نوٹس / مشقی سوالات کا حل اسلامیات پنجاب ٹیکسٹ بک بورد لاہور پاکستان

 

 

نوٹس / مشقی سوالات کا حل اسلامیات پنجاب ٹیکسٹ بک بورد لاہور پاکستان

اللہ تعالیٰ پر ایمان صفحہ:9

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:
د:
جواب: 

2: درست جواب منتخب کرکے جملے مکمل کریں:

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: کالم الف کو کالم     ب سے ملائیں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔

اذان – فضیلت و اہمیت صفحہ:13-15

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر نشان لگائیں۔

3: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

4: مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

نماز اہمیت و فضیلت اور فرائض صفحہ:19-20

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

 

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ؟
جواب:
ب:
جواب:
ج:
جواب:

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرxنشان لگائیں۔

 

 

طہارت و پاکیزگی ص44-45

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: طہارت سے کیا مراد ہے؟
جواب:طہارت:پاکیزگی کو عربی زبان میں “طہارۃ” کہتے ہیں۔ طہارت محض صفائی ہی نہیں بلکہ اس بات سےمراد جسم ،جان ،لباس اور ماحول کی پاکیزگی ہے۔
ب: صفائی اور پاکیزگی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا ہے؟ واضح کریں؟
جواب:پاکیزگی کی اہمیت اور قرآن :

اللہ تعالٰی نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ابتدائی دور میں اس کی تلقین فرمائی:۔
“         اپنے کپڑے (لباس) صاف ستھرا اور مطہر رکھا کرو اور ہر قسم کی غلاظت اور گندگی سے پرہیز کیا کرو۔“ (المدثر 5۔ 4)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں ہر طرح سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے اور ظاہری صفائی کا بھی اس کے ہاں اتنا ہی اہتمام ہے جتنا باطن کی صفائی کا۔

پاکیزگی کی اہمیت اور حدیث :

رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:۔ “پاکیزگی نصف ایمان ہے (یعنی اجر و ثواب میں آدھے ایمان کے برابر ہے۔۔۔۔۔ (مسلم شریف)

اس حدیث میں رسول اللہﷺنے امت کی اصلاح کے لئے کئی باتوں کو بیان کیا ہے، سب سے پہلے پاکیزگی کا ذکر فرمایا، اور اسے نصف ایمان سے تعبیر فرمایا ہے، دراصل انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے قلب اور قالب، انسان کا ایمان اس وقت مکمل ہوتا ہے جب ان دونوں کو پاکی حاصل ہو، دل کی پاکی تو یہ ہے کہ انسان شرک، کفر و بدعات سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر کامل ایمان رکھے، دراصل یہی انسان کے ایمان کی بنیاد ہے، اور انسان جب جسم کی پاکی بھی اختیار کر لے تو انسان کے ایمان کی تکمیل ہو جاتی ہے اس لئے حدیث شریف میں ظاہری پاکی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔

ج: پاک صاف رہنے سے ہمارے کردار میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
جواب:پاک صاف رہنے سے ہمارے کردار میں بہت ساری تبدیلیاں آتی ہیں

2: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

3: (الف) مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔

۱۔عربی زبان میں صفائی اور پاکیزگی کےلیے——–کالفظ استعمال ہوتا ہے۔

2۔ صفائی اور پاکیزگی سےمراد ——— کی پاکیزگی ہے۔

3۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں کو——– رکھتاہے۔

4۔ پاکیزگی ایمان کا ——— ہے۔

5۔اپنے آپ کو بری عادتوں سے بچانا———- ہے۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

امانت ص53-54

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: امانت کا مفہوم بیان کریں؟
جواب:
ب: امانت کی اہمیت قرآن و حدیث کے حوالہ سے واضح کریں ؟
جواب:قرآن وحدیث کی روشنی میں امانتداری کی اہمیت:

امانت کے معنی ہےکوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا امانت داری ہے ۔

امانت کا معنی بہت وسیع وعریض ہے اور جو لوگ امانت داری بہت وسیع معنی پر دلالت کرتاہے۔

مفسر قرآن امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں’’امانت دین کے تمام کاموں کو شامل ہے اور اس دین کی تبلیغ و اشاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے ۔ تمام انبیاء کرام اسی وظیفہ کیلیے مبعوث کیے گیے تھے ‘‘۔

1-                           امانت داری ایک اعلی اخلاق ہے ۔

2-                            دین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔

3-                            یہ ایک نادر اور بیش بہا صفت ہے۔

4-                            انسانی معاشرہ کے لیے جزء لا ینفک ہے۔

5-                            اس صفت میں حاکم و محکوم کے ما بین کوئی فرق نہیں ہے‘ تاجر وکاریگر ‘مزدور وکاشت کار ‘ امیر و فقیر ‘ بڑا اور نہ چھوٹا اور نہ ہی شاگرد و استاذ بلکہ ہر ایک کے لیے باعث شرف ومنزلت ہے۔

6-                            انسان کا اصل سرمایاہے۔اور اس کے کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے۔اور ترقی وارتقاء کی چابھی ہے۔

7-                            ہر ایک کے لیے باعث سعادت ہے۔

د: منافق کی نشانیاں بیان کریں ؟
جواب:منافق کی نشانیاں

نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’چار (نشانیاں) جس میں ہوں وہ منافق ہوتا ہے، یا جس میں سے ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو، اس میں نفاق کی ایک علامت ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے:
1۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
2۔ وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
3۔ عہد کرے تو بد عہدی کرے۔
4۔ جب جھگڑا کرے تو پھٹ پڑے۔‘‘ (صحيح البخاري)
بعض روایات میں ہے کہ
’’اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔‘‘

الغرض یہ جملہ نشانیاں نفاق سے تعلق رکھتی ہیں جس میں یہ سب جمع ہوجائیں اس کو اپنے ایمان پر یقینا   غور کرنا چاہیے۔

2: مختصر جواب دیں:

الف:امانت کی تعریف کریں ؟
جواب: امانت کے معنی ہے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا امانت داری ہے ۔
ب:انبیاء کرام علیہ السلام نے امین ہونے کا حق کیسے ادا کیا ؟
جواب: انبیاء کرام علیہ السلام نے امین ہونے کا حق بہت احسن طریقے سےادا کیا۔ انھوں نے وہ امانت جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپر دکی تھی   نہایت اچھے طریقے سے لوگوں تک پہنچائی۔
ج:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کس شہر میں “الصادق” اور “الامین ” کے لقب سے مشہور تھے؟
جواب: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ شہر میں “الصادق” اور “الامین ” کے لقب سے مشہور تھے۔
د: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی رات کفار مکہ کی امانتیں کس کے سپرد فرمائیں ؟
جواب: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی رات کفار مکہ کی امانتیں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کے سپرد فرمائیں۔
ہ:منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بیان کریں ؟
جواب: منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے وہ امانت میں خیانت کرتاہے۔

3:صحیح جواب پر   نشان لگائیں:

4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

5: خالی جگہ پر کریں۔

۱۔

ملک و ملت کے لیے ایثار کا جذبہ 59-60

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: ایثار سے کیا مرادہے؟
جواب: ایثار کے معنی اپنی ضرورت پر کسی دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ دوسروں کی ضرورت کے لیے اپنی ضرورت کو قربان کردینا ۔ مثلاً خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھانا کھلانا، خود تکلیف برداشت کرنا اور دوسروں کو آرام پہنچانا ایثار ہے۔
ب: قرآن پاک کی روشنی میں ایثار کی اہمیت کیا ہے؟
جواب:قرآن پاک کی روشنی میں ایثار کی اہمیت :

حدیث کی روشنی میں ایثار کی اہمیت :

 

ج: ہم اپنے ملک و ملت کے لیے طرح   ایثار کا مظاہرہ کرسکتے ہیں؟
جواب:

2: مختصر جواب دیں:

الف:کس صحابی نے غزوہ تبوک کے موقع پر کھجوروں کا چندہ پیش کیا ؟
جواب: حضرت عقیل رضی اللہ تعالٰی عنہ انصاری   نے غزوہ تبوک کے موقع پر کھجوروں کا چندہ پیش کیا۔
ب:حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر کس قدر چندہ پیش کیا ؟
جواب: حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر   اپنے گھر کا سارا سامان حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔
ج:1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اہل وطن   نے کس طرح ایثار کا مظاہرہ کیا ؟
جواب: 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اہل وطن نے   دل کھول کر ایثار کا مظاہرہ کیا اور دفاع وطن کے فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔

3: درست جواب پر نشان لگائیں۔

3: خالی جگہ پر کریں۔

۱۔

5: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

حقوق العبادص66-67

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے مفصل جواب تحریر کریں:

الف:قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق کیا ہیں ؟
جواب: والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ’’احسان‘‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔
قرآن کی روشنی میں والدین  کے حقوق:
۔قرآن کی روشنی میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ اﷲَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ١-
ترجمہ: اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

دوسری جگہ ارشاد باری ہے:

( وَاعْبُدُوا اﷲَ وَلاَتُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا)(٢)
اور خدا ہی کی عبادت کر ے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھر اؤاور ماں باپ کے سا تھ اچھا سلوک کرو

حدیث کی روشنی میں والدین  کے حقوق:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔

والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔

ج:اولاد کے حقوق کی ادائیگی کے فضائل کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب: اولاد کے حقوق: والدین پر بچّوں کی پیدائش کے وقت سے حقوق کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے
اولاد کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے نبی ﷺ نے کثرت سے ترغیب دلائی ہے کیونکہ اس میں بچوں کا روشن مستقبل ہے چنانچہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے’’مسلمانوں اپنی اولاد کی تربیت اچھی طرح کیا کرو(طبرانی)
دوسری حدیث پاک میں ہے کہ’’باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی طرح تعلیم و تربیت ہے(مشکوٰۃ)
ہمیں چاہئے کہ مندرجہ بالا ہدایات کے مطابق اپنی اولاد کی پرورش کریں تاکہ ہماری اولاد دونوں جہاں میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکے۔ ۔
د:استاد کا رتبہ معاشرے کے دیگر افراد سے بلند کیوں ہے ؟
جواب:استاد کا رتبہ معاشرے کے دیگر افراد سے بلند ہے:

استاد وہ عظیم ہستی ہے جو ہمیں علم سکھاتی ہے ہنر سکھاتی ہے اور ہر وہ شخص استاد ہے جس سے آپ کچھ بھی سیکھتے ہیں۔

۔خود رسالت مآب ﷺکی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ اداہوئے :’’میں اُستاد بناکر بھیجا گیاہُوں۔

‘‘ گویااسلامی نظامِ تعلیم میں اُستاد کو مرکزی مقام حاصل ہے۔معلّم کی ذات ہی علمی ارتقا ء سے وابستہ ہے۔ نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں اُستاد کی مثال کسان اور باغبان جیسی ہے ۔ ملّتِ اسلامیہ کی قابلِ قدر ،قدآور چنداہم شخصیات کے احوال واقوال کا ذکر کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ادب واحترام کی درخشندہ مثالیں قائم کیں، جو ہمارے لیے مشعل ِراہ ہیں۔

خلیفۂ چہارم امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے فرمایا ’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، میں اُس کا غلام ہوں ۔وہ چاہے مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔ ‘‘ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اُس کے آگے نہ بیٹھواور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اُس کی خدمت کے لیے کھڑے ہوجاو

ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم ِدین تشریف لاتے تو بادشاہ اُن کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جاتا۔ ایک دن ہارون الرشید اتفاقاًاُن کے پاس جا پہنچا۔دیکھا کہ امام اصمعی ؒ اپنے پاؤں خود دھورہے ہیں اور شہزاد ہ مامون پاؤں پرپانی ڈال رہا ہے ۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا ’’میں نے تو اسے آپؒ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپؒ ا سے ادب سکھا ئیں گے ۔آپؒ نے شہزادے کویہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپؒ کے پاؤں دھوئے۔

‘‘ علامہ محمد اقبال ؒ کے یہ الفاظ معلّم کی عظمت واہمیت کے عکاس ہیں ’’اُستاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیوں کہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور انہیں ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہی کی ذمّے داری ہے۔یہ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاری ہے، معلّم کا فرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیوں کہ تمام قسم کی اَخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اُس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اُس کی محنت ہے۔

ہ:ہمسائے کے حقوق کیا ہیں ؟ ان کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب:ہمسائے کے حقوق:

ہمسایہ وہ ہے جو آپ کے گھر کے قریب ہو،اس کا آپ پر بہت برا حق ہے۔اگر وہ نسب میں سے آپ سے قریب ہو اور مسلمان بھی ہو ،تو اس کے تین حقوق ہیں:ہمسائیگی،قرابت داری اور اسلام کا حق۔اگر وہ نسب میں قریب ہے لیکن مسلمان نہیں تو اس کے دو حق ہیں: ایک ہمسائیگی کا اور دوسرا قرابت داری کا۔اگر وہ رشتہ میں دور ہے اور مسلمان بھی نہیں تو اس کا ایک حق ہے: یعنی ہمسائیگی کا حق۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ترجمہ: اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں (سورۃ النساء،آیت 36)

ہمسائے کے حقوق کی اہمیت :

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں ہمسایوں کے حقوق کی اتنی زیادہ اہمیت بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی ادائیگی کے لحاظ سے قرابت داروں تک پہنچ گئے جن کو ادا کرنا ہر مرد و عورت کے لیے لازم اور ضروری قرار پایا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

” جبریل (علیہ السلام)مجھے ہمسایوں کے حقوق کے متعلق اس قدر تاکید کرتے رہے حتی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔”

 

آج کل بہت سے لوگ حق ہمسائیگی کا کوئی اہتمام نہیں کرتے،نہ ان کی شرارتوں سے ان کے ہمسائے محفوظ ہوتے ہیں۔آپ انہیں ہمیشہ آپس میں الجھتے،مخالفت کرتے،زیادتی کرتے ،اور ہر لحاظ سے ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہوئے دیکھیں گے ۔یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہے اور یہ باتیں مسلمانوں کی آپس میں جدائی ،دلوں کی دوری اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کا سبب بن جاتی ہے۔

2: درست جواب پر لگائیں۔

3: خالی جگہ پر کریں۔

۱۔

سوال4: درست جملوں پر اور غلط جملوں پرx نشان لگائیں۔

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہاص72-73

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی کے ابتدائی حالات کے باے میںآپ کیا جانتے ہیں؟
جواب:حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی کے ابتدائی حالات:

خدیجہ نام، امّ ہند کنیت اور طاہرہ لقب ہے۔حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے اور نہ صرف اپنے قبیلے میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے بلکہ اپنی خوش معاملگی اور دیانداری کی بدولت تمام قریش میں بیحد ہر دلعزیز اور محترم تھے۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عام الفیل سے پندرہ سال قبل سنہ 555 عیسوی میں پیدا ہوئیں، بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، ان کے والد ضعف پیری کی وجہ سے اپنی وسیع تجارت کے انتظام سے عاجز آ گئے، نرینہ اولاد کوئی زندہ نہ تھی، تمام کام اپنی ذہین اور عاقلہ بیٹی کے سپرد کردیا کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

ب:اسلام کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمات کیا ہیں ؟
جواب:رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
’’ خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی، وہ ایمان لائیں جب سب لوگ کافر تھے، اس نے میری تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا، اس نے اپنا زرومال مجھ پر قربان کر دیا، جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے اس کے بطن سے اولاد دی۔‘‘

فضائل اور خدماتِ دین ِاسلام
حضرت خدیجہکے فضائل اور خدماتِ دین ِ اسلام بے شمار ہیں،

نعمت ایمان سے سر فراز ہونے کے بعد ام المومنین خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی سب دولت و ثروت تبلیغ اسلام کے لیے وقف ہو گئی۔ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کاروبار ترک کر کے دینی امور میں مصروف تھے۔ آمدن بند ہو جانے کے بعد جمع پونجی پر گزر بسرہو رہی تھی۔
شعب ابی طالب کے صبر آزما دنوں میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ساتھی
حضرت خدیجہ  نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ہر مشکل سے مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔جب عرب نے دیکھا کہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کا لایا ہوادین ِاسلام عرب میں پھیلتا جا رہا ہے تو انہیں اس پر کافی تشویش ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ قبیلہ بنو ہاشم کا ہر طرح سے بائیکاٹ کیا جائے اورانہیں مجبور کیا جائے کہ وہ محمد کا ساتھ چھوڑ دیں۔لیکن بنوہاشم نے محمد صلی الله علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا اور ابوطالب کے کہنے پر بنوہاشم اور بنو طالب کے سب لوگ( سوائے ابولہب کے ) شعب ابی طالب میں چلے گئے ،تاکہ وہاں محمد صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کر سکیں۔یہ دن نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور ان کا ساتھ دینے والوں کے لیے بہت سخت تھے۔ ان حالات میں حضرت خدیجہ  نے نبی کریم اکا ساتھ ڈٹ کر دیا اور ہر مشکل سے مشکل موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم کا حوصلہ بڑھایا۔عرب میں ”سیدہ“کے لقب سے مشہور اسلام کی خاتون اول کو ان دنوں میں پتے اور درختوں کی چھال کھانی پڑی تو آپ نے ان حالات کو بھی انتہائی صبر سے برداشت کیا۔

ج:حضور اکرمﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی تعریف کس طرح فرمایا کرتے تھے ؟
جواب:رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
’’ خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی، وہ ایمان لائیں جب سب لوگ کافر تھے، اس نے میری تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا، اس نے اپنا زرومال مجھ پر قربان کر دیا، جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے اس کے بطن سے اولاد دی۔‘‘

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ سے اور حضرت خدیجہ کو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی کا سوچا تک نہیں اور پورے پچیس سال آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاری۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اورحضرت خدیجہ کی محبت کا اندازہ ذیل میں بیان کردہ حدیث سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:

” مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا کہ خدیجہ  پر آیا، حالاں کہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں۔لیکن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان کو کثرت سے یاد کرتے تھے اورکبھی کبھی ایسا ہوتا کہ جب بکری ذبح فرماتے ‘پھر اس کے حصے الگ الگ کرتے تو انہیں خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے۔(حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ) کبھی کبھی میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے کہہ دیتی کہ کیا اس دنیا میں صرف خدیجہ ہی ایک عورت ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے :” وہ ایسی تھیں‘ایسی تھیں (یعنی ان کی خدمات او ر اوصاف کا ذکر کرتے)اور(یہ بھی فرماتے کہ) ان سے میری اولاد ہوئی۔“

2: درست جواب پر لگائیں۔

3: خالی جگہ پر کریں۔

۱۔

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ص76-77

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف:حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوالحسن”اور”ابو تراب”ہے۔ آپ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب کے فرزند ارجمندہیں۔عام الفیل کے تیس برس ۱۳رجب کو جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانۂ  کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ آ پ کی والد ہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد ہے                                 آپ نے اپنے بچپن ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے زیرتربیت ہر وقت آ پ کی امدادونصرت میں لگے رہتے تھے ۔

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ چاربرس آٹھ ماہ نو دن تک خلیفہ ۔

 ۱۷ رمضان  ۴۰ھ؁ کو عبدالرحمن بن ملجم نے آپ کوشدید زخمی کردیااوردودن زندہ رہ کر شہادت پائی۔

ب: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کی شجاعت و بہادری کوئی ایک واقعہ بیان کریں؟
جواب:حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کی شجاعت و بہادری کے بہت سے واقعات ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور میری یہ چادر اوڑھ کر سورہو۔ تمہیں انکے ہاتھوں کوئی گزند نہیں پہنچے گا”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی چادر اوڑھ کر سو یا کرتے تھے۔

رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ امانتیں دی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امانتیں اہل مکہ کے سپر د کرکے مدینہ ہجرت فرمائی۔

ج: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کو فاتح خیبر کیوں کہا جاتاہے؟
جواب:جنگ خیبر کا موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیگا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشخبری کو سن کر صحابہ کرام نے وہ رات بڑی بیقراری میں کاٹی،ہر صحابی کی یہ تمنا تھی کہ اے کاش!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح اسے جھنڈا عنایت فرمائیں تو اس بات کی سند ہو جائے کہ ہم اللہ و رسول کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ و رسول ہمیں چاہتے ہیں اور اس نعمت عظمیٰ و سعادت کبریٰ سے بھی سرفراز ہو جاتے کہ فاتح خیبر جاتے۔

حضرت علی علیہ السلام کو قلعہ فتح کرنے کے لیے مقرر کیا گیا۔ آپ نے پرچم سنبھالا اور دشمن پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوگئے۔

یہود کے بہادروں میں ”مرحب“ کا نام شجاعت و دلیری میں شہرت یافتہ تھا وہ زرہ و فولاد میں غرق قلعے سے نکل کر باہر آیا۔ دو جانبازوں کے درمیان نبرد آزمائی شروع ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے پر وار کرتے اور کاری ضرب لگاتے رہے۔ اچانک حضرت علی کی شمشیر براں مرحب کے سر پر پڑی۔ جس کے باعث اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ مرحب کے ساتھیوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کے حوصلے پست ہوگئے چنانچہ فرار کرکے قلعے میں پناہ گزیں ہوئے۔ جہاں انہوں نے اپنے اوپر اس کا دروازہ بھی بند کرلیا اور حضرت علی علیہ السلام نے قدرت خدا کی مدد سے قلعے کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا۔

اس واقعہ کی وجہ سےحضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   کو فاتح خیبر کہا جاتاہے۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ80-81

1۔مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کریں:

الف: حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی حالات زندگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی حالات زندگی

حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان معروف بہ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

(400ھ تا 465ھ

سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ سے پائی ۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہ کے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔

عوام آپ کو گنج بخش (خزانے بخشنے والا) اور داتا صاحب کہتے ہیں اور آپ انہی القابات سے مشہور ہیں۔

ب: حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ   کی تعلیمات کیا ہیں؟
جواب:حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ   کی تعلیمات:

آپ رحمۃ اللہ علیہ کوعلوم دین، فقہ، تفسیر و حدیث میں کمال حاصل تھا آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے لئے بہت جدوجہد کی اور وسطِ ایشیا کے کئی ممالک کاسفر کیا۔ اور بہت سے علماء و مشائخ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی تعلیمات سے ان علوم و فنون کی جھلک دکھائی دیتی ہے جن پر آپ کو خاطر خواہ عبور حاصل تھا۔
فقہی طور پر آپ ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مذہب پر تھے۔ اور آپ شریعت مطہرہ کے نہایت پابند تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کشف المحجوب میں جابجا شریعت پر عمل پیرا رہنے کی تلقین موجود ہے۔

آپ نے جاہل صوفیاء کی صحبت سے بچنے کی تاکیدکی۔ آپ فرماتے تھے کہ فقیر کو صبر اور غنی کو شکر کرنا چاہیے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے: نفس کو اس کی خواہش سے دور رکھنا حقیقت کے دروازے کی چابی ہے۔

ج:کشف المحجوب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب:کشف المحجوب:

کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی روحانیت و تصوف کے موضوع شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ اس کی زبان فارسی ہے۔

’’ کشف المحجوب میں آپ نے شرعیت اور تصوف کے معاملات پر بحث کی ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:

نہ شریعت کے بغیر حقیقت کوئی شے ہے اور نہ حقیقت کے بغیر شریعت کوئی شے ہے۔دونوں لازم و ملزوم ہیں۔شریعت کے بغیر حقیقت بے دینی اور حقیقت کے بغیر شریعت نفاق و ریاکاری ہے۔”

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.