاں ٹھہرے؟
جواب : انتہائی ظلم و ستم کے جواب میں بھی آپﷺ نے کسی کے لیے بددعا نہ فرمائی بلکہ شدید زخمی ہونے کے باوجود ان ظالموں  کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی ۔ جس سےظاہر ہوتا ہے کہ آپﷺ سراپا عفو و درگزر اور رحمۃ للعالمین تھے۔
سوال:4 واقعات طائف سے  حضور ﷺ کی کون سی بخوبی ظاہر ہوتی ہے؟
جواب : عداس عتبہ اور شیبہ کا عیسائی غلام تھا جو اس باغ کے مالک تھے۔ جہاں حضورﷺ نے قیام فرمایا ۔ آپ ﷺدیوار سے ٹیک لگائے انگور کی بیل کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے کہ اپنے مالکان  کے کہنے پر عداس انگوروں کا ایک  گچھا آپﷺ کی خدمت میں لایا۔ آپﷺ بسم اللہ  پڑھ کر کھانا شروع کیا تو عداس نے کہا کہ یہاں کے لوگ  تو ایسا جملہ نہیں بولتے ۔ آپﷺ نے پوچھا : تم کہاں کے ہواور تمھارا  دین کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ نینوا کا عیسائی ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا :تم نیک مرد یونس من متی کی بستی کے رہنے والے ہو۔ وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں۔ یہ سن کر عداس نے جھک کر آپ ﷺ کے ہاتھوں  پیروں اور سر کو بوسہ دیا۔
سوال:5عداس کون تھا؟  حضور ﷺ سے  اس کی کیا بات چیت ہوئی؟
جواب : طائف سے واپسی پر ایک مقام پر پہاڑوں کا فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ حاضر ہوا اور کہا کہ آپﷺ حکم دیں تو میں طائف کے لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیاں پیس دوں۔ حضورﷺ نے  فرمایا: نہیں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ایسی نسل پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی او ر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے گی۔
سوال:6طائف سے واپسی پر پہاڑوں کے فرشتے نے  رسول اللہ ﷺ سے کیا کہااور آپﷺ نے کیا جواب دیا؟
جواب : طائف سے واپسی پر ایک مقام پر پہاڑوں کا فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ حاضر ہوا اور کہا کہ آپﷺ حکم دیں  میں طائف کے  لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں   حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں ! مجھے امید ہے کہ  اللہ تعالیٰ ان سے ایسی نسل پیدا فرمائے گا جو صرف  ایک اللہ  کی عبادت کرے گی۔

 (حصہ معروضی)

1- درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔

1-نبوت کے کون سے سال آپﷺ طائف کیطرف روانہ ہوئے۔

(الف:چھٹے سال )(ب:ساتویں سال)(ج: پانچویں سال)(د: دسویں سال)

2-آپﷺ نے طائف میں کتنا عرصہ قیام فرمایا؟

(الف: آٹھ دن)(ب: دس دن)(ج:ایک ہفتہ)(د: بارہ دن)

3-طائف سے باہر عتبہ او ر شیبہ کا باغ کتنی دور ہے؟

(الف: تقریبا 6 کلومیٹر)(ب: تقریبا 8 کلومیٹر)(ج: تقریبا 4 کلومیٹر)(د: تقریبا 5 کلومیٹر)

4-طائف سے واپسی کےدوران ایک مقام پر پہاڑوں کا فرشتہ کس کے ساتھ حاضر ہوا؟

(الف:حضرت    عزارئیل علیہ السلام  )(ب: حضرت   اسرافیل علیہ السلام)(ج: حضرت میکائیل    علیہ السلام)(د: حضرت جبرائیل   علیہ السلام)

5-طائف اورمکہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟

(الف: 100 کلومیڑ)(ب:50 کلومیڑ)(ج:117 کلومیڑ)(د:112 کلومیڑ)

جوابات: (1-د)(2-ب)(3-5)(4-د)(5-112)

2-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • دس سال تک مسلسل تبلیغ کے بعد اکثر لوگ ایمان لے آئے۔
  • سفر طائیف میں حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کے ساتھ تھے۔
  • طائف مکہ سے جنوب کی طرف واقع ہے۔
  • طائف کی تبلیغ کی خاطر آپﷺ نے پندرہ دن قیام فرمایا۔
  • عداس انگوروں کے باغ کا مالک تھا۔
  • عداس یونس بن متی کی بستی کا رہنے والا تھا۔

جوابات: (1-X)(2-/)(3-/)(4-X)(5-X)(6-/)

3- خالی جگہ پر کریں۔

  • نبوت کے دسویں سال میں آپﷺ ——————کی طرف روانہ ہوئے۔
  • سفر طائف میں———————- آپﷺ کے ساتھ تھے۔
  • آپﷺ واپسی پر طائف سے قریبا 5 کلو میٹر باہر عتبہ اور شیبہ کے ——————– ٹھہرے۔
  • طائف مکے سے جنوب کی طرف قربیا———————– کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
  • عداس نے بتایا کہ وہ———————— کاعیسائی ہے۔
  • آپﷺ نے طائف میں ———————دن قیام کیا۔

جوابات: (1-طائف)(2-حضرت زیدبن حارثہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ )(3-باغ)(4-112)(5-نینوا)(6-دس)

معراج النبی ص:42

(حصہ انشائیہ)

سوال:1واقعہ معراج سے کیا مراد ہے؟
جواب :معراج سے مراد  رسول اللہ ﷺ کا وہ مبارک سفر ہے جس میں ایک رات  اللہ تعالیٰ  آپﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا وہاں سے ساتوں  آسمانوں  اور اس سے بھی آگے کی سیر کرائی اور اپنی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔
سوال:2 واقعہ معراج کب پیش آیا؟
جواب :یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات کو پیش  آیا۔
سوال:3سفر معراج کی تیاری  کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب : حضور ﷺ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر نیند سے بیدار کیا اور زمزم کے پاس لے گئے ۔ آپﷺ کے سینے کو اس سے دھویا پھر ایک جانور سواری کے لیے پیش  کیا۔ اس جانور کا نام براق یعنی بے حد تیز رفتار تھا۔ اس پر سوار  ہوکر آپﷺ  حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پہلے بیت المقدس  پہنچے ۔ وہاں  تمام انبیاء  کرام علیہ السلام  جمع تھے۔  جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ  کا ہاتھ پکڑ کر امامت کے لیے آگے کھڑا کردیا ۔ تما م انبیائے کرام علیہ السلام  نے آپﷺ کی امامت  کے لیے آگے کھڑا  کردیا – تمام  انبیائے کرام علیم السلام نے آپﷺ کی امامت میں نماز پڑھی۔ اسکے  بعد آپﷺ کو آسمانوں کی معراج کا شرف حاصل ہوا۔
سوال:4ساتوں آسمانوں پر مختلف انبیاء سے ملاقات کا حال بیان کریں؟
جواب : پہلے آسمان پر آپﷺ کی  حضرت آدم علیہ السلام  سے ملا قات ہوئی ۔ یہاں آپﷺ کو عذاب و ثواب کے مختلف مناظر دکھائے گئے۔ دوسرے  آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام  سے تیسرے آسمان پر حضرت یوسف  علیہ السلام سے چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام پانچویں آسمان پر  حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ آخر میں ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور خصوصی بات چیت ہوئی۔
سوال:5ساتویں آسمان پر آپﷺ کی ملاقات کس پیغمبر سے ہوئی؟
جواب : ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور خصوصی بات چیت ہوئی۔
سوال: 6 سدرۃ المنتہیٰ سے کیا مراد ہے؟
جواب : سدرۃ المنتہیٰ : ساتویں آسمان کے بعد آگے کا سفر شروع ہوا حتیٰ کہ ایک مقام پر جبرائیل  رک گئے اس مقام کو  سدرۃ المنتہیٰ کہتے ہیں۔ اس سے آگے آپﷺ نے تنہا سفر کیا اور  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی قریب پہنچ گئے ۔ اس موقع پر  اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہت سے احکام کی تفصیل بتائی ۔ اس کے علاوہ  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا۔
سوال:7نماز کب فرض کی گئی؟
جواب : واقعہ معراج  میں ہی  اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض کی۔
سوال:8واقعہ معراج کو اپنے الفاظ میں بیان کریں؟
جواب : یہ وہ واقعہ ہے جس میں ایک  رات   اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی ٰ اور وہاں سے ساتوں آسمانوں اور اس سے بھی آگے کی سیر کرائی تاکہ  حضور ﷺ کو اپنی بعض نشانیاں    دکھائے ۔ یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال رجب کے مہینے  کی ستائیسویں   رات پیش آیا۔ جبرائیل  علیہ السلام  آپﷺ کو تیز رفتار سواری براق پر پہلے  بیت المقدس  لے گئے ۔ یہاں تمام انبیائے کرام  علیہم السلام  نے آپﷺ کی امامت میں نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپﷺ کو سات آسمانوں کی  سیر کرائی گئی۔  مختلف آسمانوں پر مختلف انیباء سے ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی، اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ  تک لےگئے یہا ں تما م انبیاے کرام نے آپﷺ کی امامت میں نماز اداکی اس کی سیر کرائ گی مختلف آسمانوں پر مختلف انبیاء سے ملاقاتیں اور بات چیت ہوئ-اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام  آپﷺ کو سدرۃالمنتہی تک لے گے جبرائیل یہاں آکر رک گےاس سے آگے آپ ﷺ تنہا سفر کرتے ہوے بارگاہ خداوند ی میں انتہائ قریب پہنچ گے اس موقع پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اپنی قدرت کی بہت سی نشانیوں کا مشاہدہ کرایااور کئ احکام

کی تفصیل بتائ مسلمانوں کے لیے پانچ وقت کی نماز بھی اسی موقع پر فر ض کی گئ

سوال:9معراج کا واقعہ سن کر کفار نے کیا کہا؟
جواب :معراج کی صبح آپﷺ نے مسلمانوں کو واقعہ سے آگاہ کیا کفار کو بھی خبر پہنچ گئ انہوں نے آپﷺ سے کئ سوالات کیے مگر حسب فطرت اس واقعہ کو بھی (نعوذبااللہ)من گھڑت قرار دیا کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق کے پاس دوڑے گے اور ان سے کہا کہ دیکھو تمہارے صاحب آج کیسی بات کہ رہے ہیں کہ وہ راتوں رات بیت المقدس اور آسمانوں سے بھی آگے کی سیر کر آے ہیں ابوبکر صدیق نے جواب میں کہا کہ اگر یہ واقعہ خود رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے تو یقیناسچا ہے چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود آنحضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوے اور آپ ﷺکے مشاہدات اور راستے میں ملنے والے قافلوں وغیروں کا سنا تو

آپﷺکی ساری باتوں کی صدیق کی بعد میں جب قافلے والے پہنچ گے تو ساری باتیں سچ ثابت ہو گئیں کفار بہت شرمندہ ہوے لیکن ضد کی وجہ سے ایمان پھر بھی نہ لائے۔

(حصہ معروضی)

1- درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔

1-معراج کا واقعہ کون سے مہینے میں پیش آیا؟

(الف:رمضان میں)(ب: ربیع الاول میں)(ج: رجب میں)(د: شوال میں)

2-معراج کا واقعہ نبوت کے کون سے سال پیش آیا؟

(الف:چھٹے سال)(ب: آٹھویں سال)(ج:پانچویں سال)(د: دسویں سال)

3-حضرت   ابراہیم علیہ السلام سے آپﷺ کی ملاقات کون سے آسمان پر ہوئی؟

(الف:پہلے آسمان پر)(ب: پانچویں آسمان پر)(ج: ساتویں  آسمان پر)(د: چوتھے آسمان پر)

جوابات: (1-ج)(2-د)(3-ج)

2-   درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • واقعہ معراج نبوت کے آٹھویں سال ماہ رجب میں پیش آیا۔
  • حضرت جبرائیل نے آپﷺ کو نیند سے بیدار کیا اور مسجد قبا میں لے گئے۔
  • ساتویں آسمان پر آپﷺ کی ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔
  • حضرت  ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا کہ اگر یہ واقعہ خود  رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے تو یقینا سچا ہے۔

جوابات: (1-X)(2-X)(3-X)(4-/)

3- خالی جگہ پر کریں۔

  • حضرت—————– رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واقعہ معراج سن کر اس کی تصدیق کی۔
  • مسجد اقصیٰ آپﷺ نے —————— پر سوار ہوکر سفر کیا۔
  • حضرت جبرائیل علیہ السلام ————پر ٹھہر گئے اور اس سے آگے آپﷺ نے تنہا سفر کیا۔
  • واقعہ معراج نبوت کے ——————– سال رجب کے مہینے کی ستائیسویں رات کو پیش آیا۔
  • سارے نبیوں نے —————- کی امامت میں نماز پڑھی۔

جوابات: (1-ابو بکر صدیق   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ )(2-براق)(3-سدرۃ المنتہیٰ)(4-دسویں)(5-آپﷺ )

4- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    براق

2-    ساتویں آسمان پر آپﷺ کی ملاقات

3-    حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آپ ﷺ کی ملاقات

4-    مسلمانوں کے لیے پانچ وقت کی نماز

5-    بعد میں جب قافلے والے پہنچ گئے

6-    حضرت ادریس علیہ السلام سے آپﷺ کی ملاقات

1.      حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔

2.      دوسرے آسمان پر ہوئی۔

3.      سفر معراج  کےلیے تیز رفتار سواری

4.      تو ساری باتیں سچ ثابت ہوگئیں۔

5.      چوتھے آسمان پر ہوئی۔

6.      واقعہ معراج کے موقع پر فرض ہوئی۔

جوابات: (1-3)(2-1)(3-2)(4-6)(5-4)(6-5)

ہجرت مدینہ ص:46

(حصہ انشائیہ)

سوال:1ہجرت مدینہ  (یثرب) کیوں اور کب ہوئی؟
جواب :مکے والوں نے مسلمانوں کو اتنا ستایا ان کے لیے  وہاں رہنا ناممکن ہو گیا اس لیے اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے نبوت کے تیر ھوں سال اپنے صحابہ کو یثرب یعنی مدینے کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی
سوال:2 مدینہ والوں یعنی اہل یثرب نے مہاجرین کے ساتھ کی سلوک کیا؟
جواب :اگر چہ مدینے کے آس پاس تو یہودی رہتے تھے مگر شہر کے اندر قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج کے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے انہوں نے مکہ کے مسلمانوں کو تکلیف میں دیکھ کر آپﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت دے دی آپﷺ کی ہدایت پر اکثر صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہجرت کر گے مدینہ والے آپﷺ کی آمد مبارکہ کا شدت انظار کر رہے تھے آپﷺ کی سواری یثرب میں داخل ہوئ تو آپﷺ کا پر جوش استقبال کیا گیا بچیوں نے خوشی کے گیت گے اہل یثرب نے مکہ سے آنے والوں یعنی مہاجرین کی ہر طرح سے مدد کی
سوال:3 کفار نے آپ ﷺ کے خلاف کیا سازش کی تھی؟
جواب :کفار مکہ نے آپﷺاور آپ ﷺکے ساتھیوں پر ظلم وستم کی انتہا کر دی کفار کو جب اندازہ ہو  گیا کہ عنقریب نبی کریم ﷺبھی یثرب چلے جائیں گے تو کفار نے مل کر ایک سازش تیار کی انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک جوان لیا جاے جو رات کو نبی کریم ﷺ کے گھر اؤکریں اور جو نہی صبح آپﷺ باہر نکلیں آپ ﷺ (معاذاللہ )قتل کر کے راستے سے ہٹا دیں –
سوال: 4 نبی کریم ﷺ کی ہجرت کا واقعہ مختصرا بیان کیجیے؟
جواب :نبوت کے تیرھوں سال اللہ کے حکم کے مطابق آپﷺ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ سے یثرب (مدینہ )کی طرف ہجرت کرنے کی اجارت دے دی او ر بعد میں آپﷺنے بھی ہجرت کر کے یثرب چلے جانا تھا مگر کفار مکہ نے آپﷺکو (نعوذباللہ ) ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور ہر قبیلے کے ایک ایک جوان پر مشتمل گروہ نے ہجرت کی رات آپﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیا  اللہ نے رسول اکرم ﷺ کو اس سازش کی خبر دے دی چنانچہ آپﷺ نے بستر پر سونے کا حکم دیا حضرت علی رضی اللہ نے آپﷺ کے حکم کی تعمیل کی اس کے بعد حضور ﷺ کی حفاظت میں دشمنوں کے درمیان سے نکل گے اور حضرت ابوبکر  صدیق رضی اللہ کے ہمراہ غار ثو ر میں تین دن قیام فرمایا بعد میں آپ ﷺیثرب کے لیے روانہ ہو گے۔
سوال:5 ہجرت میں  رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کون سے صحابی تھے؟
جواب: ہجرت میں  رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حضرت ابو بکر صدیق   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  تھے
سوال:6 نبی کریمﷺ نے مکہ والوں کی امانتیں واپس کرنے کا کام کس صحابی کے سپرد کیا؟
جواب :حضورﷺ نے یہ کام حضرت علی رضی اللہ کے سپرد کیا  ۔
سوال:7 مسجد قبا کے بارے میں آپ کیا جانتےہیں؟
جواب :یثرب کے قریب قبانامی ایک بستی تھی ہجرت کے موقع پر یثرب میں داخل ہونے سے پہلے چند روز آپﷺنے اس بستی میں قیام فرمایا اور یہیں اسلام کی پہلی مسجد ،مسجد قبا تعمیر کروائی۔
سوال:8مواخات مدینہ کسے کہتے ہیں؟
جواب :ہجرت کے بعد اہل یثرب یعنی مدینے کے لوگوں کو  انصار (مدد کرنے والے )کہا گیا اور مکہ سے ہجرت کر کے آنے والوں کو مہاجرین کہا گیا نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائ چارے کا ایک مضبوط رشۃ قائم کر دیا جسے اسلامی تاریخ  میں مواخات مدینہ کہتے ہیں اس طرح مدینے میں ایک اسلامی معاشرے قائم ہو گیا ۔

(حصہ معروضی)

1- خالی جگہ پر کریں۔

  • نبوت کے تیرھویں سال آپﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ  تعالیٰ عنہم نے ——————– کی طرف ہجرت کی۔
  • یثرب کو اب——————– کہاجاتاہے۔
  • انصار——————- کرنے والوں کوکہتے ہیں۔
  • ہجرت کرنے والوں کو——————— کہتے ہیں۔
  • یثرب شہر کے اندر قبیلہ اوس اور——————– کے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے۔
  • یثرب کے قریب ———————نامی ایک بستی تھی۔
  • انصآر اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کے رشتے کو اسلامی تاریخ میں ———————– کہتے ہیں۔
  • حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپﷺ کے حکم کی ——————-کی۔

جوابات: (1-یثرب)(2-مدینہ)(3-مدد )(4-مہاجر)(5-خزرج)(6- قبا)(7- مواخات مدینہ)(8-تعمیل)

2- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
01    نبوت کے تیرھویں برس  آپﷺ  نے اپنے  صحابہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کو

02    آپﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ

03    یثرب کے قریب

04    انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کے

05    مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آنے والے صحابہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنم

06    کفار مکہ نے آپﷺ کو (نعوذ باللہ)

A.     غار ثور میں تین روز قیام فرمایا

B.     مہاجرین کہلائے

C.     رشتے کو اسلامی تاریخ میں مواخات مدینہ کہتے ہیں۔

D.     یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دےدی۔

E.     ختم کرنے کا منصوبہ بنایا

F.      قبا نامی ایک بستی تھی۔

جوابات: (1-D)(2-)(3-F)(4-C)(5-B) (6- E)

چوتھا : اخلاق و آداب

ایمان داری ص:49

(حصہ انشائیہ)

سوال:1ایمان داری سے کیا مراد ہے؟
جواب :ایمان داری سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی کے مال میں خیانت اور بددیا نتی نہ کرے کسی کی جو چیز ،جو مال جو حق آدمی کے ذمے ہو اسے پورا پور ااداکرے اور کسی کی کوئ چیز ہر گزدبانہ لے ۔
سوال:2 دنیا میں ہمیں ایماند اری سے کس طرح عزت اور کامیابی حاصل ہوتی ؟
جواب :دنیا یا معاشرے میں رہتے ہوے انسانوں کو آپس میں اکثر و بیشتر کئ معاملات اور لین دین کرنے پڑتے ہیں ہر کام انسان کو ایمان داری سے ہی کامیابی اور عزت حاصل ہوتی ہے جو شخص ایمان دار اور مخلص ہوتا ہے لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اس کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایسے انسان کو کسی بھی مر حلے پر پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تجارت اور کاروبار میں کامیابی کے لے بھی ایما ن داری کادخل ہے
سوال:3 حضرت محمد ﷺ کی دیانت داری اور ایمانداری کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب :حضورﷺ کی دیانت اور ایمان داری کا بہترین نمونہ تھے اور مسلمانوں کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے اسی لیے آپﷺ امین جانتے تھے اور اپنی امانتیں آپﷺ کے پاس بلا خوف رکھتے تھے ہجرت کے وقت جبکہ آپﷺ کی جان خطرے میں تھی تب بھی گھر سے نکلنے سے پہلے آپﷺ نے حضرت علی کو نصیحت فرمائ کہ لوگوں کی امانتیں انہیں پہنچاکر مدینے چلے آئیں چنانچہ حضرت علی نے لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کا ذمہ داری کے ساتھ بندوبست فرمایا-
سوال:4 امانت اور ایمان کے بارے میں آپﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب : آپﷺ کا  ارشاد ہے کہ جو امانت دار نہیں وہ ایمان دار نہیں یعنی جو دیانت دار نہیں اس کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • کاروبار اور تجارت میں کامیابی کے لیے بھی ایمان داری کو بڑا دخل ہے۔
  • صرف اسلام لانے والے ہی آپﷺ کے پاس بلاخوف امانتیں رکھتے تھے۔
  • ایمان داری سے مراد یہ ہے انسان کسی کے مال میں خیانت اور بددیانتی نہ کرے ۔

جوابات: (1-/)(2-X)(3-/)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • جو انسان ایمان دار ہوتا ہے لوگ اس پر——————- کرتے ہیں۔
  • دیانت داری کی وجہ سے ہی آپﷺ —————–کے نام سے مشہور تھے۔
  • آپﷺ کا فرمان ہے کہ جو ——————– نہیں اس کے ایمان کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔
  • دنیا میں انسان کوایمانداری سے——————- حاصل ہوتی ہے۔
  • رسول اللہ ﷺ دیانت داری اور ایمانداری کا—————-تھے۔

جوابات: (1-اعتماد)(2-امین)(3-ایماندار)(4-عزت)(5-نمونہ)

3- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    جو دیانت دار نہیں

2-    جو دیانت دار نہیں

3-    جو شخص ایماندار اور مخلص ہوتا ہے

4-    دنیا میں انسان کو ایمانداری سےہی

5-    تجارت اور کاروبار میں کامیابی کےلیے

1-    لوگ اس پر اعتبار کرتے ہیں۔

2-    کامیابی اور عزت حاصل ہوتی ہے۔

3-    ایمانداری کا بڑا دخل ہوتی ہے۔

4-    اسکے ایمان کا بھی کوئی اعتبار نہیں

5-    وہ ایمان دار نہیں

جوابات: (1-5)(2-4)(3-1)(4-2)(5-3)

خدمت خلق ص:51

(حصہ انشائیہ)

سوال:1خدمت خلق سے کیا مراد ہے؟
جواب : خدمت خلق سے مراد ہے مخلوق خدا کی خدمت کرنا یعنی معذوروں کو سہارا دینا ضرورت مندوں کی مدد کرنا بیماروں اور بوڑھوں کو آرام پہنچانا وغیرہ ۔ اہل ایمان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنےذاتی فائدے کے مقابلے میں ہمیشہ دوسروں  کے آرام  فائدے کا خیال  رکھتے ہیں۔
سوال:2 خدمت خلق کے بارے میں آپﷺ کا کیا ارشاد ہے؟
جواب : خدمت خلق کے بارے میں آپﷺ کا یہ ارشاد  ہے کہ : جب تک کوئی مسلمان اپنے بھائی کی حاجت پوری  کرنے اور مدد کرنے میں لگا رہتا ہے  اللہ تعالیٰ اس کی حاجتیں پوری کرتا رہتا ہے۔
سوال:3 خدمت خلق کے سلسلے میں ہم کیا کام انجام دے سکتے ہیں؟
جواب : اسلام  میں خدمت خلق پر بڑا زور دیا  گیا ہے۔اسلام میں دوسروں  کی مدد کرنا اور ان کی تکلیفیں دور کرنا بھی عبادت ہی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ خدمت خلق کے سلسلے میں ہم بہت سے کام   کرسکتے ہیں جیسے :

کسی شخص کو    اپنے کسی کام میں تکلیف محسوس ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنا

جسمانی یا ذہنی معذوروں  کو سہارا دینا

بوڑھوں اور بیماروں کی دیکھ بھال اوربیمار پرسی کرنا

یتیموں کی پرورش  کرنا

بیواؤں  کی خد مت  کرنا

رشتہ داروں کا خیال رکھنا

بھوکوں کو کھانا کھلانا

غریبوں کی مالی امداد کرنا

خدمت خلق کے ادارے قائم کرنا مثلاَََََ مسجدیں بنوانا، مدرسے قائم کرنا، ہسپتال بنوانا، پینے کے لیے پانی کا انتظام کرنا ، غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا، تفریح گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ۔

البتہ یہ ضروری ہے  کہ خدمت خلق دکھاوے اور نمائش کے لیے ہرگز نہ ہو۔

سوال:4 کیا صرف مومن ہی خدمت کے حقدار ہیں؟
جواب :نہیں، خدمت خلق کے سلسلے میں مومن اورکافر میں بھی فرق نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ جانوروں پر بھی جوکہ  اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ، ان پر  پر رحم کھانا او ر ان کا خیال رکھنا بھی نیکی ہے۔
سوال:5 نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام   رضی اللہ  تعالیٰ علیہم اجمعین خدمت کے بارے میں کیا طرز عمل رہا؟ مثالیں دےکر بتائیں؟
جواب :آپﷺ نے کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ ایک ضرورت مند آیا تو آپﷺ نے اسے روزگار پر لگا دیا تاکہ آئندہ اسے بھیک نہ مانگنی پڑے۔ اگر کسی وقت آپﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو کہیں سے قرض لے کر بھی لوگوں  کی مدد کردیتے یا کسی دوسرے مسلمان سے اس کی ضرورت پوری کرادیتے تھے۔ صحابہ کر ا م    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھی  خد مت خلق میں پیچھے نہ رہتے تھے ۔  حضرت عمر   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھیس بدل کر رات کے وقت شہروں کا گشت کرتےاور ضرورت مندوں کو ضرورت کی اشیا خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر پہنچا تے۔

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے قحط کے دنوں میں اپنا     غلہ مہنگے داموں بیحنچے کی بجا ۓ لوگوں میں مفت تقسیم کر دیا ۔ اسی طر ح حضرت علی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ خود بھو کے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلاتے۔ دیگرصحابہ کر ا م    رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھی ھر وقت  خدمت خلق کے جزبے سے سرشار رہتے تھے کیونکہ وہ آپﷺ کے اس ارشاد کوہمیشہ  مدنظر رکھتے کہ جس نے اپنے بھائی کی مدد کی  اللہ تعالیٰ اسکی حاجت روائی کرے گا۔

(حصہ معروضی)

  • درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔
  • معذوروں کی کس طرح خدمت کی جائے؟ (الف: حوصلہ دیاجائے)(ب:) حصہ دیاجائے(ج:سہارا دیا جائے)(د: کھڑا کیا جائے)
  • بوڑھوں اور بیماروں کی کیسے خدمت کی جائے؟(الف:دیکھ بھال کی جائے)(ب:چھوڑ دیاجائے)(ج:خیال کیا جائے)(د:آرام پہنچایا جائے)

جوابات: (1-ج)(2-الف)

2-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • خدمت خلق سے مراد ہے مخلوق خدا کی خدمت کرنا۔
  • اسلام میں خدمت خلق پر بڑا زور دیا گیاہے۔
  • خدمت خلق کے سلسلے میں اسلام نے مومن اور کافر میں بھی فرق نہیں کیا۔
  • جس نے بھی اپنے بھائی کی مدد کی اللہ اس کی حاجت روائی کرے گا۔
  • حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قحط کے دنوں میں سارا غلہ لوگوں میں مفت تقسیم کردیا۔

جوابات: (1-/)(2-/)(3-/)(4-/)(5-/)

 3- خالی جگہ پر کریں۔

  • سنت رسول اللہ ﷺ ہے کہ مخلوق خدا کی—————– کی جائے۔
  • خدمت خلق کے سلسلے میں—————– نے مومن اور کافر میں بھی فرق نہیں کیا۔
  • اہل ایمان کا کمال ہے کہ وہ اپنے ذاتی فائدے کے مقابلے میں————–کے آرام اور فائدے کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
  • جس نے بھی اپنے بھائی کی——————– کی اللہ اسکی حاجت روائی کرے گا۔
  • خدمت خلق سے مراد ہے مخلوق خدا کی —————- کرنا۔

جوابات: (1-خدمت)(2-اسلام)(3-دوسروں)(4-مدد)(5-خدمت)

4- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    خدمت خلق سے مراد ہے

2-    جس نے اپنے بھائی کی مدد کی

3-    دوسروں کی مدد کرنا اور تکلیفیں دور کرنا بھی

4-    خدمت خلق کے سلسلے میں اسلام نے

5-    البتہ یہ ضروری ہے کہ خدمت خلق

1-    عبادت ہی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

2-    دکھاوے اور نمائش کے لیے ہرگز نہ ہو

3-    مومن اور کافر میں بھی فرق نہیں کیا

4-    روزگار پر لگا دیا

5-    مخلوق خدا کی خدمت کرنا

6-    اللہ اسکی حاجت روائی کرے گا۔

جوابات: (1-E)(2-F)(3-A)(4-D)(5-C)(6-B)

سادگی ص:54

(حصہ انشائیہ)

سوال:1سادگی سے کیا مرادہے؟
جواب : دکھاوے اور فضول  خرچی سے بچتے ہوئے صرف ضروری چیزوں پر گزارا کرنا سادگی کہلاتا ہے۔
سوال:2 ہمیں زندگی میں کن کن معاملات میں سادگی کا خیال رکھنا چاہیے؟
جواب : ہمیں لباس کی سادگی، کھانے پینے میں سادگی رہن سہن اور رسم ورواج  اور گھریلو سازو سامان کی سادگی کاخیال رکھنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ آپﷺ  کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی کے تمام پہلوؤں میں سادگی اختیار کریں۔
سوال:3لباس کے معاملے میں ہمیں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
جواب :  حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ لباس مل جاتا پہن لیتے یہاں تک کہ پیوند والا لباس  پہننے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کرتے ۔ ہمیں چاہیےکہ جو بھی لباس مل جائے پہن لیں۔ ایسا لباس ہرگز نہ پہنیں جس سے فخر اور غرور کا اظہار ہو۔ آپﷺ  کا ارشاد ہے کہ جو شخص فخر اور دکھاوے کےلیے ہباس پہنے گا  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت اور رسوائی کا لباس پہنائے گا ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ  فضول خرچی اور غرور سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق مناسب لباس پہنیں جو سادہ پاک اور صاف ستھرا ہو۔
سوال:4   رسول اللہ ﷺ کی خوراک میں سادگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب :  حضور ﷺ نے سونے اور چاند ی کے برتنوں میں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ آپﷺ کے کھانے پینے کا انداز انتہائی سادہ ہوتا تھا۔ ٹیک لگا کر ہرگز کھانا نہ کھاتے تھے۔ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھاتے ۔ کھانا عام طور پر تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے۔ آپﷺ بن چھنے آٹے کی روٹی کھاتے تھے۔ دودھ اور سرکے کے ساتھ بھی روٹی کھالیتے تھے۔ اکثر اوقات چند گھونٹ دودھ یا چند دانے کھجور پر ہی گزارا کرلیتے تھے۔ آپﷺ نے ہدایت فرمائی کی اگر کھانے کی کوئی چیز زمین پر گر جائے تو اسے صاف کرکے کھا لیا جائے۔
سوال:5رسم ورواج کی سادگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب : رسم و رواج  کے سلسلے میں بھی آپﷺ نے ہمارےلیے سادگی کا بہترین نمونہ چھوڑا۔ آپﷺ کی بہت ہی پیاری بیٹی  حضرت فاطمہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنھا کی شادی کی تقریب مسجد میں ہوئی ۔ مدینے ہی سے صرف چند قریبی رشتہ دار اور احباب شامل ہوئے ۔ آپﷺ کے داماد حضرت علی   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ گھریلو ضرورت کی چند چیزیں اپنے پیسوں سے خرید کر لائے ۔ حضرت فاطمہ   رضی اللہ  تعالیٰ عنہا کا مہر بھی معمولی سا مقر ر ہوا۔
سوال:6 سادگی اپنانے سے ہمیں کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟
جواب : سادگی کے بارے میں  حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کے بےشمار فوائد ہیں۔ اگر ہم لباس خوراک رہن سہن  اور رسم رواج بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں سادگی اپنا لیں تو بہت سی پریشانیوں  سے بچ سکتے ہیں۔ تھوڑی مگر حلال کی کمائی پر گزارا کرسکتے ہیں۔ دکھاوے اور قرض لینے سے بھی بچ سکتے ہیں۔
سوال:7 ہمارےدور کی  اکثر خرابیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟
جواب : ہمارےدور کی  اکثر خرابیاں اس وجہ  سے ہیں کہ ہم نے سادگی کے بارے میں  رسول اللہ ﷺ  کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم فضول خرچی اور دکھاوے کو اپناتے ہیں اور حلال کی کمائی پر گزار ا نہیں کرتے۔
سوال:8ہم قرض لینے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
جواب : اگر ہم زندگی کے ہر پہلو میں سادگی اپنائیں تو قرض او ر بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • دکھاوے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے صرف ضروری چیزوں پر گزارا کرنا سادگی کہلاتا ہے۔
  • آپﷺ بن چھنے آٹے کی روٹی کھاتے تھے۔
  • آپﷺ کاکھانے پینے کا انداز انتہائی سادہ تھا۔
  • حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی شادی کی تقریب میں مکے ہی سے چند احباب شامل ہوئے۔
  • حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر بھی بہت زیادہ مقرر ہوا۔

جوابات: (1-/)(2-/)(3-/)(4-X)(5-X)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • ہمیں چاہیے کہ آپﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی کے تما م—————- میں سادگی اختیار کریں۔
  • آپﷺ ——————— آٹے کی روٹی کھاتے تھے۔
  • رسم و رواج کے سلسلے میں بھی آپﷺ نے ہمارے لیے سادگی کا بہترین——————-
  • آپﷺ ————————-والا لباس پہننے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کرتے۔
  • ہم اپنی حیثیت کے مطابق ایسا لباس پہنیں جو سادہ پاک اور ———————ہو۔

جوابات: (1-پہلوؤں)(2-بن چھنے)(3-نمونہ چھوڑا)(4-پیوند )(5-صاف ستھرا)

3- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    دکھاوے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے

2-    آپﷺ ٹیک لگا کر

3-    ہمیں چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کے طریقے کے مطابق

4-    رسم ورواج کے سلسلے میں بھی

5-    حضرت  فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کی تقریب

6-    حضرت  فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر بھی

1-    ہرگز کھانا نہ کھاتے تھے۔

2-    زندگی کے تمام پہلوؤں میں سادگی اختیار کریں۔

3-    آپﷺ نے سادگی کا بہترین نمونہ چھوڑا۔

4-    معمولی سامقرر ہوا۔

5-    صرف ضروری چیزوں پر گزارا کرنا سادگی کہلاتا ہے۔

6-    مسجد میں ہوئی

جوابات: (1-5)(2-1)(3-2)(4-3)(5-6)(6-4)

وقت کی پابندی ص:57

(حصہ انشائیہ)

سوال:1وقت کی پابندی سے کیا مرادہے؟
جواب : دینی یا دنیاوی کسی بھی کام کو کرتے ہوئے وقت  کا مکمل خیال رکھنا پابندی وقت کہلاتا ہے۔ وقت کی پابندی ایک اچھی عادت ہے اور زندگی کے ہر کام میں یہ انتہائی ضروری ہے۔
سوال:2 نماز کا وقت کی پابندی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
جواب : اسلام میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ یہ دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں اور ہر نماز کی ادائیگی مقررہ وقت پر ضروری ہے۔  اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نماز وقت کی  پابندی کے ساتھ ادا کرنے کاحکم دیا ہے۔
سوال:3 کائنات میں وقت کی پابندی پر کیسےعمل ہورہاہے؟
جواب : کائنات کی ہر چیز کو  اللہ تعالیٰ نے وقت کا بند بنایا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کا یہ عظیم کارخانہ کامیابی سے چل رہا ہے ۔

سورج ایک خاص وقت پر طلوع  ہوتا ہے۔ اور خاص وقت پر غروب ہوتا ہے۔ جس سے دن رات پیدا ہوتے اسی طرح موسم بھی پابندی سے ہی بدلتے ہیں۔

سوال:4 اسلامی عبادات وقت کی پابندی کا سبق کسطرح دیتی ہیں؟
جواب : تمام اسلامی عبادات کا تعلق لازمی طور پر پابندی وقت کے ساتھ  ہے، نمازوں کی ادائیگی  روزہ سحری  افطاری

زکوٰۃ ،حج  عیدین وغیرہ میں وقت کی پابندی کرنے کا حکم کیا گیا ہے۔ چنانچہ  ان تمام ارکان اسلام کی ادائیگی سےہمیں پابندئ وقت کا بہترین درس ملتاہے۔

سوال:5 روزے کا وقت کی پابندی کےساتھ کیا تعلق ہے؟
جواب : عبادات میں روزے کو وقت کے لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ سحری اور افطاری کے اوقات مقرر ہیں۔ سحری کے اختتامی وقت میں اگر احیتاط نہ کی جائےتو امکان ہے کہ سرے سے روزہ ہی نہ ہو۔ اسی طرح وقت میں احتیاط نہ کی جائے تو روزہ ضائع ہو جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔
سوال:6 وقت کی پابندی کے فوائد بیان کریں؟
جواب : اس کائناک کا پورا نظام وقت کی پابند نظر آتا ہے۔ وقت کی پابندی کرنا ہی قدرت کا منشا ہے۔ وقت کی پابندی کرنے سے ہی عبادات کے قبول ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ وقت ایک ایسی قیمتی چیز ہے کہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو اس کا دوبارہ ملنا ممکن نہیں۔ وقت کے نقصان سے بچنے کے لیے ہمیں چاہینے کہ ہر کام کےلیے مناسب وقت مقرر کریں اور پھر اسکی پابندی کریں ۔ وقت کی پابندی سے محنت ضائع نہیں ہوتی ۔ یوں ہم اپنی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں: وقت دولت ہے۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • وقت کی پابندی ایک اچھی عادت ہے۔
  • صرف دوعبادات میں وقت کی پابندی کاحکم دیا گیاہے۔
  • کائنات میں صرف سورج کوا للہ نے وقت کاپابند بنایا ہے۔
  • روزے کے اوقات میں تھوڑی سی بے احتیاط سےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
  • وقت کی پانبدی سے محنت ضائع ہوجاتی ہے۔
  • عبادات میں روزہ کو وقت کے لحاظ سے کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے۔
  • اللہ تعالیٰ نےمومنوں کو نماز وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

جوابات: (1-/)(2-X)(3-X)(4-X)(5-X)(6-X)(7-/)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • زندگی کے ہر کام میں پابندی وقت ——————–ہے۔
  • نماز کی ادائیگی———————– پر کرنا ضروری ہے۔
  • وقت کی پابندی سے محنت —————–نہیں ہوتی ہے۔
  • تمام ارکان اسلام کی ادائیگی سےہمیں وقت کی پابندی کا بہترین ———————- ملتاہے۔
  • ہمیں عبادات میں بھی——————– کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
  • کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے وقت کا ——————- بنایا ہے۔
  • عبادات میں———————– کو وقت کے لحاظ سے خصوصی اہمیت  حاصل ہے۔
  • ہمیں چاہیے کہ ہر کام کے لیے مناسب وقت —————- کریں اور پھر اس کی—————- کریں۔

جوابات: (1-انتہائی ضروری)(2-وقت )(3-ضائع )(4-درس)(5-وقت)(6-پابند)(7-روزے)(8-مقرر ، پابندی)

3- کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    وقت کی پابندی

2-    تمام اسلامی عبادات کا تعلق لازمی طور پر

3-    نماز روزہ زکوٰۃ حج عیدین وغیرہ میں

4-    کائنات کی ہر چیز کو

5-    سورج ایک خاص وقت پر طلوع ہوتا ہے

6-    سحری اور افطاری کے

7-    وقت کی پابندی کرنا ہی قدرت کا

8-    اس کائنات کا پورا  نظام

9-    دینی یا دنیاوی کسی بھی کام کرتے ہوئے

10-                        وقت کے نقصان سے بچنے کے لیے

1-    ہمیں چاہیے کہ ہر کام کے لیے مناسب وقت مقرر کریں۔

2-    وقت کا مکمل خیال رکھنا  پابندی وقت کہلاتا ہے۔

3-    وقت کا پابند نظر آتا ہے۔

4-    منشا ہے۔

5-    اوقات مقرر ہیں۔

6-    اور ایک خاص وقت پر غروب ہوتا ہے۔

7-     اللہ تعالیٰ نے وقت کا پابندبنایاہے۔

8-    وقت کی پابندی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

9-    وقت کی  پابندی کے ساتھ ہے۔

10-                        ایک اچھی عادت ہے۔

جوابات: (1-J)(2-I)(3-H)(4-G)(5-F)(6-E)(7-D)(8-C)(9-)(10-A)

آداب مجلس ص:60

(حصہ انشائیہ)

سوال:1مجلس سے کیا مرادہے؟ مجلس کے مقاصد بیان کریں؟
جواب :جہاں انسان مل جل کربیٹھتے ہیں اسے مجلس کہتے ہیں۔ مجلس میں عام طور پر لوگ کسی بزرگ یا عالم کی باتیں سنتے ہیں۔ تبادلہء خیالات کرتے ہیں یا س کیں کوئی اہم مشورہ کرتے ہیں۔
سوال:2 مجلس میں مل جل کر کیوں بیٹھتے ہیں؟
جواب :کسی بھی ضروری معاشرتی مسئلے کے حل گروہی یا اجتماعی معاملے پر تبادلہ ءخیالات کرنے کے لیے کچھ لوگ مل جل بیٹھتے ہیں۔ حسب ضرورت مشورہ دیتے بھی ہیں اور مشورہ کرتے بھی ہیں۔
سوال:3 آداب مجلس اپنے الفاظ میں بیان کریں؟
جواب : آداب مجلس میں سب سے اہم یہ ہے کہ صدر مجلس  کے لیے مناسب جگہ رکھی جائے۔ تمام لوگ ترتیب سے بیٹھیں۔ جسے جہاں جگہ ملے آرام سے بیٹھ جائے۔ لوگوں کے کندھوں پر سے پھلانگ کر آگے  نہ جائیں۔ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہٹا کر  کے خود بیٹھنا اخلاق کے منافی ہے۔ دو آدمی اکٹھے ہوں تو ان کے درمیان گھس کر بیٹھنے کی  کوشش نہ کریں۔

البتہ کسی قابل احترام ہستی کے لیے کوئی خود اپنی جگہ خالی کردے تو بہت بہتر ہوگا۔

مجلس میں نیا آنے والا پہلے سے موجود اہل مجلس کو سلام کرکے بیٹھے لیکن اگر کوئی گفتگو جاری ہوتو  پھر خاموشی سے بیٹھ جائے۔ مجلس میں ادب کے ساتھ بیٹھیں۔ پاؤں پھیلا کرع اکڑ کر بیٹھنا بے ادبی کی کوئی بھی حرکت کرنا نامناسب ہے۔ مجلس میں بلا ضرورت بات نہ کی جائے اور سرگوشیوں سے پرہیز کیا جائے موقع محل دیکھ کر بات کی جائے اور دوسروں کی بات نہ کاٹی جائے ۔ کھانسی چھینک یا جمائی آئے تو منہ پر رومال یا بایاں ہاتھ الٹا کرکے رکھ لیا جائے۔

سوال:4 مجلس میں کشادگی  پیدا کرنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب : اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے موجود اہل مجلس نئے آنے والوں کے لیے بیٹھنے کی جگہ پیدا کریں۔ اگر کھلے بیٹھے ہیں اور مزید لوگ آرہے ہیں تو سکڑ کر دوسروں  کے لیے کشادگی پیدا کریں۔
سوال:5 آداب مجلس کے بارےمیں قرآن مجید کا کیا حکم ہے؟
جواب : قرآن مجید میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مجلس میں کچھ لوگ پہلے سے بیٹھے ہوں تو بعد میں آنے والوں کی خوش دلی سے جگہ دیں ۔ جگہ تھوڑی ہو تو سکڑ کر نئے آنے والوں کے لیے کشادگی پیدا کریں۔ اس  طرح آنے والوں کا احترام بھی ہوگا اور آپس میں محبت بھی پیدا ہوگی۔ یہی آداب نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو سکھائے اور فرمایا کہ تم لوگ خود دوسروں کے لیے کشادہ کرو۔ یہ باعث رحمت بھی ہے اور باعث ثواب بھی۔

(حصہ معروضی)

1- درست جواب کے گرد دائرہ لگائیں۔

1- جہاں انسان مل جل کر بیٹھتے ہیں اسے کیا کہتے ہیں؟ (الف:گھر)(ب: رہائش)(ج:دفتر)(د:مجلس)

2-صدر مجلس کےلیے کتنی جگہ چھوڑنی چاہیے؟(الف:وسیع)(ب:تھوڑی سی)(ج:مناسب)(د:بہت زیادہ)

3-مجلس میں کس طرح بیٹھنا چاہیے؟(الف:پاؤں پھیلا کر)(ب:درمیان میں)(ج:ادب کے ساتھ)(د: جیسے چاہیں)

4-مجلس میں پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگ نئے آنے والوں کو کیسے جگہ دیں؟(الف:مشکل سے)(ب: تنگدلی سے )(ج:خوش دلی سے)(د:آسانی سے)

5-مجلس میں کس چیز سے پرہیز کیا جائے؟(الف:فضول باتوں سے)(ب:سرگوشیوں سے)(ج:بدنظمی سے)(د:دنگا فساد سے)

جوابات: (1-د)(2-ج)(3-ج)(4-ج)(5-ب)

2-  خالی جگہ پر کریں۔

  • مجلس میں نیا آنے والا پہلے سے موجود اہل مجلس کو—————— کرکے بیٹھے ۔
  • اگر مجلس میں کوئی گفتگو جاری ہوتو پھر نیا آنے والا ——————— سے بیٹھ جائے۔
  • تم لوگ خود دوسروں کے لیے جگہ ——————-کرو۔
  • جہان انسان مل جل کر بیٹھتے ہیں اسے ——————کہتے ہیں۔
  • مجلس میں موقع محل دیکھ کر ——————-کی جائے۔

جوابات: (1-سلام)(2-خاموشی)(3-کشادہ)(4-مجلس)(5-بات)

 3 – کالم (ا) کے فقرات کالم (ب) کے فقرات سے موازنہ کریں۔ درست جواب کاپی میں لکھیں۔

کالم (ا) کالم (ب)
1-    جہاں انسان مل جل کر بیٹھتے ہیں۔

2-    مجلس میں لوگ کسی بزرگ یا عالم کی

3-    کسی قابل احترام ہستی کے لیے

4-    مجلس میں نیا آنے والا پہلے سے موجود

5-    مجلس میں بلا ٖٖضرورت بات نہ کی جائے اور

6-    قرآن مجید میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہےکہ

7-    جگہ تھوڑی ہوتو سکڑ کر نئے آنے والوں کے لیے

8-    یہی آداب آپﷺ نے بھی مسلمانوں کو سکھائے اور فرمایا

1-    کشادگی پیدا کریں۔

2-    مجلسوں میں کشادگی پیدا کیا جائے۔

3-    سرگوشیوں سے  پرہیز کیا جائے۔

4-    تم لوگ خود دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرو۔

5-    اہل مجلس  کو سلام کرکے بیٹھے۔

6-    کوئی خود اپنی جگہ خالی کردے  تو بہت بہتر ہوگا۔

7-    باتیں سنتے ہیں یا اس میں کوئی اہم مشورہ کرتے ہیں۔

8-    اسے مجلس کہتےہیں۔

جوابات: (1-8)(2-7)(3-6)(4-5)(5-3)(6-2)(7-1)(8-4)

وطن کی محبت ص:63

(حصہ انشائیہ)

سوال:1وطن سے کیا مراد ہے؟
جواب : وطن  سے مراد ہمار ملک ہے جس میں ہم پیدا ہوتے اور زندگی گزارتے ہیں۔
سوال:2 وطن کی محبت سے کیا مرادہے؟
جواب : ہمیں زندگی میں جو سہولتیں حاصل ہوتی ہیں ان کا ذریعہ  اللہ تعالیٰ نے وطن ہی کو بنا یا ہے۔وطن کی محبت ایک فطری بات ہے۔  اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دل میں اسکے وطن کی محبت پیدا کی ہے۔
سوال:3 وطن کی محبت کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کی زندگی کی کوئی مثال دیجیے؟
جواب : ہمارے پیار ے نبیﷺ کو بھی اپنے وطن مکہ سے بہت محبت تھی۔ مکہ سے ہجرت کے وقت آپﷺ نے فرمایا: اے مکہ میں تجھ سے بہت محبت کرتا ہوں مگر تیرے لوگوں نے میرا یہاں رہنا ناممکن بنا دیا ہے۔
سوال:4 پاکستان کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا؟
جواب :پاکستان ہمار پیارا وطن ہے ہم نے یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا کہ غیروں کی غلامی سے نجات حاصل کریں اور آزادی کے ساتھ دین اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں اور ترقی کریں۔[wysija_form id=”1″]
سوال:5 سرزمین پاکستان کی حفاظت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
جواب : پاکستان حاصل کرنے کےلیے ہمارے بزرگوں نے جو بے شمار قربانیاں دی ہیں ان کی قدر کریں اور خود بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ سرزمین پاکستان کو جان سے بھی زیادہ عزیز جانیں اس کی حفاظت کی پوری کوشش کریں اور ہرحال میں اس کادفاع کریں۔ اسکے قیمتی وسائل  کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اپنے وطن کی کسی چیز کو نقصان نہ پہنچائیں۔
سوال: 6پاکستانی ہونے کے ناتے سے وطن کےلیے ہم پر کیا فرائض ہیں؟
جواب : پاکستانی ہونے کے ناتے سے ہمارے فرائض یہ ہیں کہ ہم ہر حال میں اس کادفاع کریں۔ اپنے ہم وطنون کے دکھ کو اپنے دکھ درد کو اپنے دکھ درد کی طرح محسوس کریں۔ بے سہارا ہم وطن کی مدد کریں طالب علم ہیں تو محنت  اور لگن علم حاصل کریں۔ علم کی روشنی پھیلائیں۔ ہمیں چاہیے کہ زراعت و شجر کاری کے ذریعے اسے سرسبز شاداب بنادیں اور اسکے ماحول کو پاکیزہ اور صحت بخش بنانے کی پوری کوشش کریں ہمیں ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا زندگی کا مقصد بنانا چاہیے اور اپنا قیمتی وقت ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

(حصہ معروضی)

1-  درست فقرات  کے سامنے (/) اور غلط فقرات کے سامنے (X) کے نشانات لگائیں۔

  • وطن سے مراد ملک ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔
  • وطن سے محبت ایک فطری بات ہے۔
  • ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ دوسروں کو غلام بنائیں۔
  • ہمیں چاہیے کہ زراعت و شجر کاری کے ذریعے سے اسے آباد کردیں۔
  • ہمیں ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا زندگی کا مقصد بنایا چاہیے۔

جوابات: (1-/)(2-/)(3-X)(4-/)(5-/)

2- خالی جگہ پر کریں۔

  • وطن سے محبت ایک فطری ——————-ہے۔
  • رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے وقت فرمایا کہ اے مکہ میں تجھ سے بہت ——————– کرتا ہوں۔
  • پاکستان ہمارا پیارا ———————ہے۔
  • پاکستان حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار ———————-دیں۔
  • ہم اپنے وطن کے قیمتی وسائل کو———————- ہونے سے بچائیں۔
  • ہمیں چاہیے کہ زراعت و ———————- کے ذریعے سے اپنے وطن کو سرسبز و شاداب بنادیں۔

جوابات: (1-بات)(2-محبت)(3-وطن)(4-قربانیاں)(5-ضائع)(6-شجرکاری)

———————-تمت بالخیر———————-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.